ایران جنگ اور سعودی پالیسی کی تشکیلِ نو

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے سعودی عرب کے لیے کئی پیچیدہ چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی بندش، متحدہ عرب امارات کے ساتھ بڑھتی ہوئی خلیج، اور امارات کا تیل برآمد کرنے والے اتحاد ’’اوپیک‘‘ سے علیحدہ ہونا شامل ہیں۔ اس جنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کو بھی اپنی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
محمد بن سلمان سے قبل سعودی پالیسی عمومی طور پر سست رفتار، اجتماعی مشاورت پر مبنی اور بڑی حد تک قابلِ پیش گوئی ہوا کرتی تھی۔ ولی عہد نے داخلی ماحول میں غیر معمولی سرگرمی پیدا کی اور ایک ایسی جارحانہ اور بعض اوقات غیر متوقع خارجہ پالیسی اختیار کی جس نے سعودی عرب کو متعدد مشکلات سے دوچار کیا۔
تاہم ایران کے خلاف جنگ نے ایک مرتبہ پھر مملکت کے فیصلہ سازی کے عمل کو سست کر دیا ہے، کیونکہ قیادت اب اپنی طویل المدتی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہے۔ سعودی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ اس جنگ کا جو بھی نتیجہ نکلے، وہ آئندہ کم از کم دو دہائیوں تک پورے خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
یہ حیرت کی بات نہیں کہ سعودی عرب کی نئی حکمتِ عملی کا مرکز اب آبنائے ہرمز بن چکی ہے، جہاں سے اس کی بیشتر تیل کی برآمدات ہوتی ہیں اور دیگر تجارتی سامان گزرتا ہے۔ اگرچہ مملکت مدتوں سے اس اہم گزرگاہ پر اپنے انحصار کے خطرات سے آگاہ تھی، لیکن ماضی میں اس کی طویل بندش کو انتہائی غیر متوقع سمجھا جاتا تھا۔ اب اس بندش نے نہ صرف تجارت بلکہ ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی کامیابی پر بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
اب جبکہ آبنائے ہرمز ایک مرتبہ بند ہو چکی ہے، تو مستقبل میں اس کے دوبارہ بند ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔ یہ صورتِ حال سعودی عرب کی تجارتی سرگرمیوں اور معاشی تبدیلی کے منصوبوں کے لیے ایک طویل المدتی خطرہ بن چکی ہے۔ بار بار یا طویل تعطل سے حکومتی آمدنی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مملکت کی ایک محفوظ تجارتی، لاجسٹک اور مالیاتی مرکز کے طور پر ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ اور اس کے بعد آنے والے معاشی منصوبوں کی کامیابی توانائی اور آمدنی کے مستقل بہاؤ اور محفوظ بحری راستوں پر منحصر ہے۔
اسی لیے سعودی عرب اب اپنے ’’معاشی جغرافیہ‘‘ کو ازسرِنو ترتیب دینے پر غور کر رہا ہے۔ مملکت آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی پالیسی کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ رہی ہے۔ سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع منصوبے، جن میں بندرگاہیں، صنعتی زونز اور سیاحتی ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، اب کلیدی ترجیحات بن جائیں گے۔ مملکت کی دو ساحلی پٹیاں اسے اپنے ہمسایہ ممالک پر ایک نمایاں جغرافیائی برتری فراہم کرتی ہیں، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ خود کو خصوصاً متحدہ عرب امارات کے مقابلے میں خطے کے مرکزی برآمدی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر منوانا چاہتی ہے۔
اس کے مغرب کی جانب جھکاؤ کا مطلب یہ ہے کہ قومی تیل کمپنی ’’سعودی آرامکو‘‘ کو اپنی خام تیل برآمدات بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کرنا ہوں گی، یا کم از کم ایسی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی کہ روزانہ سات ملین بیرل تیل مشرق سے مغرب منتقل کیا جا سکے، تاکہ جنگ سے پہلے کی برآمدی سطح برقرار رہے۔ اس وقت تقریباً چالیس لاکھ بیرل یومیہ خام تیل پائپ لائن کے ذریعے مشرق سے مغرب منتقل کر کے بحیرۂ احمر کے ’’ینبع‘‘ ٹرمینل سے برآمد کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ برآمدات کم ہیں، تاہم سعودی عرب اپنے بیشتر خلیجی پڑوسیوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے، کیونکہ ان کی برآمدات اب بھی خلیج ہی تک محدود ہیں۔ تیل کی قیمتیں تقریباً ۱۲۰؍ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں، جو جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً دوگنی ہیں، اس لیے ریاض کے پاس مالیاتی استحکام کی ایک حد تک صلاحیت موجود ہے۔
تاہم اگر سعودی عرب خود کو ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر منوانا چاہتا ہے، تو اسے ایسی بنیادی تنصیبات پر طویل المدتی سرمایہ کاری کرنا ہوگی جو بحیرۂ احمر اور خلیج کے بڑے شہری مراکز کے درمیان سامان، خصوصاً تیل، کی منتقلی کو ممکن بنا سکیں۔ اس عمل میں زیادہ وقت اور زیادہ اخراجات ناگزیر ہوں گے، مگر آبنائے ہرمز کے مسئلے کی ساختی نوعیت نے سعودی عرب کے لیے متبادل راستہ تقریباً ختم کر دیا ہے۔
لیکن آبنائے ہرمز سے ہٹ کر راستے اختیار کرنے سے خطرات ختم نہیں ہوں گے بلکہ صرف اپنی جگہ تبدیل کریں گے۔ ایران نواز حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملے اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ بحری عدمِ تحفظ اب سعودی عرب کی مغرب کی جانب اس نئی حکمتِ عملی کے لیے ایک ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی رکاوٹ بن جائے گا۔
ایران جنگ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اختلافات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بحیرۂ احمر سے متعلق اپنے عزائم کو لاحق بحری خطرات ہی اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ سعودی عرب ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست شریک ہونے سے کیوں گریزاں ہے اور مزید کشیدگی کے خلاف سفارتی کوششیں کیوں کر رہا ہے۔ سعودی قیادت جانتی ہے کہ اگر ایران کے حملوں کا عسکری جواب دیا گیا تو نہ صرف اس کے توانائی کے مراکز اور اہم تنصیبات خطرے میں پڑ جائیں گی بلکہ حوثیوں کی جنگ میں براہِ راست شمولیت بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں سعودی عرب کے متبادل برآمدی راستے بھی خطرے سے دوچار ہو جائیں گے، جس سے آبنائے ہرمز سے دور ہونے کی اس کی پوری حکمتِ عملی کمزور پڑ سکتی ہے۔
یہی پس منظر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایران جنگ کے حوالے سے مختلف مؤقف کو آشکار کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ابوظہبی نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے، جو اپنے خلیجی پڑوسیوں کے مقابلے میں امریکا اور اسرائیل کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔ اماراتی اعلیٰ حکام نے نہ صرف ایرانی قیادت کو اماراتی سرزمین پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا بلکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے مؤثر ردِعمل یا مناسب حمایت کا مظاہرہ نہیں کیا۔
سعودی عرب اب اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگا ہے، اسی لیے وہ اسرائیل کے ساتھ امارات کی قربت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ نتیجتاً امارات کا رویہ ریاض کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش اور ناراضی کا باعث بن گیا ہے۔ اوپیک سے علیحدگی کا اماراتی فیصلہ، اگرچہ مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھا، تاہم سعودی عرب کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہوا ہے۔ اگرچہ سعودی عرب اوپیک میں بدستور سب سے طاقتور کردار ادا کرے گا، مگر اب وہ واحد اور بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہوگا جس کے پاس اضافی پیداواری گنجائش موجود ہے، اور ممکن ہے مستقبل میں اسے اماراتی پیداوار میں اضافے کی تلافی کے لیے اپنی پیداوار اور برآمدات کم کرنا پڑیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ کے لیے دونوں ممالک کی مسابقت مزید شدت اختیار کرے گی۔ آبی گزرگاہ تک رسائی، اس کے راستوں اور اس کی سلامتی پر کنٹرول سعودی عرب کی معاشی اور تزویراتی حکمتِ عملیوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات بحیرۂ احمر اور افریقا کے ’’ہارن‘‘ کے علاقے میں بندرگاہوں اور عسکری اڈوں کا ایک تزویراتی نیٹ ورک قائم کر رہا ہے تاکہ عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور اپنا معاشی اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے۔
ایک نئی تزویراتی سوچ
سعودی قیادت اس جنگ کو اپنے اخراجات کی ترجیحات تبدیل کرنے کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی اس کے عظیم الشان منصوبوں پر نظرثانی کا عمل جاری تھا، اور اب ایران کے ساتھ جنگ نے اسے مزید نمایاں تبدیلیاں کرنے کا ایک قابلِ قبول جواز فراہم کر دیا ہے۔
اب مملکت کی توجہ دوبارہ ان داخلی صنعتوں پر مرکوز ہو رہی ہے جو قومی ترقی اور معاشی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ سعودی خودمختار سرمایہ کاری فنڈ ’’پی آئی ایف‘‘ نے بیرونِ ملک اپنے بعض نمایاں منصوبوں کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے، جن میں “LIV Golf” اور نیویارک کی ’’میٹروپولیٹن اوپیرا‘‘ سے متعلق اسپانسرشپ اور شراکتیں شامل ہیں۔ اسی طرح اس نے سعودی عرب کے ممتاز فٹبال کلب ’’الہلال‘‘ میں اپنے بڑے حصص کی جزوی فروخت پر بھی اتفاق کیا ہے، جبکہ ’’النصر‘‘، ’’الاہلی‘‘ اور ’’الاتحاد‘‘ بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات زیادہ محتاط اخراجات، سخت مالی نظم و ضبط اور نمائشی منصوبوں سے دوری کی علامت ہیں۔
محمد بن سلمان نے یمن میں سعودی مداخلت سے دو نہایت تلخ سبق سیکھے: اول، جذباتی اور عجلت پر مبنی فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ دوم، دنیا میں کوئی جنگ ’’مختصر‘‘ نہیں ہوتی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں شریک ہونے یا اس کی کھل کر حمایت کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے برعکس سعودی عرب ایک مرتبہ پھر اپنی روایتی پالیسی کی جانب لوٹتا دکھائی دیتا ہے، جہاں جلدی فائدے حاصل کرنے کے بجائے احتیاط، صبر اور طویل المدتی تزویراتی پوزیشن کو ترجیح دی جاتی ہے۔ (مترجم: محمود الحق صدیقی)
“How the Iran war is reshaping Saudi strategy: From Hormuz and Houthis to the UAE’s OPEC exit”. (“chathamhouse.org”. May 5, 2026)

تازہ مضامین

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ پیشہ ورانہ معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ دنیا کو جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ کم ہیں اور جن شعبوں میں افرادی قوت پہلے ہی طلب سے بہت