یورپ اور ایشیا کے درمیان معلق روس

امریکی ریاست الاسکا میں امریکا اور روس کے صدور کی حالیہ ملاقات کے بعد سے روسی پروپیگنڈا بازوں نے ایک بار پھر زور و شور سے امریکا کے بارے میں وارم اَپ شروع کردیا ہے۔ خیر، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روس ایک بار پر مغرب یا یورپ کی طرف زیادہ جھکنا چاہتا ہے اور اُسے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ اُسے یورپی قوّت قرار دیا جائے۔

روس چاہتا ہے کہ ایک بار پھر یورپ سے اُس کے تعلقات معمول پر آئیں، کشیدگی کا خاتمہ ہو اور بحرِ اوقیانوس کے خطے میں ایک اور ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جس میں امریکا شامل نہ ہو یعنی اُسے باہر ہی رکھا جائے۔ ایک دنیا یہ بات جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرح روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی یورپی انداز کی جمہوریت کو زیادہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ روس اِس وقت یورپ سے جتنا دور ہے، اُتنا پیٹر دی گریٹ کے عہد میں نہیں تھا۔ ایک زمانہ تھا جب روسی اشرافیہ اس بات کو ترجیح دیتی تھی کہ روس کو یورپی قوت کے طور پر گردانا جائے۔ اِس میں روس کا زیادہ فائدہ تھا۔ یورپ تب بھی دنیا کا سب سے ترقی یافتہ خطہ تھا اور اُس کی اِس حیثیت کا روس کو فائدہ ہی پہنچنا تھا۔

جغرافیائی شواہد

روس کو رقبے کے لحاظ سے یورپ کا سب سے بڑا ملک قرار دیا جاسکتا ہے، گو کہ اِس کا ۷۷ فیصد رقبہ ایشیا میں واقع ہے۔ آبادی کا معاملہ بالکل اُلٹ ہے یعنی ۷۷ فیصد روسی اپنے ملک کے یورپی حصے میں رہتے ہیں۔ ملک کے تمام بڑے شہر بھی اِسی طرف واقع ہیں۔

روس کا سرکاری نشان (دو سَروں کا عقاب) بھی اِس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ملک یورپ اور ایشیا میں واقع ہے۔ اِن دونوں کو قریب لانے کے بجائے روسی قیادت نے ہمیشہ منقسم سیاسی شناخت کو ترجیح دی ہے۔ وہ کُھل کر اعلان نہیں کرتی کہ روس ایشیائی ہے یا یورپی۔ روسی قیادت ضرورت کے مطابق ایشیائی بھی رہتی ہے اور یورپی بھی۔ روسی اشرافیہ حالات پر نظر رکھتی ہے اور جب بھی ضرورت پڑتی ہے تب یورپی یا ایشیائی شناخت پر زور دیتی ہے۔ بیک وقت دو کشتیوں میں سفر کا معاملہ خاصی طویل مدت کا ہے۔

روس کا پیٹر پرنسپل

روس میں چار پانچ صدیوں کے دوران بہت کچھ تبدیل ہوتا رہا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں زار پیٹر نے اپنی عظیم سلطنت کے انتہائی مغربی سِرے پر نیا دارالحکومت، سینٹ پیٹرز برگ، قائم کیا۔ معروف روسی شاعر الیگزینڈر پُشکِن کے مطابق زار پیٹر نے اِس دارالحکومت کی صورت میں یورپ میں جھانکنے کے لیے ایک کِھڑکی بنائی۔

زار پیٹر نے اطالوی ماہرینِ تعمیرات اور فنکاروں کو مدعو کیا تاکہ وہ خالص یورپی انداز کا دارالحکومت تخلیق کریں۔ ساتھ ہی ساتھ روس میں کام کرنے کے لیے دوسرے یورپی پروفیشنلز کو بھی بلایا۔ زار پیٹر کی خواہش تھی کہ روس اپنے انداز سے یورپی محسوس ہو۔ وہ روس کی عمومی طرزِ زندگی کو غیرمعمولی تبدیلیوں سے ہمکنار کرکے اُسے خالص یورپی لَمس دینا چاہتا تھا۔

سوال محض معاشرے اور معیشت کو یورپی رنگ دینے کا نہیں تھا۔ زار پیٹر کی خواہش تھی کہ پورا روسی معاشرہ تمام ہی معاملات میں یورپی انداز کا دکھائی دے۔ اِس کے لیے لازم تھا کہ تمام ہی معاملات کو یورپی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جاتی اور زار پیٹر نے یہی کیا۔ اُس نے یورپی انداز کی جدید زمینی اور بحری فوج تیار کی اور اُس وقت کی بڑی یورپی طاقت یورپ کو میدانِ جنگ میں شکست سے دوچار کیا۔

روس پر منگول اثرات مِٹانے کی کوشش

زار پیٹر نے روس کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے بہت زور لگایا، بہت محنت کی، بہت توجہ دی۔ منگولوں نے تب دو صدیوں تک روس کے بیشتر خِطّوں پر راج کیا تھا۔ اُن کے اثرات بہت گہرے تھے۔ زار پیٹر کی خواہش تھی کہ روس کو منگولوں کے اثرات سے پاک کیا جائے اور خالص یورپی انداز فراہم کیا جائے۔ وہ روس کو مکمل یورپی قوم میں تبدیل کرنے پر کمربستہ تھا۔ اُسے ہالینڈ کا پرچم بہت اچھا لگتا تھا۔ روس کے لیے نیا پرچم تیار کیا گیا اور اِس میں سفید، نیلے اور سُرخ رنگوں کا انتخاب کیا گیا۔

زار پیٹر سے ایک بڑی غلطی سرزد ہوئی جس کے نتیجے میں وہ روس کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے میں خاطر خواہ حد تک کامیاب نہ ہوسکا۔ اِس کی بہت سی وجوہ تھیں۔ ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ روس کو یورپ کے رنگ میں رنگنے کے لیے زار پیٹر نے جو کچھ بھی کیا، وہ صرف طاقت کے ذریعے کیا۔ روس کو یورپی رنگ میں رنگنے کے لیے ناگزیر تھا کہ یورپ میں تب پائی جانے والی سیاسی سوچ بھی اپنائی جاتی، سیاسی طور طریقے بھی اپنائے جاتے۔ زار پیٹر نے ہالینڈ اور انگلینڈ میں تب مروّج سیاسی یعنی جمہوری سوچ اپنانے کے بارے میں خاطر خواہ حد تک نہیں سوچا۔ اُس نے ایشیائی انداز کی مطلق العنان نوعیت کی بادشاہت برقرار رکھنے کو ترجیح دی جس میں سب کچھ ایک شخصیت میں سمو دیا جاتا تھا اور اختیارات کے حوالے سے چیک اینڈ بیلنس برائے نام بھی نہ تھا۔

صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمرانی میں روس ایک بار پھر منگول دور کی کیفیت کو اپنانے پر تُلا ہوا ہے۔ زار پیٹر کی طرح پیوٹن نے بھی ساری طاقت اپنی شخصیت میں سمیٹ لی ہے۔ وہ کسی کو بھی اختیارات دینے کے مُوڈ میں نہیں۔

روس کو یوروپیانے کا بلند نقطہ

روس کو یورپ کے رنگ میں رنگنے کی کئی کوششیں کی گئی ہیں۔ اِس حوالے سے سب سے زیادہ بلند نقطہ ۱۹۱۷ء تھا۔ تب روس کی قُرونِ وسطیٰ کی بادشاہت کو بالآخر اُکھاڑ پھینکا گیا اور مختصر سے دورانیے کے لیے روس کو جمہوریہ میں تبدیل کیا گیا۔

اِس کے بعد ولادیمیر لینن کی واپسی ہوئی۔ اُس نے یورپ کے کئی شہروں میں برسوں جلا وطنی گزاری۔ روس واپسی کے بعد لینن نے انتہائی جابرانہ انداز سے روس کو نئی شکل دی۔ اِس کے لیے کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے فلسفے اور تحریروں کو بروئے کار لایا گیا۔ یہ دونوں مفکّرین جرمن تھے اور اِنہوں نے زندگی انگلینڈ میں گزاری۔

لینن اور اُس کے ساتھیوں نے روس کو دنیا کی پہلی اشتراکی ریاست میں تبدیل کیا۔ روس کا حلیہ تبدیل ہوگیا۔ سبھی کچھ بدل گیا۔ جب اشتراکی ریاست قائم ہوئی تو سبھی کچھ حکومت کے ہاتھ میں آگیا۔ لوگ ہر معاملے میں حکومت کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔ ایسے میں لینن کے ساتھیوں نے یہ بلند بانگ دعویٰ کیا کہ ترقی کی دوڑ میں ایک زمانے سے پیچھے رہے روس نے، جس کی ۸۰ فیصد آبادی ناخواندہ کسانوں پر مشتمل تھی، یورپ کی ترقی یافتہ اقوام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اُن کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ روس اب یورپی صنعتی انقلاب کی قیادت کرے گا اور ساتھ ہی ساتھ باقی دنیا کی بھی اور یوں اب اشتراکیت ہی دنیا کا ناگزیر مستقبل ہے۔

ایشیا میں ماسکو

اشتراکیت نے روس کو پوری طرح تبدیل کردیا تھا۔ ہر طرف صرف اور صرف جبر کا ماحول تھا۔ ملک بھر میں لوگ سہمے ہوئے تھے۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار تھا، وہ اپنی مرضی کے مطابق کوئی بھی فیصلہ کرتے تھے اور اُسے اہلِ وطن پر تَھوپ دیتے تھے۔ اِنہی جابرانہ تبدیلیوں کے موسم میں لینن نے روس کا دارالحکومت ماسکو منتقل کیا۔ سینٹ پیٹرز برگ یورپ میں تھا اور ماسکو ایشیا سے نزدیک تر۔

دوسری طرف جرمن یا ڈِچ زبان سے قریب سمجھا جانے والا اور عیسٰی علیہ السلام کے ایک معروف حواری سے موسوم سینٹ پیٹرز برگ بھی تبدیلی کے مرحلے سے گزرا۔ اُسے لینن گراڈ کا نام دیا گیا۔ یوں اِس شہر سے یورپ کا ہر قسم کا تعلق ختم ہوگیا۔

انقلاب کی خودساختہ ناکامی

کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے اپنی تحریروں اور فلسفے میں اِس بات کی بھرپور وکالت کی تھی کہ اشتراکیت کو پوری دنیا میں متعارف اور نافذ کیا جائے مگر ایسا کرنے کے بجائے روسی قیادت نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور ملک کو آہنی پردے کے پیچھے دھکیل دیا۔

روس کو اس قدر بند کردیا گیا کہ وہاں جانا اور وہاں سے کسی کا آنا دوبھر ہوگیا۔ سوویت حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ملک سے کوئی بھی بات باہر جائے۔ معلومات کی ترسیل بھی اِس طور روکی گئی کہ روس یا سوویت یونین کی حدود میں رہنے والوں کو معلوم ہی نہیں ہو پاتا تھا کہ باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ اشتراکیوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ جو کچھ مارکس اور اینگلز نے کہا ہے، وہی بالکل درست ہے اور یہ کہ یورپ میں پائے جانے والے خیالات ناقص اور زہریلے ہیں جو روس کے خالص اور پاکیزہ اشتراکی معاشرے کو بھی گندا اور زہریلا کرسکتے ہیں۔

یورپی جمہوریت کو اپنانے کی کوشش

۱۹۹۱ء میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس نے ایک بار پھر یورپی جمہوریت کو اپنانے کی کوشش کی۔ آزادانہ و شفاف انتخابات کرائے گئے۔ روس نے اپنی سرحدیں کھولیں اور بہت سی عالمی تنظیموں میں شمولیت بھی اختیار کی۔ لینن گراڈ ایک بار پھر سینٹ پیٹرز برگ بن گیا۔ اِس بار جمہوریت ایک عشرے تک برقرار رہی۔

اور ایک بار پھر سینٹ پیٹرز برگ نے یورپ سے پسپائی اختیار کرنے کے معاملے میں پہل کی۔ یہ اکیسویں صدی کی آمد کے موقع پر ہوا۔ ولادیمیر پیوٹن لینن گراڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ کے جی بی کے سربراہ بھی رہے تاہم مجموعی طور پر، سیاسی اعتبار سے، وہ بالکل گُمنامی میں تھے۔ اُنہیں روس کے سابق صدر بورس یلسن نے اپنا جانشین منتخب کیا۔

یورپ سے دُور ہونے کا عمل

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ وہ روس کو یورپ سے دُور لے جانا اور دُور رکھنا چاہتے ہیں۔ ولادیمیر لینن کی طرح پیوٹن نے بھی عُمر کا معقول حصہ یورپ میں گزارا۔ مشرقی جرمنی میں انہوں نے کے جی بی افسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ جرمنی میں گزارے ہوئے دن اُنہیں یورپ سے اچھی طرح متعارف کرانے میں خاصے معاون ثابت ہوئے ہوں گے مگر اِس کے باوجود وہ روس کو ایک بار پھر یورپ سے دُور لے جانے پر تُل گئے۔ اِس وقت روس ایشیا کی طرف جس قدر جھکا ہوا ہے، اُتنا پہلے کبھی نہیں جھکا تھا۔

پیوٹن کی اسٹریٹجک غلطیاں

المیہ یہ ہے کہ پیوٹن کا ایشیا کی طرف زیادہ جھکنا بھی یوکرین کو فتح کرکے یورپ میں بہت اندر تک روس کو اپنے اثرات پہنچانے کے قابل بنانے کی کوشش کے ناکام ہونے کا نتیجہ ہے۔ یوکرین کو مکمل طور پر فتح کرنا تو بہت دُور کا معاملہ رہا، مکمل طور پر حملوں کی زد میں لانا بھی کوئی پلیٹ میں رکھا ہوا حلوہ نہیں تھا۔ ولادیمیر پیوٹن کا تعلق انٹیلی جنس کمیونٹی سے رہا ہے مگر پھر بھی وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ اگر یوکرین کو ہڑپنے کی کوشش کی گئی تو یورپ کے متعدد ممالک اُٹھ کھڑے ہوں گے اور یوکرین کو میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہنے کے قابل بنانے کے لیے جو کچھ ہوسکا، وہ ضرور کریں گے۔ ساتھ ہی ساتھ یورپ کی طرف سے روس پر اقتصادی پابندیاں نافذ کیے جانے کا امکان بھی تھا۔

روس کے یورپی حصے پر حملے

یوکرین پر روسی حملے کو ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں۔ یوکرین کی طرف سے روسی سرزمین پر قائم آئل ریفائنریوں، فیکٹریوں اور بنیادی ڈھانچوں پر ڈرون حملے بڑھ چکے ہیں۔ روسی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اب روس کو اپنی معیشت کے استحکام کے لیے ایشیائی حصے میں واقع صنعتی ڈھانچے پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

یورپ سے روس کی تجارت تو ٹھکانے لگ چکی ہے۔ یہ بہت بڑا مالیاتی نقصان ہے۔ روس کے خام تیل کے لیے یورپ بہت بڑی منڈی رہا ہے۔ قدرتی گیس اور دیگر اہم قدرتی وسائل کے لیے بھی یورپ ایک زمانے تک روس پر انحصار پذیر رہا ہے۔ یوکرین پر لشکر کشی کی پاداش میں روس کو یورپی مارکیٹ سے محروم ہونا پڑا ہے۔ اِس کمی کو پورا کرنے کے لیے وہ چین اور بھارت کو خاصے کم نرخ پر تیل بیچنے پر مجبور ہے۔

چین مدد کو آپہنچا؟

روس میں بھی بڑا مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے مگر پھر بھی اُسے اپنے استعمال کی ہزاروں چیزیں یورپ اور دیگر خطوں سے درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ یوکرین جنگ کے نتیجے میں یورپ نے خود بھی روس سے تجارت بند کردی اور متعدد ممالک کو پابند کیا ہے کہ وہ روس سے خام تیل، گیس اور معدنیات نہ خریدیں اور مصنوعات بھی نہ بیچیں۔ ایسے میں چین نے آگے بڑھ کر روس کی مدد کی ہے تاکہ اُس کی کنزیومر مارکیٹ خرابی سے دوچار نہ ہو اور مہنگائی کا گراف بلند نہ ہو۔ یورپ کی طرف سے چونکہ کچھ نہیں آرہا، اِس لیے چین کی برآمدات بڑھ چکی ہیں۔

روس میں چینی مصنوعات کے لیے مسابقت برائے نام ہے کیونکہ روس میں لاگت بہت زیادہ ہے اور روسی مصنوعات چینی مال کے سامنے ٹِک نہیں سکتیں۔ روس میں سیاسی و معاشی امور کے بہت سے تجزیہ کار یہ شکوہ کر رہے ہیں کہ روس کو بیشتر معاملات میں چین پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ اِس کے نتیجے میں چِین کو روسی مارکیٹ میں اس طور قدم جمانے کا موقع ملے گا کہ پھر اُس کے قدم اُکھاڑنا آسان نہ ہوگا۔ ایک دَور تھا کہ روس صنعتی اعتبار سے بہت مضبوط تھا اور خطے کے متعدد ممالک کی مارکیٹوں پر چھایا ہوا تھا۔ اب اُس کی صنعتی بنیاد خاصی کمزور پڑچکی ہے۔                                                      (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“When Russia was still Europe-minded”.

(“The Globalist”. August 22, 2025)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو