سو سال قبل جرمنی کے فرماں روا نے ملک کو ایک بلا جواز جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ یہ عمل اُس کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا تھا کیونکہ پورا ملک اُس کی حماقت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تھا اور یوں جرمنی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اُنہوں نے بھی ایک بلاجواز جنگ شروع کی ہے اور اِس جنگ کی بھٹی میں پورے ملک کے وسائل جھونک دیے ہیں۔
ولادیمیر پوٹن روسی خفیہ ادارے کے جی بی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سیکریٹ ایجنٹ کے طور پر وہ جرمن شہر ڈریزڈن میں بھی تعینات رہے تھے۔ وہ جرمن بہت اچھی طرح جانتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ جرمن تاریخ سے اُنہوں نے کوئی سبق سیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔
صدر پیوٹن چاہتے ہیں کہ روس اپنی عظمتِ رفتہ بحال کرے۔ وہ روس کو ایک بار پھر بڑی طاقت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ چین کے ساتھ مل کر وہ روس کو ایشیا کی سطح پر سب سے بڑا دیکھنے کے متمنی ہیں۔ آگے چل کر روس کے عالمی کردار کے بارے میں بھی سوچا جاسکتا ہے۔ مشرقی یورپ کو مسخر کرکے وہ مغربی یورپ کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں کیا ہوسکتا ہے، اِس کا اندازہ تو کوئی بھی لگا سکتا ہے۔ اگر پیوٹن نے روس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے عمل میں تاریخ کے سبق کو بھلایا تو یہ بات روس کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔
اِس وقت ایسا ہی تو ہو رہا ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں جرمن حکمرانوں نے چند بھیانک غلطیاں کیں اور ملک کو عالمی جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ اِس کے نتیجے میں جرمنی کو بہت بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک بڑا سبق تھا جو سیکھا جانا چاہیے تھا۔ پہلی جنگِ عظیم نے یورپ کو تلپٹ کردیا۔ سب سے زیادہ نقصان جرمنی کو پہنچا۔ جو ممالک جرمن فوجوں کی دسترس میں تھے، اُن کا حال بہت بُرا ہوا۔ پھر جرمنی کی بھی مٹی پلید ہوئی۔ صدر پیوٹن اب بھی پہلی جنگِ عظیم میں جرمنی کی شکست اور یوکرین میں روس کی دُرگت کے درمیان موازنہ نہیں کر رہے اور سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔
دو احمقانہ اقدامات
روسی فوج نے فروری ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر چڑھائی کی اور ایک ہمہ گیر نوعیت کی جنگ اِس ملک پر مسلط کردی۔ تب سے اب تک دنیا بھر کے تجزیہ کار اور مبصرین یوکرین میں روس کی کیفیت اور پہلی جنگِ عظیم میںجرمنی کی شکست کا موازنہ کر رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ روس کے لیے یہ جنگ کسی بھی اعتبار سے سُود مند نہیں کیونکہ یوکرین نے تین سال سے بھی زائد مدت تک جس بھرپور انداز سے روسی افواج کا سامنا کیا ہے، اُس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر روس یہ جنگ فیصلہ کن انداز سے جیتنا چاہتا ہے تو اِتنا زیادہ خرچ کرنا پڑے گا کہ روسی فتح سے زیادہ تو یوکرین کی شکست فاتحانہ ثابت ہوگی۔ ۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک لڑی جانے والی پہلی عالمی جنگ کو بعد میں روس کی استعماری جنگ کا نام بھی دیا گیا۔ تاریخ پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اِس جنگ نے مجموعی طور پر روس کو کمزور کیا اور یہ کمزوری اِس حد تک بڑھی کہ دوسری جنگِ عظیم میں جرمن فوج نے روس کو بھی زیرِ نگیں کیا۔ جرمنی کے ذریعے روس نے جو جنگ شروع کی تھی، وہ احمقانہ ثابت ہوئی کیونکہ پورا یورپ تو کیا ہاتھ آتا، روس کے لیے اپنی پوزیشن برقرار رکھنا بھی مشکل ہوگیا۔ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ صدر پیوٹن یوکرین پر لشکر کشی کریں گے یا ایسا کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار اور جنگوں کی تاریخ کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ یوکرین پر لشکر کشی کا روس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا اور یہ اقدام اُس کے خلاف ہی گیا ہے۔
کرسمس تک گھر واپسی
پہلی جنگِ عظیم جولائی ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی تھی اور تمام ہی فوجیوں کو یقین تھا کہ کرسمس تک سب اپنے اپنے گھر میں ہوں گے۔ بالکل اِسی طور صرف ولادیمیر پیوٹن کو نہیں بلکہ یورپ میں یوکرین کے اتحادیوں کو بھی یقین تھا کہ کئیف چند ہی ہفتوں میں ہتھیار ڈال دے گا اور روس کی فتح کی راہ میں کوئی دیوار حائل نہیں ہوگی۔
کچھ ہی دنوں میں فریقین گھمسان کی لڑائی کی طرف چل دیے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے شروع کیے۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ یوکرین کمزور ثابت ہوگا اور روس کے لیے اُسے نگلنا کچھ خاص دشوار کام نہ ہوگا مگر دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یوکرین کی حکومت اور افواج، دونوں نے غیرمعمولی مزاحمت کی اور روسی افواج کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ یوکرین کے شہروں پر قبضے کے لیے روسی فوج نے جو حملے کیے، اُنہیں ناکام بنانے کے لیے سخت مزاحمت کی گئی۔ کئی معرکوں میں فریقین کو غیرمعمولی جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم چار سال اور چار ماہ تک جاری رہی تھی۔ یوکرین جنگ بھی اگلے سال جون میں اِتنے ہی دورانیے کی ہوجائے گی۔
خوش فہمیوں کی دُنیا
پہلی جنگِ عظیم کے چار سال مکمل ہونے پر ایسا لگ رہا تھا کہ قسمت جرمنی پر مہربان ہے۔ جرمن فوج کا عزم بہت بلند تھا اور اُس کا جوش و خروش بھی قابلِ دید تھا۔ ۱۹۱۷ء کے اواخر میں آسٹرین اتحادیوں نے اٹلی پر بھرپور حملہ کیا۔ یہ حملہ کامیاب رہا۔ اطالوی افواج کو کیپوریٹو کے معرکے میں منہ کی کھانا پڑی اور ہزاروں ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ اِس کے نتیجے میں اٹلی جنگ سے باہر ہوگیا کیونکہ اُس میں مزاحمت کی ذرا سی بھی سکت باقی نہ رہی تھی۔
اُسی وقت مشرق میں جرمنی نے ایک بڑا جُوا کھیلا۔ ولادیمیر لینن کو سوئٹزر لینڈ سے سینٹ پیٹرز برگ کا سفر کرنے دیا گیا جس کے نتیجے میں محنت کشوں نے روس میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اُنہوں نے بریسٹ، لِٹوسک کا معاہدہ کیا جس کے تحت جرمنی کو پولینڈ، بالٹک ریاستوں اور یوکرین کے چند حصوں کا کنٹرول دیا گیا۔
پھر خدا جانے کیا ہوا کہ جرمنی کی ہمت جواب دے گئی۔ ایک سال بعد جرمن افواج فرانس اور بیلجیم پر متصرف تھیں اور جرمن سرزمین کسی بھی اعتبار سے بیرونی افواج کے زیرِنگیں نہ تھیں مگر پھر بھی جرمن افواج نے ہتھیار ڈال دیے۔
پھر اُسی زمانے میں جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر اور مستقبل کی نازی پارٹی کے حامیوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ جرمنی کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا گیا ہے۔ یہ اشارہ تھا کہ سیاست دانوں اور یہودیوں نے جرمنی کو اتحادیوں کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ جب اپنوں نے غداری کی، دھوکا دیا تب استعماری جرمنی معاشی، عسکری اور اخلاقی اعتبار سے کھوکھلا ہوگیا۔ ۱۹۱۸ء کے وسط میں جرمنی نے خود کو جنگ میں زندہ رکھنے کی آخری بڑی کوشش کی اور ایک بھرپور حملہ کیا۔ اِسے مارن کا دوسرا معرکہ کہا جاتا ہے۔ اس معرکے میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد جرمنی کے پاس جنگ میں رہنے کی گنجائش ہی نہ رہی۔ دوسری طرف تازہ دم امریکی فوجی دستے یورپ پہنچ رہے تھے۔
آج کا روس رقبے کے اعتبار سے پہلی جنگِ عظیم کے زمانے کے جرمنی سے بہت بڑا ہے۔ اس وقت روس کی آبادی ۱۴؍کروڑ ہے۔ دوسری طرف یوکرین کی آبادی تین تا ساڑھے تین کروڑ ہے۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ بہت سے یوکرینی باشندے یا تو مقبوضہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں یا پناہ گزین کی حیثیت سے جی رہے ہیں۔
یورپ اور امریکا اب بھی یوکرین کی پُشت پر ہیں۔ مغربی یوکرین کے لیے لازم ہے کہ یوکرین میں روس کو شکست کا منہ دیکھنا پڑے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران بھی یہی معاملہ تھا۔ اتحادی افواج بہت زیادہ تھیں اور جرمن افواج اُن کے سامنے بہت دیر تک ٹِک نہیں سکتی تھیں۔ نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہیے تھا۔ سب کو اندازہ تھا کہ یورپ اور امریکا کا مل کر جرمنی کے خلاف میدان میں آنا رائیگاں نہیں جاسکتا۔
آج یوکرین کے لیے صورتحال پہلی جنگِ عظیم کے جرمنی کے مقابلے میں کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یوکرین کی صنعتی بنیاد بہت مضبوط نہیں۔ اُس کی معیشت بھی نمایاں طور پر متاثر ہوچکی ہے مگر امریکا اور یورپ اُس کی پُشت پر کھڑے ہیں۔ روس کو نیچا دکھانے کے لیے اُس کے تمام مخالفین یکجا ہوچکے ہیں اور یوکرین کی بھرپور معاونت کر رہے ہیں۔ جرمنی بھی یوکرین کی پُشت پناہی کر رہا ہے۔ کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ روس کے لیے امکانات کس حد تک ہیں اور یہ کہ وہ کتنی دیر تک میدانِ جنگ میں رہ سکتا ہے۔
ہمیں یاد ہونا چاہیے کہ ابتدائی مرحلے میں یورپ اور امریکا نے یوکرین کی مدد بہت احتیاط کے ساتھ کی۔ اُسے اسلحہ اور گولا بارود بھی سوچ سمجھ کر دیا گیا۔ ڈر یہ تھا کہ کہیں روسی قیادت بدحواسی میں یورپ کے کسی اور ملک پر حملہ نہ کردے۔ یوکرین کو ایسے ہتھیار دینے سے گریز کیا گیا جو حملوں کے لیے استعمال ہوں۔ اُسے دفاعی ساز و سامان دیا گیا تاکہ وہ حملوں کو ڈھنگ سے روکنے کے قابل ہوسکے۔ مغربی طاقتیں چاہتی تھیں کہ یوکرین روسی فوج کے حملے روکنے میں کامیاب رہے تاہم اُس پر حملے نہ کرسکے۔ ایسی صورت میں روسی قیادت مشتعل ہوکر یورپ کے دوسرے ممالک کو بھی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کرسکتی تھی۔ روسی علاقوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں اگر جنگ وسعت اختیار کرتی تو اُسے سمیٹنا مشکل ہو جاتا۔
ایسا نہیں ہے کہ یوکرین کے اتحادی اور ساتھی راتوں رات تیار ہوکر میدان میں آگئے۔ اندرونی سیاسی پیچیدگیوں پر قابو پانا بھی لازم تھا۔ روس کے حامی عناصر سے نپٹنا بھی تھا۔ اضافی ہتھیاروں کی پیداوار بھی آسان نہ تھی۔ کوئی بھی یورپی ملک اپنے اسلحے خانے سے کچھ دینے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھا۔ یوکرین کے لیے ہتھیاروں اور گولا بارود کی اضافی پیداوار ممکن بنائی گئی۔ کئی ملکوں نے اضافی اسلحہ بناکر یوکرین کو فراہم کیا۔ یہ عمل بھی بہت خطرناک تھا کیونکہ روسی قیادت بِدک جاتی تو جنگ طُول پکڑ سکتی تھی۔ یوکرین کی مدد کرنے والے تمام ممالک نے اس بات کو ترجیح دی کہ کسی نہ کسی طور لڑائی کو یوکرین تک محدود رکھا جائے اور یوکرین کی فوج کو روس میں بہت اندر تک حملے کرنے کی استعداد فراہم نہ کی جائے۔ یورپ تو اب بھی یوکرین کی مدد کر رہا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے امریکا کی پالیسی بھی بدلی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ وہ یوکرین کی مدد کرنے کے معاملے میں زیادہ آگے نہیں بڑھ رہا۔ سابق صدر جوبائیڈن کے دور میں امریکا نے اِس بات کو ترجیح دی کہ روس کو یورپ میں مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے یوکرین کی بھرپور مدد کی جائے اور جنگ کو یوکرین کی حدود سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔ اب معاملات بدل چکے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکا نے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا ہے مگر ہاں وہ پہلا سا جوش و خروش نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں روس کے لیے ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے۔ اب یوکرین اپنے لیے ہتھیار خود تیار کر رہا ہے۔ گولا بارود کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یوکرین کے لیے ایسا کرنا لازم تھا کیونکہ کوئی بھی ملک کہاں تک اُس کی مدد کرسکتا تھا؟
روس کی معیشت کبھی اِتنی مستحکم نہیں رہی کہ عالمگیر سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلاسکے۔ یوکرین پر تھوپی جانے والی جنگ نے روسی معیشت کے لیے الجھنیں اور بڑھا دی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں روس کے لیے مسابقت کی فضا بہت زیادہ ہے۔ ویسے بھی روس ایسی چیزیں کم ہی بناتا ہے جو اُسے عالمی مارکیٹ میں بہت زیادہ شیئر دلاسکیں۔ وہ اب تک ہتھیاروں اور تیل کی برآمد ہی پر منحصر رہا ہے۔ یوکرین جنگ کی پاداش میں اُسے جن اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُن کے نتیجے میں بھی معیشت مزید کمزور ہوگئی ہے۔ روس میں کرپشن کا معاملہ بھی بہت سنگین ہے جس کے باعث معیشت کو مضبوط کرنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔ سیاسی نظام میں بھی اچھی خاصی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔
روس کے مغربی حصوں میں صنعتوں اور توانائی کا بنیادی ڈھانچا مضبوط رہا ہے۔ اِس پر یوکرین کی افواج کے حملے بڑھتے رہے ہیں۔ یہ حملے بنیادی طور پر ڈرونز کی مدد سے کیے گئے ہیں۔ اقتصادی پابندیوں نے روس کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے مشرقی علاقوں میں صنعت اور توانائی کا نیا بنیادی ڈھانچا قائم کرے یا موجودہ ڈھانچے کی توسیع ہی کرے۔ ہتھیاروں کے لیے روس کو ایران اور شمالی کوریا پر بھی انحصار کرنا پڑا ہے۔
یوکرین کی افواج نے غیرمعمولی عزم اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جانی نقصان بھی بہت ہوا ہے مگر پھر بھی یوکرین کی افواج روس کو ناکوں چنے چبوانے میں بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ اُس نے کئی کامیاب حملے کیے ہیں اور اہم شہر خرسوں کو بھی دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔
روس بہت حد تک تھک چکا ہے اور یوکرین اب تک کسی نہ کسی شکل میں تازہ دم ہے اور میدان میں اُس کے قدم ڈگمگائے نہیں ہیں۔ یوکرین جدید ترین ہتھیار عمدگی سے تیار کر رہا ہے۔ فوج میں بھی عزم اب تک جوان ہے۔ یہ سب کچھ روس کے خلاف جارہا ہے اور دن بہ دن یہ بات زیادہ کُھل کر سامنے آرہی ہے کہ صدر پیوٹن نے یوکرین پر لشکر کشی کرکے احمقانہ قدم اٹھایا ہے۔ وہ اب بھی اپنے فوجیوں کو ایک غیرمنطقی جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ جانی نقصان کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ یوکرین کی زمین پر قبضہ کرنے میں روسی فوج نمایاں طور پر کامیاب نہیں ہو پارہی تاہم اِس کے لیے جانی نقصان بہت زیادہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ روسی فوج کا مورال گرتا جارہا ہے اور معیشت اندر ہی اندر سڑ رہی ہے۔
اب یہ بات کُھل کر سامنے آچکی ہے کہ روسی فوج جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں۔ جرمن حکمران قیصر ولہیم کی مانند صدر پیوٹن کو اب بہت جلد یہ اندازہ ہوچکا ہوگا کہ روسی افواج تھک چکی ہیں۔ اب اگر صدر پیوٹن بھی پسپا ہونے کا آپشن اختیار کرتے ہیں تو اُنہیں اپنے ہی عوام کی طرف سے زبردست غیظ و غضب کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لوگ سوال تو کریں گے نا کہ جب جنگ کو منطقی نتیجے تک پہنچانے کی ہمت نہ تھی تو پھر جنگ چھیڑی ہی کیوں تھی۔
مہذب دنیا کو اِس بات کی اُمید ہے کہ روس کے عوام اپنے صدر سے سوال ضرور کریں گے کہ ملک کو شدید نوعیت کی تباہی سے دوچار کرنے والی یہ جنگ چھیڑی ہی کیوں گئی، یوکرین پر لشکر کشی کی ہی کیوں گئی۔ سوال تو بنتا ہے۔ ایک احمقانہ جنگ نے پورے ملک کو وسیع البنیادی خرابیوں سے دوچار کردیا ہے۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Putin ignores the lessons of World War-I for today’s Russia”.
(“The Globalist”. August 8, 2025)