ایک برس قبل میری عزیز دوست اور رشتہ دار صحافی آمنہ حُمید، اپنے گیارہ سالہ بیٹے مَہدی کے ہمراہ نہایت سفاکانہ طریقے سے قتل کر دی گئیں۔ اُنہیں براہِ راست اسرائیلی میڈیا کی جانب سے کی جانے والی اِشتعال انگیزی کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب تعزیت اور دُکھ کے پیغامات اُن کے اہلِ خانہ کو مسلسل مَوصول ہوتے رہے۔ بین الاقوامی ذرائع اِبلاغ نے آمنہ کے شوہر سے رابطہ کر کے اَفسوس کا اِظہار کیا۔ اُن کے قتل اور اس سے قبل کی جانے والی اِشتعال اَنگیزی پر مضامین شائع ہوئے۔ سوشل میڈیا پر آمنہ کی کامیابیوں اور خدمات پر مبنی پوسٹیں پھیل گئیں۔
مگر اِن سب کے باوجود غم و فخر اور اِلزام کے مِلے جُلے جذبات تھے۔ لیکن یہ اِلزام اسرائیل پر نہیں جس نے قتل کیا، اور نہ ہی دنیا پر جس نے اِس قتل کو مُمکن بنایا، بلکہ آمنہ کے اُس فیصلے پر تھا کہ اُنہوں نے ایک ایسے وطن میں صحافت کو پیشہ بنایا جو عالمی قانون سے باہر سمجھا جاتا ہے۔
وقت کے ساتھ غم مدّھم پڑگیا۔ آمنہ بُھلائی جانے لگیں اور کسی ادارے نے اور نہ کسی حکومت نے اُن کے قتل کی تفتیش کا مطالبہ کیا۔ یہی حال آج ناصر اسپتال خان یونس میں شہید ہونے والے صحافی حُسّام المصری، محمد سلامہ، مریم ابو دَقّہ، احمد ابو عزیز اور معاذ ابو طٰہٰ کا بھی ہوگا۔ آج اُن کی شہادت عارضی طور پر سُرخیوں میں ہے، لیکن جلد ہی آمنہ کے قتل کی طرح فراموش کر دی جائے گی۔
اگرچہ یہ صحافی بین الاقوامی قانون کے تحت مَحفوظ شہری تھے اور ایک ایسے طبّی مرکز میں پناہ لیے ہوئے تھے جو انسانی ہمدردی کے قانون کے تحت خصوصی تحفّظ رکھتا ہے، تب بھی کوئی اسرائیل کو جوابدہ نہیں ٹھہرائے گا۔ اسرائیل اپنی جارحیت کو محض ’’غلطی‘‘ قرار دے گا اور دنیا اِسے تسلیم کرلے گی۔
یہی معاملہ دو ہفتے قبل شہید ہونے والے انس الشریف، محمد قریقیہ، ابراہیم زاہر، محمد نوفل، مؤمن علوہ اور محمد الخالدی کے ساتھ ہوا۔ سوشل میڈیا کی تعزیتی تحریریں ماند پڑگئیں، اور اُن کی شہادت کو ’ناقابلِ قبول‘ اور ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دینے کے باوجود اب تک کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔
جُون میں صحافی مَروہ مسلم کو اُن کے دو بھائیوں سمیت شہید کر دینا، مارچ میں حسام شباط کا قتل، جولائی ۲۰۲۴ء میں اسماعیل الغول اور رامی الرِفی کا خون اور دسمبر ۲۰۲۳ء میں میرے محترم استاد رفعت العلعیر کی شہادت۔۔۔ یہ سب اس تسلسل اور ڈَھٹائی کی علامت ہیں جو اسرائیلی ریاست کے جرائم اور دنیا کی خاموشی کو مزید مستحکم کرتی ہے۔
ہر اسرائیلی ظلم کے بعد چھا جانے والی یہ خاموشی اگلے ظلم کی راہ ہموار کرتی ہے اور دنیا کو اسرائیل کا محاسبہ کرنے میں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فلسطینی عوام بارہا اِس عمل کو دَیکھ چکے ہیں۔ اِسی لیے اَب یہ یقین راسخ ہو چکا ہے کہ صحافت کا پیشہ اختیار کرنا گویا اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مَوت کی سزا لکھوانے کے مترادف ہے۔
میرا اپنا خاندان، جو برسوں تک نوجوانوں کو شعبۂ اَبلاغیات میں جانے کی ترغیب دیتا رہا، آمنہ کے قتل کے بعد اَب کسی کو اُن کے نقشِ قدم پر چلنے سے روکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’یہ ایک تنہا راستہ ہے جہاں دنیا تمہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہے۔‘‘
جو افراد اِس وقت صحافت میں سرگرم ہیں، اُنہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو محدود کریں اور نُمایاں ہونے سے گُریز کریں۔
آمنہ کے سُسر حامد صاحب، نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنے دیگر چھ بچّوں کو کبھی بھی کسی ایسے شعبے میں جانے کی اجازت نہیں دیں گے جو کسی طور میڈیا یا صحافت سے متعلق ہو۔ اُن کے الفاظ تھے:
’’نہ اداکاری، نہ صحافت۔۔۔ میں اُنہیں کبھی میڈیا کے سامنے نہیں آنے دوں گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:
’’میں ہمیشہ نوجوانوں کو اس شعبے میں آنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ کہا کرتا تھا کہ یہ سچائی کا میدان ہے۔ مگر آمنہ کے بعد مجھے اس شعبے سے وابستہ ہر چیز سے نفرت ہوگئی ہے۔‘‘
یہاں تک کہ آمنہ کے شوہر، سعد حسونہ جو خود بھی صحافی ہیں اور نوجوانوں کو اِس میدان میں آنے کی نصیحت کرتے تھے، اپنی اہلیہ کے قتل کے بعد رفتہ رفتہ اپنی سرگرمیاں کم کرنے لگے۔
خاموشی اور پسپائی نے صحافیوں کے اہلِ خانہ کو نہ ختم ہونے والے صدمات کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آمنہ کے دس سالہ بیٹے محمد کی حالت اس کی مثال ہے، جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے ماں اور بھائی کو دَم توڑتے دیکھا اور خود صحافی اسماعیل الغول کو بتایا کہ اس کا گھر ملبے کے نیچے دَب گیا ہے۔ آج تک وہ شدید نفسیاتی صدموں سے دَوچار ہے۔ وہ جب بھی رَوتا ہے تو چیخ کر کہتا ہے کہ اُسے اُن اسرائیلیوں کے پاس لے جایا جائے جنہوں نے اُس کی ماں کو مارا تاکہ وہ اُنہیں بھی قتل کر دے۔
آمنہ کی پانچ سالہ بیٹی غِنا آج بھی اپنی ماں کی واپسی کی منتظر ہے اور اکثر روتے ہوئے کہتی ہے:
’’آپ میری ماں کو کہاں لے گئے؟‘‘
تقریباً ۲۳ ماہ کی اس ہولناک جنگ کے بعد بھی دنیا فلسطینی شہدا کے لیے صرف تعزیتی کلمات پر اِکتفا کرتی ہے اور اپنی ذمّہ داری سے پہلو تہی کرتی ہے۔
اب تک غزہ میں ۲۴۴ فلسطینی صحافی شہید کیے جاچکے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ایک ہی رویّہ بَرتا گیا ہے۔ اُن کے قتل کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی، لیکن اُن کے قاتل کو جنگی جرم قرار دے کر سزا نہیں دی گئی۔ ۲۰۲۲ء میں جنین میں اسرائیلی اسنائپر کے ہاتھوں شہید ہونے والی شیرین ابو عاقلہ کا مقدمہ اِس باب کی تمہید تھا۔ اُن کی امریکی شہریت اور امریکی میڈیا کی تحقیقات بھی اُنہیں انصاف نہ دِلا سکیں۔
اگر فلسطینی صحافیوں کا ماتم کرنا آپ کے احساسِ جرم کو ہلکا کرتا ہے، اگر یہ آپ کو یہ اطمینان دیتا ہے کہ آپ نے اُن کے حق میں کچھ کر دیا ہے، تو پھر یہ ماتم بے معنی ہے۔ ہمیں مزید تعزیتی بیانات کی ضرورت نہیں، ہمیں انصاف چاہیے۔
(مترجم: محمود الحق صدیقی)
“Don’t mourn the deaths of Palestinian journalists”. (“Aljazeera”. Aug 25, 2025)