ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی

امن معاہدہ یا اس کا ایم او یو کہہ لیں، وہ تو ہوگیا، اب سوال آگے کا ہے۔ اللہ کرے اگلے دو مہینوں میں باقاعدہ، مکمل اور حتمی معاہدہ ہوجائے جس کے قوی امکانات ہیں ۔ اس کے بعد پھر کیاہوگا؟ اس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ یہ وہ نکتہ ہے جس پر آج ہم بات کریں گے۔ سب سے پہلے امریکا کا تجزیہ کہ وہ حملہ آور فریق تھا، جنگ کا ذمہ دار ہی وہ تھا۔
امریکا کو کیا ملا؟
ہنری کسنجر نے ویت نام کی جنگ کے بارے میں ایک فقرہ کہا تھا جو آج لفظ بہ لفظ ایران کی جنگ پر چسپاں ہوتا ہے۔ کسنجر کا کہنا تھا کہ گوریلا فوج اگر سرنڈر نہ کرے اور اپنا وجود برقرار رکھ پائے تو یہ اس کی جیت ہے۔ اس کے برعکس ریگولر آرمی کو فتح کے لیے واضح، فیصلہ کن جیت حاصل کرنا پڑتی ہے۔
یہی معاملہ کسی بڑے ملک کی فوج اور چھوٹے ملک کا ہے۔ اگر بڑا ملک چھوٹے ملک کو شکست نہیں دے سکا تو یہ صاف لفظوں میں اس کی ہار ہے۔ جنگ میں یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے ساٹھ یا ستر فیصد جنگ جیتی ہے۔ نہیں بھئی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ جنگ میں گھس تو جاتے ہیں، پھر آسانی سے نکل نہیں سکتے۔ نکلتے وقت طے ہوگا کہ فتح ہوئی یا نہیں؟ واضح طور پر یہ امن معاہدہ امریکا کی فتح نہیں ہے۔ اس کا پھر یہی مطلب ہے کہ امریکا کی شکست ہوئی۔ یہ بات ہمارے کئی مغرب زدہ لوگوں کو ناگوار گزرے گی مگر یہ سفاک حقیقت ہے۔
یہ بات میں نہیں کہہ رہا، پورا امریکی میڈیا کہہ رہا ہے۔ آج کے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں۔ وہ تجزیہ کار جو صدر ٹرمپ کے حامی سمجھے جاتے تھے، وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جو بلند وبانگ دعوے صدر ٹرمپ نے حملے کے وقت کیے تھے، ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ ایران میں رجیم تبدیل کرنا چاہتے تھے، نہیں کر پائے۔ ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ ایران میں زیادہ اسمارٹ نئی قیادت آ گئی ہے۔ نئی قیادت ؟ کوئی جا کر مسٹر ٹرمپ کو بتائے کہ جناب علی خامنائی کا بیٹا اب رہبر انقلاب ہے جنہیں اپنے بزرگ والد سے زیادہ سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔ پاسداران انقلاب میں زیادہ سخت، زیادہ نظریاتی لوگ اوپر آئے ہیں۔ یہ نئی قیادت نہیں یہ اسی پچھلی رجیم کا تسلسل ہے۔ زیادہ نظریاتی، زیادہ سخت گیر اور امریکی حملوں کا کامیابی سے دفاع کرنے کے اعتماد سے سرشار ہائی مورال والی ایرانی قیادت۔
اسی طرح امریکا ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا چاہتا تھا، نہیں ہوا۔ امریکا چاہتا تھا کہ ایران لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں، شام اور عراق میں اپنے حامی گروپوں کو فنڈنگ نہ کرے، انہیں چھوڑ دے۔ ایسا بھی نہیں ہوا۔ معاہدے میں یہ شق سرے سے شامل ہی نہیں۔ امریکا صرف اس پر خوش ہے کہ ایران نیوکلیئر بم نہیں بنائے گا۔ ایران تو پہلے ہی یہ کہتا تھا کہ اس نے نیوکلیئر بم نہیں بنانا۔ ان کے تو سب سے بڑے عالم کا فتویٰ موجود ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے چاہئیں۔
امریکا نے پھر کیا حاصل کیا؟ مختصر جواب ہے، کچھ بھی نہیں۔ بس امریکا اس جنگ سے نکل گیا ہے، گو شرمندہ ہو کر، ناکام ہو کر۔ صدر ٹرمپ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ جنگ کی دلدل میں پھنس گئے ہیں، انہیں یہ بھی پتا چل گیا کہ مجھے دھوکہ دے کر جنگ کرائی گئی۔ ٹرمپ کسی نہ کسی طرح جنگ سے نکلنا چاہتا تھا۔ بس وہی ہوا ہے مگر ایران کو کئی رعایتیں دے کر ہی ایسا ہو پایا۔
درحقیقت امریکا کو ایک تیسرے ملک، پاکستان، کی ثالثی سے مذاکرات کی میز پر آناپڑا، اور جو معاہدہ ہوا اس میں ایران کی پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کیے جا رہے ہیں، اور تین سو ارب ڈالر کی تعمیر نو کا فنڈ بھی زیر بحث ہے۔ یہ کسی فاتح کی شرائط نہیں، یہ ایک تھکے ہوئے فریق کا سمجھوتہ ہے۔
اس کا موازنہ اسی برس کے آغاز میں ہونے والے ایک اور آپریشن سے کریں تو فرق خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔ ۳ جنوری کو امریکی فوج وینزویلا میں گھس گئی اور صدر میدورو کو ان کے ہی محل سے اٹھا لیا، یہ پورا آپریشن صرف دو گھنٹے ۲۸ منٹ میں مکمل ہوگیا۔ تاریخ کی مختصر ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے فخر سے کہا تھا کہ ہم امریکی طاقت دوبارہ ثابت کر رہے ہیں۔ یہی جوش اور یہی اعتماد دو ماہ بعد ایران پر حملے کی صورت میں نکلا۔ مگر وینزویلا ایک تنہا، کمزور اور غیر مقبول حکمران کا ملک تھا، جبکہ ایران ایک منظم ریاستی ڈھانچہ، تربیت یافتہ فوج، علاقائی پراکسی نیٹ ورک اور برسوں کی تیار کردہ میزائل حکمت عملی رکھنے والا ملک ثابت ہوا۔ ایک کو ۲ گھنٹوں میں زمین پر لٹا دیا گیا، دوسرے نے امریکا کو ۴ ماہ تک الجھا کر رکھا بلکہ پوری دنیا کی معیشت ہلا دی۔
خاکسار کی رائے میں یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سبق ہے، امریکا آج بھی کمزور کو فوری زیر کر سکتا ہے، مگر مضبوط مزاحمت رکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔ یہ اس جنگ کا ایک اور سائیڈ ایفکٹ نکلا ہے، چھوٹے نسبتاً کمزور ملکوں کو بھی سمجھ آئی ہے کہ ہوشیاری سے جنگ لڑی جائے تو اچھی مزاحمت ہوسکتی ہے۔
یورپ کہاں کھڑا ہے؟
یورپ کوپہلے یوکرین کی جنگ نے اور پھر ایران جنگ نے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یورپ اپنے آپ کو تنہا، کمزور اور غیر محفوظ تصور کر رہا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ امریکا ہماری مدد کرے گا اور ہمیں روس کے حملوں کے خلاف بچائے گا۔ اب ان کی سوچ بدل گئی ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکا تو ایران سے نہ نمٹ سکا، ان کی کیا مدد کرے گا۔ اگلے برسوں میں یورپی ممالک اپنادفاعی بجٹ بہت زیادہ بڑھانا چاہ رہے ہیں تاکہ خود تگڑے ہوں اور کسی خطرے سے نمٹ سکیں۔
میں نے تازہ مغربی تجزیے دیکھے تو پتہ چلا کہ جرمن چانسلر فریڈرک میرس، جو ابتدا میں امریکا کے ساتھ کھڑے تھے، آخر میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ امریکا ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھوں ذلیل ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے غصے میں جواب دیا کہ میرس کو پہلے اپنے ملک کی توانائی اور امیگریشن کے مسائل دیکھنے چاہئیں۔ ویسے یورپ اب یہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی انگیجمنٹ بڑھے۔
ایران کہاں کھڑا ہے؟
اگر ایرانی قیادت دانشمندی سے کام لے اور معاہدے کو کامیاب ہوجانے دے، چھوٹے چھوٹے مسائل پر بے جا ضد نہ کرے تو تو ایران اس جنگ سے ہر اعتبار سے کامیاب ہو کر نکلا ہے۔ اس کے بہت سے مسائل حل ہوگئے، جن کا ۴۔۵ ماہ پہلے ایرانی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ امریکی حملے سے پہلے ان پر بے شمار پابندیاں تھیں، وہ کھلے عام اپنا تیل نہیں بیچ سکتے تھے۔ چوری چھپے تیل بیچتے تو وہ سستا دینا پڑتا۔ گیس نہیں دے سکتے تھے۔ کوئی غیر ملک وہاں انویسٹمنٹ کو تیار نہیں تھا۔ ایرانی کرنسی تباہ ہوچکی تھی، معاشی حالات بہت ہی خراب۔
اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ ایران پر پابندیاں ختم ہو رہی ہیں۔ وہ اپنا تیل مناسب ریٹ پر بیچ سکے گا۔ گیس دے گا، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی بحال ہو سکے گا۔ ایران کے منجمد شدہ پیسے واپس آجائیں گے۔ سب سے بڑھ کریہ کہ تین سو ارب ڈالر کاسپورٹ فنڈ اس کے لیے بنے گا۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ ایران کے وارے نیارے ہوسکتے ہیں۔ سب کچھ بدل جائے گا۔ صرف ۲،۳ برسوں میں ایران پورے ریجن کی بڑی قوت بن کر ابھر سکتا ہے۔ صرف ایرانی قیادت کو دانشمندی سے کام لینا ہوگا۔
بدلتا مڈل ایسٹ
مڈل ایسٹ کا نیا پاور اسٹرکچر سامنے آئے گا۔ پاکستان سعودی عرب معاہدہ تو ہوچکا۔ یہ اپنی جگہ رہے گا اور عین ممکن ہے کہ باقاعدہ طور پر الگ سے ایک نیا دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطرمیں ہوجائے۔ یہ بھی چانس ہے کہ کویت، بحرین بھی اس میں شامل ہوجائیں۔ یہ کوئی باقاعدہ دفاعی معاہدہ نہیں، مگر یہ ضرور ہے کہ یہ ۴ ممالک مشترکہ سیکیورٹی خدشات پر اب اکٹھے سوچ رہے ہیں، اور یہ امریکی چھتری کے بغیر سوچنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ ایران سعودی عرب تعلقات کی ایک نئی جہت سامنے آسکتی ہے۔ اللہ نے چاہا تو مڈل ایسٹ کا نقشہ ہی تبدیل ہوجائے گا۔ ابراہیم اکارڈ والی کہانی بھی اب ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
سب سے بڑا لوزر، اسرائیل
اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان اسرائیل کو ہوا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے آج کے نیویارک ٹائمز میں ان کے یروشلم کے بیوروچیف کی رپورٹ کا اقتباس نقل کر رہا ہوں، اندازہ ہوجائے گا کہ اسرائیل میں کیا چل رہا ہے؟ ڈیوڈایم ہاب فنگر لکھتے ہیں، اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کے نقطہ نظر سے یہ ایک انتہائی تباہ کن معاہدہ ہے، کیونکہ یہ اسرائیل کے جنگی مقاصد میں سے کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرتا، یہ دلیل بھی دی جا رہی ہے کہ اس نے ملک کو ہر محاذ پر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کے ایڈیٹر، ڈیوڈ ہارووِٹز نے ایک طویل کالم میں اسے ’تباہ کن پسپائی‘ کا نام دیا۔
اسرائیل کے چینل ۱۲؍نیوز کے تجزیہ کار، نیر دوری نے اس معاہدے کو سفارتی ۷؍اکتوبر سے تشبیہ دی۔ ایک ایسا بھیانک المیہ جس کے لیے اسرائیل مکمل طور پر غیر تیار تھا۔ اسرائیل کے سابق ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر، چک فرائلک نے کہا ہے، ایران اس جنگ سے مضبوط ہو کر نکلا ہے، اور وہ اب خطے کا نیا چوہدری ہے۔ ایران نے دنیا کی سپر پاور، امریکا کا مقابلہ کیا۔ ان کے پاس میزائل موجود رہ سکتے ہیں، اور معاہدے میں جوہری مسئلے کے بارے میں اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ہم اس پر بات کریں گے۔ یہ امریکا اور اسرائیل پر ایران کی ایک واضح فتح ہے۔
پاکستان، غیر معمولی کامیابی
وال اسٹریٹ جرنل کے فرنٹ پیج پر سینئر تجزیہ کار سدھانند دھومے کا دلچسپ تجزیہ شائع ہوا، وہ لکھتے ہیں کہ ’اس حتمی معاہدے کو کم از کم ایک ملک کے لیے خالص ترین کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا: اور وہ ہے پاکستان، جس نے امریکا اور ایران کے مابین مرکزی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ فی الحال، اسلام آباد میں خوشی کے شادیانے بجنے چاہئیں۔ اگر پاکستان کی قیادت عقلمند ہے، تو وہ عالمی توجہ کے اس سنہری لمحے کو معاشی ترقی کو آگے بڑھانے اور عوام کی وسیع تر مشکلات کو کم کرنے کے لیے استعمال کرے گی‘۔
یہی حقیقت ہے۔ اس پوری کہانی میں اگر کسی کا پلڑا بھاری ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ کے ساتھ ذاتی قربت، ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ پاکستان کا برسوں پرانا اعتماد، اور قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی حمایت نے پاکستان کو وہ کردار دے دیا جو کبھی قطر یا عمان جیسے روایتی ثالثوں کو ملتا تھا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان محض ایک سیکیورٹی ریاست نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی کھلاڑی بھی بن سکتا ہے۔ امتحان مگر آگے ہے۔ ٹرمپ نے ابراہم اکارڈز میں شمولیت کی شرط رکھ دی ہے، تو کیا پاکستان کو اب اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟ میرے خیال میں ہرگز نہیں، فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل سے کوئی تعلق ممکن نہیں، اور پاکستان کا یہی مؤقف برسوں سے واضح رہا ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر اپنی پزیرائی کو معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ یہ سب سے اہم بات ہے۔
خاکسار کی نظر میں اصل کہانی معاہدے کے چودہ نکات میں نہیں، اس بدلتے توازن میں ہے جس کا یہ جنگ گواہ بنی۔ سرد جنگ کے بعد جو دنیا ایک ہی سپرپاور کے گرد گھومتی رہی، وہ اب آہستہ آہستہ کئی مرکزوں میں بٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین اہم ترین پلیئر بن رہا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے بعد بھی کمزور نہیں ہوا۔ یورپ اپنا راستہ ڈھونڈ رہا ہے، خلیجی ریاستیں اپنی حفاظت خود کرنے کی سوچ رہی ہیں اور پاکستان جیسے ممالک کو نئی گنجائش مل رہی ہے۔ ایران امریکا جنگ کا یہی سبق ہے۔
(بحوالہ: ’’وی نیوز ڈاٹ پی کے‘‘۔ ۱۹؍جون ۲۰۲۶ء)

تازہ مضامین

اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں انسانیت سوز ماحول میں رکھا گیا، مظالم ڈھائے گئے، برہنہ بھی کیا جاتا رہا، عصمتیں بھی پامال کی گئیں۔ بہت سے معاملات میں

سپر پاور بننا اور اِس حیثیت کو برقرار رکھنا بچوں کا کھیل نہیں۔ امریکا واحد سپر پاور ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک

پاکستان خود کو سفارتی معاملات میں ایک انتہائی پسندیدہ مقام پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی غیرمعمولی کوششوں کے باوجود عالمی سفارت کاری کے منظر پر پاکستان بہت نمایاں ہے اور یہ سب کچھ امریکی

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور