چین کے ساتھ تعلقات: بھارتی خارجہ پالیسی کا یو ٹرن

ایک عرصے تک ایشیا پیسفک میں مغربی مفادات کو تحفظ فراہم کرانے اور چین کا مقابلہ کرنے کا خواب سجانے کے بعد حالیہ امریکی سرد مُہری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو مکمل یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایک بار پھر بھارت، چین کے ساتھ تعلقات کو استوار کرکے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے بندوبست کرنے کے فراق میں ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔

حال ہی میں اِس ضِمن میں انہوں نے اپنے ایک قریبی معتمد سرگئی گور کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سفیر کے ساتھ اُن کو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے خصوصی ایلچی بھی نامزد کردیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو دوبارہ پاکستان اور افغانستان پالیسی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔

دوہری ذمہ داری کے باعث گور نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتے رہیں گے اور ایک طرح سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جس امریکی ثالثی سے مودی حکومت انکار کرتی رہی ہے، وہ اب اصل اور عملی شکل میں سامنے آجائے گی۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ گور اس خطے میں اُن کا ایجنڈا آگے بڑھائیں گے۔

امریکا کے ساتھ آئی اس سرد مُہری اور پھر یورپ سمیت مغربی ممالک کی طرف سے روسی تیل خرید کر صاف کرنے کے بعد مہنگے داموں میں بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے پر بھارت کی سرزنش کرنے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ چین کے ساتھ پانچ برس کی منجمد کیفیت، جو ۲۰۲۰ء کے گلوان تصادم کے بعد پیدا ہوئی تھی، کو ازسرنو اُستوار کرنے کے لیے شدّ و مدّ سے کام کر رہی ہے۔

اسی سلسلے میں پچھلے دو ماہ سے مودی کی ایما پر وزیر خارجہ جئے شنکر اور قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال بیجنگ کے دوروں پر گئے اور پھر ۱۸ اور ۱۹؍اگست کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی نئی دہلی آمد ہوئی۔

دونوں ملکوں نے سفر اور تجارت کی سہولت کی بحالی، سرحدی نظم و نسق کے طریقِ کار کی ازسرِنو تشکیل، اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی چینی شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کرنے کے علاوہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

نئی دہلی میں چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ مودی کو خِطّے کو پُرسکون رکھنے کی تلقین کریں گے اور اِس لیے وہ اُن کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور جنگوں سے گُریز کرنے کا مشورہ دیں گے، تاکہ خطے میں براہِ راست امریکی مداخلت کو روکا جائے۔ بیجنگ بھی فی الحال ہمالیہ کے محاذ کو پُرسکون رکھنا چاہتا ہے، تاکہ وہ اپنی اصل توجہ امریکا اور تائیوان کے مسئلے پر مرکوز رکھ سکے۔

بھارتی سفارت کاری کے تئیں امریکی صدر ٹرمپ جس طرح اضطراب کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس سے قبل چین بھی اس کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ چاہے بین الاقوامی سفارت کاری ہو یا داخلی سیاسی مسائل، بھارت کا پورا زور ہی حالات کو اسٹیٹس کو یعنی جوں کا توں رکھنے میں لگا رہتا ہے۔

یعنی کسی کو میز پر لا کر اس کو بس مذاکرات برائے مذاکرات کراکے اتنا تھکا دو کہ اصل مسئلہ ہی کہیں دب جائے اور فریق بس بھاگتے چور کی لنگوٹی پر ہی اکتفا کرنے پر مجبور ہو جائے۔ کشمیر میں شیخ عبداللہ، میزورم میں لال ڈنگا، پنجاب میں اکالیوں پر اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ناگالینڈ میں مودی ۲۰۱۵ء سے اس تجربہ کو دہرا رہے ہیں۔

یہی کچھ مؤقف بھارت کا بین الاقوامی محاذ پر بھی ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی ہی مدتِ اقتدار کے دوران بھارتی حکومت کو تجارت کے توازن اور محصولات کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

مودی نے اپنے امریکی دورہ کے دوران تجویز دی تھی کہ بھارت کی طرف سے اس وقت کے وزیر تجارت سریش پربھو، امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن کے ساتھ گفت و شنید کریں گے۔ منوچن کے مطابق جب پربھو واشنگٹن آکر بات چیت کرتے تھے، تو ان کا جواب ہوتا تھا کہ نئی دہلی واپس جاکر وہ اپنی سیاسی قیادت سے مشورہ کریں گے۔

پھر ہفتوں تک امریکی وزیر خزانہ کا فون ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ پھر کسی دن دوبارہ بات چیت کی تاریخ طے کرکے پھر واشنگٹن آتے تھے۔ یہی کرتے کرتے ٹرمپ کے چار سال نکال دیے گئے۔

چونکہ جوبائیڈن کے لیے چین کے مقابلے میں بھارت کو کھڑا کرنا ترجیحات میں تھا، اس لیے وہ بھارت کو مراعات دیتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے اس مذاکرات برائے مذاکرات کے کھیل کو سمجھ کر اس بار فروری میں ہی مودی کے ساتھ وہائٹ ہاوس میں ہوئی ملاقات کے دوران اشاروں کنایوں میں بتایا تھا کہ وہ نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ تجارتی توازن جو بہت زیادہ بھارت کے حق میں ہے، اس کو ہموار کیا جاسکے۔

مگر مودی اور ان کی ٹیم اس زعم میں مبتلا تھے کہ ایشیا پیسفک میں جس طرح وہ امریکی مفادات کی نگرانی کرتے ہیں اس لیے ان کو مراعات ملتی رہیں گی اور مذاکرات پر مذاکرات کرواکے ٹرمپ کے یہ چار سال بھی نکل جائیں گے۔

اُن کو شاید اِس بات کا اِدراک نہیں تھا ایک تو ٹرمپ لین دین والے کاروباری لیڈر ہیں اور دوسرا اِس بار اُن کو مسائل کو نپٹانے میں جلدی ہے، تاکہ امریکی تاریخ میں وہ یاد کیے جائیں، کیونکہ اگلی بار وہ صدارتی انتخاب کے امیدوار نہیں ہوسکتے ہیں۔

فروری میں ٹرمپ کے اشاروں کنایوں کے بعد ۲۶ مارچ کو کیپٹل ہل میں بھارت اور امریکا کی تزویراتی شراکت پر ہوئی بریفنگ میں امریکی ایوان نمائندگان کے ۴۳۵؍اراکین میں صرف ۱۱ نے شرکت کی۔

جب سے ۱۹۹۳ء میں کانگریشنل کاکس وجود میں آیا ہے، یہ سب سے کم شرکت تھی۔ کانگریس کے اراکین کی عدم دلچسپی سے اندازہ لگایا جانا چاہیے تھا کہ تعلقات انتشار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس بریفنگ کا اہتمام یو ایس۔انڈیا اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم نے کیا تھا۔

چند سال قبل چین کو بھی اسی طرح کی شکایت تھی کہ سفارتی سطح پر بھارت تنازعات کو سلجھانے میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے، بلکہ مذاکرات کو طُول دے رہا ہے۔ ۱۹۸۸ء میں راجیو گاندھی نے بیجنگ جاکر نئے تعلقات کی داغ بیل ڈالی تھی۔

چینی رہنما صدر یانگ شانگ کن، وزیراعظم لی پنگ اور ملٹری کمیشن کے سربراہ دنگ زیاو پنگ اُس وقت چین کو ایک تجارتی اور مینوفیکچرنگ مرکز بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوتے تھے۔ اپنے اردگرد ۱۴ میں سے ۱۳؍ممالک کے ساتھ چین سرحدی تنازع سلجھانے کی تگ و دَو کررہا تھا، تاکہ اس کی پوری توجہ معاشی معاملات کی طرف مرکوز رہے۔ صرف بھارت واحد ملک تھا، جس کے ساتھ سرحدی تنازعات کے سلسلے میں کوئی میکانزم موجود نہیں تھا۔

راجیو گاندھی کے دورہ کے دوران سرحدی تنازعات کو سلجھانے کے لیے دونوں ملکوں کے خارجہ دفاتر میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیے گئے۔ سال ۱۹۹۳ء میں بھارتی وزیراعظم نرسہما راؤ نے اس سَعی کو اورآگے لے جاکر سرحدوں کو پُرامن رکھنے کے ایک معاہدہ پر دستخط کیے۔ اس کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجی پارٹیاں ہتھیاروں کے بغیر پیٹرولنگ کرکے واپس اپنے کیمپوں میں چلی جائیں گی اور متنازع علاقوں میں جانے سے قبل ایک دوسر ے کو مطلع کریں گی۔

اس کے علاوہ ان علاقوں میں کوئی انفرااسٹرکچر کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ ۲۰۰۳ء میں چین نے شکایت کی کہ خارجہ دفاتر کے ورکنگ گروپ تنازع کو سلجھانے کے سلسلے میں کوئی پیشرفت نہیں کر رہے ہیں۔

وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی بیجنگ آمد پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ اس مسئلے کو دفترِ خارجہ سے لے کر بھارتی وزیراعظم اور چینی صدر کے قریبی معتمدوں کے حوالے کیا جائے۔ اس طرح خصوصی نمائندوں کا تقرر ہوا۔

بھارت کی طرف سے طے ہوا کہ قومی سلامتی مشیر، چونکہ ہمہ وقت وزیراعظم کے رابطہ میں رہتا ہے، وہ چینی ہم منصبوں کے ساتھ گفت و شنید کرے گا۔ ابھی تک دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں نے ۵۰ اَدوار کے مذاکرات کیے ہیں۔

سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے راقم کو ایک بار بتایا کہ خصوصی نمائندوں کا رول اب ختم ہو چکا ہے۔ مینن، جنہوں نے پانچ سال تک یہ فریضہ انجام دیا، کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب دائی بنگو کے ساتھ مل کر لو اور دو کے فارمولہ کے تحت ایک حل ترتیب دیا تھا، جو سیاسی قیادت کی بصیرت اور جرأت کا منتظر ہے۔

دائی بنگو نے اپنے منصب سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایک چینی جرنل میں لکھا تھا کہ انہوں نے تجویز دی تھی کہ گراؤنڈ پوزیشن کا احترام کرتے ہوئے، دونوں ممالک یعنی بھارت لدّاخ میں اکسائی چن پر اور چین شمال مشرق میں اروناچل پردیش پر دعویٰ واپس لے لیں اور پھر باقی سیکٹرز میں جو بارڈر پر تقریباً پانچ کلومیٹر کا تفاوت ہے، اس کو بھی مختلف سیکٹرز میں لو اور دو کے اصول کے تحت حل کرلیں۔

مگر بھارت کی طرف سے اس تجویز کا کوئی جواب نہیں آیا اور وہ ہر سال خصوصی نمائندوں کی میٹنگ کبھی بیجنگ اور کبھی دہلی میں طلب کرتا ہے۔

چینی فارن آفس کی دعوت پر دہلی میں کام کرنے والے تین صحافیوں نے ۲۰۱۶ء میں تبّت کا ایک تفصیلی دورہ کیا تھا۔ میں بھی اُس وفد میں شامل تھا۔ تبت اور یننان صوبہ کے شنگریلا علاقے سے واپسی پر بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے ہمیں بریفنگ میں بتایا کہ ان کا ملک مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل نہیں ہے۔

اگر مذاکرات حل کی طرف گامزن نہ ہوں، تو وہ وقت اور قومی وسائل برباد نہیں کرسکتے ہیں۔ یعنی ہمارے ذریعے ایک براہ راست وارننگ پہنچائی گئی تھی کہ مذاکرات کے سلسلے میں چین کی قوتِ برداشت جواب دے رہی ہے۔ اس کے بعد ہی سرحد پر کشیدگی اور جھڑپوں کی وارداتیں پیش آئیں۔

خیر ابھی چینی وزیر خارجہ کے دورہ کے دوران اب طے پایا کہ سرحدی تنازع پر خصوصی نمائندوں کی بات چیت بحال کی جائے، تکنیکی حل کے لیے ماہرین کا گروپ بنایا جائے اور مشرقی و درمیانی سیکٹرز میں سرحدی تنازع کو سلجھانے کے لیے نئے سطح کے طریقِ کار تشکیل دیے جائیں۔

بھارتی یاتریوں کے لیے تبّت میں کیلاش مانسروور یاترا کی بحالی کا اعلان بھی کیا گیا۔ براہِ راست پروازیں اور چینی سیاحوں و صحافیوں کے ویزے دوبارہ جاری ہوں گے۔ لپولیکھ، شپکی لا اور ناتھو لا پر سرحدی تجارتی مراکز دوبارہ کھولے جائیں گے۔ چین نے نایاب معدنیات، کھادوں اور سرنگ کھودنے والی مشینوں پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا وعدہ کیا جو بھارتی صنعت کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔

بیجنگ نے بین السری آبی گزرگاہوں خصوصاً برہم پتر کے بارے میں ہنگامی صورتحال میں ہائیڈرو لوجیکل ڈیٹا فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ بیجنگ نے دعویٰ کیا کہ جئے شنکر نے اعادہ کیا کہ ’تائیوان چین کا حصہ ہے۔‘ مگر بھارت نے بعد میں وضاحت کی کہ اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نئی دہلی ایک چین پالیسی کو تسلیم کرتا ہے لیکن تائیوان سے اقتصادی، ثقافتی اور ٹکنالوجی تعلقات برقرار رکھے گا۔ یعنی ایک گول مول سی وضاحت تھی، مگر چینی وزارت خارجہ نے اس وضاحت پر ناراضی جتاتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، جب بھارتی وزیر خارجہ نے بند کمرے میں دوطرفہ ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ ان کا ملک تائیوان کو چین کا حصہ سمجھتا ہے۔

تزویراتی حساب کتاب کے مطابق چین نہیں چاہتا کہ اس کی سرحدوں پر فی الحال کوئی ہلچل ہو۔ تاکہ وہ بحرالکاہل میں امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے تیار رہے۔ چین بھارت کے ساتھ صلح آمیز تعلقات پر آمادہ رہا، مگر سمجھتا ہے کہ نئی دہلی امریکی اثر کے تحت پانی گدلا کر رہا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ اپنی ایشیا پیسفک حکمتِ عملی کے مرکز میں امریکا کو رکھا تھا۔ مگر یہ داؤ ناکام ہوا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں ٹرانس پیسفک پارٹنر شپ معاہدہ یعنی ٹی پی پی سے نکل کر امریکا کے ایشیا جھکاؤ کو کھوکھلا کر دیاتھا۔ دوسرے دَور میں بھی ٹرمپ نے چین کے مقابلے میں ایشیا پیسفک اتحاد کو سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اب ایک طرف چین جیسا طاقتور ہمسایہ جس سے تعلقات کشیدہ ہیں، دوسری طرف امریکا کی عدم توجہی نے بھارتی خارجہ پالیسی کی پول کھول کر رکھ دی۔

بھارت بھی فی الحال چین کے ساتھ براہِ راست تصادم کو ٹالنا چاہتاہے، تاآنکہ وہ دو محاذوں پر لڑنے کے قابل ہو جائے۔ بھارت میں یہ احساس اب گَھر کر گیا ہے، کہ وہ اب صرف واشنگٹن پر بھروسا نہیں کر سکتا۔

مالی سال ۲۵۔۲۰۲۴ء میں بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ۲ء۹۹؍ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس میں الیکٹرانکس، بیٹریوں اور کیمیکلز پر شدید انحصار ہے۔ دونوں نے بنیادی تنازعات تَرک نہیں کیے، لیکن دونوں سمجھتے ہیں کہ فی الحال تصادم کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔ وانگ نے بھی تسلیم کیا کہ ’پچھلے چند برس میں جو رکاوٹیں آئیں، وہ ہمارے مفاد میں نہیں تھیں۔‘

معروف بھارتی تجزیہ کار بھارت بھوشن کے مطابق امریکا کے سہارے عظمت کے خواب دیکھنے والا بھارت اس وقت تذبذب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اس لیے خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارتی سیاسی قیادت اندھی وفاداری کو اپنی خوبی سمجھتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے گئے تجارتی جرمانوں نے بھارتی وزرا اور اہلکاروں کو ماسکو اور بیجنگ کی طرف دوڑنے پر مجبور کردیا ہے، مگر وہ اس کو ’اسٹریٹجک چابُک دستی‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مگر ماسکو اور بیجنگ اس چابک دستی کو بھارت کی مجبوری گردانتے ہیں اور اس کی پوری وصولی کریں گے۔ کل تک بھارتی حکومت چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی کال دے رہی تھی، چین کو اسٹریٹجک خطرہ کے بطور پیش کیا جارہا تھا۔ اب وہی قیادت اس کو شراکت داربنا کر پیش کر رہے ہیں۔

چین کو پہلے ہی بھارت کی کمزور اسٹریٹجک بصیرت کا اِدراک تھا۔ اسے یہ بھی بخوبی اندازہ تھا کہ بھارت کی قیادت دعووں سے زیادہ عمل میں کمزور ہے۔ یہی کمزوری اس وقت کُھل کر سامنے آئی جب بھارت نے لدّاخ میں ۲۰۲۰ء کی چینی دراندازیوں کو تسلیم کرنے سے بھی گُریز کیا۔

اصل ناکامی مگر اُن مشیروں کی ہے جنہوں نے مودی کو یقین دلایا کہ بھارت کی عظمت کا راستہ خطے کے مسائل کو حل کرنے اور امن قائم کرنے کے بجائے واشنگٹن سے ہوکر گزرتا ہے۔ انہی کے دباؤ پر بھارت نے امریکا کے ساتھ ’کواڈ‘، دفاعی معاہدے اور بحرالکاہل حکمتِ عملی میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن یہ سب بھارت کو امریکی معاشی دباؤ سے نہ بچا سکے۔ اس یکطرفہ جھکاؤ نے دوسرے تعلقات کو نظرانداز کر دیا۔

سرحدی تنازع کے حوالے سے بتایا گیا کہ چین نے اپنی تجویز کو دہرایا کہ پہلے سکّم سیکٹر کا قضیہ حل کیا جائے، کیونکہ یہ سب سے کم متنازع ہے۔ وہ ۱۸۹۰ء میں سکّم کی ریاست اور چین کی چنگ سلطنت کے درمیان ہوئے معاہدہ کو لاگو کرکے اس کی توثیق چاہتا ہے۔

اس کے لیے خصوصی نمائندوں کا میکنزم بنایا گیا ہے، جو معاہدوں کی مختلف شِقوں کی وضاحت کریں گے۔ پہلی بار ۲۰۱۷ء میں بھارت میں اُس وقت کے چینی سفیر لوو ژاہوئی نے نئی دہلی میں ایک تھنک ٹینک کے اجلاس کے دوران سکّم سیکٹر کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی تجویز دی تھی، مگر اس کے چند ماہ بعد ہی دوکلم تنازع شروع ہوا اور بھارتی فوجی سکّم سے بھوٹان میں داخل ہوگئے تھے تاکہ چین کو جمفیری رِج کی طرف سڑک بنانے سے روک سکیں۔ اس سے سکّم کی سرحد کو باقی تین متنازع بھارت۔چین سرحدی حصوں یعنی مغربی، درمیانی اور مشرقی حصوں سے الگ کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق چین نے یہ تجاویز پھر باقاعدہ طور پر اگست ۲۰۱۹ء میں بیجنگ میں وزیرِ خارجہ ایس جئے شنکر سے وانگ یی کی ملاقات کے دوران پیش کی تھی۔ بھارت میں اس کو ایک اسٹریٹجک جال کے طور پر دیکھا گیا۔ مودی حکومت کے قریبی سابق بھارتی خارجہ سکریٹری کنول سبّل کے مطابق یہ تجویز ۲۰۰۵ء کے اُس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس میں سرحدی تنازع کے حل کے رہنما اصول طے کیے گئے تھے اور جس میں واضح لکھا ہے کہ یہ ایک پیکیج ڈیل ہوگی۔بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق کہ سکّم سیکٹر کے حل ہونے کے بعد چین بھوٹان کے ساتھ اپنی سرحد طے کرکے دوکلم کے پہاڑی خطوں کو ضم کرے گا۔

بھارت کے ایک سابق آرمی چیف کا کہنا ہے کہ اگر بھارت سکّم کا معاملہ طے کر دیتا ہے، جہاں وہ چمبی ویلی اور شمال میں فنگر ایریا پر حاوی ہے، تو چین اپنی چمبی ویلی کی حدود کو بڑھائے گا اور مغربی بنگال کے سلیگُڑی کاریڈور پر دباؤ بڑھائے گا، جو شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ واحد زمینی لنک ہے۔ اس کا اثر بھارت۔چین۔بھوٹان کے سہ سرحدی مقام باتانگ لا پر پڑے گا، اور چین ممکنہ طور پر جمفیری رِج تک اپنی رسائی بڑھا لے گا، جہاں سے پورا سلیگُڑی کاریڈور اس کی دسترس میں ہوگا۔

کئی برسوں کی مزاحمت کے بعد ۱۹؍اگست ۲۰۲۵ء کو بھارتی وزارتِ خارجہ نے اتفاق کر لیا ہے کہ ورکنگ میکنزم برائے مشاورت و رابطہ (ڈبلیو ایم سی سی ) کے تحت ایک ماہرین کا گروپ تشکیل دیا جائے گا جو بھارت۔چین سرحد کے حصوں کا جائزہ لے گا۔ بھارتی وزیراعظم مودی سے وانگ یی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے چینی بیان میں کہا گیا کہ سرحدی مسئلے پر نیا اتفاق رائے ہوا ہے۔۔۔ اور اُن حصوں میں سرحدی مذاکرات شروع کرنے پر بات ہوئی ہے جہاں حالات سازگار ہیں۔

یہ معاہدہ اُس وقت ہوا ہے جب چین اپنی سرحدی بنیادی ڈھانچے اور فوجی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) دوکلم کے پہاڑی علاقے میں مضبوطی سے جم چکی ہے اور جمفیری رِج تک پہنچنے کے متبادل راستے تلاش کر چکی ہے۔ اب یہ بھارت کی دور اندیشی ہے یا سفارتی ہزیمت، وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔

ویسے بھی چین کے موجودہ وزیر خارجہ کو وانگ یی کو مغربی تجزیہ نگار ’سلور فاکس‘ یا ’چاندی کی لومڑی‘ کہتے ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے سیاستدان ہیں، جو نرم لہجے اور صبر آزما حکمت عملی کے ذریعے مخالف کو تھکاتا ہے، اور بالآخر اپنی شرائط منواتا ہے۔

ان کی سفارت کاری کا انداز زیادہ تر رسمی اور بیورو کریٹک دکھائی دیتا ہے، لیکن ان کے پیچھے کئی دہائیوں کا تجربہ ہے۔ ان کو ایک محتاط مگر سخت گیر سفارتکار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا مشہور جملہ ہے ’بیجنگ کا طریقہ کار یہ ہے کہ نرم لہجے میں سخت مؤقف اختیار کیا جائے۔‘ وہ اکثر اپنی حکمت عملی کو ایک کہاوت کے ذریعے بیان کرتے ہیں: ’جب ہم کہتے ہیں کہ ایک بات دو بار دہرائی جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اسے دو بار عمل میں لائیں گے۔‘

(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۲۷؍اگست ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں