یورپ کے دفاع کا ذمہ کس کا؟


سوال صرف یہ نہیں ہے کہ یوکرین پر لشکر کشی کرکے روس نے یورپ کے لیے مسائل کھڑے کیے۔ یورپ ایک طویل مدت سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ عالمی سیاست میں جو بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اُنہیں سمجھنے سے یورپ بہت حد تک قاصر رہا ہے۔ پورے برِاعظم میں مختلف سطحوں پر شدید تذبذب پایا جاتا ہے۔ یہ فطری ہے یا نہیں اِس بحث سے قطعِ نظر حقیقت یہ ہے کہ یورپ جو کچھ بھی کر رہا ہے وہ بہت حد تک بے ذہنی کی بھی علامت ہے اور حقیقت سے نظر چُرانے کا مظہر بھی۔ یورپی قوتیں اِس بات کو سمجھنے سے بہت حد تک قاصر رہی ہیں کہ اب اُن کے لیے کسی اور خطے پر پوری طرح حکمراں ہونا انتہائی ناممکن ہے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ ایک طرف تو یورپی قوتوں میں قوت کی کمی ہے اور دوسری طرف اُن میں مہم جوئی بھی باقی نہیں رہی۔ وہ عسکری سطح پر کچھ زیادہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اُنہوں نے نرم قوت کی راہ اپنا رکھی ہے۔ ایسے میں اُن کے لیے کچھ زیادہ گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکا اِس وقت شُترِ بے مہار کے مانند کہیں بھی، کچھ بھی کرتا پھر رہا ہے۔ ایک طرف امریکا بہت سی خرابیاں پیدا کر رہا ہے اور دوسری طرف یورپی قوتیں اُس کے بارے میں کچھ کہنے اور کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ وینیزوئیلا، ایران اور غزہ کے بارے میں بھی یورپ ہچکچاہٹ ہی کا شکار رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی بات کہی ہے تو اب لازم ہوچکا ہے کہ یورپ جاگے اور کچھ ایسا کرے جس سے امریکی حکومت کو احساس ہو کہ کسی بھی ملک یا خطے پر قبضہ کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔
یورپ کا دفاع یوکرین کر رہا ہے!
یہ بات تمام یورپی قائدین اور عوام کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ صدر کے منصب پر ہیں تب تک امریکا کسی بھی طور یورپ کے دفاع کے لیے آگے نہیں بڑھے گا اور یہ کہ یہ نیک کام یوکرین ہی کو کرنا پڑے گا۔ اب تک اِس معاملے کو جتنا سمجھا گیا ہے بات اُس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ یورپ کو اگر روس یا کسی اور مہم جو طاقت سے نپٹنا ہے تو اپنے زورِ بازو پر بھروسا کرنا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو مار کھاتا رہے گا۔
یوکرین نے چار سال تک یورپ کو روس سے بچانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وہ دراصل اپنے آپ کو بچانے میں مصروف ہے۔ یورپ کا موثر دفاع تو خود بخود ہو رہا ہے۔ مگر کب تک؟ روسی صدر ولادیمیر پوٹن مشرقی یورپ سے نکل کر مین لینڈ یورپ تک جانا چاہتے ہیں۔ وہ جرمنی کے قلب میں پہنچ کر فتح کا جھنڈا گاڑنا چاہتے ہیں۔ اِس وقت یورپ میں روس کا راستہ روکنے کی صلاحیت صرف دو افواج میں ہے۔ یوکرین اور پولینڈ۔ جرمن فوج اِس وقت شدید کمزوری کی حالت میں ہے۔ جدید ترین ہتھیاروں کی بھی کمی ہے اور افرادی قوت کی بھی اور سب سے بڑھ کر لڑنے کے جذبے کی۔
جرمن سیاست میں تفریق
اِس وقت جرمن سیاست میں فکری انتشار بہت زیادہ ہے۔ اہم قومی اور علاقائی مسائل کے بارے میں مکمل اتفاقِ رائے دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔ جرمنی میں بائیں بازو کی بیشتر جماعتیں شدید مخمصے کا شکار ہیں۔ وہ زمینی حقیقتوں کے حقیقی ادراک سے ابھی بہت دور ہیں۔ بعض معاملات میں صرف ہٹھ دھرمی سے کام چلایا جارہا ہے۔ مخلوط حکومتیں بنتی ہیں جو خاصی کمزور ثابت ہوتی ہیں۔ دنیا بہت بدل چکی ہے مگر جرمنی میں بائیں بازو کے عناصر اِس حوالے سے کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیں۔
جرمن حکومت کے لیے لازم ہوچکا ہے کہ عسکری قوت میں غیر معمولی اضافہ یقینی بنائے اور فوری طور پر یقینی بنائے۔ جرمن فوج میں افرادی قوت کی کمی بھی ہے اور فنڈز بھی معقول حد تک نہیں ہیں۔ نیا میکینزم لانا ہے۔ جرمنی میں اب تک پوٹن کے روس سے تصفیہ کرنے اور ہم آہنگ ہونے کی سوچ پائی جاتی ہے۔ روسی صدر پوٹن فی الحال صرف یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے ملک کو زیادہ سے زیادہ ملکوں تک رسائی حاصل ہو۔ اِس کے لیے وہ مشرقی یورپ کی حدود سے کہیں آگے بڑھ کر مین لینڈ یورپ تک پہنچنے کے فراق میں ہیں۔ اِس حوالے سے اُن کی نظر جرمنی پر ہے۔ اور اگر جرمنی میں چند ہم خیال مل جائیں تو کیا کہنے۔ جرمنی کو بیرونی جارحیت سے کماحقہ نپٹنے کی صلاحیت و سکت میں بھی اضافہ کرنا ہے اور شہری دفاع کے معاملات کو بھی بہتر بنانا ہے۔ جرمنی میں بائیں بازو کے لوگ اِس طرف متوجہ ہونے کے لیے تیار نہیں۔
صرف فلاحی ریاست کا دفاع
یورپ بھر میں غیر معمولی دفاعی تیاریوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے مگر جرمن سوشل ڈیموکریٹس ملک کو زیادہ سے زیادہ فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے سے ہٹ کر کچھ سوچنے کے لیے تیار ہی دکھائی نہیں دیتے۔ یورپ بھر میں روسی ارادوں کے حوالے سے شدید خوف پایا جاتا ہے مگر جرمن سیاست دانوں کی اکثریت اِس طرف دھیان نہیں دے رہی۔
جرمنی میں سیاسی انتشار بڑھ رہا ہے۔ نئی پارٹیوں کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ اِس وقت ملک کو مختلف معاملات میں ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے مگر اِس کے بجائے زیادہ سے زیادہ سیاسی اختلافِ رائے ابھر رہا ہے۔ دفاع اور سلامتی کے امور پر جس قدر توجہ دی جانی چاہیے نہیں دی جارہی۔ ساتھ ہی ساتھ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی وہ سب کچھ نہیں کیا جارہا جو کیا جانا چاہیے۔
پوٹن کو منہ دینے کا سوال
روسی صدر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرقی یورپ سے آگے بڑھ کر مین لینڈ یورپ تک توسیع کے خواہش مند ہیں۔ روس کسی دور میں سپر پاور تھا۔ یہ ڈیڑھ دو صدی پہلے کی بات ہے۔ پھر سوویت یونین کی شکل میں بھی روس سپر پاور رہا۔ اُس کا سب سے بڑا مسئلہ گرم پانیوں تک رسائی کا ہے۔ اب روسی صدر اپنے ملک کی سپر پاور کی حیثیت سے عظمت کو بحال کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی امور میں روس کی آواز بھی سُنی جائے، اُس کے مشورے بھی مانے جائیں اور عالمگیر حکمرانی میں اُس کا بھی بڑا حصہ ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی خطے کے مقابلے میں پوٹن یورپ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ایک خطرناک بات یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن کی نظر میں ہر وہ علاقہ، خطہ یا ملک روس ہی ہے جہاں روسی باشندے رہتے ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں بھی روسی باشندے رہتے ہوں وہاں قدم جمانے کو وہ روس کا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
اِس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اِس وقت روس معاشی اعتبار سے کوئی بڑی قوت نہیں اور جس طور اُس نے یوکرین میں شہروں اور قصبوں پر جی بھرکے بمباری کی ہے اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مہذب بھی نہیں رہا۔ دوسری طرف یورپ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اِس وقت غیر معمولی کمزوری سے دوچار ہے۔
پریشانی ختم نہیں ہو رہی
یورپ کے بہت سے قائدین اور اعلیٰ عہدیدار (جن میں جرمن وزیرِدفاع بھی شامل ہیں) آئے دن یہ کہتے رہتے ہیں کہ اِس وقت یورپ کے دفاع کے لیے غیرمعمولی سطح پر منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ پورے یورپ کو ۲۰۲۹ تک طے کرلینا چاہیے کہ روس سے اپنے آپ کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے کیا کرنا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور معاملات ہاتھوں سے نکلے جارہے ہیں۔
یوکرین کی صورتِ حال نے معاملات کو پورے یورپ کے لیے بگاڑ دیا ہے۔ بیشتر یورپی اقوام یہ سمجھتی ہیں کہ دفاعی تیاریوں کے لیے ۲۰۲۹ کی ڈیڈ لائن بہت زیادہ پریشان کن نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا میں کوئی ایسی حکومت قائم ہو جو یورپ کی طرف زیادہ گرم جوشی کے ساتھ دوستی اور اشتراکِ عمل کا ہاتھ بڑھائے۔
امریکا نے ایک طویل مدت تک اپنے صنعتی ڈھانچے اور معیشت کو جنگ اور عسکری تیاریوں سے جوڑ رکھا ہے۔ امریکا دنیا بھر میں جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اِس کے لیے اُسے زیادہ ہتھیاروں، گولا بارود اور جنگی ساز و سامان کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ یہ سب کچھ امریکی اداروں ہی میں تیار ہوتا ہے اور یوں ہزاروں خاندانوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔ امریکی پالیسیاں چونکہ بدلتی نہیں اِس لیے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس بھی تبدیل نہیں ہوتا یعنی عسکری مہم جُوئی کے لیے ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اس وقت یورپ بہت حد تک پوٹن کے رحم و کرم پر جی رہا ہے۔ وہ کسی بھی وقت ایک بڑی مصیبت کی طرح یورپ پر نازل ہوسکتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں امریکا کس طور یورپ کے دفاع کی ذمہ داری اٹھاسکتا ہے یہ بات واضح نہیں۔ یورپی قائدین کو ٹرمپ پر زیادہ بھروسا نہیں۔ اِس تناظر میں امریکا کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا دنیا بھر میں امن عام کرنے کے نام پر جنگیں مسلط کرتا آیا ہے۔ جنگ اور امن کا مفہوم وہ ہے جو امریکا طے کرے۔ اِس وقت امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں میں ہے اور ایسے میں یورپ کو کسی حد تک اس بات کا خدشہ لاحق ہے کہ کہیں ایسی حالت پیدا نہ ہو کہ اُسے امریکا سے بہت زیادہ ہتھیار خریدنا پڑیں۔ یورپ یہ بات بھی بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ امریکا سے اِس وقت کسی بھی معاملے میں کوئی ضمانت حاصل نہیں کرسکتا۔
ضمانت کے نام پر دھوکا
معاہدۂ شمالی بحرِاوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے چند ارکان کو اب بھی امید ہے کہ یوکرین کے حوالے سے روسی صدر پوٹن ہر ضمانت اور معاہدے کے مطابق کام کریں گے۔ خیر، کوئی بھی امید کسی بھی حال میں اسٹریٹجی نہیں ہوتی۔ بڈاپسٹ میمورینڈم اور مِنسک ایگریمنٹ کا ریکارڈ شاہد ہے کہ امریکی صدر ہر معاہدے کو توڑ دیں گے۔ اگر یوکرین اور یورپی ممالک اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ سلامتی سے متعلق ضمانتیں روس کی مزید جارحیت کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسٹیو وِٹکوف سلامتی کی ضمانتوں سے کھیل رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اُس کے ہم خیال ممالک اب بھی روس سے رابطوں میں ہیں اور تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ جارحیت روکنے کے معاہدے تو محض آڑ ہیں۔ ٹرمپ جس طرز کی سیاست کر رہے ہیں اور جو کچھ کرتے پھر رہے ہیں اُس کے پیشِ نظر یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ وہ روس سے جُڑے ہوئے اپنے مفادات کو داؤ پر لگانے سے گریز کی راہ پر گامزن ہیں۔
اِس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ صدر ٹرمپ نے کسی بھی مرحلے پر ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ روس سے کسی بھی نوع کے تصادم کو مول لینے کو ترجیح دیں گے۔ لشکر کی سطح پر تصادم تو بہت دور کا معاملہ ہے، حق یہ ہے کہ ٹرمپ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملے میں بھی کوئی ایسی ویسی صورتِ حال پیدا نہیں کرنا چاہتے جس کے نتیجے میں اُن کے یعنی امریکا کے مفادات کو کچھ نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔
ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ امریکا نے یوکرین سے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے دفاع کے معاملے میں اشتراکِ عمل چاہتا ہے تو معاہدہ ہوسکتا ہے مگر اُس کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکا اُسی وقت آگے بڑھے گا جب اُسے یہ اندازہ ہوگا کہ یوکرین پر کیا جانے والا حملہ واقعی اہم ہے اور تادیر جاری رہ سکتا ہے۔
یورپ کے لیے اثرات
اِس وقت اپنے دفاع کے لیے اپنے ہی زورِ بازو پر بھروسا کرنے پر مجبور ہے کیونکہ امریکا نے اُسے چھوڑ دیا ہے۔ یورپ میں اختلافِ نظر بہت زیادہ ہے۔ زبانوں، نسلوں اور ثقافتوں کا بھی تنوع ہے۔ ایسے میں کسی ایک نکتے پر اتفاقِ رائے آسان نہیں۔ یوکرین کو ابھی تک یورپ کی طرف سے اتفاقِ رائے کی صورت میں کسی بھی طرح کی بھرپور مدد نہیں مل سکی ہے۔ اُس نے روسی فوج کے خصوصی آپریشنز کا سامنا اپنے ہی بل پر کیا ہے۔
نیٹو کو مضبوط ہونے کے لیے وقت بھی درکار تھا اور آڑ بھی۔ یہ سب کچھ یوکرین نے فراہم کردیا ہے۔ یوکرین کی فوج چار سال سے روسی فوج کے سامنے دیوار بنی ہوئی ہے یعنی اُسے یورپ میں آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یورپ کی سلامتی کا مدار امریکا کی طرف سے ملنے والی عسکری مدد پر نہیں بلکہ یوکرین کی عسکری صلاحیتوں پر ہے۔
یورپ کو روس کو طرف سے دُہری نوعیت کے مزید حملوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اگر وہ روسی فوج کے خلاف معقول نوعیت کی ردِ جارحیت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو یوکرین کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنا ہوگا۔ یوکرین کو یورپ کی طرف سے مزید ہتھیار اور گولا بارود ملنا ہی چاہیے۔ یوکرین کی فضائیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُسے دور مار میزائل بھی فراہم کیے جانے چاہئیں۔

(مترجم: ابو صباحت)
“Who really defends Europe — Ukraine or the U.S.?” (“The Globalist”. January 11, 2026)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں