ایڈورائم ۲۸۰ ؍اور فلسطینی زمینوں کی چوری

اسرائیل کے قابض حکام نے ایڈورائم نامی آؤٹ پوسٹس کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ آؤٹ پوسٹس الخلیل کے جنوب میں دراء کی زمین پر قائم کی گئی تھی۔

اس کا قیام ۴ سال پہلے ماہ جولائی میں عمل میں لایا گیا تھا جس میں اب کافی اضافہ ہو چکا ہے اور ۲۶ یہودی آبادکار خاندان رہائش پذیر ہیں۔

یہ آؤٹ پوسٹس اسرائیلی قابض حکومت کی منظوری سے قائم کی گئیں۔ جبکہ باقی آؤٹ پوسٹس کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ حکومتی منظوری کے بغیر قائم ہیں۔ جس زمین پر اسے قائم کیا گیا ہے، وہ دراء نامی فلسطینیوں کی ملکیتی زمین ہے جسے ۱۹۷۰ء میں اسرائیل نے قبضے میں لیا تھا اور اس علاقے میں ایک فوجی اڈا قائم کرنے کا آغاز کیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل آف ڈاکیومینٹیشن اینڈ پبلی کیشن عامر دائود کا کہنا ہے کہ اس آؤٹ پوسٹس کو مستقل حیثیت دینے کا فیصلہ انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ اسموتریچ کی درخواست پر کیا گیا ہے جو مغربی کنارے میں مزید ۵ آؤٹ پوسٹس کو قانونی حیثیت دلوانا چاہتے ہیں۔

عامر داؤد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، نئی یہودی بستی اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ نئے رہائشی یونٹس اپنی مرضی سے تعمیر کرسکیں۔ اس لیے اس آؤٹ پوسٹس کو ایک مکمل یہودی بستی کا درجہ دیا جارہا ہے تاکہ یہ آزادانہ طور پر یہودی بستی قائم کرنے کا اختیار حاصل کرسکیں۔

اعداد و شمار کے مطابق یہودی بستیوں میں مغربی کنارے کے اندر ۷ لاکھ ۸۰ ہزار لوگ رہتے ہیں۔ ان میں یروشلم کے رہنے والے ۳ لاکھ ۱۰؍ہزار یہودی آبادکار بھی شامل ہیں۔

عامر داؤد کے مطابق اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی مخلوط حکومت میں انتہا پسند وزراء یہودی بستیوں اور ان آؤٹ پوسٹس کے حوالے سے جو عزائم رکھتے ہیں، انہیں اس میں کامیابی ہو رہی ہے۔

یہودی آبادکاری میں اضافہ

یہودی آبادکاروں کی زرعی حوالے سے مغربی کنارے کے کھیتوں میں موجودگی مغربی کنارے کی زمین کو یہودیانے کی نئی کوششوں کا ایک اہم مرحلہ ہے کہ وہ کسی بھی صورت فلسطینیوں کی زمین اپنے قبضے میں لے کر اسے زراعت و لائیو اسٹاک کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ان زمینوں پر اس طرح قبضہ کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ان کا ہو اور وہ یہ سب اسرائیلی فوج کی نگرانی میں کررہے ہیں۔

یہودی آبادکاروں کے لیے یہ اہتمام اور سہولت اس طرح پیدا کی گئی ہے کہ وہ چند آبادکار مل کر زمین کے بڑے حصہ پر قبضہ کرلیں۔ نیز یہودی آبادکار نوجوان بھیڑیں چَرانے کے نام پر اسٹریٹجک اہمیت کی جگہوں پر اپنی موجودگی کو پختہ کرلیں تاکہ آہستہ آہستہ زمینوں پر قبضے کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جائے۔

یہودی بستیوں میں بے ہنگم اضافہ

فروری ۲۰۲۵ء میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں اسرائیلی تنظیم کیریم نیووٹ نے لکھا کہ ۲۰۲۴ء کے دوران نئی ۶۰ آؤٹ پوسٹس کا قیام ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سب مغربی کنارے کے علاقے میں قائم کی گئی ہیں اور ان کی تعداد ۱۹۹۷ء سے لے کر اب تک قائم کی گئی تمام آؤٹ پوسٹس کا ۲۰ فیصد ہیں۔ واضح رہے ۱۹۹۷ء سے اب تک ۲۸۴ آؤٹ پوٹس قائم کی گئی ہیں۔

اس ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ ان ۶۰ آؤٹ پوسٹس میں سے کسی ایک کے لیے بھی منظوری نہیں لی گئی اور ان کا قیام غیرقانونی ہے۔ ان ۶۰ میں سے صرف ۲ کو خالی کرایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان آؤٹ پوسٹس کی تعمیر میں پہلے سے موجود قواعد و طریقہ کار کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے اور کسی بھی کام کے لیے منظوری نہیں لی گئی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے ایسا نہیں کیا جاتا تھا۔

ان میں سے اکثر آؤٹ پوسٹس کا پہلے سے انفرااسٹرکچر موجود ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیلی پانی کی پائپ لائنز سے بھی یہ آؤٹ پوسٹس جڑی ہوئی تھیں لیکن اکثر آؤٹ پوسٹس میں یہودی آبادی کی زیادہ تعداد نہیں رہتی اگرچہ ان کے پاس زمین کا بڑا علاقہ زیر قبضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مستقبل میں یہودی آبادی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یاد رہے غزہ کی پٹی پر حالیہ بدترین نسل کشی کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیل نے مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے میں بھی نمایاں طور پر اضافہ کیا۔ ایک جائزے کے مطابق ۲۰۲۴ء کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکام نے ۲۷ہزار قطعات اراضی پر مختلف حیلوں بہانوں سے قبضہ کرلیا ہے۔ یہ اعداد پچھلے تین دہائیوں سے بھی زیادہ ہیں۔ اس لیے اسے فلسطینی زمین کی سب سے بڑی چوری کہا جاسکتا ہے۔

خودمختاری قائم کرنے کا منصوبہ

۲۰۲۵ء کے آغاز میں اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی نے ماہ جنوری میں ایک ایسے مسودہ قانون کی منظوری دی جس کے تحت یہودی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خرید سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔

انتہا پسند وزیر خزانہ اسموتریچ مشرقی یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے، دونوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیتے ہیں اور وہ دو ریاستی حل کے کٹّر مخالف ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ فلسطین کی آزاد ریاست کو قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ ۲۰۲۵ء تک پورے مغربی کنارے کو اسرائیلی قبضے میں لے لیں گے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے peace now کے مطابق ۵ لاکھ کے قریب یہودی آباد کار ۱۴۷؍یہودی بستیوں اور ۲۲۴ آؤٹ پوسٹس میں مقیم ہیں جبکہ ۲ لاکھ ۴۰ ہزار سے زیادہ یہودی آباد کار مشرقی یروشلم میں قائم کی گئی ۱۵؍ناجائز یہودی بستیوں میں رہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے کے بعض حصوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنے کے حامی ہیں۔

(بحوالہ: ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘۔ ۱۵؍مارچ ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں