مصنوعی ذہانت کی لڑائی


مصنوعی ذہانت نے قیامت سی ڈھا رکھی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلغلہ ہے۔ ہر انسان اِس ’’نعمت‘‘ سے استفادہ کرنے کے چکر میں دوسری بہت سی نعمتوں بالخصوص اصلی انسانی ذہانت کو داؤ پر لگانے پر تُلا ہوا ہے۔ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی، دونوں ہی سطحوں پر مسابقت میں شدت بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب تمام بڑی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے زیادہ سے زیادہ کام لے کر اپنے لیے خوب موافق حالات پیدا کریں۔ امریکا اور چین کے درمیان اِس حوالے سے سرد جنگ جاری ہے۔ یہ سرد جنگ کبھی کبھی گرم یعنی اصل جنگ میں بھی بدلتی دکھائی دینے لگتی ہے مگر پھر معاملات سنبھال لیے جاتے ہیں کیونکہ بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم انتہائی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ دو عالمی جنگیں اِس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اے آئی نے دنیا کو مکمل طور پر بدلنے کی قسم سی کھائی ہوئی ہے۔ ہر شعبہ کچھ کا کچھ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی طاقتور ملک کے لیے ممکن ہی نہیں کہ اے آئی کو نظر انداز کرے۔ ایسا کرنے سے اُسی کے مفادات پر کاری ضرب لگے گی۔
اے آئی کی دنیا پھیلتی جارہی ہے کیونکہ اِس میں سرمایہ کاری کا حجم بڑھتا جارہا ہے۔ امریکا کی ٹاپ کی کمپنیاں امیزون، گوگل، مائیکروسوفٹ، میٹا (فیس بک) وغیرہ رواں سال صرف اے آئی کی مد میں ۶۵۰؍ارب ڈالر خرچ کرنے والی ہیں۔ چین نے مارک زکربرگ کے ادارے میٹا کے ہاتھوں مانس اے آئی کا ٹیک اوور التوا میں ڈال دیا ہے۔ یہ سودا ۲؍ارب ڈالر کا تھا۔ چین کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجیز پر سب کا حق ہے۔ مسابقت کے اصول درست ہونے چاہئیں، سب کو شفاف طریقے سے کام کرنا چاہیے اور کام کرنے دینا چاہیے۔ مکمل شفافیت اب ممکن نہیں۔ امریکا اور یورپ نے تین ساڑھے تین صدیوں کے دوران جو کچھ کیا ہے، کیا اُسے مکمل طور پر شفاف قرار دیا جاسکتا ہے؟ ان دونوں خِطّوں نے ایک دنیا کو اپنی مٹھی میں کرنے کے لیے تمام ناجائز کام کیے ہیں۔ اب چین اور دیگر ممالک اِن کی طاقت کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں تو اِن کی بدحواسی قابلِ دید ہے۔
میٹا کے ہاتھوں مانس اے آئی کا ٹیک اوور چین کے نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے التوا میں ڈال دیا ہے۔ اِسے امریکا اور چین کے درمیان معاشی اور تکنیکی معاملات میں ایک زمانے سے جاری سرد جنگ کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ اب میزائلوں، طیاروں اور بموں سے ہٹ کر مائیکروچپس، برآمدات پر کنٹرول اور کارپوریٹ ناکہ بندی کی راہ پر مُڑ گئی ہے۔
اے آئی کی سرد جنگ میں پہلا وار امریکا نے کیا تھا۔ سابق امریکی صدر جوبائیڈن نے اکتوبر ۲۰۲۲ء میں چین کو جدید ترین اے آئی چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ تب سے دونوں ملکوں کے درمیان اے آئی کے معاملے پر سرد جنگ نے زور پکڑنا شروع کیا تھا۔ چین نے جنوری ۲۰۲۵ء میں ڈیپ سیک کے نام سے ایک اے آئی چیٹ بوٹ لانچ کیا تھا۔ امریکا نے الزام لگایا تھا کہ چین نے اس چیٹ بوٹ میں اُس کے اے آئی ماڈلز کی نقل کی ہے۔ حال ہی میں ڈیپ سیک نے پھر دھماکا کیا ہے۔ اُس نے ۲۴؍اپریل کو نیا اے آئی ماڈل وی۔۴ لانچ کیا ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر ایسینڈ چپس کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اے آئی کی جنگ اب تجربہ گاہ کی حد سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ بورڈ رومز، کنٹرول رومز اور کاروباری امور کی دستاویزات میں لڑی جارہی ہے۔ ہر اقدام جغرافیائی اور سیاسی سطح کا ہے۔ ہر چپ کی فروخت ایک باضابطہ، منظور شدہ فیصلہ ہے۔ کسی بھی ماڈل کی لانچنگ اب ملک کے مجموعی مفاد کے حوالے سے اسٹریٹجک وزن کی حامل ہوتی ہے۔
میٹا ایک بڑی کمپنی ہے۔ فیس بک بھی اِسی کے تحت کام کرتی ہے۔ مارک زکربرگ کو اے آئی کی دنیا میں قدم مضبوط کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اُس نے اپنے اس پہلو کو مستحکم کرنے کے لیے مانس اے آئی کو خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میٹا نے دسمبر ۲۰۲۵ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ مانس اے آئی کو خرید لے گا۔ اگر ہوتا تو یہ ۲؍ارب ڈالر کا سال کا سب سے بڑا سَودا ہوتا۔ مانس اے آئی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ امریکا اور یورپ میں اُس کی مخالفت کی جارہی تھی۔ امریکی ادارے یہ برداشت کرنے کو تیار ہی نہ تھے کہ کوئی اُن کے سامنے کھڑا ہو۔ چین نے اس ادارے کی کارکردگی کو سنگاپور منتقل کیا اور اُس کے کارپوریٹ ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں کیں۔ یہ کافی نہ تھا۔ امریکا چاہتا تھا کہ مانس اے آئی کو چین کے ہاتھ سے چھین لیا جائے۔ اِس کے جواب میں اپنے ہاتھ مضبوط رکھنے کے لیے چین نے ایک نیا اصول وضع کیا کہ اگر کسی کمپنی کے محققین، ڈیٹا اور ذہنی اثاثے اصلاً چینی ہوں تو اُس کے انتظامی امور سے مکمل طور پر دست بردار نہیں ہوا جاسکتا۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ چین بالعموم طے پاجانے والے سَودوں کو مسترد یا منسوخ کرنے کا عادی نہیں۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ اے آئی میں امریکا اب بھی چین سے بہت آگے ہے۔ اُس کے پاس کئی ماڈلز ہیں جو غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ یہ ماڈلز حساب کتاب، دلائل اور دیگر پیچیدہ کام بہت آسانی سے کرتے ہیں۔ اے آئی ماڈلز کی بنیاد پر امریکا نے ایسی بہت سی چیزیں تیار کی ہیں جو اُس کے کاروباری اور تزویراتی مفادات کو تقویت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اینتھروپک نامی امریکی کمپنی نے بھی ایک اے آئی ماڈل مارکیٹ میں پیش کیا ہے جس نے دنیا بھر کی ٹاپ آئی کمپنیوں اور بینکوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ چین نے امریکی اے آئی ماڈلز کی کاپی کرکے اپنے اے آئی چیٹ بوٹس کو مضبوط بنایا ہے۔
امریکا اور چین کے بڑے ہائی ٹیک اداروں کے درمیان جاری سرد جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اب کوئی بھی ملک پیچھے ہٹ نہیں سکتا۔ دنیا بھر میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ امریکا اور چین کے ساتھ ساتھ یورپی یونین، روس، بھارت اور جنوبی افریقا بھی میدان میں ہیں۔ جاپان اگرچہ بہت مضبوط ملک ہے مگر وہ عالمی سطح کی مہم جُوئی پر زیادہ یقین نہیں رکھتا اور اپنی حدود میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ چین، روس، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے اب غیرمتعلق اور مسابقت سے دُور رہنا ممکن نہیں۔ اے آئی میں بھارت اور روس ابھی بہت پیچھے ہیں مگر چین کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اب مکمل طور پر میدان میں ہے۔ اب اُس کے لیے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں۔ درحقیقت اب صرف چین ہے جو امریکا کو ٹکر دینے کی سکت بھی رکھتا ہے اور عزم بھی۔ امریکا بھی جانتا ہے کہ اگر وہ ڈھیلا پڑا تو معاملات بہت بگڑیں گے۔ ایسے میں لے دے کر یہی ایک راستہ بچا ہے کہ میدان میں رہا جائے، جدوجہد جاری رکھی جائے۔ (ترجمہ: ابو صباحت)
(بحوالہ: ’’گجرات سماچار‘‘ احمد آباد، بھارت۔ ۲۸؍اپریل ۲۰۲۶ء

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی