بھارت: ۴۷ کروڑ محنت کشوں کی داستانِ اَلم

بھارت ایک بڑی معاشی قوت ہے اور اب مزید بڑی معاشی قوت بننے کے خبط میں مبتلا ہے۔ بھارتی قیادت چاہتی ہے کہ بھارتی معیشت چند ہی برس میں پانچ ہزار ارب ڈالر کے ٹرن اوور کی حامل ہوجائے۔ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے بھارتی قیادت اور معاشی ماہرین بہت کچھ کر رہے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ بھارت کا مینوفیکچرنگ سیکٹر اُتنا ہی مضبوط ہوجائے جتنا چین کا ہے یعنی بہت بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ ہو، تاکہ برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔

بھارت میں غیرمنظم شعبوں سے وابستہ محنت کشوں کی تعداد ۳۰ کروڑ سے زائد ہے۔ یہ محنت کش دن رات ایک کرتے ہیں مگر ڈھنگ سے جینے کے قابل نہیں ہو پاتے۔ اِنہیں اُجرت بہت کم ملتی ہے۔ سرکاری محکموں میں رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث اِن سے کام لینے والوں کو قوانین کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ اِن محنت کشوں کی شدید حق تلفی ہوتی ہے۔ اِن کی صحت اور سلامتی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اِن کی اُجرتیں روک دی جاتی ہیں، بہت زیادہ کام لیا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اِن ۳۰ کروڑ محنت کشوں کے حالات جبری مشقت سے بہت ملتے جلتے ہیں۔

مشینری کے بے ہنگم اور متواتر شور کے دوران روی کمار گپتا اسٹیل کی بھٹی میں اسکریپ جھونکتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اسٹیل کی پیداوار یقینی بنانے کے لیے متعلقہ کیمیکلز بھی ڈالتا ہے۔ اِس بھٹی میں پگھلا ہوا لوہا دہک رہا ہے اور روی کمار گپتا اِس کے بہت نزدیک ہے یعنی شدید گرمی جھیل رہا ہے۔ اسٹیل کی بھٹی کو چالو رکھنا روی کمار کا کام ہے جس کے لیے ایندھن کے ساتھ ساتھ ایئر فلو کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔

روی کمار جس فیکٹری میں کام کرتا ہے، وہ بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے تاراپور انڈسٹریل ایریا میں ہے۔ روی کمار کو کام کے لیے دیا جانے والا سامان دقیانوسی ہے۔ اُس کا ہیلمٹ ٹوٹا پھوٹا ہے۔ جوتوں کی جگہ وہ محض سلیپرز پہنے ہوئے ہے۔ انتہائی گرم ماحول میں سلیپرز پہن کر کام کرنا انتہائی خطرناک ہے مگر روی کمار مجبور ہے کہ کسی طور گھر کا چولہا بھی تو جلتا رکھنا ہے۔ اُس کی آنکھیں تھکن سے لال ہیں۔ اُس کی ٹی شرٹ بہت پُرانی ہے جس کا رنگ بھی اُڑا ہوا ہے۔ اُس نے جینز پہن رکھی ہے۔ وہ چائے پینے کے لیے باہر نکلا ہے اور پسینے میں شرابور ہے۔

روی کمار کا تعلق اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی سے ہے۔ روی کمار کو یہ انتہائی محنت طلب جاب کرنے کے صرف ۱۷۵؍ڈالر ماہانہ ملتے ہیں۔ انڈین کرنسی میں یہ تنخواہ تقریباً ۱۵؍ہزار روپے بنتی ہے۔ بھارت میں فی کس آمدنی ۲۰۰ ڈالر ہے یعنی روی کمار کو اِس اوسط سے بھی ۲۵ ڈالر کم مل رہے ہیں۔ تنخواہ اکثر دیر سے ملتی ہے۔ تنخواہ کا چیک مہینے کی ۱۰ تا ۱۲ تاریخ تک ملتا ہے۔

جو ’’بچولیے‘‘ مہاراشٹر کی فیکٹریوں کو افرادی قوت فراہم کرتے ہیں، وہ اِس تنخواہ میں سے ہر ماہ ۱۱ تا ۱۷؍ڈالر اپنے کمیشن کے طور پر کاٹ لیتے ہیں۔ کینٹین کی مد میں ہر ماہ ۷ ڈالر کاٹ لیے جاتے ہیں۔ روی کمار کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بہت حد تک جبری مشقت جیسا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ہم کریں تو کیا کریں۔ اگر یہ بھی نہ کریں تو گزارا کیسے ہو؟

جاب چھوڑنا کوئی آپشن نہیں۔ اُس کی دو بیٹیاں ہیں۔ ماں، بیوی اور دو بیٹیوں کو پالنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ اُس کے گھر والے گاؤں میں رہتے ہیں اور وہاں کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ والد بہت بوڑھے اور بیمار ہیں یعنی کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ پوری فیملی ہر ماہ روی کمار کی طرف سے بھیجے ہوئے ۱۰۰؍ڈالر میں گزر بسر کرتی ہے۔

دیہی علاقوں میں ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کھیتی باڑی کا معاملہ بہت بگڑا ہوا ہے۔ بارانی زمین ہے جسے بارش کا انتظار رہتا ہے۔ ایسے میں شہر جاکر گھٹیا نوکری کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا۔

روی کمار اُن کروڑوں مصائب زدہ بھارتیوں میں سے ہے جو بھارت کو پانچویں بڑی معیشت بنانے کے مودی سرکار کے خواب کی تعبیر کے لیے حالات کی چکی میں پیسے جارہے ہیں۔ ۲۰۲۳ء میں بھارتی معیشت کا ٹرن اوور ساڑھے تین ہزار ارب ڈالر تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی کا عزم ہے کہ دو تین سال کے اندر یہ ٹرن اوور پانچ ہزار ارب ڈالر ہو جائے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے سنہرے خواب دکھائے جاتے رہے ہیں۔ مودی سرکار کہتی ہے کہ بھارت سرمایہ کاری کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے۔ یہ یقین دہانی اِس بنیاد پر کرائی جاتی ہے کہ بھارت میں محنت کشوں کے حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ اُنہیں معقول اجرت دی جاتی ہے نہ سہولتیں۔ اُن کی سلامتی اور صحت کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ معمولی اجرتیں دینے کی صورت میں سرمایہ کاری پر زیادہ منافع دینا ممکن ہو جاتا ہے۔

غیر منظم شعبوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے دوسری بہت سی سہولتوں کی طرح سالانہ چھٹیوں کی بھی سہولت نہیں۔ وہ مسلسل کام کرتے رہتے ہیں۔ صحت کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ اسٹیل ملز میں کام کرنے والوں کو کھانے پینے کے لیے جو کچھ ملنا چاہیے، وہ نہیں ملتا۔

روی کمار کو ہفتے کے ساتوں دن کام کرنا پڑتا ہے حالانکہ ۱۸۹۰ء میں بھارت میں تمام ملازمین کے لیے ہفتے میں ایک چھٹی کا قانون منظور کرلیا گیا تھا۔ بھارت میں ہزاروں فیکٹریاں ایسی ہیں جن کے ملازمین کو پے سلپ بھی نہیں ملتی جس میں تنخواہ کی پوری تفصیل درج ہوتی ہے۔ شفافیت کا فقدان ہے۔ اُن کی اجرت سے جو رقم منہا کی جاتی ہے، اُس کے بارے میں بھی کچھ بتایا نہیں جاتا۔

اگر کوئی ملازم دو تین دن غیرحاضر رہے تو اُس کا حاضری کارڈ غیرمؤثر کردیا جاتا ہے۔ واپسی پر اُنہیں نئے ملازم کی حیثیت سے برتا جاتا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کا تصور تک نہیں ہے۔

بھارت میں غیرمنظم شعبے کے ۳۰ کروڑ سے زائد محنت کشوں کی مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ وہ آجروں کی شرائط کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اُنہیں پوری اجرت ملتی ہے نہ کوئی سہولت۔ جو معمولی سا کھانا اور چائے فراہم کی جاتی ہے، اُس کے پیسے بھی کاٹ لیے جاتے ہیں۔ عام طور پر اجرتیں روکی جاتی ہیں تاکہ کوئی کام چھوڑ کر نہ جائے۔ اگر کسی کی ڈیڑھ دو ماہ کی اجرت رکی ہوئی ہے اور وہ کام چھوڑ کر چلا جائے تو اجرت ہڑپ کرلی جاتی ہے۔

روی کمار نے بتایا کہ غیرمنظم شعبے کے ملازمین کو ملازمت کا کنٹریکٹ بھی نہیں دیا جاتا۔ انہیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ انہیں ملازمت کے دوران کون سی سہولتیں دی جائیں گی اور کون سی نہیں۔

انڈین جرنل آف لیگل ریویو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق غیرمنظم شعبوں کے بیشتر محنت کشوں کو جاب ایگریمنٹ نہ ہونے کے باعث پوری اجرت نہیں ملتی۔ اجرت روک بھی لی جاتی ہے اور بعض معاملات میں جبری مشقت بھی لی جاتی ہے یعنی اضافی کام کرواکے اُس کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ دوسری ریاستوں سے آکر کام کرنے والوں کا استحصال زیادہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے گھروں سے بہت دور ہوتے ہیں، اِس لیے کسی بھی شرط کے تحت کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اِن کے آبائی علاقوں میں افلاس بہت زیادہ ہے، اس لیے یہ کوئی سی بھی جاب کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔

ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ غیرمنظم شعبے کی بہت سے فیکٹریوں میں محنت کشوں کو انتہائی نامساعد حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ سلامتی اور صحت کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ بہت سے محنت کش کام کی نوعیت کے باعث جلد بیمار پڑ جاتے ہیں اور اُن کی زندگی بھی داؤ پر لگی ہوتی ہے۔ سلامتی یقینی بنانے والی سہولتیں ناپید ہوتی ہیں۔ اگر کسی سے کہیے کہ خطرناک حالات میں کام کیوں کر رہا ہے تو وہ کہتا ہے کہ افلاس اور بے روز گاری اِتنی زیادہ ہے کہ اور کوئی راستہ ہی نہیں۔ ملازمت مل جائے یہی بڑی بات ہے۔ سہولتوں کی بات کون کرے؟ انسان جب افلاس کی چکی میں پس رہا ہو اور بے روزگاری سر پر منڈلا رہی ہو تو کوئی بھی کام کرنے پر رضامند ہو جاتا ہے۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں غیرمنظم شعبے کے کروڑوں محنت کش مختلف فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں۔ اِن میں مچھلیوں اور جھینگوں کی پروسیسنگ کے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ برآمدی شعبہ ہے۔ آجر تو بہت کماتے ہیں مگر ملازمین کو برائے نام اجرت دیتے ہیں۔ بیشتر فیکٹریوں میں کام کرنے کا انداز بیگار والا ہے۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور افلاس کو دیکھتے ہوئے آجر پریشان حال لوگوں کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

دیہی علاقوں کی لاکھوں خواتین جھینگے چھیلنے اور مچھلی کو صاف کرکے اُس کے ٹکڑے کرنے کا کام کرتی ہیں۔ دن بھر کی بدن توڑ مشقت کے بعد بھی اُنہیں معقول معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ انتہائی بدبودار ماحول میں کام کرنے سے اِن کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ صحت کا معیار بلند کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا جاتا۔ خلیجِ بنگال سے جڑی ہوئی بھارتی ریاستوں میں سی فوڈ کی فیکٹریاں بہت بڑے پیمانے پر ہیں۔ ان فیکٹریوں میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو بھی سخت نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سی فوڈ سیکٹر سے جڑے ہوئے محنت کشوں کو بھی ملازمت کا کنٹریکٹ ملتا ہے نہ سہولتیں۔ اِن کی اجرتیں بھی بہت معمولی ہوتی ہیں اور بالعموم یومیہ بنیاد پر اجرت دی جاتی ہے۔ بُرے حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ محنت بھی اپنے حقوق سے دست بردار رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ بھارت ہر سال اربوں ڈالر کا سی فوڈ برآمد کرتا ہے۔ برآمدی تاجر خطیر منافع کماتے ہیں مگر اُن کے اجیر بہت بُرے حالات سے دوچار رہتے ہیں۔ سُمیتا بتاتی ہے کہ دن بھر کام کرنا پڑتا ہے۔ بہت مشکل سے صرف آدھے گھنٹے کے لیے کھانے کا وقفہ ملتا ہے۔ خواتین کو اپنی جسمانی پیچیدگیوں کے باوجود کام کرنا پڑتا ہے۔ اُنہیں کسی بھی حوالے سے ریلیف نہیں دیا جاتا۔ سُمیتا کو یومیہ ساڑھے چار ڈالر تک اجرت ملتی ہے مگر اِس میں سے اچھی خاصی رقم مختلف مدوں میں منہا کرلی جاتی ہے۔ اجرت نقدی کی صورت میں ملتی ہے اور کوئی پے سلپ وغیرہ نہیں ہوتی۔ وہ کہیں فریاد بھی نہیں کرسکتی۔

سُمیتا جیسی کروڑوں خواتین سخت نامساعد حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ جن دیہی علاقوں سے وہ تعلق رکھتی ہیں، وہاں ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور کھیتوں میں کام کرنے کا معاوضہ برائے نام ہے۔ چند ایک گھروں میں گائیں اور بھینسیں ہوتی ہیں جن کا دودھ بیچ کر گزارا ہوتا ہے مگر گائے یا بھینس خریدنا بھی تو ایک دردِ سر ہے۔ مینو کی بھی یہی کہانی ہے۔ اُس کا تعلق مشرقی بھارت کی ریاست اوڈیشا (اُڑیسہ) سے ہے۔ وہ بھی کم پیسوں میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ اور اُسے بھی کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔

سی فوڈ کی بیشتر کمپنیوں میں کام کرنے والوں کو وہیں رہنا پڑتا ہے۔ اُنہیں ہفتے میں صرف ایک بار محض تین گھنٹے کے لیے گھر جانے کی اجازت ملتی ہے تاکہ وہ ہفتے بھر کے لیے ضروری چیزیں لاسکیں۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کروڑوں بھارتیوں کی حق تلفی کس طور کی جارہی ہے۔ مینو بتاتی ہے کہ اُس نے غربت کے باعث صرف انیس سال کی عمر میں گھر چھوڑا تاکہ والدین اور بھائی بہنوں کے لیے کچھ کرسکے۔ ایسا کیے بغیر بقا کا سوال ہی نہیں تھا۔ مینو کو ماہانہ صرف ۱۱۰؍ڈالر ملتے ہیں۔ اِتنی معمولی سی رقم میں وہ اپنے اہلِ خانہ کو پالتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ہمیں اچھی طرح اندازہ ہے کہ ہمارا استحصال کیا جارہا ہے مگر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ہمیں فیکٹری کی حدود میں رکھا جاتا ہے۔ ہم کسی سے کوئی فریاد بھی نہیں کرسکتے۔ کوئی بنیادی سہولت آسانی سے میسر نہیں۔ صحت کا خیال رکھا جاتا ہے نہ ہی انشورنس کرایا جاتا ہے۔ ہم پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ کام لیا جاتا ہے اور اُس کی مناسبت سے معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ کیمروں کے ذریعے نگرانی اِتنی زیادہ کی جاتی ہے کہ ہمیں لگتا ہے ہم کسی بہت بڑی جیل میں ہیں۔ متعلقہ محکموں سے جب اِس سلسلے میں جواب طلب کیا گیا تو اُنہوں نے وضاحت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

محنت کشوں کے قوانین سے متعلق امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ کروڑوں افراد سے ہونے والی شدید ناانصافی کے خاتمے کے لیے جدوجہد لازم ہے۔ آجروں کو اس بات کا پابند کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ محنت کشوں کو اُن کے حقوق دیں۔ اجرتیں بھی پوری ملنی چاہئیں اور متعلقہ سہولتیں بھی۔ جن شعبوں میں صحت کو زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں، اُن سے وابستہ محنت کشوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دی جانی چاہئیں تاکہ اُن کی صحت کا گراف نہ گرے۔ غیرمنظم اور نیم منظم شعبوں میں حق تلفی روکنے کے لیے حکومت کو بھی اُس کا کردار ادا کرنے کی تحریک دینے کی ضرورت ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے اب تک ان کروڑوں محنت کشوں کو اُن کے حقوق دلوانے کے حوالے سے کچھ خاص نہیں کیا ہے۔ مرکزی وزیر محنت شوبھا کرنڈلاجے نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ اِن محنت کشوں کو ایک سرکاری اسکیم کے تحت رجسٹر کیا گیا ہے مگر خیر اب تک اس حوالے سے کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ بھارت میں غیرمنظم شعبے سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کی تعداد ۳۰ کروڑ سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ لوگ چونکہ حالات سے مجبور ہیں، اِس لیے شکایت نہیں کرسکتے، احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اِن کے لیے آواز اٹھانا بھی بہت مشکل ہے کیونکہ دستاویزات ناپید ہیں۔

جنوبی بھارت کی ریاست کیرالا میں قائم سول سوسائٹی تنظیم دی سنیٹر فار مائیگریشن اینڈ انکلوزو ڈیویلپمنٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بینوئے پیٹر نے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کی ایک دستاویز میں بتایا ہے کہ بھارت میں بہت بڑے پیمانے پر جبری مشقت لی جارہی ہے مگر یہ پورا معاملہ بہت ڈھکا چھپا ہے۔ بینوئے پیٹر کے مطابق ملک بھر میں جبری مشقت جن لوگوں سے لی جارہی ہے، اُن کی تعداد کم و بیش ۴۷ کروڑ ہے۔ اِن میں سے ۸ کروڑ منظم شعبے میں ہیں۔ ۳۹ کروڑ کا تعلق غیرمنظم شعبے سے ہے۔

عالمی ادارۂ محنت نے انڈیا ایمپلائمنٹ رپورٹ برائے ۲۰۲۴ء میں لکھا کہ بھارت میں کمتر درجے کی ملازمتیں بہت زیادہ ہیں۔ لوگوں کو محنت کا پورا معاوضہ نہیں دیا جاتا اور سہولتیں بھی برائے نام ہیں۔ غیرمنظم شعبے سے وابستہ افراد کا معاملہ بہت رُلا ہوا ہے۔ وہ انتہائی نوعیت کے جبر کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اُن کے لیے گزارے کی سطح برقرار رکھنا بھی ناممکن ہوتا جارہا ہے۔

۲۰۱۶ء میں بھارت کے وزیرِ محنت بنڈارو دتاتریہ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ بھارت بھر میں باضابطہ بیگار یا جبری مشقت کے جال میں پھنسے ہوئے افراد کی تعداد ایک کروڑ ۸۴ لاکھ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت انہیں ۲۰۳۰ء تک آزادی دلاکر بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ کوشش دکھائی نہیں دی۔ ۲۰۲۱ء میں جب پارلیمنٹ کے رکن محمد جاوید نے استفسار کیا تو اُنہیں بتایا گیا کہ اب تک صرف بارہ ہزار بونڈیڈ لیبررز یعنی جبری مشقت کے بندھن میں بندھے ہوئے محنت کشوں کو آزاد کراکے بحالی کے عمل سے گزارا جاسکا ہے۔

 بھارت میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں حق تلفی اور ناانصافی سب سے زیادہ ہے۔ کیرالا اور گجرات سے ٹیکسٹائل کی برآمدات بہت زیادہ ہیں مگر پھر بھی محنت کشوں کو اُن کے حقوق نہیں ملتے۔ ان دونوں ریاستوں کی ٹیکسٹائل کی برآمدات ۱۲؍ارب ۸۰ کروڑ ڈالر سے زیادہ ہیں۔

دی تامل ناڈو ٹیکسٹائل اینڈ کامن لیبر یونین کی صدر تِھویا راکنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاست کے متعدد علاقوں کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ بہت بڑے پیمانے پر جبری مشقت لی جارہی ہے۔ محنت کشوں کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے۔ اُنہیں اجرت کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھارت میں ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ سے زائد ہے۔ ان میں ہینڈ لُوم چلانے والے ۳۵ لاکھ محنت کش بھی شامل ہیں۔

تِھویا راکنی کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں جبری مشقت بہت وسیع پیمانے پر اور ڈھکی چھپی ہے۔ برآمدی شعبے کے ٹیکسٹائل یونٹس میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے سرکاری اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گارمنٹ فورس میں ۶۰ سے ۸۰ فیصد خواتین ہیں۔ اِن کی بھی بہت بڑے پیمانے پر حق تلفی کی جاتی ہے۔ نچلی ذات کے ہندوؤں اور آبائی علاقوں کو چھوڑ کر آنے والی خواتین کا استحصال زیادہ کیا جاتا ہے۔

محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں تنظیم ٹرانسپیرنٹیم کا کہنا ہے کہ کئی شعبوں میں جبری مشقت بہت بڑے پیمانے پر لی جارہی ہے اور متعلقہ حکومتی مشینری اس حوالے سے بالکل خاموش ہے۔ جن کی حق تلفی ہو رہی ہے اُن کی فریاد سُننے والا کوئی نہیں۔ وہ روتے ہی رہ جاتے ہیں اور اُنہیں اُن کے حقوق نہیں ملتے۔

ایسا نہیں ہے کہ حکومت قوانین وضع اور نافذ نہیں کرتی۔ مختلف کیٹیگریز کے تحت لیبر لاز نافذ کیے جاتے رہے ہیں مگر مسئلہ نفاذ کا ہے۔ متعلقہ حکومتی مشینری قوانین کے نفاذ کی نگرانی نہیں کرتی۔ اس حوالے سے کرپشن بھی بہت زیادہ ہے۔ سرکاری مشینری سے وابستہ افراد کی مٹھی گرم کرکے صنعتکار صاف چُھوٹ جاتے ہیں۔ یہ سرکاری افسران سب اچھا ہے کی رپورٹ آگے بڑھا دیتے ہیں۔ کئی ریاستوں نے بھی مرکزی حکومت سے تحریک پاکر محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے قوانین کی ترمیم کی ہے مگر نفاذ کی سطح پر نیم دلی یا بے دلی دکھائی دیتی ہے۔

بھارت میں مزدور انجمنوں کا کردار خاصا کمزور اور نیم دلانہ ہے۔ ملک بھر میں محنت کشوں سے روا رکھی جانے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے والی مزدور انجمنوں کی تعداد برائے نام ہے۔ احتجاج بھی نیم دلی سے کیا جاتا ہے۔ محنت کشوں کو اُن کے حقوق دلوانے کے حوالے سے جیسا جوش و خروش ہونا چاہیے، وہ دکھائی نہیں دیتا۔ اِس کے نتیجے میں آجر مزید شیر ہوکر کام کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اُنہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں۔

بہت سے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے قوانین میں جو ترامیم کی ہیں، اُن کا فائدہ محنت کشوں سے زیادہ آجروں کو پہنچا ہے۔ بھارت میں سرکاری مشینری اور کاروباری طبقے کے خوش گوار تعلقات اظہر من الشمس ہیں۔ بڑے کاروباری ادارے حکومتی شخصیات کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ میڈیا بھی اِن تعلقات کو خوب اچھی طرح پروموٹ کرتا ہے۔ عام آدمی کے ذہن میں یہ تاثر موجود ہے کہ اب جبکہ کاروباری طبقہ حکمرانوں سے پوری طرح مل گیا ہے، قوانین پر عمل نہیں کرایا جاسکتا اور محنت کشوں کو اُن کے حقوق نہیں مل سکتے۔

بھارت بھر میں مزدور انجمنوں کے قیام کی گنجائش کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ محنت کشوں کو متعلقہ سرکاری اداروں میں رجسٹر نہ کرانے کے نتیجے میں وہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ہرجانے کے حقدار بھی نہیں ٹھہرتے۔ آجر اس بات کا پورا خیال رکھتے ہیں کہ اُن کے ملازمین اپنی انجمن قائم نہ کریں۔ وہ ملازمین کو چھوٹے چھوٹے فرضی اداروں کے تحت کام پر رکھتے ہیں۔ اِن اداروں کا سرکاری کاغذات میں کہیں ذکر یا وجود نہیں ہوتا۔

محنت کشوں کو قانونی امور میں معاونت فراہم کرنے والی ہیلپ لائن انڈیا لیبر لائن کے سنتوش پونیا کہتے ہیں کہ اگر محنت کشوں کو انجمن سازی سے روک دیا جائے تو اُن کے پاس اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا کوئی بڑا پلیٹ فارم نہیں ہوتا۔ یوں اُن کے پاس استحصال کو برداشت کرتے رہنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

انڈین سپریم کورٹ میں لیبر قوانین کے حوالے سے پریکٹس کرنے والے سنجے گھوش کا کہنا ہے کہ محنت کشوں کی حق تلفی کا معاملہ بہت گہرا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جبری مشقت محض نشاندہی سے ختم نہیں ہوسکتی۔ اِس کے لیے باضابطہ تحریک چلانا پڑے گی، آجروں پر دباؤ ڈالنا پڑے گا تاکہ وہ محنت کشوں کو اُن کے حقوق دینے کے بارے میں سوچیں۔ اس حوالے سے سول سوسائٹی کو کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ قوانین کے نفاذ کے حوالے سے بہت سی خامیاں اور کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس کے باعث محنت کشوں کو اُن کے حقوق نہیں ملتے اور اس حوالے سے کام کرنے والوں کے لیے بھی مشکلات برقرار رہتی ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حکومت ملازمت کے معقول مواقع پیدا کرنے میں یونہی سُستی کا مظاہرہ کرتی رہی تو ملک بھر میں جبری مشقت کا دائرہ وسعت اختیار کرتا رہے گا۔ لازم ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے، متعلقہ مشینری کو متحرک کرے اور آجروں کو پابند کرے کہ اپنے تمام اجیروں کو اُن کے حقوق کے مطابق معاوضہ اور سہولتیں دیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سابق مشیر پرمود کمار کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری گھٹی ہے اور ساتھ ہی ساتھ بلاواسطہ بیرونی سرمایہ کاری کا گراف بھی گرا ہے۔ بھارتی معیشت کی شرحِ نمو برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری اب حکومت کے کاندھوں پر آ پڑی ہے اور اُسے بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا پڑ رہی ہے۔ ملازمت کے مواقع پیدا کرنے پر بھی زیادہ یا خاطر خواہ حد تک توجہ نہیں دی جارہی۔ ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کا کام غیررسمی یا غیرمنظم شعبے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ شعبہ اپنی مرضی کے مطابق کام لیتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق معاوضے دیتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں محنت کشوں کی بہت بڑے پیمانے پر حق تلفی ہو رہی ہے۔ جبری مشقت بھی بڑھ رہی ہے اور محنت کشوں کی صحت و سلامتی کو نظرانداز کرنے کا رجحان بھی قوی سے قوی تر ہوتا جارہا ہے۔                         (مترجم: محمد ابراہیم خان)

‘Open prison’: The forced labour driving India’s $5 trillion economy dream. (“Al-Jazeera”. June 7, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں