ایران خامنہ ای کے منصوبے پر گامزن


امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں افراتفری پھیلانا، عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کرنا اور کشیدگی کو اس حد تک بڑھادینا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنے حملے روکنے پر مجبور کیا جاسکے۔
ایک حکومتی ذریعے نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ایرانی سپریم لیڈر، جو تہران پر حملوں کی پہلی لہر میں جاں بحق ہوگئے تھے، اور ان کے قریبی ساتھیوں نے گزشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ۱۲؍روزہ جنگ کے بعد ایک ’تفصیلی‘ منصوبے پر کام شروع کر دیا تھا۔
اس منصوبے میں توانائی کی تنصیبات پر حملے اور ایسے اقدامات شامل تھے جو خطے میں فضائی سفر میں خلل پیدا کر سکیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ’ہمارے پاس کشیدگی بڑھانے اور ایک بڑی آگ بھڑکانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا تاکہ سب کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو۔ جب ہماری سرخ لکیریں تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عبور کی گئیں تو ہم کھیل کے قواعد پر مزید عمل نہیں کر سکتے تھے۔‘
یہ منصوبہ خامنہ ای کی شہادت اور وزیر دفاع اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سمیت کم از کم ۶؍اعلیٰ ایرانی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے امریکی اور اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہونے کے باوجود نافذ کیا گیا۔
خامنہ ای کی شہادت کے چند گھنٹوں بعد قائم کی گئی تین رکنی عبوری قیادت کونسل کے رکن آیت اللہ علی رضا اعرافی نے پیر کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ جنگ ان کے (خامنہ ای کے) منصوبے کے مطابق جاری ہے۔‘
پیر کے روز جب ہفتے کے اختتام کے بعد عالمی منڈیاں دوبارہ کھلیں تو ایرانی حکومت نے اپنے ردعمل کو ڈرامائی طور پر بڑھاتے ہوئے خلیج کے تیل سے مالا مال خطے میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایران نے قطر میں ایک اہم گیس تنصیب اور سعودی عرب کی ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کیے۔
اس کے نتیجے میں دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندگان میں شامل قطر کو اپنی گیس کی سپلائی روکنی پڑی۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی کل توانائی اور ایل این جی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، میں جہاز رانی سست پڑنے کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایرانی ڈرون متحدہ عرب امارات، کویت، عراق، عمان اور بحرین جیسے ممالک میں ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔
ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈہ بھی نشانہ بنا۔
ایک ذریعے کے مطابق ’یہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور کشیدگی مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کیا توقع کی تھی؟ اگر اسلامی جمہوریہ کے سربراہ کو نشانہ بنایا جائے تو کیا وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا؟‘
حکومت کی حکمت عملی کا ایک حصہ فوجی فیصلوں کو غیرمرکزی بنانا بھی ہے تاکہ اعلیٰ کمانڈروں کے مارے جانے کے باوجود فوجی کارروائیاں جاری رہ سکیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا کہ ایرانی افواج اب زیادہ خودمختار انداز میں کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’ہمارے فوجی یونٹس اب درحقیقت کافی حد تک خودمختار اور جزوی طور پر الگ ہیں اور وہ پہلے سے دی گئی عمومی ہدایات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘
یہ حکمت عملی گزشتہ جون کی جنگ سے حاصل کیے گئے اسباق کی عکاسی کرتی ہے، جب اسرائیل نے ایران میں گہری انٹیلی جنس رسائی کے ذریعے جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
اس بار خامنہ ای اور اعلیٰ دفاعی حکام کی ہلاکت کے فوراً بعد ایران نے تیزی سے جوابی کارروائی شروع کی۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ جون کی جنگ کے دوران ’تمام احکامات اعلیٰ سطح سے آ رہے تھے‘، لیکن اب زمینی سطح پر موجود فورسز پہلے سے جانتی ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے، جبکہ وہ مرکزی کمانڈ کے ساتھ مکمل رابطے میں بھی ہیں۔
شدید حملے دراصل اس احساس کا نتیجہ ہیں کہ اسلامی جمہوریہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
جون کی جنگ میں ایران نے جوابی کارروائی محدود رکھتے ہوئے صرف اسرائیل کو نشانہ بنایا تھا اور امریکا کی جانب سے اس کے جوہری مراکز پر بمباری کے بعد قطر میں امریکی اڈے پر ایک محدود حملہ کیا تھا۔
اس بار ایران نے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات پر اسرائیل کے برابر یا اس سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے، جس کے نتیجے میں اب تک تین افراد ہلاک ہوئے۔
ایران کے پراکسی گروہ جو جون کی جنگ میں غیر فعال رہے تھے اب اس تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر میزائل داغے ہیں جس سے لبنان میں نئی جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ عراقی ملیشیاؤں نے شمالی عراق میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا اور بغداد ایٔرپورٹ پر امریکی مفادات پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران کے حامیوں نے بغداد کے گرین زون، جہاں مغربی سفارت خانے واقع ہیں، میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔
یہ وسیع علاقائی تنازع وہ بدترین منظرنامہ ہے جس کا خدشہ بہت سے مبصرین کو تھا۔
یہ صورتحال ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کا تسلسل ہے۔
اگرچہ اس حملے نے غزہ، لبنان، یمن اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو جنم دیا، مگر ایران نے ابتدا میں براہ راست جنگ سے گریز کیا تاکہ لڑائی اپنی سرزمین سے دور رکھی جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق جون میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران کا حساب کتاب بدل گیا۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ایمیل ہوکایم کے مطابق ’یحییٰ السنوار ۷؍اکتوبر کو علاقائی جنگ چاہتے تھے، مگر ان کے اتحادیوں نے اس سے گریز کیا۔ اب امریکا اور اسرائیل نے خود اس علاقائی جنگ کو اپنی شرائط پر شروع کر دیا ہے۔‘
اگرچہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے بیشتر میزائل اور ڈرون فضائی دفاعی نظام نے روک لیے مگر اس تیزی سے پھیلتے تنازع کا ایک اور پہلواس وقت واضح ہوا جب امریکی فوج نے اعلان کیا کہ کویتی فضائی دفاع نے غلطی سے تین امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے۔
ذرائع کے مطابق دبئی کے ہوٹلوں جیسے اہداف پر حملوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ’جہاں بھی امریکی موجود ہوں گے، وہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج کے تیل سے مالا مال ممالک کو اب ’سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے خطرات‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ’سرمایہ کار کہیں گے کہ آپ ایران کے قریب ہیں اور کسی بھی لمحے ایک میزائل آپ کے ملک پر گر سکتا ہے۔‘
تاہم ایسے ممالک کو نشانہ بنا کر جو حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور صدر ٹرمپ کو سفارت کاری اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے تھے، ایرانی حکومت خود کو مزید تنہائی کی طرف دھکیلنے اور پڑوسی ممالک کو امریکا اور اسرائیل کی جنگ کی حمایت پر آمادہ کرنے کا خطرہ مول لے رہی ہے۔
کچھ مبصرین کے مطابق ایران کا ردعمل انتہائی خطرناک ہے۔ لندن کے تھنک ٹینک RUSI کی سینئر محقق برجو اوزجیلیک کے مطابق یہ وہ ’خوفناک منظرنامہ‘ ہے جس کا خدشہ پہلے سے ظاہر کیا جارہا تھا۔
بعض ماہرین اور حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ۸۶ سالہ خامنہ ای کو اپنی ممکنہ شہادت کا اندازہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ تہران میں ہی قیام کیا اور ایسے اقدامات کیے کہ ان کی موت کے بعد بھی نظام قائم رہے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف ردعمل جاری رکھا جاسکے۔
اب فوجی کارروائیوں کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کر رہے ہیں، ان کی قیادت میجر جنرل احمد واحدی کر رہے ہیں، جنہوں نے ہفتے کے روز ہلاک ہونے والے سابق کمانڈر کی جگہ سنبھالی ہے۔
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ’ایران نے امریکا کے برعکس طویل جنگ کے لیے خود کو تیار کر رکھا ہے۔‘
اس کے نتیجے میں تنازع مسلسل پھیلتا جا رہا ہے اور مزید ممالک اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا، جن میں گلوسٹر شائر میں RAF فیئر فورڈ اور چاغوس جزائر میں واقع مشترکہ اڈا ڈیاگو گارشیا بھی شامل ہے۔
ایمیل ہوکایم کے مطابق ’چاہے برطانیہ ہو یا خطے کے دیگر ممالک، وہ ایسی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا، ایک ایسا تنازع ہے جس کی اپنی رفتار ہے اور جس کے انجام، خطرات یا مستقبل کے بارے میں کوئی مشترکہ تصور موجود نہیں۔‘
“Iran executes Khamenei’s plan to spread regional war”. (“Financial Times”. March 3, 2026)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو