امریکا اور یورپ کے لیے عالمی معیشت میں انتہائی نوعیت کے چیلنج بڑھتے جارہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اِن دونوں خِطّوں کے لیے مسابقت انتہائی دشوار ہوچکی ہے اور اب ہائی ٹیک میں بھی جاپان، چین، جنوبی کوریا، تائیوان اور دیگر ممالک نے منہ دینا شروع کردیا ہے۔ امریکا اور جاپان کے لیے برتری کا سب سے بڑا اور واضح میدان دِفاع کا شعبہ رہ گیا تھا۔ اب چین نے دِفاع کے معاملے میں بھی اپنی برتری اور جدّت منوالی ہے۔ امریکا اور یورپ کے لیے معاملات بہت زیادہ اُلجھ گئے ہیں۔
کیا امریکا اور یورپ مِل کر باقی دنیا کو اب بھی اپنا مُطیع و فرماں بردار بنائے رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟ ایسا لگتا تو نہیں کیونکہ ٹیکنالوجی عام ہوچکی ہے۔ دنیا بھر میں نئی نسل اِس طرف بہت زیادہ متوجہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک بھی جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنے آپ کو منوانے پر کمربستہ ہیں۔ اِس کے نتیجے میں مغربی دُنیا کی برتری مکمل طور پر داؤ پر لگتی، بلکہ مِٹتی دِکھائی دے رہی ہے۔
امریکا کو تجارت کے میدان میں چِین کے ساتھ ساتھ جاپان سے بھی غیرمعمولی مُسابقت کا سامنا ہے۔ دونوں مُلکوں نے امریکی مارکیٹ کو بہت حد تک اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جاپان آٹھ عشروں سے اُس کا حلیف چلا آرہا ہے مگر پھر بھی تجارت تو اپنی جگہ ہے۔ جاپانیوں نے ہر دَور میں امریکیوں کو تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ٹَف ٹائم دیا ہے اور اَب بھی دے ہی رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ (پارٹ ٹو) کے چند بنیادی مقاصد اور اہداف میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی نہ کسی طور جاپانی حکومت کو ملک میں زیادہ امریکی کاریں فروخت کرنے کی راہ ہموار کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اِس حوالے سے مذاکرات کا ڈول ڈالا جاتا رہا ہے۔ جاپانی مارکیٹ میں امریکی کاروں کی فروخت کا گراف بہت گرا ہوا ہے۔ امریکی مُذاکرات کاروں نے تجارتی معاملات دُرست کرنے کے لیے بات چیت کے کئی اَدوار مکمل کیے ہیں۔
۲۰۲۴ء میں جاپان کی کار مارکیٹ کی گنجائش کے صرف ۱۰؍فیصد کے برابر امریکی کاریں درآمد کی گئیں یعنی صرف ۱۶؍ہزار ۷۰۷، بس۔ یہ اعداد و شمار امریکی سرمایہ کاروں کے لیے بہت مایوس کن ہیں۔ اِس کے مقابلے میں گزشتہ برس ۲۰ لاکھ سے زائد جاپانی کاریں امریکا میں درآمد کی گئیں۔ کاریں بنانے والے جاپانی ادارے امریکا میں بھی کام کر رہے ہیں۔ اِن اداروںکی تیار کردہ کاروں کی فروخت کو بھی ذہن نشین رکھا جائے تو امریکا میں کاروں کی مارکیٹ کا ۴۰ فیصد شیئر جاپانی کاروں نے حاصل کیا۔
بڑا سوال
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکی کاریں جاپانی مارکیٹ میں اس قدر کم کیوں خرچ ہو رہی ہیں۔ کیا یہ سب کچھ جاپان کی طرف سے تجارت کے معاملے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کا نتیجہ ہے یا پھر جاپان نے یہ خاص پالیسی اپنائی ہوئی ہے کہ جاپانی مارکیٹ میں امریکی کاروں کے لیے گنجائش کم سے کم رکھی جائے؟ کیا ایسا ہے کہ جاپانی صارفین امریکی کاروں کو ترجیحی بنیاد پر خرید نہیں رہے؟ یا پھر معاملہ یہ ہے کہ امریکا کے کاریں بنانے والے ادارے ایسی کاریں بنانے میں ناکام ہیں جو جاپانی صارفین کی ضرورت کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں؟
۱۹۹۶ء میں، جب میں اے ٹی اینڈ ٹی جاپان کا نائب صدر اور امریکی چیمبر آف کامرس جاپان کا نائب صدر تھا، کمپنی نے مجھے ایک کار دی اور ڈرائیور کی خدمات بھی فراہم کیں۔
جاپان میں امریکی سفیر اور جمی کارٹر دور کے امریکی نائب صدر والٹر مونڈیل نے جب دیکھا کہ مجھے نسان سیما کار دی گئی ہے تو اُنہوں نے مشورہ دیا کہ میں اِس کی جگہ امریکی کار مانگ لوں۔ یہ مشورہ اُنہوں نے اے ٹی اینڈ ٹی اور چیمبر آف کامرس میں میرے کردار کو دیکھتے ہوئے دیا تھا۔ جب میں نے اُن کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے امریکی کار مانگی تو جنرل موٹرز جاپان کے سی ای او نے مجھے جاپانی کار ہی کی قیمت میں امریکی ساختہ کیڈیلیک فلیٹ وُڈ کار کی پیشکش کی۔
کوشش۔۔۔ اور اُس کا نتیجہ
میں نے کیڈیلیک فلیٹ وُڈ آزمائی۔ ناریتا ایئر پورٹ جانے اور آنے کے لیے ہائی وے کی رائڈ بہت اچھی تھی مگر ایک مسئلہ تھا۔۔۔ موڑ کاٹنا بہت دشوار ہوتا تھا اور انڈر گراؤنڈ پارکنگ میں بھی بہت مشکلات پیش آتی تھیں۔ میں روپونگی میں رہتا تھا اور یہ ون وے اسٹریٹ تھی۔
جب میں نے اپنی اِس مشکل سے جی ایم جاپان کے سی ای او کو مطلع کیا تو اُنہوں نے کہا کہ وہ مجھے کیڈیلیک سیوِل دے کر اِس مسئلے کو عمدگی سے حل کردیں گے۔ یہ چھوٹی گاڑی تھی۔ اِس گاڑی کا ٹرنک بہت چھوٹا تھا اور اِس میں میرے اور میری بیوی کے سُوٹ کیس کے بیک وقت سمانے کی گنجائش کم تھی۔ ہمیں بیرونِ ملک سفر درپیش رہتا تھا۔ اِس کے نتیجے میں ہماری مشکل اور بڑھ گئی۔
میرے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے۔ میں نے اس صورتحال سے جی ایم جاپان کے سی ای او اور امریکی سفیر والٹر مونڈیل کو مطلع کیا اور دوبارہ نسان سیما ہی استعمال کرنے لگا۔ بعد میں مجھے ایک ٹویوٹا لیکسس دی گئی۔ اِس کے سوا کوئی اور حل ممکن دکھائی نہ دیا۔
مجھے دی جانے والی دونوں گاڑیوں میں ایک بنیادی سہولت تھی۔ دونوں ہی گاڑیوں کا اسٹیئرنگ وھیل دائیں طرف تھا۔ جاپان میں کاریں سڑک کے دائیں طرف چلائی جاتی ہیں یعنی رائٹ ہینڈ ڈرائیونگ ہوتی ہے جبکہ مجھے دی جانے والی دونوں امریکی کاروں میں اسٹیئرنگ وھیل بائیں طرف تھا جو جاپانی ٹریفک سے میل نہیں کھاتا تھا۔
نتیجہ کیا نکلا؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی شکوہ کُناں ہیں کہ امریکی کاروں کے لیے جاپان کی مارکیٹ کُھل نہیں پارہی یا کھولی نہیں جارہی۔ معاملات وہیں کے وہیں ہیں کیونکہ جاپان میں امریکی کاروں کی فروخت میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ۲۰۲۴ء کے دوران جاپان میں ۵۳ ہزار سے زائد مرسیڈیز بینز فروخت ہوئیں جبکہ اِس کے مقابلے میں صرف ۵۱۸ شیورلیٹ فروخت ہو پائیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی کاروں میں جاپانی مارکیٹ کے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پائی ہی نہیں جاتی۔
حقائق اور اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاپان میں امریکی کاروں کی فروخت میں انتہائی کمی کا بنیادی سبب کسی بھی قسم کی تجارتی پابندیاں یا امتیازی نوعیت کی پالیسیاں نہیں بلکہ حقیقت میں امریکا کے کاریں بنانے والے ادارے جاپانی مارکیٹ کے تقاضوں کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ جاپانی جس طرح کی کاریں پسند کرتے ہیں، وہ کاریں امریکی ادارے نہیں بنارہے۔ رائٹ اور لیفٹ ہینڈ ڈرائیونگ کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ امریکی قیادت یہ سمجھتی آئی ہے کہ سب کے لیے دنیا تبدیل ہوگی، امریکا کے لیے تبدیل نہیں ہوگی اور سب کچھ یونہی چلتا رہے گا جیسے چلتا آیا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے اور امریکا کو بھی اب تبدیل ہونا ہی پڑے گا۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Why are so few American cars sold in Japan?”.
(“The Globalist”. August 14, 2025)