ہم مختلف زمانوں میں مختلف رجحانات کے حامل رہے ہیں۔ کبھی کسی چیز کا غلغلہ بلند ہوتا ہے اور کبھی کسی چیز کا۔ آج کل ایک چیز ایسی ہے جس کے بارے میں دن رات سُننے کو مل رہا ہے۔ جی ہاں، مصنوعی ذہانت۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے لیکن اِس کا بہت زیادہ اور بے جا استعمال اِسے زحمت میں بھی تبدیل کر رہا ہے۔
ویسے تو خیر ہر دور کے انسان نے ٹیکنالوجی کے ساتھ ہی زندگی گزاری ہے مگر اب معاملہ یہ ہے کہ ہزاروں برس کی ٹیکنالوجی اپنے اپنے درجۂ کمال کو پہنچنے کے بعد حتمی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ مصنوعی ذہانت مختلف زمانوں میں کی جانے والی محنتِ شاقہ کا نچوڑ ہے۔ یہ انسان کو بہت سے معاملات میں بے جا محنت سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ہاں، بعض معاملات میں کثرتِ استعمال کے باعث یہ انتہائی نوعیت کے نتائج پیدا کر رہی ہے۔ ماہرین اِس حوالے سے پریشان ہیں۔ وہ تحقیق کے ذریعے معلوم کرچکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت پر بہت زیادہ انحصار پذیر رہنے کی صورت میں انسان کے لیے انتہائی نوعیت کے معاملات پیدا ہوتے ہیں۔ ذہن کی کارکردگی اِس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔
محققین نے مصنوعی ذہانت کی معروف ترین ایپ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والوں کے اذہان کی اسکیننگ کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ بعض معاملات شدید خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ اُن کا استدلال ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کا بہت زیادہ استعمال انسان کو ذہن استعمال کرنے سے روک رہا ہے۔ اِس کے نتیجے میں ذہن کی بے عملی بڑھ رہی ہے۔ کسی بھی ذہن کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اُسے باقاعدگی سے بروئے کار لایا جاتا رہے۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی دیگر ایپس اِس راہ میں بہت بڑی رُکاوٹ ہیں۔
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والوں کے ذہن کی اسکیننگ کے ذریعے پایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا غیرمعمولی اور غیرضروری استعمال انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پر بُری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ اِس حوالے سے ماہرین پہلے ہی بارہا خبردار کرچکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مقبولیت اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس پر بہت زیادہ انحصار پذیر رہنے کی صورت میں ذہن کی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کئی سال سے خبردار کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا زیادہ اور بے جا استعمال زبان دانی، طرزِ عمل اور فوری جواب دینے کی صلاحیت کے معاملے میں ذہن پر شدید نوعیت کا دباؤ ڈال رہا ہے۔
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تحقیق کی روشنی میں جو مقالہ تحریر کیا ہے، وہ ابھی نظرثانی اور نقد کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی میڈیا لیب نے چیٹ جی پی ٹی کے بہت زیادہ استعمال کے ذریعے کچھ لکھنے والوں کا موازنہ اُن لوگوں سے کیا ہے جو ایسا نہیں کرتے۔
محققین نے ۱۸ سے ۳۹ سال کے ۵۴؍افراد کو تین زمروں میں تقسیم کیا۔ پہلے زمرے میں وہ لوگ تھے جو لکھنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لیتے تھے۔ دوسرا زُمرہ اُن لوگوں کا تھا جو اس سلسلے میں گوگل سے مدد لینے کے قائل تھے اور تیسرے زمرے میں وہ لوگ رکھے گئے جو اپنے طور پر لکھتے تھے یعنی مصنوعی ذہانت کی کوئی ایپ استعمال نہیں کرتے تھے۔ یہ تحقیق چار ماہ پر محیط تھی۔ ہر زمرے کے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ پہلے تین ماہ تک ہر ماہ ایک مضمون لکھیں اور چوتھے ماہ یا تو چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے لکھیں یا پھر اُس کی مدد کے بغیر۔
چار ماہ مکمل ہونے کے بعد تحقیق کے تمام شرکا کے ذہن کی اسکیننگ کی گئی اور اِس سلسلے میں الیکٹرو اینفیلوگرام (ای ای جی) مشین کو بروئے کار لایا گیا۔ یہ مشین ذہن کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرتی ہے۔ اس مشین کے ذریعے جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ جو لوگ چیٹ جی پی ٹی زیادہ استعمال کرتے تھے، اُن کا ذہن سوچنے کے معاملے میں سُست تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ زبان دانی اور طرزِ عمل کے معاملے میں بھی کمزور پڑچکے تھے۔ ایک نمایاں خرابی یہ پیدا ہوئی کہ وہ سُست پڑچکے تھے، اُن کے مزاج میں کاہلی یا بے عملی نمایاں تھی۔ جو لوگ گوگل کی مدد سے مضمون لکھتے رہے تھے، اُن کے ذہن کی کارکردگی بھی بہت اچھی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ قابلِ قبول حد تک فعال تھے۔ اِن دونوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت کی کسی بھی ایپ سے مستفید نہ ہونے والوں کے ذہن کی سرگرمیاں بھرپور تھیں اور وہ پوری توانائی اور جذبے کے ساتھ اپنا کام مکمل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی دیگر ایپس سے بہت زیادہ مدد لینے والوں کے بارے میں یہ حقائق کسی بھی سطح پر چونکانے والے نہیں کیونکہ ماہرین کئی بار اِس نوعیت کی منفی تبدیلیوں یا سنگین اثرات کے بارے میں انتباہ کرچکے ہیں۔ ہاں، تشویش کی بات ضرور ہے کیونکہ انسان اپنے ذہن سے کام لینا بھولتا جارہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کی مدد سے لکھنے والے اب سوچنے کی زحمت سے چُھٹ چکے ہیں۔
اے آئی چیٹ بوٹس انسان کو ذہن کے استعمال سے دور کر رہے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں فکر و نظر کا تنوع بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو کام پر لگاکر لوگوں نے ذہن کو فارغ کردیا ہے۔ ذہن ہے مگر اُس سے کام لینے والوں کی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ لوگ سوچنے کی زحمت اور مشقت گوارا کرنے کو تیار نہیں۔
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے پہلے بھی اپنی تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ جو لوگ مصنوعی ذہانت کا بہت زیادہ سہارا لیتے ہیں، اُنہیں سوچنے اور سمجھنے میں غیرمعمولی الجھن کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے لوگ بیشتر معاملات میں سہارے ڈھونڈنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ ابتدا ہی سے سوچ سمجھ کر لکھنے کے عادی رہے ہوں اُن کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ فی زمانہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر ایپس کے ذریعے لکھنے کا رجحان سا جاری ہے۔ اِس طور لکھنے والے اچھا سوچنے اور معقول طرزِ نگارش کے حامل نہیں ہو پاتے۔ جو لوگ مصنوعی ذہانت کی ایپس کا بہت زیادہ سہارا لیتے ہیں وہ اُن کے بغیر سوچنے اور لکھنے کی صلاحیت سے اس قدر محروم ہو جاتے ہیں کہ جب یہ ٹولز میسر نہ ہوں تو اُن سے کام ہی نہیں ہوپاتا۔
سالِ رواں کے اوائل میں کارنیگی میلن اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والے ادارے اوپن اے آئی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ادارے مائیکروسوفٹ کارپوریشن نے ایک مشترکہ تحقیق کے ذریعے جانا کہ چیٹ بوٹس بہت زیادہ استعمال کرنے والوں میں سوچنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ اپنے بیشتر فیصلے بھی ڈھنگ سے نہیں کر پاتے۔ معروف برطانوی اخبار دی گارجین نے بھی ایک تجزیے میں بتایا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والوں میں حماقت کی سطح بلند سے بلند تر ہوتی جارہی ہے۔
معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک رپورٹر کا تومعاملہ یہ رہا کہ وہ چیٹ جی پی ٹی و دیگر کے بہت زیادہ استعمال کے نتیجے میں معاملات کو سمجھنے اور اُس فہم سے مطابقت رکھنے والی سوچ پروان چڑھانے کی صلاحیت سے مطلق محروم ہوگیا۔ اُس کا ذہن ایسا الجھا کہ پھر اپنے طور پر کام کرنے کے قابل ہی نہ رہا۔
اور سوال محض سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچنے کا نہیں۔ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر چیٹ بوٹس کے بہت زیادہ استعمال سے ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ حافظہ بھی متاثر ہوتا ہے اور ریفلیکسز بھی کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خیالی دنیا میں رہنے لگتے ہیں۔ اُن کے لیے سائبر اسپیس ہی حقیقی دنیا بن جاتا ہے۔ بہت سوں کا یہ حال ہے کہ ڈاکٹر نے جو دوائیں تجویز کی تھیں، وہ تمام دوائیں لینا اُنہوں نے اِس لیے ترک کردیا کہ چیٹ بوٹ نے اُنہیں ایسا کرنے کو کہا۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ لوگ محض پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے نہیں بلکہ ذاتی معاملات کے لیے بھی چیٹ بوٹس پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں اُن کے بہت سے فیصلے بالکل غلط اور بُودے ثابت ہوتے ہیں۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے ہم کس نوعیت کے بحران کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Researchers scanned the brains of ChatGPT users and found something deeply alarming”. (“futurism.com”. June 20, 2025)