امریکا کے سابق وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر نے کبھی کہا تھا کہ امریکا کا دشمن ہونا خطرناک ہے مگر اِس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے امریکا کا دوست ہونا۔ یہ بات جتنی متعلق آج معلوم ہوتی ہے اُتنی پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ امریکا عالمی سیاست و معیشت میں اپنے قائدانہ کردار کو برقرار رکھنے کے لیے جو کچھ کر رہا ہے، اُس کے نتیجے میں اُن ممالک سے بھی اُس کے تعلقات داؤ پر لگے ہوئے ہیں جنہیں اُس کا مضبوط ترین اور سب سے قابلِ اعتماد حلیف اور پارٹنر سمجھا جاتا رہا ہے۔ امریکا سے اتحاد اور پارٹنرشپ کا معاملہ بھی اب مشروط نوعیت کا ہوتا جارہا ہے۔ ویسے تو یہ حقیقت دوسرے بہت سے معاملات میں بھی جھلک رہی ہے مگر اِسے سب سے زیادہ امریکا سے اسرائیل اور یوکرین کے تعلقات کے آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے۔
اسرائیل عشروں تک امریکا سے جُڑا رہا ہے اور اِس دوران ایک مضبوط لابی نے واشنگٹن میں اُس کے تعلقات کی جڑیں گہری اور مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری طرف امریکا سے یوکرین کے تعلقات سیاسی، معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں کے تناظر میں کمزور یا طاقتور ہوتے رہے ہیں۔ یوکرین کو امریکا سے امداد بدلتی ہوئی سیاسی حقیقتوں کے تناظر میں ملتی رہی ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے تناظر میں امریکا سے اسرائیل کے تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کو امریکی قیادت کی نظر میں جو مقام حاصل رہا ہے، وہ اب اپنا اثر کھوتا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ امریکا میں یہودیوں کی نئی نسل کی سوچ بدل رہی ہے۔ نوجوان امریکی یہودیوں کا اخلاقی تناظر تبدیل ہو رہا ہے۔ یوکرین کے معاملات کو دیکھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا ہر معاملے میں سودے بازی کے موڈ میں ہے۔ ہر چیز کو خالص کاروباری تجارتی زاویے سے دیکھا جارہا ہے۔ جو کچھ یوکرین کے معاملے میں ہوا ہے، اُس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات بھی داؤ پر لگتے دکھائی دینے لگے ہیں۔
دی امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی اور ایک مضبوط صہیونی لابی نے مل کر ایک مدت تک اسرائیل کو امریکی قیادت کی آنکھوں کا تارا رکھا ہے۔ واشنگٹن میں اسرائیل کی جڑیں گہری کرنے میں اِن دونوں گروپوں کا کردار غیرمعمولی اور فیصلہ کن رہا ہے۔ اِن دونوں گروپوں کی کاوشوں سے اسرائیل کو سالانہ اربوں روپے کی اقتصادی و عسکری امداد ملتی رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی اداروں میں امریکا نے اسرائیل کو سفارتی معاملات میں استثنائی حیثیت دلوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں جو غیرمعمولی کیفیت پائی جاتی رہی ہے وہ صرف لابنگ کا نتیجہ رہی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا میں آباد یہودیوں کی سوچ بھی دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنائے رکھنے میں کلیدی کردار کی حامل رہی ہے۔ امریکی یہودیوں نے عمومی طور پر اسرائیل کو اپنے لیے ایک مذہبی و ثقافتی پناہ گاہ کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ سوچ دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام اور سرد جنگ کے دور کے (مشرقِ وسطیٰ کے لیے) جمہوری آدرشوں کی وساطت سے پیدا ہوئی ہے۔ یوکرین کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ امریکا میں یوکرین کے لیے بہتر امکانات پیدا کرنے والی کوئی لابی ہے نہ یوکرین سے آبائی تعلق رکھنے والوں کی اِتنی واضح تعداد ہی ہے جو کچھ کرے۔ بہر کیف، اسرائیل کی لابی اور امریکی یہودیوں نے اسرائیل کے لیے جو بنیاد تیار کی تھی، وہ اب ہل رہی ہے۔
امریکی یہودیوں کی نئی نسل میں عمومی طور پر اور ترقی پسند یا لبرل سوچ رکھنے والے یہودی نوجوانوں میں اسرائیل کے لیے حمایت کا گراف گرچکا ہے۔ پچھلی نسل کے امریکی یہودی اسرائیل کو ایک جمہوری اتحادی کے روپ میں دیکھتے تھے جبکہ امریکی یہودیوں کی نئی نسل اسرائیل کو نسل پرست ریاست سمجھتی ہے۔ اس تبدیلی کو سوشل میڈیا نے شدید تر کرکے ہتھیار کی سی شکل دے دی ہے۔ غزہ میں جو کچھ اسرائیل فوج نے کیا ہے، جو قتلِ عام ہوا ہے اور جو تباہی واقع ہوئی ہے اُس کی تصویروں نے جواں سال امریکی یہودیوں کی سوچ بدل دی ہے۔ کسی زمانے میں امریکی یہودی ہر معاملے میں اسرائیل کا بھرپور دفاع کیا کرتے تھے مگر اب اُن کے اخلاقی معیارات بدل چکے ہیں۔
جیوئش وائس فار پیس اور اِف ناٹ ناؤ جیسی امریکی تنظیمیں فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف، اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسرائیل میں امریکی سرمایہ کاری ختم کرنے کا مطالبہ منوانے کے لیے ہزاروں افراد کو متحرک کرتی ہیں۔ امریکا کے پیو ریسرچ سینٹر کے ۲۰۲۳ء کے ایک سروے کے مطابق ۴۰ سال سے کم عمر کے ۵۲ فیصد امریکی یہودی اسرائیل کی حکومت کو شدید نسل پرستی کی مرتکب قرار دیتے ہیں۔ کسی ایسی کمیونٹی میں سوچ کی یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے جسے عشروں سے یہ کہانی سُنائی جاتی رہی ہو کہ اُن کے لیے اسرائیل ہی حقیقی پناہ گاہ ہے۔
اس دوران اسرائیل کی قیادت حقائق کو نظر انداز کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے یا شاید حقائق سے آشنا ہی نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے حکمراں اتحاد، محکمہ قانون کی اوور ہالنگ کے نتیجے میں چیک اینڈ بیلنس کے جمہوری نظام کے خاتمے اور امریکی یہودی ناقدین کو یکسر مسترد کردینے سے اسرائیل کے لبرل اتحادی بھی اب دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسرائیل قومی ریاست ہے۔ اس کے آئین اور قانون میں یہودیوں کو برتر تسلیم کیا گیا ہے۔ فلسطینی علاقوں پر قبضے کے ذریعے یہودیوں کی آباد کاری کا سلسلہ جاری رکھے جانے سے تنازع مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔
اِس امر میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ امریکی اور اسرائیلی یہودیوں کے درمیان پیدا ہونے والی فکری خلیج اب کُھلی جنگ میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ امریکی یہودی، جن کی اکثریت سکیولر اور ترقی پسند ہے، مساوات اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی یہودی، بالخصوص نیتن یاہو کے زیرِاثر رہنے والے، نسل پرستی پر مبنی قوم پرستی کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ وہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں یہودیوں کو آباد کرنے کو اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ ۲۰۲۱ء کی غزہ جنگ میں امریکی و اسرائیل یہودیوں کی یہ جنگ زیادہ کُھل کر سامنے آئی۔ اسرائیلی میڈیا نے اسرائیلی فوج کی فلسطینی علاقوں پر بمباری کو اپنے دفاع کے حق کے طور پر پیش کیا تاہم امریکی یہودیوں نے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سمعی و بصری ثبوتوں سے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا۔
امریکی و اسرائیلی یہودیوں کا یہ تصادم اب زہریلا ہوچکا ہے۔ اسرائیلی حکام امریکی یہودیوں پر غداری کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن جیسے لوگ لبرل اور ترقی پسند یہودیوں کو اسرائیل کے بدترین دشمنوں میں شمار کر رہے ہیں۔ اس نوعیت کی باتوں سے یہ تو بالکل واضح ہوچکا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے نزدیک اُس کی رائے سے اختلاف غداری کے مترادف ہے۔
کسی زمانے میں اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کا درجہ حاصل تھا۔ اب اسرائیل کو ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی گروپ B’Tselem کی طرف سے بھی نسل پرستی کے الزام کا سامنا ہے۔ ایک طرف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ غزہ میں اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کے حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے اور دوسری طرف دی بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز نامی تحریک بھی دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں زور پکڑ رہی ہے۔
اسرائیل الگ تھلگ ہوتا جارہا ہے اور یہ حقیقت امریکی یہودیوں کے لیے بہت اذیت ناک ہے۔ اسرائیل کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہ ہے۔ یہ دعویٰ قدم قدم پر چیک پوائنٹس، فلسطینیوں کے مکانات کے گرائے جانے اور الگ تھلگ کیے جانے والے راستوں سے ٹکراتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے جواں سال یہودیوں کی نفسی ساخت میں بھی ماضی بہت اچھی طرح گڑا ہوا ہے۔ جب وہ فلسطینیوں کی بے گھری دیکھتے ہیں تو اُنہیں اپنے اجداد کا در بدر ہونا یاد آتا ہے۔ ۲۰۲۲ء کے ایک سروے کے مطابق امریکا میں ۳۵ سال سے کم عمر کے ۲۵ فیصد یہودی اسرائیل کے وجود کو یہودی ریاست کے نمونے کے طور پر پیش کیے جانے کے مخالف ہیں۔ کبھی اِس نوعیت کی سوچ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
امریکی یہودیوں کی سوچ کو تبدیل کرنے میں بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حکومت برقرار رکھنے کے لیے نیتن یاہو کو الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں پر منحصر رہنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل کی حکومت نان آرتھوڈوکس یہودیوں کو انگوٹھے تلے رکھنے کی کوشش میں مصروف رہتی ہے۔ شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق قوانین میں نان آرتھوڈوکس یہودیوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غزہ پر انتہائی نوعیت کی بمباری اور فلسطینی خواتین، بچوں اور معمر افراد کے بہیمانہ قتلِ عام نے اسرائیل کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کردی ہے۔
امریکا نے جس طور یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا ہے، وہ اسرائیل کے لیے بھی بہت بڑے انتباہ کا درجہ رکھتا ہے۔ یوکرین نے روسی فوج کا سامنا کرنے کے لیے بنیادی طور پر امریکی ہتھیاروں کا سہارا لیا مگر اب اُسے، امریکا کی بے اعتنائی اور ری پبلکنز کی شدید مخالفت کے باعث، اپنے دفاع کے لیے یورپ کے سامنے ہاتھ جوڑنا پڑ رہے ہیں۔ فضائی دفاع کے معاملے میں یوکرین اب یورپ کی مدد کے بغیر کچھ زیادہ کر ہی نہیں سکتا۔ کسی زمانے میں یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی امریکی کانگریس میں غیرمعمولی حمایت حاصل تھی۔ جو کچھ اب یوکرین کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ اِس بات کا مظہر ہے کہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بننے والے اتحاد بالآخر ایسی موت مرتے ہیں۔ جب مفادات تبدیل ہوتے ہیں تو ایسے اتحاد خاتمے کی طرف ہی جاتے ہیں۔
اسرائیل بھی اِس کیفیت سے محفوظ نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سب سے پہلے امریکا کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک طرف اسرائیل کو سفارت خانہ تبدیل کرنے کی تحریک دی اور فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ملانے کی حمایت بھی کی تاہم یہ سب کچھ مفادات کے تحت تھا۔ امریکا کے لیے اسرائیل تب تک پیارا ہے جب تک وہ کام کا ہے۔ اگر اسرائیل امریکا کو دوبارہ عظمت سے ہم کنار کرنے کے بیانیے سے متصادم ہوا تو ٹرمپ کے دوسرے عہدِ صدارت میں امریکی قیادت اسرائیل کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔
قابض اسرائیلی ریاست اب دوراہے پر کھڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے منتخب اداروں میں یہودی لابی بہت مضبوط ہے مگر معاملہ مقدار تک محدود ہے، معیار کا معاملہ کچھ اور ہے۔ اس لابی کے پاس اخلاقی سرمایہ نہیں۔ امریکی یہودی کسی زمانے میں اسرائیل کے سخت جان حلیف تھے مگر اب وہ انصاف کے عالمگیر تصور کو قبائلی بنیاد پر کی جانے والی حمایت پر ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکا میں قومی سطح پر یہ سوچ ابھر رہی ہے کہ ہر حال میں سب سے پہلے امریکی مفادات دیکھنے چاہئیں۔ اس سوچ نے اسرائیل اور امریکا کے تعلقات کو کمزور کرنا شروع کردیا ہے۔ امریکا کے جواں سال یہودی بیرونی تنازعات کے مقابلے میں ملک کی حدود میں پائے جانے والے مسائل (عدم مساوات، ماحول کی گراوٹ وغیرہ) کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
جو کچھ امریکا نے یوکرین کے ساتھ کیا ہے، وہ ایسا نہیں کہ آسانی سے سمجھ میں نہ آسکے۔ جب امریکی ترجیحات تبدیل ہوئیں تب یوکرین کے لیے امداد کے سوتے بھی سُوکھتے گئے۔ اسرائیلی قیادت ایک بڑی غلطی کر رہی ہے۔ اگر وہ امریکی یہودیوں کی حمایت کو اہم نہیں گردان رہی تو پھر کل کو امریکی قیادت بھی اس معاملے میں اُس کے لیے کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوگی۔
اسرائیل اس وقت جس نوعیت کی سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے یا جن سیاسی تبدیلیوں کی دہلیز پر کھڑا ہے اُنہیں دیکھتے ہوئے بہت آسانی سے یہ سوچا اور کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی اُن اتحادیوں کی صف میں شامل ہوسکتا ہے جنہیں امریکا نے چھوڑ دیا ہے۔ جو کچھ ہنری کسنجر نے کہا تھا اور جو کچھ یوکرین کے ساتھ ہوا ہے، وہ تو یہی کہانی سُنا رہا ہے۔
(مترجم: ابو صباحت)
“US-Israel relations face a fragile future: Abandoning Ukraine is a warning”.
(“Middle East Monitor”. March 5, 2025)