امریکا کے لیے ٹرمپ ہی کافی ہیں!

ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کو دوبارہ عظمت سے ہمکنار کرنے کے مشن پر اُن کے ساتھ نکلنے والے چاہے جو بھی مانیں اور دعوے کریں، حقیقت یہ ہے کہ روئے ارض کی کوئی قوم حساب کتاب کے اصولوں اور توازنِ ادائیگی کی بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔

ہم اس نکتے پر لامتناہی بحث کرسکتے ہیں کہ معاشیات کوئی باضابطہ علم ہے بھی یا نہیں۔ ہم نظریاتی ترجیحات کے بارے میں بھی لامتناہی بحث کرسکتے ہیں اور معاشیات کے حوالے سے درست راہ کے تعین میں ہمیں غیرمعمولی نوعیت کے اقدامات کی ضرورت پڑتی ہے۔

صرف ایک معاملہ ایسا ہے جس پر کسی بھی نوع کی بحث کی گنجائش نہیں۔ اکاؤنٹنگ کا ایک ایسا اصول بھی ہے جسے کسی بھی حالت میں نظرانداز کیا جاسکتا ہے نہ پلٹا جاسکتا ہے۔ توازنِ ادائیگی کا معاملہ کسی بھی قوم کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسا ہے یعنی کسی بھی طور نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اکثر امریکا کے تجارتی خسارے کا رونا روتے ہیں، یعنی یہ کہ امریکا سے لوگ کم مال منگواتے ہیں اور امریکا کو زیادہ مال بیچتے ہیں۔ بہرکیف، توازنِ تجارت مجموعی توازنِ ادائیگی کا محض ایک حصہ ہے۔ اس حقیقت سے اب کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معیشت یا معاشیات کے بنیادی اصولوں اور محرکات کا بالکل علم نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اُنہوں نے معیشت کے کام کرنے کے انداز کو ڈھنگ سے سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کی ٹھانی جن سے معاملات فوری طور پر درست ہوسکتے ہوں یعنی نتائج عوام کو دکھائی دیں۔ ٹیرف کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ٹیرف یعنی درآمدات پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی۔ معاشیات کے بنیادی اصولوں سے واقف نہ ہونے کے باعث ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف کو ہتھیار بنانے کا سوچا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف کو ہتھیار بنانے کا فیصلہ تو کیا اور فیصلے پر عمل بھی کیا مگر جب دیکھا کہ یہ فیصلہ بیک فائر کر رہا ہے تو اُنہوں نے ایک خاص حد تک ٹیرف کو معطل کیا تاکہ شور شرابہ کچھ کم ہوجائے۔

توازنِ ادائیگی کیا ہے؟

کسی بھی قوم کے لیے توازنِ ادائیگی دراصل اُس کے تمام سَودوں کی مجموعی مالیت پر مشتمل اکاؤنٹ کا نام ہے۔ یعنی حتمی تجزیے میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کسی بھی قوم کو کسی سے کیا لینا ہے اور کیا دینا ہے۔ توازنِ تجارت بھی توازنِ ادائیگی کا حصہ ہے۔ وسیع تر مفہوم میں توازنِ ادائیگی کا موافق ہونا اچھی علامت ہے جبکہ ناموافق ہونا پریشانی کا باعث۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی ملک تجارت میں تو خسارہ اٹھا رہا ہو تاہم مجموعی طور پر اُسے دنیا سے زیادہ لینا ہو۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی خدمات اور ٹیکنالوجی وغیرہ کے ذریعے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے بہت کچھ وصول کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مرئی تجارت یعنی اشیا کی تجارت کم بھی ہوسکتی ہے۔ مثلاً ہوسکتا ہے کہ امریکا کی مصنوعات کی برآمدات ۵۰؍ارب ڈالر سالانہ ہوں تاہم اُسے متعدد ممالک سے مجموعی طور پر اپنی خدمات، ٹیکنالوجی اور دیگر مدوں میں سالانہ ۷۰؍ارب ڈالر موصول ہوتے ہوں۔ توازنِ ادائیگی کی کیفیت ہی بتاتی ہے کہ کسی ملک کی حقیقی مالیاتی یا مالی پوزیشن کیا ہے۔

تمام ہی ممالک کرنٹ اور کیپٹل اکاؤنٹ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر اپنی مالی پوزیشن کا تعین کرتے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بھی پریشان کن ہوتا ہے تاہم یہ حتمی نوعیت کا خسارہ نہیں ہوتا۔ باٹم لائن یہ ہے کہ ہر انسان کو دیکھنا ہوتا ہے کہ سال کے آخر میں اُس نے مجموعی طور پر کیا دیا اور کیا لیا۔

کرنٹ اور کیپٹل اکاؤنٹس میں مجموعی خسارے کے حامل ممالک کو اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر سے مدد لینا پڑتی ہے۔ مجموعی توازنِ ادائیگی ہمیشہ زیرو ہوگا۔ توازنِ ادائیگی میں پائے جانے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہر ملک کو اپنے زرِمبادلہ کے ذخائر سے مدد لینا ہوتی۔ اگر کسی ملک کے کرنٹ اور کیپٹل اکاؤنٹس میں مستقل بنیاد پر خسارہ پایا جاتا ہو تو زرِمبادلہ کے ذخائر سے مدد لیتے لیتے وہ رفتہ رفتہ دیوالیہ پن کی طرف چلا جاتا ہے اور پھر اُسے عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

امریکا کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ امریکی ڈالر پوری دنیا میں ریزرو کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تعریف و تصریح کی رُو سے امریکا کے پاس زرِمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اُس کی کرنسی ہی اُس کے لیے مرکزی ریزرو کا درجہ رکھتی ہے۔

امریکا، معاشی ترقی کے اپنے بہت بلند مرحلے کے باعث، کرنٹ اکاؤنٹ کے شدید خسارے سے دوچار ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کے اس خسارے کو غلطی سے یا معاشیات کے اصولوں اور فلسفے سے ناواقف ہونے کے باعث تجارتی خسارہ قرار دے دیا گیا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ امریکا کا جس قدر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، اُسی کے بہ قدر اُس کا کیپٹل اکاؤنٹ سرپلس بھی ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ گہری کیپٹل مارکیٹس امریکا کی ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ڈالر کو پوری دنیا میں ریزرو کرنسی یا متبادل کرنسی کا درجہ حاصل ہے۔ کسی بھی دوسری مضبوط کرنسی پر اس قدر بھروسا نہیں کیا جاتا۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک امریکی اسٹاک مارکیٹ میں غیرمعمولی حد تک سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ انفرادی اور حکومتی سطح پر متعین آمدنی والے انسٹرومنٹس، کارپوریٹ بونڈز اور سب سے بڑھ کر یو ایس ٹریژری بونڈز، بلز اور نوٹس خریدتے ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک امریکا میں جو سرمایہ کاری کرتے ہیں اُس کی بدولت امریکا میں توازنِ ادائیگی موافق ہی رہتا ہے کیونکہ سرمایہ ہمیشہ سرپلس رہتا ہے۔ بالواسطہ اور بلاواسطہ بیرونی سرمایہ کاری امریکی اسٹاک مارکیٹس کو مضبوط رکھتی ہے اور امریکی معیشت ہر طرح کے جھٹکے آسانی سے جھیل لیتی ہے۔

امریکا اپنی کرنسی کی بدولت انتہائی موافق پوزیشن کا حامل رہتا ہے۔ اِسے زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافے یا اُس میں سے کچھ نکالنے کی شاذ و نادر ہی ضرورت پڑتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو زرِمبادلہ ذخیرہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں جب کینیڈا، میکسیکو اور چین کے خلاف بہت بڑی شرح سے درآمدی ڈیوٹی بڑھائی تو جوابی اقدامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جب ردِعمل غیرمعمولی ہوا تو صدر ٹرمپ کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں معاملات بے قابو نہ ہوجائیں اور امریکی معیشت کے لیے انتہائی نوعیت کی کیفیت پیدا نہ ہو جائے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے بعض اقدامات پر عملدرآمد روک دیا۔ کینیڈا اور میکسیکو سے تعلقات زیادہ بگاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اب اِسی بات کو لیجیے کہ فرانس کے صدر میکراں نے اپنے عمومی پُرلطف اور پُرسکون انداز سے، فرانس کے بڑے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ وہ امریکا میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔

چین کا شمار اُن بڑے ملکوں میں ہوتا ہے جو تجارت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں اور اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ چین میں مینوفیکچرنگ بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں لاگت بہت گھٹ جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت جس چیز کو اپنے ہاں دس روپے میں تیار کر پاتے ہیں، وہی چیز چین میں اس قدر سستی بنتی ہے کہ شپمنٹ کے بعد بھی پاکستان یا بھارت میں وہ سات روپے تک میں دستیاب ہوتی ہے۔ روزمرہ استعمال کے سیکڑوں، بلکہ ہزاروں چینی آئٹمز سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا (مشرقِ وسطیٰ) کے بازار بھرے پڑے ہیں۔ چین کو اپنی تجارتی قوت پر بہت ناز ہے۔ اس لیے اُس نے کہا ہے کہ وہ تجارت کے معاملے میں امریکا سے آخری سانس تک لڑے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا سے چین کی تجارت بالکل ختم ہوجائے تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر چل نہیں سکتا کیونکہ دونوں کو ایک دوسرے کی تیار کی ہوئی اشیا کی ضرورت ہے اور امریکا کو زیادہ ضرورت ہے۔ چینی قیادت کو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ تجارتی جنگ امریکا کی داخلی سیاست میں کھپت کے لیے ہے اور بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں چین بھی اڑیل بھینسے کے لیے اڑیل بھینسا ثابت ہونا چاہتا ہے۔

چینی قیادت کو یہ بھی بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکا کو کہاں، کس معاملے میں تکلیف پہنچانی ہے۔ امریکا پر مجموعی قرضہ ۳۶ ہزار ارب ڈالر کا ہے، جس میں سے ۲۴ فیصد بیرونی نوعیت کا ہے۔ چین نے امریکا میں کم و بیش ۷۶۰؍ارب ڈالر کی سرکاری سطح کی، بالواسطہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ویسے امریکا میں چین کی مجموعی سرمایہ کاری ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگر چین کو ناراض کیا گیا تو ایک ایسا راستہ بند ہو جائے گا جو امریکی شہریوں اور سرکاری شعبے کو اُس سے زیادہ خرچ کرنے کی سکت فراہم کرتا ہے جتنا بچایا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین سے تعلقات بگڑنے کی صورت میں تجارت داؤ پر لگنے کی صورت میں امریکا کو غیرمعمولی حد تک تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیرف کے معاملے میں پسپائی اس لیے اختیار کرنی پڑی ہے کہ اُن کے اقدامات سے اسٹاک مارکیٹ بھی ہل گئی اور منی مارکیٹ بھی۔ اس نوعیت کے جھٹکے اگر تواتر سے لگتے رہیں تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آسکتی ہے۔ ٹیرف کے معاملے میں صدر ٹرمپ نے جو سوچ دکھائی ہے، وہ ہر وقت کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس معاملے میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ریزرو کرنسی بھی ناکام ہوسکتی ہے!

ابھی کچھ معلوم نہیں کہ چینی حکومت اور چینی باشندوں نے یو ایس ٹریژری بونڈز بیچے یا نہیں مگر چونکہ اِس کا احتمال بہت زیادہ تھا، اس لیے نرخ بلند ہوگئے۔ امریکی قیادت کو بھی اندازہ ہے کہ بیرونی حکومتوں اور باشندوں نے امریکا میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور یہ سرمایہ کاری کھینچ لی جائے یا اِس میں بڑی کمی واقع ہو تو امریکا کے لیے ایسی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں جن کا رفع کرنا آسان نہ ہوگا۔ اگر امریکا کے کیپٹل اکاؤنٹ کا سرپلس ڈگمگا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ سکڑے گا۔ اور ایسے ہی مرحلے میں امریکا کے کرنسی ریزرو اسٹیٹس کی اچانک موت واقع ہوسکتی ہے۔ دوسرے تمام ملکوں کی طرف امریکا زرِمبادلہ کا ذخیرہ نہیں رکھتا۔ ایسی صورت میں اُسے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اُس کی معیشت ڈپریشن کا شکار ہوگی اور یوں اُسے بہت بڑے پیمانے پر ڈالر چھاپنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اِس کے نتیجے میں محض افراطِ زر (inflation) نہیں بلکہ انتہائی نوعیت کے افراطِ زر (hyperinflation) کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ ایسی صورت میں امریکا میں عام استعمال کی اشیا اس قدر مہنگی ہوجائیں گی کہ عوام کا جینا محال ہو جائے گا۔

جشن منانے کی گنجائش نہیں!

اس وقت امریکا جس انتشار کا شکار ہے، وہ معاشیات کی مبادیات سے آشنائی نہ رکھنے والے ایک شخص (ڈونلڈ ٹرمپ) کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ اس انتشار نے باقی دنیا کو بھی متاثر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ جن بڑے اور طاقتور ممالک کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ رہے ہیں، وہ اگر امریکا میں کی گئی اپنی سرمایہ کاری نکالنے پر تُل گئے تو یوں سمجھ لیجیے کہ تجارتی جنگ میں معاشی ایٹمی ہتھیار استعمال ہوجائے گا۔ اِس کے نتیجے میں کیا ہوسکتا ہے، اِس کا اندازہ لگانے کی کوشش کیجیے گا تو خوف محسوس ہوگا۔ امریکا کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی معیشتیں ہل جائیں گی۔ اگر چین، روس اور یورپی ممالک نے امریکا سے اپنی سرمایہ کاری کھینچ لی تو امریکا کسی بھی اعتبار سے اِس اقدام کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ کوئی بھی بڑا ملک شاید ایسے کسی بھی اقدام کے حق میں نہیں ہوگا کیونکہ ایسا کرنے سے دنیا بھر کی معیشتیں ہل جائیں گی، بہت بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ واقع ہوگی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں پیدا ہونے والی ہلچل نے ٹرمپ اور اُن کے ساتھیوں کو باور کرادیا ہے کہ اگر وہ ٹیرف کی جنگ جاری رکھیں گی تو امریکی معیشت بھی داؤ پر لگ جائے گی۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ نے حال ہی میں جس نوعیت کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اُس کی بدحواسی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بدحواسی دوسرے بہت سے معاملات میں بھی پائی جاتی ہے۔ امریکی بونڈ مارکیٹ پر بھی شدید دباؤ ہے۔ وہ خوف کی گرفت میں ہے۔ یہ وقت انتہائی نازک ہے کیونکہ چند ایک نامعقول اقدامات پوری امریکی معیشت کو داؤ پر لگادیں گے۔

شاید بہت دیر ہوچکی!

صدر ٹرمپ نے (چین کے سوا) چند نامعقول ٹیرف پر عمل روک دیا ہے مگر پھر بھی ۱۰؍فیصد مجموعی ٹیرف اور گاڑیوں، فولاد اور ایلو مینیم پر ۲۵ فیصد ٹیرف برقرار ہے۔ یہ سب کچھ امریکا اور باقی دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ اس ٹیرف کے سنگین نتائج برآمد ہوکر رہیں گے۔

امریکا عالمی تجارت میں ایک بڑا کھلاڑی رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ مالیاتی تحرک کا مرکز بھی رہا ہے۔ امریکا میں خوف بڑھ رہا ہے۔ یہ خوف سرمائے کی محفوظ اور آزادانہ منتقلی اور تحرک کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ اِس کے نتیجے میں غیریقینی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ عام آدمی بھی خوفزدہ ہے اور کاروباری شخصیات و ادارے بھی گو مگو کا شکار ہیں کہ اِس صورتحال میں کریں تو کیا کریں۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ امریکی کیپٹل مارکیٹس پر قانون کی حکمرانی اور بالادستی کا تصور بُری طرح مسخ ہوا ہے۔ لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی سرمایہ کاری اچانک داؤ پر نہ لگ جائے۔

صدر ٹرمپ کی پالیسیوں اور اقدامات سے دنیا بھر میں شش و پنج کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ سیاست اور معیشت، دونوں ہی کے لیے یہ انتہائی نوعیت کی کیفیت ہے۔ بیشتر معاملات میں پایا جانے والا انتشار خرابیوں کو مزید بڑھا رہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ توازنِ ادائیگی کا معاملہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ حقیقت چاہے جو بھی ہو، سامنے آتی ہے اور خود کو منواکر دم لیتی ہے۔ امریکا کو بھی اِس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔                                                                        (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Trump is cornering the United States, not the world”. (“The Globalist”. April 11, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں