جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے عسکری کارروائیوں کے باوجود ایران آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا اور عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا نہیں ہوگا۔ اُن کا خیال تھا کہ آبنائے ہرمز بند کرنے سے خلیجِ فارس کے خطے میں ایران کے پڑوسی برہم ہوں گے۔ ایسی صورت میں خلیجی ممالک کے وہ ایشیائی کسٹمرز متاثر ہوں گے جو اُن سے تیل خریدتے ہیں۔ تیل کی برآمد خلیجی ممالک کی معیشت کے لیے سب سے بڑی لائف لائن ہے۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند بھی کی تو امریکا اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر اِسے فوری طور پر کُھلوا دے گا۔ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملوں کی ابتدا کے ڈھائی ماہ بعد بھی آبنائے ہرمز میں ٹریفک کم و بیش صفر کے مساوی ہے۔ ایران نے وہاں سے گزرنے والے تیل بردار اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں عالمی تجارت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کُھلوانے کی سفارتی کوششیں اب تک نامکمل اور غیرنتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔ اس معاملے کا جامع سفارتی حل بھی ممکن ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سوچا جاسکتا ہے کہ ایران اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر بھی بند کرسکتا ہے۔ تیل کی عالمی قیمتوں پر ایک نظر ڈالیے اور پھر دیکھیے کہ اس حوالے سے جو ردِعمل دکھائی دینا چاہیے تھا، وہ اب تک ناپید ہے۔ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنا آسان کام نہیں۔ وہ ڈٹا ہوا ہے، اَڑا ہوا ہے۔ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھی برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۲۰؍ڈالر فی بیرل تک پہنچی ہے جبکہ مارچ میں ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ آبنائے ہرمز مستقل بند رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۵۰ سے ۲۰۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایشیا کے بہت سے ممالک میں معیشتی انحطاط کی ابتدا ہوچکی ہے۔ عوام کو پریشانی کا سامنا ہے جبکہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک میں عوام کے معیارِ زندگی پر کچھ خاص اثر مرتب نہیں ہوا ہے۔ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمت بڑھنے سے عام آدمی کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ فضائی کرائے بڑھ گئے ہیں۔ اِس کے باوجود معاشی نمو سے متعلق پیش گوئیوں میں ماہرین زیادہ مایوس دکھائی نہیں دیے ہیں۔ بہرکیف، اس وقت دنیا بھر کی معیشتوں کو تیل کی رسد میں غیرمعمولی کمی کا سامنا ہے۔
معاشی منڈیاں ہمیشہ توازن حاصل کرلیتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کس سطح پر اور کب۔ جب روس نے یوکرین پر جنگ مسلط کی تو مغربی ممالک نے روس سے تیل خریدنا بند کردیا تب تیل کی قیمت ۱۲۹؍ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی اور عالمی سطح پر تیل کا بحران بھی پیدا نہیں ہوا۔ اور کساد بازاری کے بھی آثار دکھائی نہیں دیے۔ تیل کی عالمی سپلائی میں روس کا حصہ محض ۳ فیصد رہا ہے جو ۳۰ لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ مغرب نے جو تیل خریدنا بند کردیا، روس نے وہی تیل ایشیائی ممالک کی طرف روانہ کرنا شروع کیا۔ جب سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا ہے، تیل کی عالمی رسد سے اِس کا پانچ گنا تیل غائب ہوگیا ہے۔ تیل کی رسد میں اِتنی بڑی کمی کو تادیر برداشت یا ہضم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر یہ سب کچھ یونہی چلتا رہا تو دنیا ایک بہت بڑے معاشی بحران سے بہت زیادہ دور نہیں۔
خام تیل کا حساب کتاب
کسی بھی ہنگامی کیفیت میں معاشی منڈیاں گڑبڑ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس وقت تیل کا بحران دھیرے دھیرے خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے مگر دنیا بھر کی معیشتیں سب کچھ برداشت کر رہی ہیں۔ موزوں متعلقہ اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنے یا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا جس کے نتیجے میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہو، کساد بازاری کا بازار گرم ہو۔ گزشتہ برس مارچ اور اپریل کے دوران آبنائے ہرمز سے خام اور ریفائنڈ پروڈکٹس کی شکل میں یومیہ ایک کروڑ ۸۳ لاکھ بیرل تیل دنیا بھر کو پہنچایا جاتا رہا۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب دو بڑی پائپ لائنوں کے ذریعے رسد کے خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم اِس کے باوجود ایک کروڑ ۳۰ لاکھ بیرل کا خسارہ پھر بھی برقرار ہے۔ خلیج کے خطے سے باہر رسد میں ۲۰ لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی رسد میں مجموعی طور پر ایک کروڑ ۲۳ لاکھ بیرل یومیہ کا خسارہ پایا جارہا ہے جو مجموعی عالمی رسد کا ۱۰؍فیصد ہے۔
تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے فاضل پیداوار آن لائن لائی جاسکتی ہے، خسارہ پورا کرنے کے لیے اسٹاک کو نیچے لایا جاسکتا ہے اور طلب کو دبانے کے لیے قیمتیں بلند ہوسکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے یہ پہلا آپشن زیادہ کارگر نہیں رہا۔ سعودی عرب اور امارات کی سرپلس صلاحیت، جو ایک زمانے سے مارکیٹ کے لیے مرکزی بفر کا کردار ادا کرتا آئی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش کی پشت پر موجود ہے۔ امریکا میں انتہائی خام نوعیت کا تیل عام طور پر ایسی صورتِ حال میں خرابی کو کنٹرول کرنے کے لیے بروئے کار لایا جاتا رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکی تیل کو زیادہ تیزی سے متحرک نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کام میں امریکا کو ۳ سے ۶ ماہ لگ سکتے ہیں اور یہ سوال بھی ہے کہ کیا امریکا یومیہ ۳ لاکھ تا ۷ لاکھ بیرل کا خسارہ پورا کرسکے گا۔ امریکا میں پیداواری مشینری، پائپ لائن، ذخیرہ کاری کی تنصیبات اور برآمدات کے ٹرمنل اپنی سکت کی مکمل حد تک پہنچے ہوئے ہیں۔ اِس وقت امریکا عالمی منڈی کو اپنی موجودہ سکت سے بڑھ کر ایک آئل ٹینکر بھی فراہم نہیں کرسکتا۔ روس تھوڑی سے کوشش سے مزید ۳ لاکھ بیرل یومیہ عالمی منڈی کو فراہم کرسکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ روس میں تیل کی تنصیبات پر یوکرین کے حملے ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں روس کے لیے موجودہ پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنا بھی انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے۔
تیل کے بحران کو قابو میں رکھنے کے لیے کی جانے والی ہر ایڈجسٹمنٹ بنیادی طور پر اسٹاک کے صَرف یا پھر طلب کی کٹوتی کی شکل میں ہونی چاہیے۔ اِن میں سے کسی بھی آپشن کی پیمائش آسان نہیں۔ برآمدی ٹرمنلز، ٹینکرز اور ریفائنریز میں موجود خام تیل کی پیمائش بہت آسان ہے تاہم پٹرول، ڈیزل، کیروسین (جیٹ فیول) کی شکل میں ریفائنڈ پروڈکٹس کے اسٹاک کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ سب کچھ لاکھوں سپلائرز اور کنزیومرز کے پاس ہے۔
طلب کی پیمائش براہِ راست نہیں ہوتی۔ یہ بالعموم پیداوار، تجارت اور ذخیرہ کاری کے اعداد و شمار کے ذریعے ناپی جاتی ہے۔ بہرکیف، اِتنا تو واضح ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور گھٹتی ہوئی رسد نے صَرف کو بہت حد تک گھٹادیا ہے۔ ایک طرف تو خام تیل مہنگا ہے اور دوسری طرف تیار مصنوعات بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔ مغربی دنیا نے تیل کی فراہمی مشکل بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ڈیزل اور جیٹ فیول دنیا بھر مہنگا ہوا ہے۔ ایشیا میں تیل کے سب سے بڑے سیلنگ پوائنٹ سنگاپور میں اب ڈیزل اور جیٹ فیول کی لاگت دُگنی ہوچکی ہے۔ یورپ میں معاملہ اِس سے بھی زیادہ کا ہے۔ جب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے، میانمار (برما) میں پٹرول کی قیمت دُگنی ہوچکی ہے۔ پاکستان میں کم و بیش ۵۲ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فلپائن میں پٹرول ۵۰ فیصد اور نیپال میں ۴۰ فیصد مہنگا ہوا ہے۔
اپریل میں تیل کی طلب ۳۰ لاکھ تا ۵۰ لاکھ بیرل یومیہ تک رہی جبکہ ماہرین نے اِس سے کہیں زیادہ کی پیش گوئی کی تھی۔ اِس میں سے ۱۰ تا ۱۵؍فیصد کا بوجھ مشرقِ وسطیٰ برداشت کرتا ہے۔ جنگ نے اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا حجم گھٹا دیا ہے جبکہ ایئر ٹریفک میں دو تہائی تک کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایشیا میں پٹرو کیمیکل انڈسٹری بھی نیم بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ پلاسٹک کی تیاری میں استعمال ہونے والی آئل پروڈکٹ Naphtha خصوصی طور پر خلیج کے خطے سے آتی ہے اور اِس کی رسد بھی پریشان کن حد تک گھٹ گئی ہے۔ اِس وقت ایشیائی ممالک اپنی ضرورت کا ۶۷ تا ۷۵ فیصد فیول حاصل کر پارہے ہیں۔ ایشیا میں تیل سے چلنے والے بجلی گھر اور صنعتی پلانٹ اپنی پوری استعداد کے مطابق کام نہیں کر پارہے۔ پلاسٹک کی پیداوار میں بھی خسارے کا سامنا ہے۔ مشرقی افریقا کا انحصار بہت حد تک خلیجِ فارس کے خطے سے منگوائے جانے والے ڈیزل، پٹرول اور مٹی کے تیل پر ہے۔ مشرقی یورپ میں بھی پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قلت واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے۔
اگر دو ماہ کے دوران عالمی طلب میں کم و بیش ۴۰ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوئی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی ماندہ اسٹاکس ۸۰ لاکھ بیرل یومیہ کی شرح سے صَرف ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ جب ایران جنگ شروع ہوئی تب اچھا خاصا تیل ٹینکرز کی شکل میں سمندروں میں تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بحران بہت تیزی سے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرتا۔
خلیج کے تیل برآمد کرنے والے ممالک نے بحران کے ابھرنے کے آثار دیکھتے ہوئے ہفتوں پہلے ہی برآمدات کو کنٹرول کرنا شروع کردیا تھا۔ مغرب کی اقتصادی پابندیوں کے باعث اچھا خاصا ایرانی اور روسی تیل ٹینکرز میں اٹکا ہوا تھا۔ مارگن اسٹینلے نے بتایا کہ مارچ کے اوائل میں ٹینکرز کے ذریعے سمندروں میں محوِ سفر تیل نے ۳۰ لاکھ بیرول یومیہ تک کا بہترین بفر فراہم کیا۔ خیر، یہ صورتِ حال زیادہ دیر نہیں رہ سکتی تھی۔ اس وقت سمندروں میں معمول سے بہت کم ریفائنڈ آئل پروڈکٹس ہیں۔ سمندروں سے نکالا جانے والے خام تیل کی برآمد زیادہ متاثر نہیں ہوئی ہے۔ ہاں، یہ معاملہ بھی اِس لیے آسان نہیں کہ امریکا، افریقا یا کہیں اور کے سپلائرز کے لیے طویل سفر بہت مشکل ہے۔
صاحبِ ثروت ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ریزروز کو ریلیز کرکے سپلائی بڑھائی ہے اور اِس کے نتیجے میں بحران کو ٹالنے میں بہت حد تک مدد ملی ہے۔ ۱۱؍مارچ کو انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ۳۲؍ارکان نے ۴۰ کروڑ بیرل خام تیل فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ اِس ادارے کی حدود میں اپنی نوعیت کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ ۱۰؍کروڑ بیرل تیل مارکیٹس میں پہنچ چکا ہے۔ مئی اور جون میں مزید ۷ کروڑ ۵۰ لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں پہنچے گا۔ جس وقت ۴۰ کروڑ بیرل خام تیل فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے بیشتر ارکان کا خیال تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو زیادہ دیر تک بند نہیں رکھے گا۔ اب جبکہ خلیجی ممالک کے تیل کی فراہمی میں طویل المیعاد خلل واقع ہوسکتا ہے، طاقتور ممالک نہیں چاہیں گے کہ اُن کے اسٹریٹجک ذخائر ختم ہوجائیں۔
رسد میں کم و بیش ۵۰ لاکھ بیرول یومیہ کا خسارہ تجارتی اسٹاکس سے پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تیل کی ایک فرم گنوور کے فریڈرک لیزرے کا کہنا ہے کہ اپریل میں جو کچھ بھی عالمی منڈی کو درکار تھا، اُس میں سے نصف فنشڈ پروڈکٹس کی شکل میں تھا۔ کووِڈ کے بعد دنیا بھر میں تیل کی طلب میں اضافہ ہوا تاہم یہ اضافہ بھی ایک ماہ تک ۲۵ لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ نہیں رہا تھا۔ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہی تو طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک طرف تو سمندر میں موجود تیل کو بروئے کار لایا جائے گا اور اسٹریٹجک ریزروز کو بھی مارکیٹ میں لایا جائے گا مگر اِس متبادل کے ڈگمگانے پر کمرشل انوینٹریز کو بروئے کار لاتے ہوئے ۶۰ لاکھ تا ۸۰ لاکھ بیرل یومیہ کی رسد زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جاسکے گی۔ کنسلٹنسی فرم انرجی ایسپیکٹس کی امرتا سین کا کہنا ہے کہ رسد برقرار رکھنے کے لیے اسٹاکس پر زیادہ دیر تک بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کوئی اچھا متبادل نہیں۔ جو کچھ اِس وقت سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر ہو رہا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بیشتر خطوں میں ۴ سے ۸ ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قلت خطرناک حد تک شدت اختیار کرے گی۔ اگر رسد میں واقع ہونے والے خسارے کو قابو میں رکھنا ہے تو لازم ہے کہ طلب میں کمی واقع ہو۔ جب طلب بڑھے گی تو قیمت بھی بڑھے گی اور اِس کے نتیجے میں طلب گھٹے گی بھی۔ دنیا بھر میں بدحواسی کے آثار بھی ہیں۔ چند ہفتے قبل ڈیزل کارگو ۳۰۰ ڈالر فی بیرل کے نرخ پر فروخت ہو رہا تھا۔ اب یہ قیمت ۶۰۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
تیل کا بحران عالمگیر نوعیت کا ہے اور مختلف خطّوں پر اِس کے شدید اثرات مرتب ہوکر رہیں گے۔ فیول انوینٹریز ختم ہونے کو ہیں۔ ترسیل کی راہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کا سامنا کرنے کے لیے پروڈکشن گھٹائی گئی ہے۔ بہت سے خطوں اور ملکوں میں فلنگ اسٹیشنز پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ایک ایک کلومیٹر لمبی قطاریں عام ہیں۔ کینیا اور موزمبیق جیسے افریقی ممالک تو ایک ایک جہاز کی آمد کی بنیاد پر جی رہے ہیں۔ اگر رسد رک جائے تو وہ دو تین دن بھی اپنے معیشتی وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔ چین کے پاس آئل پروڈکٹس کے غیرمعمولی ذخائر ہیں۔ ایشیا کے بیشتر ممالک کا حال رفتہ رفتہ ابتر ہوتا جارہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں ذخیرہ شدہ تیل میں ۱۳؍فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد اب یہ ۵۴ کروڑ ۵۰ لاکھ بیرل کی سطح پر آگئے ہیں۔ یہ بات سیٹلائٹس کے ذریعے نگرانی کرنے والے ادارے Kayrros نے بتائی ہے۔ گلف کروڈ کے نام سے معروف فیڈ اسٹاک بھی غائب ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں ۳۵ لاکھ بیرل یومیہ یا ۱۲؍فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔ ڈیٹا فرم اسپارٹا کوموڈٹیز کے نیل کراسبی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بند رہنے کی صورت میں جون تک یہ بحران دُگنا ہوسکتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں ایندھن کی قلت شدت اختیار کرتی جائے گی۔ انڈونیشیا، پاکستان اور فلپائن غیرمعمولی قلت کا شکار ہونے کی منزل سے تقریباً ۶ ہفتوں کی دوری پر ہیں۔ آسٹریلیا بھی ڈیزل اور جیٹ فیول کی قلت سے دوچار ہونے کی منزل تک پہنچ چکا ہے۔ جنوبی امریکا تاحال بہت حد تک محفوظ ہے کیونکہ وہاں تیل بہت بڑے پیمانے پر نکلتا ہے اور برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ ہاں، ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جنوبی امریکا کے ممالک کے پاس تیل صاف کرنے کے کارخانوں کی کمی ہے۔ یہ ممالک جتنا تیل استعمال کرتے ہیں، اُتنا صاف نہیں کر پاتے۔ اِس کے لیے اُنہیں خلیجِ میکسیکو سے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ڈیٹا فرم کیپلر کے مچل بروہارڈ کا کہنا ہے کہ ایشیا کے لیے روانہ کیا جانے والا تیل بالآخر یورپ پہنچ سکتا ہے کیونکہ یورپ اُس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ جنوبی امریکا اور مغربی افریقا سے تیل کی وسیع برآمدات کا حامل ہونے کی بدولت وہ ایندھن سے محروم نہیں ہوگا تاہم اُس کے لیے ریفائننگ ایک بنیادی مسئلہ ہے کیونکہ سارا زور پٹرول تیار کرنے پر ہے، ڈیزل تیار کرنے پر نہیں۔ ساتھ ہی کیروسین کی تیاری پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں روڈ ٹریفک کا مدار ڈیزل پر ہے۔ یہی سبب ہے کہ یورپ کو فیول کے معاملے میں درآمدات پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یورپ کے لیے تیل کی مصنوعات کی فراہمی کا بڑا ذریعہ روس رہا ہے۔ خلیجِ فارس اور بھارت ۲۰۲۲ء کے بعد ایک طرف ہٹ گئے۔ اب یہ تمام ذرائع بھی خشک ہوچکے ہیں۔
اپنے معاملات درست کرنے کے لیے یورپی ریفائنرز نے زیادہ خام مال کو کیروسین میں تبدیل کیا ہے اور ایسا دیگر ایندھن کی قیمت پر کیا گیا ہے۔ دوسری طرف خلیجِ میکسیکو سے ڈیزل زیادہ درآمد کیا جاتا رہا ہے۔ امریکا کے مشرقی ساحلوں سے بھی درآمدات رہی ہیں۔ اِس کے نتیجے میں ۵ ہفتوں میں وہاں اسٹاک ۱۱؍فیصد تک گرے ہیں۔
تیل کے بحران پر قابو پانے کا کوئی بھی میکنزم زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو پارہا۔ ڈیزل کے اسٹریٹجک ذخائر جس قدر گھٹتے جائیں گے، ٹرمپ انتظامیہ پر برآمدات گھٹانے یا معطل کرنے کے لیے دباؤ اُسی قدر بڑھتا جائے گا۔ یورپی ریفائنریز کو بالآخر ڈیزل کی پیداوار بحال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اِس کے نتیجے میں کیروسین کی پیداوار مرجھا سکتی ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا کہ اگر یورپ نے جون تک خلیجی ریاستوں سے آنے والی تیل کی درآمدات کے خسارے کو محض نصف کی حد تک پورا کیا تو اُسے جیٹ فیول کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ یورپی ایئر لائنز پہلے ہی پروازوں میں کٹوتی کر رہی ہیں اور فیول سرچارج بھی وصول کر رہی ہیں۔ اگر یورپی حکومتوں نے سبسڈیز اور ٹیکس کٹوتیوں کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کا صَرف بڑھانے کی کوشش کی بھی تو اُس کے ڈیزل اور جیٹ فیول کے ذخائر زیادہ تیزی سے ختم ہوں گے۔ یورپی حکومتیں انتہائی نوعیت کے وقت کو ٹالنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں اور اِس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہیں مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ بحران کو صرف ٹالا جارہا ہے، ختم نہیں کیا جارہا۔ جب کبھی یہ بحران نمودار ہوگا تب اُس پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوگا۔
توانائی کے ابھرتے ہوئے بحران سے تو خود امریکا بھی محفوظ نہیں۔ وہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ مارچ میں امریکا میں پٹرول کا نرخ ۳ ڈالر فی گیلن تھا۔ اب وہاں پٹرول ۴ ڈالر ۲۰ سینٹ فی گیلن کے نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔ امریکا میں آبادی کا ارتکاز ملک کے مشرقی ساحلوں پر ہے۔ مشرقی ساحل کے شہروں اور قصبوں کی کھپت کی پٹرولیم مصنوعات خلیجِ میکسیکو سے زیادہ آتی ہیں۔ اِن علاقوں میں تیل صاف کرنے کی گنجائش زیادہ نہیں۔ امریکا کے مغربی ساحلوں کے لیے تیل بنیادی طور پر خلیجِ میکسیکو سے پائپ لائن کے ذریعے آتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر علاقوں سے بھی تیل کی درآمدات آتی ہیں۔ امریکا کے بیشتر وسطی علاقے توانائی کے بحران کے حوالے سے بہتر حالت میں ہیں۔ امریکا میں موسمِ گرما کا ڈرائیونگ سیزن شروع ہونے والا ہے۔ ایسے میں فیول کی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز مزید تین چار ہفتے بند رہی تو صورتِ حال بہت نازک ہوجائے گی۔ ایسے میں امریکا بھر میں پٹرول کی قیمت ۵ ڈالر فی گیلن تک جاسکتی ہے۔ کووڈ کے بعد کی صورتِ حال میں امریکا کو پٹرول کے جس بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس نے ڈرائیونگ سیزن میں لوگوں کو کم فیول استعمال کرنے پر مجبور کیا تھا اور اِس کے نتیجے میں صدر کی حیثیت سے جوبائیڈن کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے آگیا تھا۔
اگر سفارتی سطح پر کوئی معجزہ رونما نہ ہوا تو آئل شاک کے اثرات بہت جلد واضح ہوجائیں گے۔ مسٹر کراسبی کا کہنا ہے کہ کچھ نہ کچھ ٹوٹے گا۔ پہلے تو ریفائنڈ پروڈکٹس کی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھیں گی۔ اِن پروڈکٹس کا ذخیرہ بہت کم رہ گیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت بڑھ جائے گی۔ اِس کا سبب یہ ہوگا کہ تیل صاف کرنے کے کارخانے صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیل صاف کرنا چاہیں گے اور یوں خام تیل کی قیمت بڑھے گی۔
دنیا بھر میں حکومتیں تیل کا بحران ٹالنے یا اُس کا حجم کم رکھنے کے لیے انتظامی نوعیت کے بڑے اقدامات میں مصروف ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے کے لیے ورک فراہم ہوم کی پالیسی کو زیادہ تیزی سے اپنایا جارہا ہے۔ اضافی تعطیلات بھی دی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ پبلک ٹرانسپورٹیشن سسٹم بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور دیگر بہت سے ملکوں میں سرکاری ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ دفتر آنے کی زحمت گوارا نہ کریں، گھر سے کام کریں۔ سری لنکا نے چار دن کام کرنے کا ہفتہ متعارف کرایا ہے۔ پاکستان میں بھی دکانیں اور ریسٹورنٹس بند کرنے کے نئے اوقات نافذ کیے جارہے ہیں۔
بہت سے ممالک تیل کی برآمد گھٹا رہے ہیں تاکہ اندرونِ ملک مسائل پیدا نہ ہوں۔ چین کیروسین پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اُس نے کیروسین کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ کیروسین پیدا کرنے والے دوسرے بڑے ملک جنوبی کوریا نے بھی ایسا ہی کیا ہے جبکہ بھارت نے کیروسین کی برآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے ٹیکس بڑھا دیے ہیں۔ ایسی پابندیاں دیگر بہت سے مقامات پر مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اپنی ضرورت کا جیٹ فیول چین اور جنوبی کوریا سے حاصل کرتے ہیں۔
توانائی کے متبادل ذرائع کو پروان چڑھانے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ ارجنٹائن میں ایتھانول کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ایتھانول کو پٹرول میں ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈونیشیا نے ایتھانول اور ڈیزل ملاکر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بہت سے ملکوں نے فیول اور دیگر آئل پروڈکٹس کی خریداری کی حد مقرر کرکے بھی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ موٹر سائیکل والوں کے لیے فیول کو یومیہ ڈیڑھ یا دو لیٹر تک محدود کیا جارہا ہے۔ کمبوڈیا میں ایک تہائی فلنگ اسٹیشن بند کردیے گئے ہیں۔
اس قسم کے تمام اقدامات فی الحال پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں کیے گئے ہیں۔ یورپ میں بھی اب چند حکومتوں نے انتہائی نوعیت کے اقدامات کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ فیول کی تقسیم کا معاملہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بحرانی کیفیت سے بہ طریقِ احسن نپٹنے کے لیے کہیں کہیں مسابقت کے قوانین معطل کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔
یہ تمام اقدامات غیرضروری سے محسوس ہوں گے اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ طے پاگیا اور آبنائے ہرمز کھول دی گئی۔ خیر، ایسی صورت میں بھی آئل مارکیٹ کو بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ آبنائے ہرمز کو سب سے پہلے تو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا ہوگا۔ انشورنس اور شپنگ فرمز کے اعتماد کی بحالی میں بھی وقت لگے گا اور اِس کے بعد آبنائے ہرمز میں ٹریفک معمول پر آئے گا۔ اٹکے ہوئے جہازوں کو خلیجی ریاستوں کا رخ کرنا ہوگا۔ وہاں سے وہ تیل لے کر ریفائنریز کا رخ کریں گے۔ اس عبوری مدت میں بھی ترقی یافتہ ممالک اسٹریٹجک ذخائر کے ذریعے بحران کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ ہاں، غریب اور ترقی پذیر ممالک شدید مشکلات میں گھرے رہیں گے۔
اگر بہت جلد سفارتی محاذ پر کوئی بڑی پیشرفت ہو جائے تب بھی دنیا کو تیل کی کمی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نپٹ کر مکمل بحالی کی طرف آنے میں کئی ماہ لگیں گے۔ کسی نہ کسی طور ایندھن کے صَرف کی راشننگ کرنا ہوگی۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ تیل کا بحران مکمل طور پر ختم ہونے سے پہلے شدت اختیار کرے گا اور اضافی پریشانیاں عنایت کرے گا۔
(مترجم: ابو صباحت)
“The crisis in oil markets will get bigger before it goes away”. (“Economist”. April 30, 2026)