ایک صدی کے دوران امریکا نے خود کو انتہائی مضبوط کیا ہے اور اِس کا بھرپور فائدہ بھی بٹورا ہے۔ اُس نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران خود کو سلامت رکھا اور جب دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی تب اُسے عالمی سیاست و معیشت پر بھرپور تصرف یقینی بنانے کا موقع ملا۔ یورپ اُس کے ساتھ تھا۔ دونوں عظیم جنگوں نے یورپ کو تباہ تو کیا تھا مگر چونکہ اُس کا نظام سلامت تھا اِس لیے وہ دوبارہ کھڑا ہوگیا۔ یورپ تعلیم، تربیت اور ٹیکنالوجیز میں آگے تھا اِس لیے امریکا کے ساتھ مل کر اُس نے پوری دنیا کو مٹھی میں کیا اور یہ سلسلہ اب گو کہ کمزور ہوچکا ہے مگر ختم نہیں ہوا۔
آئیے، ہم گزشتہ صدی کے وسط کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اُس وقت امریکی اثر و رسوخ کس قدر تھا اور وہ کتنا کُھل کر کھیل سکتا تھا اور کھیلتا تھا۔
امریکا نے ۱۹۵۰ء کے عشرے میں ایسا بہت کچھ کیا تھا جس کے نتائج آج خود امریکا ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ جو کچھ امریکا نے آٹھ عشروں پہلے کیا تھا اُسے کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اُس کی غلط پالیسیوں نے پوری دنیا کو شدید عدم توازن سے دوچار کر رکھا ہے۔ آج کوئی ایک بھی خطہ پوری طرح مستحکم نہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا مسئلہ سلامتی یقینی بنانے کا تھا۔ بہت سے بڑے ملکوں کا مینوفیکچرنگ سیٹ اپ بگڑ چکا تھا۔ اُس کی بحالی بھی ترجیحات میں شامل تھی۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا جاتا تو دنیا بھر میں انتہائی خطرناک معاشی بحران پیدا ہوسکتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم نے عالمی معیشت کو ہلاکر تو رکھ ہی دیا تھا، اگر یورپ اور دیگر خطوں کے بڑے ممالک کی مینوفیکچرنگ مشین ڈھنگ سے کام کرنے کے قابل نہ بنائی جاتی تو معاملات اِتنے بگڑتے کہ پھر انہیں کوئی بھی درست کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتا۔ ایک طرف تو عالمی سطح پر سلامتی یقینی بنانا تھا اور دوسری طرف اہم خطوں میں امریکا کے لیے قابلِ اعتماد اتحادی تلاش کرنا تھا۔ امریکا جانتا تھا کہ اتحادیوں کے بغیر وہ کچھ بھی نہ کرسکے گا۔
گزشتہ صدی کے وسط میں امریکا نے تین غلط فیصلے کیے جو اب یاد آتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُن فیصلوں سے ایک دنیا تلپٹ ہوکر رہ گئی۔
٭ امریکا نے کیوبا میں ۱۹۵۲ء منتخب صدر کارلوس پرایو سوکاراس کی حکومت کا تختہ الٹنے والی فوجی بغاوت کو قبولیت بخشی۔ یہ بغاوت آرمی چیف فلجینشیو بیٹسٹا کی قیادت میں ہوئی تھی۔ امریکا نے کیوبا میں جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے پر مثبت ردِعمل ظاہر کرکے دنیا کو بتادیا کہ اُس کی طرف سے جمہوریت نوازی کے نعرے اور دعوے محض دکھاوا ہیں کیونکہ اُسے اِس بات سے کچھ غرض نہیں کہ کس ملک میں کون سا نظامِ حکومت کام کر رہا ہے۔ اُسے تو بس اپنے مفادات کے تحفظ سے غرض ہے۔
٭ ایران میں جمہوریت قائم ہوئی تو یہ بات امریکا اور برطانیہ دونوں ہی کو پسند نہ آئی اور انہیں بادشاہت کی بحالی کی فکر لاحق ہوئی۔ دونوں نے ایران میں حکومت ہی نہیں بلکہ نظامِ حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی اور یوں سی آئی اے کی نگرانی میں ۱۹۵۳ء میں منتخب ایرانی وزیرِ اعظم محمد مصدق کی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی۔
٭ ویتنام بھی فرانس کی نوآبادیات میں سے تھا۔ ویتنام کی آزادی یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے جنیوا معاہدے سے بہتر کوئی منصوبہ یا ڈیل سامنے لانے میں امریکا ناکام رہا۔ جنیوا معاہدے پر اُس نے بھی دستخط کیے تھے۔ اِس کے نتیجے میں ویتنام کے دو ٹکڑے ہوئے، شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام۔
تھوڑی سی توجہ سے کوئی بھی اندازہ لگاسکتا ہے کہ ان تینوں معاملات میں امریکا کی واضح غلطیوں نے معاملات کو اِتنا خراب کردیا کہ پھر عشروں تک اپنے لیے فطری اتحادی تلاش کرتا رہا۔ آج ہم جہاں کھڑے ہیں وہ مقام امریکی پالیسیوں میں پائی جانے والی خرابیوں کا پیدا کردہ ہے۔
جنوبی امریکا میں فطری اتحادی
جنوبی امریکا کی بہت سی حکومتیں اشتراکیت کی طرف جھکاؤ کی حامل رہی ہیں۔ سوویت یونین کے دور میں یہ حکومتیں چاہتی تھیں کہ خالص اشتراکیت اپناکر خطے کے عوام کے لیے کم از کم طے شدہ سطح تک خوش حالی یقینی بنائی جائے۔ امریکا نے جنوبی امریکا میں ہر اُس ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا جو اشتراکیت کی راہ میں دیوار بن سکتا تھا۔ امریکا دنیا بھر میں لبرل جمہوریت کے فروغ کی بات کرتا رہا ہے مگر جہاں بھی اُس کے مفادات جمہوریت سے خطے میں پڑ رہے ہوں وہاں وہ ڈکٹیٹر شپ کی حمایت کے لیے کُھل کر میدان میں آ جاتا ہے۔ سازشوں کے ذریعے فوجی بغاوتوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے تاکہ جمہوریت جڑ نہ پکڑ سکے۔
وسطی امریکا ہو یا جنوبی امریکا، کسی بھی خطے میں امریکا کی کُھلے معاشرے کی کیفیت، لچک، تعقل پسندی اور صنفی مساوات جیسی صفات نہیں پائی جاتی تھیں۔ امریکا نے اِن دونوں خطوں میں اپنی مرضی کی حکومتیں تو قائم کیں یا اُن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تاہم کہیں بھی حقیقی جمہوری اور لبرل اقدار کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں بھی کھڑی کیں۔ امریکا جن اقدار کا علم بردار رہا ہے انہی کے فروغ کی راہ بھی روکتا رہا ہے۔
کیوبا مختلف ہے۔ کیوبا کے لیڈر فیڈل کاسٹرو نے امریکی مافیا اور کیوبا کے جاگیرداروں کے گٹھ جوڑ کو کبھی قبول نہ کیا اور جہاں تک ممکن ہوسکا، مزاحمت کی اور امریکا کی اجارہ داری کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل ہوئے۔ گلجینشیو بیٹسٹا کی سربراہی میں قائم ہونے والی مطلق العنان حکومت نے کیوبا کے عوام کو کچل کر رکھ دیا۔
ابتدا میں امریکا کے لیے پسندیدگی
فیڈل کاسٹرو نے اپنے ابتدائی سیاسی دنوں میں امریکا کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا تھا۔ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکا میں بیرونی (یورپی) نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے والا پہلا ملک امریکا تھا۔ امریکا نے نوآبادیاتی نظام ختم کرکے حقیقی جمہوریت پر مبنی نظامِ حکومت لانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ خوش حالی سے ہم کنار کرنے کی سوچ اپنائی تھی۔ یہ سب کچھ فیڈل کاسٹرو کے لیے قابلِ قبول تھا۔
بعد میں جب فیڈل کاسٹرو نے محسوس کیا کہ امریکا جو کچھ کہتا ہے اب اُس پر یقین نہیں رکھتا یعنی اُس کا عمل اُس کے قول کے برعکس ہے۔ ایسے میں اُن کے پاس سوویت یونین کی طرف جھکنے کے سوا چارہ نہ تھا۔ وہ اہل وطن کا بھلا چاہتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اشتراکیت کو اپنانے کی صورت میں وہ اہل وطن کے لیے ایک خاص اور معقول حد تک خوش حالی ممکن بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے تو انہوں نے سوویت یونین سے روابط بڑھائے۔ یہ سب کچھ امریکا کو سیخ پا کرنے کے لیے کافی تھا مگر فیڈل کاسٹرو کو اِس کی چنداں پروا نہ تھی۔
امریکا نے تمام عالمی امور پر اپنا بھرپور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اور طاقت میں دن بہ دن اضافے کی خاطر جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث افراد اور گروہوں کے ساتھ بھی مل کر کام کیا ہے۔ امریکی خفیہ اداروں کا ریکارڈ اِس حوالے سے انتہائی شرم ناک ہے۔ امریکی طاقت کا ڈھانچا ہی کچھ ایسا ہے کہ خفیہ اداروں کا کام مشکوک سرگرمیوں میں ملوث گروہوں سے اشتراکِ عمل کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ امریکی قیادت نے ہر دور میں دشمن یا ناپسندیدہ ممالک میں حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے جرائم پیشہ گروہوں کا سہارا لیا ہے۔
مسلم دنیا میں بہترین امریکی اتحادی
امریکا نے مسلم دنیا میں حقیقی دوست اور اتحادی تلاش کرنے کے بجائے ایسے ممالک کو منتخب کیا ہے جو اپنے لوگوں کے بھی سچے ہمدرد اور بہی خواہ نہیں۔ امریکا نے مسلم دنیا میں تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ہمیشہ سعودی عرب کو ترجیح دی ہے۔ یہ ترجیح اِس لیے نہیں ہے کہ سعودی عوام امریکا کو اپنا دوست سمجھتے ہیں بلکہ اِس لیے ہے کہ سعودی حکمراں خاندان امریکی مفادات کی پاس داری کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوتا رہا ہے۔ امریکا کی دوستی عراق یا افغانستان سے بھی مثالی نوعیت کی نہیں رہی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اُس نے اِن دونوں ملکوں کا سَر جھکانے کے حوالے سے طاقت کے استعمال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
امریکا نے ایران کے معاملے میں ایک اور فاش غلطی ۱۹۷۰ء کی دہائی میں کی جب اُس نے شاہ رضا پہلوی کی حکومت کی مکمل حمایت کی اور اُس کے جابرانہ اندازِ حکمرانی کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایرانی عوام خوش حال تو تھے مگر معاملات عدل پر مبنی نہیں تھے۔ سب کچھ ایرانی شہنشاہ کی مرضی کے تابع تھا۔ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہتا تھا کر گزرتا تھا اور اِس معاملے میں عوام کے جذبات اور حقوق کی چنداں پروا نہ کرتا تھا۔ ایرانی حکمران نے امریکا اور یورپ کی حمایت اور تائید سے اپنے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرف زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا۔ ایران میں تیل کی دولت کی بدولت خوش حالی ضرور تھی مگر عوام کے دل مطمئن نہ تھے۔ جمہوریت کو ایرانی عوام کچھ زیادہ پسند نہ کرتے تھے مگر پھر بھی انہوں نے شاہ رضا پہلوی کی بادشاہت پر جمہوریت کو ترجیح دی اور اُس کے خلاف سینہ سپر ہوگئے۔
ایرانی عوام نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اور اچھی خاصی قربانیاں دے کر شاہ رضا پہلوی کا تختہ الٹ دیا اور ملاؤں کو ایوانِ اقتدار میں لے آئے۔ عوام کو یقین تھا کہ اب وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں گے تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ امریکا نے شاہ رضا پہلوی کے دور کی سفاکی کا بھی اعتراف نہ کیا تھا اور اب ملاؤں کے جبر کو بھی اُس نے قبول نہ کیا۔ ایرانی قوم کا مجموعی مزاج جمہوریت سے بہت دور رہا ہے۔
ایرانی معاشرہ مزاج اور ذہنی سطح کے حوالے سے غیر معمولی حد تک منقسم رہا ہے۔ ایرانیوں کی بڑی تعداد اچھی طرح تعلیم یافتہ ہے۔ شہری تمدن کے تقاضوں کو وہ خوب سمجھتے ہیں اور بالخصوص ایرانی خواتین مہذب زندگی کے تقاضوں کو زیادہ سمجھتی ہیں۔ امریکا کی طرح ایران میں بھی سیکیولر ذہنیت کے حامل افراد کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ یہ لوگ امریکی انداز کی ترجیحات اور مشق پر یقین رکھتے ہیں۔
اگر امریکا نے رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت کے جواب میں سیکیولر اور جمہوری اقدار کی حوصلہ افزائی کی ہوتی تو آج معاملات بہت مختلف ہوتے۔ ایرانی قوم نے مذہبی انتہا پسند یا رجعت پسندوں کو بحالتِ مجبوری منتخب کیا اور اُن کے دامن سے وابستہ ہونے کو ترجیح دی۔ اگر امریکا اور یورپ نے مل کر ایرانی عوام کا ساتھ دیا ہوتا اور اُن کا بھلا سوچا ہوتا تو آج ایران کی ایسی حالت نہ ہوتی۔ یہ امریکی پالیسیوں کا کمال ہے کہ آج ایران مغربی معاشروں کی بنیادی سیاسی، اخلاقی اور علمی اقدار سے بہت دور کھڑا ہے۔
محمد مصدق کی حکومت آخر کیوں ختم کی گئی؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنا لازم ہے کیونکہ اِس کے بغیر ہم ایرانی معاشرے میں پیدا ہونے والی شکست و ریخت کو اچھی طرح سمجھنے کے قابل کبھی نہ ہوسکیں گے۔ بات اِتنی سی ہے کہ محمد مصدق چاہتے تھے کہ تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی سے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے پر توجہ دی جائے۔ اِس کے لیے لازم تھا کہ تمام دولت شاہی خاندان کے تصرف میں نہ ہو بلکہ جمہوری یا منتخب حکومت کو فنڈز دیے جائیں۔ یہ بات رضا شاہ پہلوی کو کسی طور گوارا نہ تھی۔ اِس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ محمد مصدق کی حکومت کی بساط لپیٹ کر تمام معاملات شاہی خاندان کے سپرد کردیے گئے اور عوام مکمل طور پر شاہی خاندان کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنے لگے۔
ایرانی عوام اچھی طرح جانتے تھے کہ اُن کے حقوق پر مغرب کی آئل کمپنیز نے ڈاکا ڈالا ہے اور ایرانی حکومت کو اُس کا جائزہ حصہ نہیں دے رہے۔ اُن میں غصہ پروان چڑھتا رہا اور جب ۱۹۷۹ میں آیت اللہ خمینی نے فرانس سے آکر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا تب ایرانی عوام نے اُن کی قیادت میں ہمہ گیر نوعیت کا انقلاب برپا کیا۔
یہ الگ بات کہ ایرانی عوام کا مقدر پھر بھی نہ بدلا۔ خمینی اور اُن کے ساتھیوں کی قیادت میں جب ایران میں انقلاب برپا ہوا تو ملائیت پر مبنی طرزِ حکومت قائم ہوئی۔ یہ حکومت رفتہ رفتہ جابرانہ ہوتی گئی۔ قومی وسائل پر عوام سے زیادہ ملاؤں کا تصرف قائم ہوا اور پھر سب کچھ اُن کی مرضی کے مطابق ہوتا ہوگیا۔
ایشیا میں فطری اتحادی
امریکا کو ایشیا میں بھی ایک فطری اتحادی درکار تھا۔ ویتنام اِس معیار پر پورا اتر سکتا تھا مگر امریکیوں نے ویتنام کو سمجھنے میں غلطی کی اور ایک ایسی جنگ شروع ہوئی جس نے ایک طرف ویتنام کو برباد کیا اور دوسری طرف امریکا کے لیے بھی انتہائی نوعیت کی مشکلات پیدا کیں۔ ویتنامی معاشرہ امریکی اقدار کا بہت حد تک حامل اور حامی تھا۔ پھر ایسی کیا بات ہوئی کہ امریکا نے اپنے اِس ممکنہ بہترین ایشیائی اتحادی ہی کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا۔ امریکیوں نے ویتنام کے انقلابی لیڈر ہوچی منہ کو سمجھنے میں فاش غلطی کی۔ اُن کا خیال تھا کہ تھوڑا سا دھماکر اور تھوڑا سا لالچ دے کر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا جاسکتا ہے۔ امریکیوں نے یہ تو دیکھا کہ ویتنام ایک متحرک معاشرہ ہے، بہت کچھ ہو رہا ہے، معاشی معاملات بہت اچھے چل رہے ہیں، لوگوں میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے مگر یہ نکتہ سمجھنے میں بہت حد تک ناکام رہے کہ ویتنام نے بیرونی تسلط کے خلاف ہر دور میں غیر معمولی سطح کی مزاحمت کی ہے۔ ہوچی منہ نے جتنا اشراکیت کے سب سے بڑے مفکر کارل مارکس سے سیکھا تقریباً اُتنا ہی امریکا کے بانیوں سے بھی سیکھا۔
تب سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ سوویت یونین کی شکل میں امریکا کے لیے ایک بڑا حریف موجود تھا۔ ویتنام پر سے فرانس کا قبضہ ختم کرانے کے لیے ہونے والے جنیوا معاہدے میں امریکا بھی فریق بنا مگر اپنا کردار پوری دیانت اور عمدگی سے ادا نہ کرسکا اور اِس کے نتیجے میں معاملات بگڑتے ہی چلے گئے۔
ویتنام میں جب ایک جابرانہ حکومت قائم ہوئی تو اُس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اُس کی حمایت اور مدد کے لیے فوجی مشیر بھیجے۔ اِس کے بعد صدر لِنڈن بی جانسن پر بھی شدید دباؤ پڑا کہ وہ ویتنام میں امریکی فوج کی بھرپور موجودگی یقینی بنائیں اور وہاں امریکا مخالف عناصر کو کچلیں۔
رچرڈ نکسن کے عہدِ صدارت میں ویتنام میں امریکی فوج کی موجودگی بہت زیادہ اور نمایاں ہوئی اور اُس کے آپریشنز بھی بہت زیادہ ہوگئے۔ معاملات جب بہت بگڑے تو امریکا کے لیے لازم ہوگیا کہ کسی نہ کسی طور وہاں سے نکلے، جان چھڑائے۔ ۱۹۷۳ء میں پیرس امن معاہدے کے تحت امریکا نے ویتنام سے بوریا بستر لپیٹا۔ یہ خاصی ہزیمت والا معاملہ تھا۔
کسی بھی ملک یا ممالک سے اتحاد قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اِس کے لیے بہت سوچ بچار کرنا پڑتا ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنا پڑتا ہے کہ اختلافات سر اٹھاتے رہیں گے۔ سوال اختلافات کو ابھرنے سے روکنے کا نہیں بلکہ اختلافات کو ایک حد تک رکھنے اور معاملات کو چلاتے رہنے کاہے۔
امریکا نے زیادہ سے زیادہ طاقت کے حصول کی کوشش میں اپنے بانیوں کے طے کردہ اصولوں سے بھی رو گردانی کی ہے۔ ایک طرف وہ تو دنیا کو آزادی، جمہوریت اور مساوات کا درس دیتا رہا ہے اور دوسری طرف اُس نے کمزور ممالک اور خطوں کو دبوچ کر رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے اور اِس معاملے میں یورپ نے ہمیشہ اُس کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اب امریکا یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ بعض معاملات میں انتہائی غلط سوچ اپنائی گئی اور حکمتِ عملی بھی بالکل غلط تھی۔
اگر امریکا کیوبا، ایران اور ویتنام سے دوستی کرتا، انہیں ساتھی بناتا، خوش رکھتا تو اُس کے مفادات کی تکمیل زیادہ تیزی سے اور اچھی طرح ہوتی۔ ایسا نہ ہوسکا اور یہ تینوں ممالک امریکا کے ہاتھ سے نکل گئے۔ طاقت کے استعمال کے لیے ذریعے اِنھیں کبھی جھکایا نہ جاسکا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کیوبا پر بھی حملوں کا انتباہ دیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو معاملات بہت زیادہ بگڑیں گے۔ کیوبا میں قائم حکومت سے کھلواڑ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اچھا ہے کہ امریکا کیوبا کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ اِس وقت امریکی حکومت بیرونی معاملات میں مداخلت کی راہ پر گامزن ہے اور حملے بھی کر رہی ہے۔ ایسے میں کیوبا پر حملے خارج از امکان نہیں۔
امریکی قیادت چاہتی ہے کہ کیوبا میں حکومت تبدیل کردی جائے۔ یہ اقدام انتہائی نامناسب ہوگا کیونکہ اِس کے نتیجے میں بہت زیادہ خرابی پیدا ہوگی۔ اگر امریکا ایسا کچھ کرتا بھی ہے تو اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سابق جابر حکمرانوں کی اولاد کو حکومت نہ سونپی جائے۔ پہلے بھی اِس غلطی کے نتیجے میں فیڈل کاسترو جیسا لیڈر ابھرا تھا جس نے امریکا کو ناکوں چنے چبوادیے تھے۔
اگر امریکی قیادت ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہاں ہے تو اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو اقتدار سونپنا بہت بڑی غلطی سمجھا جائے گا۔ ایرانی ایسی کسی بھی حکومت کو قبول نہیں کریں گے۔ ایران کو استحکام کی ضرورت ہے۔ وہ امن چاہتا ہے تاکہ معیشت کو مضبوط کرسکے، بکھرے ہوئے معاشرے کو مستحکم اور منظم کرسکے۔
ویتنام کو بھی تبدیل کرنے کے بجائے برابری کی بنیاد پر ٹریڈنگ پارٹنر بنانے کی ضرورت ہے۔ ٹیرف کی رکاوٹیں ہٹائی جانی چاہئیں۔ ویتنامی قوم محنتی بھی ہے اور باصلاحیت بھی۔ ایسے میں لازم ہے کہ براہِ راست سرمایہ کاری کے ذریعے اُسے اپنا بنایا جائے۔ (ترجمہ: ابو صباحت)
“U.S. global strategy: A record of turning natural allies into enemies?”
(“The Globalist”. March 16, 2026)