امریکا ۔ چین تصادم کا خدشہ

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو بڑی طاقتیں ٹکراگئیں تو دنیا کو تباہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ امریکا اور چین کے درمیان معاملات بگڑتے جارہے ہیں۔ کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ پہلے معاملات تجارت تک محدود تھے۔ چین نے اپنی غیرمعمولی معاشی قوت کے ذریعے امریکا کو بہت پریشان کیا ہے۔ پھر اُس نے عسکری قوت بڑھانے پر توجہ دی۔ اب وہ ہائی ٹیک کے میدان میں بھی تیزی سے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا سمجھ رہی تھی کہ چین محض بنیا ذہنیت کے بل پر چلتا رہے گا۔ ایسا نہیں ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے خبردار کیا ہے کہ چین کو دبانے کی کوشش انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی کسی بھی صورتِ حال میں دو بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم ہوسکتا ہے۔ تھوسیڈائڈز ٹریپ کو آج کی صورتِ حال میں مقبولیت سے ہمکنار کرانے میں ہارورڈ کینیڈی اسکول کے بیلفر سینٹر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر گراہم ایلیسن کا کردار کلیدی رہا ہے۔
یونان کے معروف تاریخ دان Thucydides سے موسوم یہ اصطلاح دراصل ایسی کیفیت کو بیان کرتی ہے جس میں کسی بڑی طاقت کے لیے خطرہ بننے والی نئی قوت معاملات کو جنگ کی طرف لے جاتی ہے۔ تھوسیڈائڈز نے یونان کی پیلوپونیسن جنگ کے تناظر میں لکھا تھا کہ ایتھنز کے عروج نے اسپارٹا میں خوف پیدا کیا اور اُس نے ایتھنز سے جنگ کو ناگزیر سمجھ لیا۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کبھی، کسی بھی صورتِ حال میں جنگ کی خواہش کسی تنازع کو جنم نہیں دیتی۔ ہاں، جب کسی بڑی قوت کے مقابل کوئی قوت پیدا ہو، پروان چڑھے اور عروج کا زمانہ دیکھتی دکھائی دینے لگے تب پہلے سے موجود قوت یہ سمجھتی ہے کہ اب اُس کی اجارہ داری اور برتری ختم ہونے کو ہے۔ یہ خوف اُسے جنگ کی طرف دھکیلتا ہے۔
جب بھی دنیا میں طاقت کے مراکز تبدیل ہونے لگتے ہیں تب معاملات جنگ کی طرف جاتے ہیں یا لے جاتے ہیں۔ بیلفر سینٹر کے تحت تاریخی معاملات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیشتر معاملات میں یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی قوت ابھرتی ہے تو پہلے سے موجود قوت خوفزدہ ہوکر اُسے روکنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔ اتحاد تشکیل پاتے ہیں اور تنازعات شروع ہوتے ہیں۔ کم و بیش ۷۵ فیصد معاملات میں ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کسی عالمی قوت کے مقابل کوئی قوت ابھرتی ہے اور اُس کی بالا دستی کے لیے خطرہ بنتی ہے تب معاملہ مسلح تصادم کی طرف جاتا ہے۔ طاقت کے مراکز کی تبدیلی کا مرحلہ خوف، تشویش اور مایوسی کی ایسی فضا پیدا کرتا ہے کہ معاملات کو بگڑنے سے روکنا انتہائی محال ہو جاتا ہے۔
تھوسیڈائڈز کے تصور یا نظریے کا ہر دور کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اطلاق کیا جاتا رہا ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں امریکا ابھرا تو یورپ کے لیے مسائل پیدا ہوئے مگر بہت جلد ختم ہوگئے کیونکہ دونوں کے درمیان مذہب، نسل اور ثقافت کی یکسانیت تھی۔ پھر دونوں نے مل کر باقی دنیا کو مٹھی میں لینا شروع کیا۔
فی زمانہ امریکا اور چین کے درمیان شدید کشمکش چل رہی ہے۔ ویسے تو یورپ بھی نرم قوت کے حوالے سے غیرمعمولی رہا ہے مگر وہ امریکا کے لیے کبھی حقیقی خطرہ نہیں بنا کیونکہ دونوں نے بہت پہلے طے کرلیا تھا کہ مل کر باقی دنیا کو مٹھی میں دبوچے رکھنا ہے۔ چین کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ معاشیات، ٹیکنالوجی اور عسکری قوت کے حوالے سے دونوں کے درمیان غیرمعمولی نوعیت کی رَسّا کشی پائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ بہت حد تک فطری ہے کیونکہ سوال محض چین کی طاقت کے بڑھنے کا نہیں بلکہ امریکا کی قوت کے گھٹنے کا بھی ہے۔ امریکی قیادت یعنی اسٹیبلشمنٹ کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ ملک کی طاقت گھٹ رہی ہے اور دوسری طرف چین مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں بدحواسی کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ بدحواسی کبھی کبھی اچانک بہت زیادہ بڑھی ہوئی لگتی ہے۔ تب متعلقین تیزی سے متحرک ہوکر معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضرورت محسوس ہو تو چوٹی کی ملاقات بھی ہوتی ہے یعنی دونوں ملکوں کے صدور بھی ملاقات کرلیتے ہیں تاکہ دنیا کو سُکون کا سانس لینے کا موقع ملے۔
ہارورڈ کینیڈی اسکول نے انتباہ کیا ہے کہ ہر سو ڈیڑھ سو سال کے بعد طاقت کی تبدیلی کا مرحلہ آتا ہے اور کچھ نہ کچھ ہوکر رہتا ہے۔ اِس وقت امریکا اور چین کے درمیان جو کچھ بھی چل رہا ہے، وہ تاریخی اعتبار سے طاقت کی تبدیلی کا مرحلہ یا عمل ہے۔ ایسے میں کبھی کبھی معاملات اِتنے نازک ہو جاتے ہیں کہ محض ایک چھوٹا سا واقعہ، ایک معمولی سی غلطی بہت بڑی یا عالمی جنگ کے فیتے کو آگ لگا سکتی ہے۔
جنگ ہر حال میں ناگزیر نہیں ہوتی۔ اگر بات چیت کا ماحول بناکر رکھا جائے، ایک دوسرے کو گنجائش دینے کی راہ نکالی جاتی رہے تو بہت سے معاملات کو خطرناک شکل اختیار کرنے سے قبل قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ قائدین پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
امریکا اور چین کی قیادت اِس وقت نفسیاتی اور اعصابی جنگ میں مصروف ہیں۔ فریقین کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ طاقت کے کھیل کی روایت اپنی جگہ اور پیشرفت کے اعتبار سے بدلی ہوئی دنیا اپنی جگہ۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی اقدام سوچے سمجھے بغیر محض طاقت کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا اور چین کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ دونوں کے پاس اِتنی طاقت ہے کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھا سکتے ہیں۔ امریکا ہائی ٹیک میں بالا دستی یا برتری کا حامل ضرور ہے مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ چین کو تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کرسکتا ہے۔ چین بھی جانتا ہے کہ امریکا کو زیر کرنا اُس کے بس کی بات نہیں۔ ہاں، امریکا کو پریشان کرکے وہ اپنے مفادات کا تحفظ ضرور یقینی بناسکتا ہے۔ اور وہ ایسا ہی کر رہا ہے۔
طاقت کے مراکز کی تبدیلی کا یہ موسم پوری دنیا کے سیاسی، سفارتی، معاشی اور معاشرتی ماحول کو انتشار سے دوچار کر رہا ہے۔ چھوٹے ممالک کی شامت آئی ہوئی ہے۔ اسٹریٹجک لڑائیوں میں وہ کسی گنتی ہی میں نہیں۔ بڑی طاقتیں اُنہیں اپنی مرضی کے مطابق نچا رہی ہیں۔ امریکا اور یورپ نے مل کر کئی خطوں کو کم و بیش ۲ صدیوں تک اپنی مرضی کے مطابق چلایا اور پھر بیسویں صدی کے اوائل میں ایک نئی، ترقی یافتہ دنیا کے ابھرنے پر اِن دونوں خطوں نے طریقہ تبدیل کیا۔ اب اِن دونوں نے مل کر پسماندہ ملکوں کو فتح کرنے اور اُن پر قابض ہونے کے بجائے، اُن کی معیشتوں پر قابض ہوکر اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کروانا شروع کیا۔ اپنے پٹھو بٹھاکر اِن پسماندہ ملکوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کا سلسلہ بہت حد تک اب بھی جاری ہے۔ امریکا اور یورپ نے یوں ڈھائی تین صدیوں کے دوران جی بھر کے مزے لُوٹے ہیں۔ اب بہت کچھ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی ہم منصب سے حالیہ ملاقات اور بات چیت کے دوران تھوسیڈائڈز ٹرپ کا خاص طور پر ذکر کیا اور اِس نکتے پر زور دیا کہ امریکا اور چین کو ہر حال میں براہِ راست مسلح تصادم سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ دو بڑی عالمی طاقتیں ٹکرا گئیں تو بہت بڑے پیمانے پر تباہی رونما ہوگی۔ دونوں کے قائدین اِس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
بحیرۂ جنوبی چین، تائیوان، اے آئی اور دیگر امور پر امریکا اور چین کے درمیان تناؤ اِس وقت نقطۂ عروج پر دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کوئی معمولی سی غلطی بھی بہت بڑا بحران کھڑا کرسکتی ہے۔ ایسے میں دونوں بڑی طاقتوں کو ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ دنیا اِن سے دانش اور تحمل کی توقع رکھتی ہے۔
(یہ مضمون نیوز فیڈ اور ویب سائٹس کے تجزیوں سے تیار کیا گیا ہے۔۔۔ تلخیص و تدوین: ابو صباحت)

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ پیشہ ورانہ معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ دنیا کو جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ کم ہیں اور جن شعبوں میں افرادی قوت پہلے ہی طلب سے بہت