تاریخی اعتبار سے طلبہ یونین فکری ارتقا، سیاسی تحرک اور معاشرتی اصلاح کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتی رہی ہیں۔ طلبہ یونین انیسویں صدی کے یورپ میں بحث و تمحیص کی سوسائٹیز کی حیثیت سے نمودار ہوئی تھیں۔ اِن کا بنیادی مقصد نئی نسل کے ذہنوں میں جمہوری اقدار اور تخلیقی سوچ کے بیج بونا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور یہ یونین معاشرتی تبدیلیوں اور بنیادی حقوق کے علم بردار پلیٹ فارمز کی حیثیت اختیار کرتی گئیں۔ جنوبی افریقا میں نسل پرستی پر مبنی امتیازی اور غاصبانہ نظامِ حکومت کے خاتمے میں دی نیشنل یونین آف ساؤتھ افریقن اسٹوڈنٹس نے اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۶۸ء میں پیرس میں بھی بہت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ اِن مظاہروں کو کامیاب بنانے میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
پاکستان کے ابتدائی دنوں میں طلبہ یونین نے غیرمعمولی مقبولیت اور کامیابی حاصل کی۔ یہ انجمنیں قیادت، سیاسی تحرک اور معاشرتی ارتقا کے لیے بہت اچھے پلیٹ فارم ثابت ہوئیں۔ اسلامی جمعیتِ طلبہ (جسے عام طور پر صرف جمعیت کہا جاتا ہے) اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) جیسی طلبہ تنظیموں نے ایسی تحریکوں کی قیادت کی جن کے نتیجے میں قومی تاریخ میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ۱۹۸۴ء میں، جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں، طلبہ یونین پر پابندی عائد کردی گئی جس کے نتیجے میں جمہوریت کے لیے اٹھنے والی ایک اہم آواز خاموش ہوئی اور ایسا خلا پیدا ہوا جو تعلیمی اداروں اور معاشرے پر آج بھی محیط ہے۔ پاکستان کے ارتقا میں طلبہ یونین کے کردار کو سمجھنے کے لیے اُن کی جڑوں اور اثرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
پاکستان میں طلبہ یونین نے ملک کی سیاسی و معاشرتی ترقی، تعلیمی ماحول کے فروغ، جمہوریت کی بقا و نشو و نما، معاشرتی مقاصد اور قیادت کے ارتقا کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ۱۹۵۲ء میں بنگالی زبان کی تحریک سے ۱۹۶۸ء میں، این ایس ایف کی قیادت میں، جنرل ایوب خان کے خلاف احتجاجی مظاہروں تک طلبہ یونین نے نئی نسل کے سیاسی تحرک کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اُن کا کردار قومی پالیسیوں کی تشکیل کے مرحلے پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ ۱۹۷۲ء میں شملہ معاہدے سے متعلق مظاہروں اور ۱۹۷۴ء میں ختمِ نبوت تحریک کے مظاہرے اِس کا بیّن ثبوت ہیں۔ جن میں اسلامی جمعیتِ طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ (ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کو ہونے والے واقعات اس حوالے سے بہت اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔) سیاست سے ہٹ کر طلبہ یونین نے تعلیمی اداروں میں مباحثوں، ثقافتی پروگراموں اور کھیلوں کے مقابلوں کے ذریعے فکری ارتقا اور قائدانہ صلاحیت کو پروان چڑھانے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔
۹ فروری، ۱۹۸۴ء کو جنرل ضیاء الحق کی سربراہی میں قائم حکومت نے طلبہ یونین پر ملک گیر پابندی عائد کی۔ اختلافِ رائے کے اظہار کی گنجائش ختم کرنے کے اِس اقدام کے وسیع البنیاد سنگین نتائج برآمد ہوئے۔ حکمران طبقے نے جمہوری انقلاب کا خطرہ بھانپتے ہوئے اُس کی راہ مسدود کرنے کی خاطر طلبہ تنظیموں اور اُن کے قائدین کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اِس سے نسلی و لسانی بنیاد پر تشدد کی راہ ہموار ہوئی۔ بے لگام گروپوں نے فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا، معاشرے میں ایسی تفریق و تقسیم شروع کی جس کا معاشرے کو پہلے کبھی کوئی تجربہ ہوا ہی نہیں تھا۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا نظام بُری طرح متاثر ہوا۔ جامعہ کراچی میں طلبہ کے لیے ۱۰۰؍بسیں ہوا کرتی تھیں، آج ۳۰ رہ گئی ہیں۔ اِن میں سے بھی بہت سی ایسی ہیں جنہیں کباڑ خانے سے نکال کر کسی نہ کسی طور استعمال کے قابل بنایا گیا ہے۔ طلبہ یونین کا وجود مٹا دیے جانے سے طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہ رہا۔ ایک طرف تو طلبہ کو دی جانے والی سہولتوں میں غیرمعمولی کمی واقع ہوئی اور دوسری طرف فیسیں بہت زیادہ بڑھادی گئیں۔ تعلیمی اداروں میں انتخابات اور مباحث کے خاتمے سے جمہوری کلچر کا خاتمہ ہوگیا اور اِس کے منطقی نتیجے کے طور پر فکری ارتقا کی راہیں بھی مسدود ہوگئیں۔
طلبہ یونین پر عائد کی جانے والی پابندی پاکستان کے لیے صرف تعلیمی اعتبار سے نہیں بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی بہت نقصان دہ، بلکہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ تازہ ترین مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد نمایاں طور پر بہت زیادہ ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے والے چند برسوں میں نوجوان ووٹرز ہی ملک میں سیاست کی سمت کا تعین کر رہے ہوں گے۔ طلبہ یونین کے نہ ہونے سے ملک میں نوجوانوں کو سیاسی اعتبار سے منظم اور فعال رکھنے والا کوئی طریقہ نہیں۔ ملک کے مستقبل میں سب بڑا اسٹیک محنت کش اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کا ہے اور المیہ یہ ہے کہ سیاست میں اُن کا کردار یقینی بنانے کی گنجائش بہت کم ہے۔ بنیادی جمہوریت کو سمجھے بغیر اور جمہوری عمل کا تجربہ نہ ہونے کی صورت میں سیاسی عمل بے معنی رہتا ہے اور اِس کے نتیجے میں مکالمے، سیاسی بحث و تمحیص اور سیاسی تحریکوں کے فروغ کی راہ ہموار ہونے کے بجائے سیاسی سطح پر افتراق و انتشار کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ماضی میں محنت کش اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے طلبہ یونین اہم ترین سیاسی پلیٹ فارم کا درجہ رکھتی تھیں، اس لیے اِسی پلیٹ فارم سے ملک کے مرکزی سیاسی دھارے کو بہت سے اعلیٰ سطح کے سیاسی قائدین ملے۔ ملک میں سیاسی جمہوریت کی انتہائی مایوس کن صورتحال کے پیشِ نظر طلبہ یونین کی بحالی وقت کی اہم ترین سیاسی ضرورت ہے۔ ملک میں نوجوان غالب اکثریت میں ہیں۔ اِن کی موثر رہنمائی کے لیے نوجوان قائدین کی اشد ضرورت ہے اور اس حوالے سے طلبہ تنظیمیں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔
پابندی عائد کیے جانے سے قبل پاکستان میں طلبہ یونین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں جن سے تعلیمی نظام اور معاشرے کی تشکیل و تطبیق میں اُن کے کلیدی کردار کی توضیح ہوتی ہے۔ ۱۹۶۲ء میں طلبہ تنظیموں کے شدید احتجاج پر جنرل ایوب خان کی حکومت نے تین سالہ ڈگری پروگرام واپس لیا۔ اِس سے پالیسیوں کی اصلاح کے حوالے سے طلبہ کے کردار کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ طلبہ یونین کی متواتر لابنگ کے نتیجے میں فیسیں معقول حد تک کم کی گئیں اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے تعلیم کی سہولت یقینی بنانے میں مدد ملی۔ اِس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم سب کے لیے ممکن ہوسکی۔ تعلیمی میدان کے علاوہ اسلامی جمعیتِ طلبہ جیسی تنظیموں نے سماجی بہبود پر بھی توجہ دی۔ خون کے عطیات کی تحریک، بک بینکس، کتب میلوں اور اسٹوڈنٹس گالا جیسی سرگرمیوں کے نتیجے میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو شناخت کرنے اور پروان چڑھانے میں مدد ملی اور ساتھ ہی ساتھ ان پلیٹ فارمز سے ایسی تحریکیں بھی چلائی گئیں جن کے نتیجے میں طالبات کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام ہوئی۔
طلبہ یونین نے طلبہ کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جامعہ کراچی کی یونین طلبہ کے لیے بھرپور اور موثر ٹرانسپورٹ نیٹ ورک یقینی بنانے کے لیے سرگرداں رہتی تھی۔ احسن اقبال، لیاقت بلوچ، جاوید ہاشمی، قمر زمان اور دوسرے بہت سے نمایاں سیاسی قائدین طلبہ یونین کے پلیٹ فارمز سے اُبھرے اور ترقی کرتے کرتے مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہوئے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلبہ یونین سیاسی قیادت کو پروان چڑھانے والے پلیٹ فارمز کا درجہ رکھتی ہیں۔ جمہوریت اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے طلبہ یونینوں کا وجود بہت اہم تھا۔ نئی نسل کو سیاسی اعتبار سے مضبوط اور بااختیار بنانے، تعلیمی اداروں کے مجموعی کلچر کی بحالی اور زیادہ سے زیادہ قبولیت والے معاشرے کا احیا یقینی بنانے کے لیے طلبہ یونین کی بحالی ناگزیر ہے۔
طلبہ یونین پر پابندی عائد کرنے کا جواز یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اِن کی موجودگی سے تعلیمی اداروں میں تشدد پروان چڑھتا ہے اور اِس کے نتیجے میں تعلیمی عمل متاثر ہوتا ہے اور طلبہ کو بہتر زندگی کے لیے تیار ہونے میں مدد نہیں ملتی۔
پابندی عائد کیے جانے سے قبل پاکستان میں طلبہ سیاست غیرمعمولی سطح پر متحرک تھی۔ اس کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں مرکزی اسٹیک ہولڈرز کو اپنے حقوق اور سہولتوں کے لیے بہتر طور پر آواز اٹھانے اور اپنی بات منوانے کا بھرپور موقع ملتا تھا۔ تب تعلیمی اداروں میں طلبہ انتخابی اور انتخابات کی شکل میں جمہوری عمل میں بھرپور طریقے سے شریک ہوتے تھے۔ طلبہ تنظیموں کے نہ ہونے سے تعلیمی اداروں میں احتساب کا نظام مفقود ہے۔ جامعات اب اپنی مرضی کے مطابق فیسیں مقرر کرتی ہیں اور کوئی احتجاج کرنے والا نہیں۔ تعلیمی وظائف کو پوری دیانتداری اور غیرجانبداری سے تقسیم کرنے کا نظام بھی موجود نہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ طلبہ اور اُن کے والدین اب جامعات کی سطح پر تعلیم کے حصول کے حوالے سے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔
حکومت اور جامعات دونوں کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی راہ مسدود کرنا آئین کے آرٹیکل ۱۷ کی صریح خلاف ورزی ہے جو تمام شہریوں کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے۔ واحد شرط یہ ہے کہ ایسی تنظیموں کو ملک کی خود مختاری، نظمِ عامہ اور اخلاقیاتِ پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتِ پاکستان کے پاس ایسی کوئی حقیقی بنیاد نہیں جس کی روشنی میں یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ اِس معیار کا اطلاق طلبہ یونین پر بھی ہوتا ہے۔ طلبہ تنظیموں کے خلاف واحد جواز یا دلیل یہ ہے کہ یہ تشدد کی راہ ہموارکرتی ہیں۔ یہ جواز یا دلیل مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور ملک میں جمہوریت، حقوق کی پاسبانی اور طلبہ کی بہبود سے متعلق اُن کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے۔
عالمی سطح پر طلبہ یونینیں بہت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ یہ ترقی اور خوش حال کے کاز کے لیے کام کرتی ہیں اور سیاست میں طلبہ کی نمائندگی اور کردار کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ برطانیہ میں دی نیشنل یونین آف اسٹوڈنٹس ۶۰۰ اداروں میں معقول فیس والی تعلیم اور قابلِ رشک ذہنی صحت کے حق میں کردار ادا کرتی ہے۔ بھارت میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین سیاسی تحرک کو بہبودِ طلبہ سے جوڑتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ قومی سطح کے مباحث اور بیانیوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ امریکا میں اسٹینفرڈ یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی ادارے طلبہ یونینوں کو ادارے کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ بناتے ہیں اور اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ اداروں کے بنیادی فیصلوں میں طلبہ کی بھرپور نمائندگی ہو۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر ڈھانچا درست ہو اور احتساب کا عمل موثر ہو تو طلبہ تنظیمیں تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عملی سیاست کے حوالے سے نئی نسل کو تیار کرنے میں غیرمعمولی کردار ادا کرسکتی ہیں۔
پاکستان میں پائے جانے والے سیاسی چیلنجوں سے نپٹنے کے لیے طلبہ یونینوں کی فوری بحالی ناگزیر ہے۔ سیاسی سطح پر قائدانہ صلاحیت، نئے قائدین کی تیاری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے طلبہ یونینیں لازم ہیں۔ طلبہ تنظیمیں طلبہ کے حقوق، بڑھتی ہوئی فیسوں جیسے مسائل، ناکافی سہولتوں اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کے خلاف بھرپور کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اتحاد و یگانگت اور تعمیری مکالمے کو پروان چڑھاکر طلبہ یونینیں سیاسی سطح پر افتراق و انتشار اور محاذ آرائی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ماحول پیدا کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔ طلبہ یونین طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو پاٹ کر تعلیمی اداروں کے مجموعی ماحول کو توانا رکھتی ہیں اور علمی و فکری ارتقا یقینی بناتی ہیں۔
طلبہ یونینوں کی بحالی کے لیے احتساب یقینی بنانے اور تنازعات کی روک تھام سے متعلق قانونی ڈھانچے، جامعات کی پالیسی سازی میں طلبہ کی شمولیت اور مستقبل کے قائدین کی تیاری ممکن بنانے والے پروگرام لازم ہیں۔ ۱۹۸۴ء میں طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کیے جانے سے طلبہ کی آواز خاموش کردی گئی اور جمہوری کلچر کا خاتمہ ہوگیا۔ طلبہ یونینوں کی بحالی محض ماضی کی ایک یاد کو بحال کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک ترقی پسند اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا معاشرہ یقینی بنانے کی طرف اٹھایا جانے والا اہم قدم ہے۔ طلبہ یونینوں کے ذریعے نئی نسل کو اختیارات سے نواز کر پاکستان ایک ایسی نسل تیار کرسکتا ہے جو بصیرت، یگانگت اور بھرپور عزم کے ساتھ ترقی کی طرف لے جاسکے۔ آگے بڑھنے کی راہ یہ ہے۔
عمیر یوسف قانون کے طالبِ علم، نوجوانوں کے حقوق کے علم بردار اور طالب علم رہنما ہیں۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Reviving student unions”.
(“The Nation”. March 5, 2025)