دشمن نے جو کچھ بھی سوچا تھا، وہ خام خیالی کے سوا کچھ نہ تھا۔ لڑائی کیا شروع ہوئی، دشمن کے لیے ذلت کا بازار سجنے لگا۔ برسوں بلکہ عشروں کے دوران پروان چڑھایا جانے والا غرور خاک میں مل گیا۔ ملنا ہی تھا کیونکہ غرور کا مطلب ہے دھوکا، وہ دھوکا جو کوئی اپنے آپ کو دے۔ بھارت کی قیادت ایک مدت سے خوش فہمیوں کا جُھولا جُھول رہی تھی۔ طاقت کا زعم بہت زیادہ تھا۔ رقبے اور آبادی میں بڑا ہونے کو طاقت سمجھ لیا گیا تھا۔ کسی بھی زمانے میں طاقت کا تعلق حجم سے نہیں رہا۔ اگر ایسا ہوتا تو مٹھی بھر مسلمانوں نے ہندوستان پر کبھی حکومت نہ کی ہوتی۔
مودی جی نے سِندور چاٹ لیا؟
چار روزہ جنگ کے نتیجے میں بھارت کو جو کچھ جھیلنا پڑا ہے، اُس نے بھارتی توپوں کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کو بھی خاموش کرا دیا ہے۔ پہل گام میں سیاحوں کے قتل کا بدلہ لینے کے نام پر بھارت نے ’آپریشن سِندور‘ کی لانچنگ کی۔ سِندور سُہاگ کی علامت ہے۔ بھارتی سُورما پاکستان کی مانگ میں سِندور بھرنا چاہتے تھے۔ سِندور چاٹنے سے گلا بیٹھ جاتا ہے۔ مودی جی نے جنگ کے دوران کچھ بھی بولنے سے گریز کیا۔ ایسا لگتا تھا پاکستانی فوج نے جناب کو سِندور چٹا دیا! قوم سے خطاب تو بہت دور کی بات رہی، بھارتی وزیراعظم کو فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کچھ کہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ جنگ بندی میں توسیع کے موقع پر مودی نے قوم سے خطاب بھی کیا تو لہجہ شکست خوردہ اور نیم دلانہ بڑھک سے معمور تھا۔
مغربی ٹیکنالوجی پر بھروسا
بھارتی قیادت کو یقین تھا کہ جنگ کا میدان سجا تو پاکستان کو چند ہی گھنٹوں کی مار سمجھئے۔ اُسے مغرب کی دی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی، جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں پر بھروسا تھا۔ دنیا بھر سے طیارے، ڈرون اور دیگر پروجیکٹائل حاصل کرکے اُن کا بڑا ذخیرہ تیار کیا گیا تھا۔ بھارتی قیادت اور فضائیہ، دونوں ہی کو فرانس کے دیے ہوئے رافیل لڑاکا طیاروں پر حد سے زیادہ بھروسا تھا۔ بھارت کا میزائل ڈیفنس سسٹم بھی بھارت کے اعتماد میں بہت زیادہ اضافے کا ذریعہ تھا۔ دوسری طرف پاکستانی شاہینوں کا بھروسا اول و آخر اللہ کی رحمت پر تھا۔ بھارتی قیادت بھول گئی تھی کہ میدانِ جنگ میں جذبہ لڑتا ہے، ہتھیار نہیں۔ بھارت کی مسلح افواج کو بھی بھگوان سے کہیں زیادہ ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی پر بھروسا تھا۔ بھارتی فضائیہ یہ سمجھ بیٹھی کہ پاک فضائیہ کو دو تین حملوں ہی میں زیر کرلے گی۔
چار دن کی جنگ کے دوران جو کچھ ہوا، اُس نے بھارت کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اگر بھارتی قیادت بے شرمی سے رونمائی کرتے پھریں تو اور بات ہے۔ عالمی برادری جان چکی ہے کہ بھارت کی بس باتیں ہی باتیں ہیں۔ لڑنے کے لیے جو جذبہ درکار ہوا کرتا ہے، وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔
معاشی قوت
بھارت ایک بڑی منڈی ہے۔ اُس نے اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بناکر دنیا بھر کے لیے نالج ورکرز بھی بہت بڑی تعداد میں تیار کیے ہیں۔ اِن ورکرز کی بھیجی ہوئی رقوم سے بھارت کا خزانہ بھرا رہتا ہے، توانا رہتا ہے۔ زرِمبادلہ کے ذخائر میں پیہم بڑھوتری بھارت میں ایسا اعتماد پیدا کر رہی ہے جو محض دھوکا ہے۔ بھارتی قیادت نے زرِمبادلہ کے وسیع ذخائر کو فیصلہ کن قوت سمجھ لیا تھا۔ جنگ لڑنے اور جیتنے کے لیے جس عزم اور جوش کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بھارتی قیادت اور مسلح افواج میں کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔
پڑوسیوں کو دبوچنے کی خواہش
ایک زمانے سے بھارتی قیادت کو اس بات پر یقین رہا ہے کہ وہ جب چاہے گی، اپنے تمام پڑوسیوں کو گردن سے دبوچ کر بٹھا دے گی۔ بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔ بھوٹان اور مالدیپ بہت چھوٹے ہیں، اِس لیے اُن کی طرف سے تو کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔
بھارتی سیاست میں علاقائی صورتحال اور پاکستان سے مخاصمت کو کلیدی کردار حاصل رہا ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں نے پاکستان سے مخاصمت کو ووٹ بینک کی مضبوطی کا ذریعہ بناکر خوب استعمال کیا ہے۔ انتہا پسند ہندو اچھی طرح جانتے ہیں کہ بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال کی طرف سے کوئی حقیقی خطرہ لاحق نہیں مگر پاکستان تو دردِ سر بنا ہوا ہے۔ سوال اُس سے گلو خلاصی کا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ دو دو ہاتھ کرنے کی ہمت ہے تو نہیں، جان کیسے چُھوٹے۔
بھارت ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے انتہا پسندوں کے نرغے میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ملک کو اُس مقام پر لاکھڑا کیا ہے، جہاں سے کئی راستے نکلتے ہیں اور ہر راستہ کسی نہ کسی خرابی کی طرف لے جاتا ہے۔ مغربی دنیا کو اپنا بناکر بھارت نے علاقے میں برتری کا خواب دیکھا ہے۔ بھارت خطے کا چودھری بن کر تمام چھوٹے پڑوسیوں کو دباکر رکھنا چاہتا ہے۔ مغربی دنیا بھی یہی چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے راستے کی دیوار کوئی نہ ہو۔ اب اُس کی قسمت کہ پاکستان راہ میں کھڑا ہے۔
ووٹ بینک کی سیاست
مودی سرکار نے کئی بار دہشت گردی کی وارداتیں کروا کے پاکستان کو مطعون کیا ہے اور یوں جنگی جُنون کو پروان چڑھایا ہے۔ جنگی جُنون کو پروان چڑھانے کی بظاہر کوئی ٹھوس وجہ نہیں مگر مودی اور اُن کے ٹولے کی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طور پاکستان کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ ووٹ بینک مزید دس سال کے لیے مضبوط ہوجائے اور کوئی بھی سیاسی جماعت میدان میں نہ آسکے۔
بھارتی میڈیا ایک زمانے سے انتہائی نوعیت کی ذہنیت کا حامل رہا ہے۔ ویسے تو خیر ہر دور میں پاکستان کو بھارتی میڈیا نے نشانے ہی پر رکھا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کے عہدِ اقتدار میں معاملات بہت تیزی سے بگڑے ہیں یا بگاڑے گئے ہیں۔ مودی سرکار نے اپنے اب تک کے عہدِ اقتدار میں میڈیا کو پاکستان کے خلاف مکمل چُھوٹ دی ہے۔ اِس کے نتیجے میں پوری بھارتی قوم جنگی جنون کے ہاتھوں شدید ذہنی خلجان میں مبتلا کردی گئی ہے۔ بھارتی میڈیا نے ایک عشرے سے بھی زائد مدت کے دوران پاکستان کو تسلسل کے ساتھ نشانے پر رکھا ہے۔ پوری کوشش کی گئی ہے کہ بھارت کے عوام ہر وقت پاکستان کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کریں۔ اِسی میں بی جے پی کے ووٹ بینک کے برقرار رہنے کا راز مضمر ہے۔
پاکستان کو دشمن بنائے رکھنے کا نظریہ
پاکستان بجائے خود بھارت کے لیے کوئی بڑا مسئلہ یا دردِ سر نہیں مگر اُس کے پالیسی سازوں نے پاکستانی قیادت اور مسلح افواج، دونوں ہی کے بارے میں اس قدر پروپیگنڈا کیا ہے کہ اب پاکستان محض پڑوسی نہیں بلکہ بھارت کے لیے ایک مستقل دردِ سر ہے، بہت بڑا نفسیاتی مسئلہ ہے۔ بھارت کے پالیسی ساز پاکستان کو ایک ایسے دشمن کے روپ میں دیکھتے رہے ہیں جس کا خوف پیدا کرکے عوام کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ بھارتی عوام کو قدم قدم پر باور کرایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان جب تک ہے تب تک بھارت سُکون سے جی نہیں سکتا، اِس لیے اُس کا وجود ختم کرنا لازم ہے۔ سیاست دانوں سے کہیں بڑھ کر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو بھی پاکستان کی شکل میں ایک ایسا دشمن چاہیے جس پر کسی بھی مشکل صورتحال میں الزامات عائد کرکے جان چُھڑائی جاسکے۔ اہلیت کی کمی کو چھپانے کا اِس سے آسان ذریعہ بھلا کیا ہوسکتا ہے؟
بھارت میں جب جب بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے، پاکستان کو حقیقی دشمن قرار دے کر ہر شعبے میں نیچا دکھانے کی ذہنیت کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ کرکٹ سے میدانِ جنگ تک، ہر معاملے میں نیچا دکھانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ بالی وُڈ کے فلم سازوں کو خصوصی ٹاسک دیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو حقیقی دشمن کی شکل دے کر عوام کی نفسی ساخت میں کیل کی طرح ٹھونک دیں۔ بھارت میں تواتر سے ایسی فلمیں بنتی رہی ہیں جن کے ذریعے عوام کو یقین دلایا جاتا رہا ہے کہ جب تک پاکستان ہے تب تک بھارت حقیقی ترقی نہیں کرسکتا، مکمل خوشحالی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بالی وڈ میں ایسی بہت سی پاکستان مخالف فلمیں بنائی گئی ہیں جو کہنے کو تو ایکشن تھرلر ہیں مگر درحقیقت کامیڈی کے زمرے میں آتی ہیں۔ اِن فلموں میں بھارتی سُورما اپنی ہر خواہش کو پورا کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ بعض فلموں میں داؤد ابراہیم اور حافظ سعید کو اُن کے گھروں سے نکال کر سرِعام قتل بھی کیا جاچکا ہے!
ہزار سالہ غلامی کا قلق
اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ مسلمانوں نے بھارت پر کم و بیش ہزار سال حکومت کی ہے۔ تختِ دہلی سے ہٹ کر بھی بھارتی سرزمین پر مسلم حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ گجرات، دکن، میسور اور دیگر بہت سے علاقوں میں مسلم حکمرانوں نے ہندوؤں کو صدیوں مطیع رکھا ہے۔
انگریزوں کی آمد سے پہلے تک کم و بیش پورے ہندوستان پر مسلمانوں ہی کی حکمرانی تھی۔ مغل سلطنت کے زوال نے مسلم اقتدار کو اختتام سے دوچار کیا۔ جب تک مسلمان اور انگریز ہندوستان کے حکمران رہے تب تک ہندوؤں میں اِتنی ہمت پیدا نہ ہوسکی کہ اُن کے خلاف کھل کر کچھ کہہ سکیں۔ جب انگریزوں سے نجات ملی تو انتہا پسند ہندوؤں کو موقع ملا کہ مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کریں۔ سات عشروں کے دوران ہزار سالہ غلامی کا شدید احساس اور قلق انتہا پسند ہندوؤں نے عام بھارتی ہندو کی نفسی ساخت میں گاڑ دیا ہے۔ عام ہندو کو یقین دلایا جاتا رہا ہے کہ آج بھارت جن مسائل سے دوچار ہے اُن کی جڑ میں مسلمانوں کا ہزار سالہ عہدِ حکمرانی ہے۔ ہندو اہلِ علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے بھارت میں طرزِ حکمرانی کا معیار بلند کرکے عام آدمی کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی غرض سے وہ سب کچھ کیا جو کیا جانا چاہیے تھا۔ اِس کے باوجود مسلمانوں کو غاصب قرار دے کر عام ہندو کو اِس قدر بہکایا اور اُکسایا گیا ہے کہ آج بھارت میں مسلمانوں کو انتہائی شک اور نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
انتہا پسندوں کی ’’مجبوری‘‘
اِس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں ایسے ہندوؤں کی بھی کمی نہیں جو مسلمانوں سے بَیر نہیں رکھتے اور مل کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں مگر انتہا پسند ہندو ٹولا وقفے وقفے سے ایسے حالات پیدا کرتا رہتا ہے جن کے تحت عام ہندو بہک جاتا ہے اور بھارت میں بسے ہوئے ہر مسلمانوں کو اپنا دشمن گرداننے لگتا ہے۔ بھارت میں جب بھی فضا بہتر ہونے لگتی ہے، لوگ ایک دوسرے پر بھروسا کرنے لگتے ہیں، مذہبی ہم آہنگی پروان چڑھنے لگتی ہے تب انتہا پسند ہندو کچھ نہ کچھ ایسا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرتی فضا پھر انتہائی آلودہ ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف مخاصمت اور عداوت کا ماحول پیدا کرنا انتہا پسند ہندوؤں کی ’’مجبوری‘‘ ہے کیونکہ یہ اُن کی بقا کا مسئلہ ہے۔
علاقائی بالا دستی کا خواب
آبادی کی بنیاد پر بڑی معاشی اور عسکری قوت بننے کا خواب بھارت ہمیشہ دیکھتا آیا ہے۔ یہ خواب اِس لیے دیکھا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بیشتر ممالک بھارت سے بہت چھوٹے اور معاشی و عسکری اعتبار سے کمزور ہیں۔ بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش میں تبدیل کرنے کے بعد عشروں تک اُسے بغل بچہ بناکر رکھا مگر اب بنگلا دیش بھی آنکھیں دکھانے لگا ہے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت نے بنگلا دیش کو دبوچ کر رکھنے کی حد کردی تھی۔ پورا ملک ہی غیرموثر ہوکر رہ گیا تھا اور شیخ حسینہ واجد کا پندرہ سالہ اقتدار عملی سطح پر بھارتی کی باضابطہ غلامی کا زمانہ قرار پایا ہے۔
پڑوسیوں میں صرف پاکستان ہے جو بھارت کو منہ دینے کا محض سوچتا نہیں رہا بلکہ اُس نے عملی سطح پر ایسا بہت کچھ کیا ہے جو بھارتی قیادت کی نیند اڑانے کے لیے انتہائی کافی ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے بھارت سے دبنے کی پالیسی کبھی نہیں اپنائی۔ دوستی بھی کی تو اپنے اصولوں اور ضرورتوں کی بنیاد پر۔
چین بھی تو ہے!
چین بھی بھارت کا پڑوسی ہے مگر عملی سطح پر پاکستان زیادہ پڑوسی ہے۔ چین نے بھارت کو کبھی اپنے سامنے کچھ نہیں گردانا اور اِس کا جواز بھی ہے۔ جواز یہ ہے کہ چین خود بہت بڑی عالمی قوت ہے۔ اُس کی معیشت غیرمعمولی ہے یعنی وہ دنیا بھر کے لیے مینوفیکچرنگ کے بہت بڑے مرکز کا درجہ رکھتا ہے۔ چین کے بارے میں عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ وہ تجارت کی بنیاد پر جینا چاہتا ہے اور یہ کہ اُس نے عسکری قوت بڑھانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہوا کہ چین صرف کمانا چاہتا ہے، لڑنا نہیں چاہتا۔
ایک زمانے تک بھارت بھی اِس خوش فہمی میں مبتلا رہا کہ چین اُسے منہ دینے کے قابل نہ ہوسکے گا کیونکہ امریکا اور یورپ سے اُس کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ یہ بات بھارتی قیادت سمجھنے سے قاصر رہی کہ چین بھرپور معاشی قوت بننے کے ساتھ ساتھ عسکری قوت بننے پر بھی متوجہ رہا ہے۔ اور اب یہ بات کُھل کر سامنے آچکی ہے۔
مغرب کی حکمتِ عملی
امریکا اور یورپ مل کر بھارت کو چین کے مقابل کھڑا کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ بھارت کو چین کے خلاف دیوار کے طور پر بروئے کار لانے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ چین کو روکنا مغرب کا ایک بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ روس کے منظر سے ہٹنے کی صورت میں مغرب کی راہ سے ایک بڑی دیوار تو ہٹی مگر چین پھر بھی سامنے کھڑا تھا۔ چین کو کمزور کرنے کے لیے کسی اور کو مضبوط کرنا لازم تھا۔ اِس کام کے لیے بھارت کو منتخب کیا گیا کیونکہ اُس سے کوئی مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی مناقشہ نہیں اور تناقص بھی کوئی نہیں۔ بھارت ثقافتی اعتبار سے مغربی دنیا سے کسی بھی قسم کی مخاصمت کا قائل بھی نہیں اور عادی بھی نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ بھارت مینوفیکچرنگ سیکٹر میں چین کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں بالکل نہیں۔ بھارت میں آج بھی مینوفیکچرنگ سیکٹر جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے سے بہت دور ہے۔ خودکاری زیادہ نہیں اور پھر افرادی قوت کا مسئلہ بھی ہے۔ بھارت میں ایسی مینوفیکچرنگ لازم ہے جس میں انسانوں کو کھپایا جاسکے۔ اگر خودکاری اپناکر لوگوں کو فارغ کرنے پر زیادہ توجہ دی گئی تو پورا معاشرہ تلپٹ ہوکر رہ جائے گا۔
یہ تو ہوا معاشی معاملہ۔ اسٹریٹجک معاملات کا حال بھی بھارت کے حق میں نہیں۔ اب یہ حقیقت بھی کُھل کر سامنے آچکی ہے کہ چین غیرمعمولی نوعیت کی دفاعی ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور یہ کہ اگر کسی نے اُس سے الجھنے کی کوشش کی تو سبق سیکھنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ چین کے ساتھ بھارت کے سرحدی تنازعات رہے ہیں۔ سرحدی تنازع پر دونوں ملک ۱۹۶۲ء میں جنگ لڑچکے ہیں۔ اس جنگ میں چین کا پلڑا اِس قدر بھاری رہا کہ دنیا نے اُسے فاتح قرار دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ ثابت کرچکی ہے کہ چین کو عسکری اعتبار سے ہلکا نہیں لیا جاسکتا۔ لازم ہے کہ چینیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے تاکہ خطے میں حقیقی امن کی راہ ہموار ہو۔ امریکا اور یورپ کو بھی پیغام مل چکا ہے کہ چین کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے خود کو منواتے ہوئے پیغام دے دیا ہے۔ فی زمانہ جنگیں فضا ہی میں لڑی جارہی ہیں۔ فضائیہ کی مضبوطی کو پوری فوج کی مضبوطی گردانا جاتا ہے۔
چینی مہارت کا ’’شو روم‘‘
بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا ہے، اُس میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ پاکستان نے دوسروں کے بھروسے بھارتی فوج کو للکارا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے لیے اپنا کچھ زیادہ نہیں، دوسروں کے مال پر بھروسا کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تاثر بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان نے چین کی عسکری قوت کے لیے شو روم کا کردار ادا کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ دوسروں کے دیے ہوئے ہتھیاروں اور تکنیکی مہارت کی مدد سے جیتی جاسکتی ہے؟ کبھی نہیں۔ ہتھیار اپنے ہوں یا پرائے، حوصلہ تو اپنا ہی ہوتا ہے اور اپنا ہی ہونا چاہیے۔ جدید ترین ہتھیار کہیں سے لیے گئے ہوں یا کسی بھی سطح کے اشتراکِ عمل سے تیار کیے گئے ہوں، حکمتِ عملی تو اپنی ہی ہوتی ہے۔ کسی کو کھیلنے کے سو طریقے سکھائیے، جب وہ میدان میں اترتا ہے تو اپنے ہی طریقے سے، اپنے ہی اعتماد کی بنیاد پر کھیلتا ہے۔ بھارتی قیادت اِس حقیقت کے ادراک میں بہت حد تک ناکام رہی ہے۔
دوسروں کی ٹیکنالوجی پر انحصار تو بھارت کا ابتدا ہی سے وتیرہ رہا ہے۔ پہلے پہل سرد جنگ کے دوران سوویت یونین سے بھرپور تکنیکی مہارت حاصل کی جاتی رہی۔
امریکا کو بیچ میں کُودنا پڑا
پاکستان سے حالیہ چار روزہ جنگ میں بھی یہ حقیقت کُھل کر سامنے آئی کہ جنگ میں ہتھیاروں سے کہیں زیادہ اہمیت تکنیک، مہارت اور حوصلے کی ہوتی ہے۔ بھارتی قیادت کو یقین تھا کہ اُس کی فضائیہ پلک جھپکتے میں میدان مار لے گی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ایسا ہوا کہ یہ خواب سہانا ٹوٹ گیا۔
امریکا سمجھ رہا تھا کہ پاکستان زیادہ دیر میدان میں ٹِکا نہیں رہ سکے گا اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ابتدا میں تماشا دیکھنے کو ترجیح دی گئی۔ پہل گام واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارتی الزام تراشی کے جواب میں مشترکہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی۔ اس حوالے سے ثالثی قبول کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی مگر بھارتی قیادت کسی اور ہی فضا میں اُڑ رہی تھی۔ ابھینندن والے معاملے کا بدلہ لینا مقصود تھا۔ اس معاملے میں بھارتی قیادت حد سے زیادہ عجلت پسندی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ پاکستان نے امریکی قیادت سے بھی کہا کہ وہ بھارت کو اس معاملے میں اعتدال کی راہ پر گامزن رہنے کی تلقین کرے مگر ٹرمپ انتظامیہ نے بیچ میں پڑنے سے معذرت کرلی کیونکہ اُسے یقین تھا کہ مغرب کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارتی فوج اپنی پاکستانی حریف کو آسانی سے زیر کرلے گی۔
جنگ شروع ہوئی تو دنیا نے کچھ اور ہی دیکھا۔ پاکستان نے چند ہی گھنٹوں میں بھارتی سُورماؤں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ پانسا بہت تیزی سے پاکستان کے حق میں پلٹتا دیکھ کر امریکا کو ہوش آیا اور اپنے دیرینہ حلیف کو مزید پٹائی سے بچانے کے لیے وہ سامنے آیا اور جنگ رُکوائی۔ جب پاکستان نے بھارتی ایئر فیلڈز کو تباہ کرنا شروع کیا تب امریکی قیادت نے مودی سے رابطہ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ بھارتی وزیرِاعظم سے کہا گیا کہ مزید ہزیمت سے بچنے کے لیے جنگ بندی پر راضی ہو۔ اِس کے بعد پاکستان کے آرمی چیف سے بات کی گئی۔ امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے جنرل عاصم منیر سے گفت و شنید کے بعد بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے رابطہ کیا اور کہا کہ اب جنگ بندی کا اعلان کردیا جائے۔ بھارتی قیادت تو تیار بیٹھی تھی۔ اُس نے چند ہی لمحات میں جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی۔ جنگ بندی فریقین کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں واقع ہوا کرتی ہے۔ یہ انوکھا موقع ہے کہ امریکا نے کہا اور بھارت نے جنگ بندی قبول کرلی! اِسے محتاط ترین لفظوں میں بھی اعترافِ شکست ہی کہا جائے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جنگ بندی پہلے ہوئی اور ڈی جی ملٹری آپریشنز کی سطح پر مذاکرات بعد میں رکھے گئے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی قیادت کو مزید نقصان سے بچنے کے لیے جنگ بندی کی کتنی جلدی تھی۔ یہ جلدی اُس جلدی سے زیادہ تھی جو جنگ شروع کرنے کے لیے تھی!
چین سے بھی تو کچھ پوچھیے!
امریکا نے تیزی سے آگے بڑھ کر چار روزہ پاک بھارت جنگ رُکوا دی۔ ویسے چین کی خواہش رہی ہوگی کہ یہ جنگ تین چار دن اور جاری رہتی۔ ایسی صورت میں پاکستان کے ہاتھوں اُس کی عسکری ٹیکنالوجی اور مہارت کی برتری مزید مستحکم ہو جاتی۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اس جنگ میں چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ مغربی طاقتیں بھی تو بھارت کی پشت پر رہی ہیں۔ چین بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ مغرب کو اُس کی عسکری مہارت دیکھنی ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین نے تین چار عشروں کے دوران جو پیش رفت یقینی بنائی ہے، اُس کی ایک اچھی جھلک مغربی دنیا نے چار روزہ پاک بھارت جنگ میں دیکھ ہی لی اور بھارت نے جس تیزی سے جنگ بندی کو قبول کیا ہے، اُس سے دنیا کو بھی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ بھارتی فوج کتنے پانی میں ہے اور جنگ سے کس قدر بھاگنا چاہتی ہے۔
ایشیائی صدی کی آمد
امریکا اور یورپ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ رواں صدی چین اور دیگر ایشیائی قوتوں کے عروج کی بدولت ایشیا کی صدی ہے۔ امریکا کی صدی ختم ہوچکی۔ پھر بھی امریکا و یورپ مل کر ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں جس میں چین، روس، ترکیہ اور دیگر مضبوط ایشیائی ممالک کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کی طرف بڑھنا ممکن نہ ہو۔ یہ پیش قدمی اور پیش رفت روکی نہیں جاسکتی۔ مسئلہ صرف چین کا نہیں، روس کا بھی ہے۔ وہ بھی تو اب کُھل کر میدان میں ہے۔ روس اقتصادی طور پر کمزور ہوسکتا ہے، عسکری طور پر نہیں۔
رواں صدی کو ایشیا سے منسوب کیے جانے سے روکنے کے لیے امریکا اور یورپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت سمیت کئی ممالک کو استعمال بھی کیا گیا ہے۔ چین کے خلاف بھارت کو ڈھال بنایا گیا ہے۔ بھارت کو اس بات پر ناز رہا ہے کہ امریکا اور یورپ اُس کی مٹھی، بلکہ جیب میں ہیں۔ بھارت کی تجارت اِن دونوں خطوں کے ساتھ بہت زیادہ ہے۔ بڑی منڈی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ امریکا اور یورپ سے اپنی عسکری قوت میں اضافہ ممکن بنانے کے لیے بھی کوشاں رہا ہے۔ کبھی وہ روس کے طیاروں، ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی پر انحصار پذیر رہا کرتا تھا۔ اب یہ بات سب پر عیاں ہے کہ روس کے پاس واضح برتری یقینی بنانے والی دفاعی یا عسکری ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ روس کی وار مشین بالکل گئی گزری ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خود کو زیادہ کارگر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوکرین جنگ نے بھی روس کو الجھادیا ہے۔
بھارت کو مضبوط بنائے رکھنا امریکا اور یورپ کی بھی مجبوری ہے۔ ایک طرف تو بھارت بہت بڑا تجارتی پارٹنر اور معیاری افرادی قوت کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے اور دوسری طرف وہ چین کی راہ روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔
شکست قبول نہ کرنے کی ذہنیت
علاقائی سطح پر بہت بڑی یا سب سے بڑے طاقت ہونے کا زعم اس قدر ہے کہ اب بھارت سے شکست برداشت نہیں ہوتی۔ پھر چاہے وہ شکست کھیلوں کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں۔ ڈھائی تین عشروں سے کیفیت یہ ہے کہ بھارت کہیں بھی ہارنے کو تیار نہیں۔ اگر فتح مل نہ رہی ہو تو وہ خریدنے یا ’’بڑوں‘‘ کے ذریعے یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
بعض کھیل ایسے ہیں جو جنوبی ایشیا میں مقبول نہیں۔ اُن کے مقابلوں میں بھارت ہار جائے تو کوئی بات نہیں۔ کرکٹ بہت بڑا معاملہ ہے۔ بھارت میں کرکٹ اور کرکٹرز کو دیوتا کا سا درجہ حاصل ہے۔ بھارتی قیادت یہ برداشت کر ہی نہیں سکتی کہ کرکٹ کے مقابلوں میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی کرکٹ ٹیم کو شکست کا سامنا ہو۔ جب بھی دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو معرکے کو بھارت میں زندگی اور موت کا معاملہ بنادیا جاتا ہے۔ کرکٹ کا جنون پاکستان میں بھی غیرمعمولی ہے مگر ایسا نہیں ہے کہ اِسے زندگی اور موت کا معاملہ بنادیا جائے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں شکست کو بھی لوگ دو چار دن میں بھول بھال جاتے ہیں۔ بھارت میں معاملہ بہت مختلف ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی پاکستان کے ہاتھوں شکست کی صورت میں لوگ ہفتوں صدمے سے دوچار رہتے ہیں گویا کسی نے آکسیجن سپلائی روک لی ہو۔
جب کھیل کے میدان میں بھارت کی شکست قبول و گوارا نہیں تو پھر میدانِ جنگ میں ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ جب بھی بھارت میدانِ جنگ میں ہارنے لگتا ہے تب مغربی دنیا آگے بڑھ کر اُسے بچالیتی ہے۔ ابھینندن کے معاملے میں بھی ایسا ہوا تھا۔ ابھینندن کو مغربی دنیا ہی کے دباؤ پر تین چار دن بعد واپس کرنا پڑا تھا۔ بالا کوٹ حملے جواب میں پاکستانی کارروائی کے نتیجے میں بھارت کے دو طیارے مار گرائے گئے تھے۔ بھارتی قیادت اور فوج کو اِس کا گہرا قلق تھا۔ بھارتی قیادت کو انتقام لینے کی پڑی تھی۔ موقع تلاش کیا جارہا تھا، جواز تیار کیا جارہا تھا۔ پہل گام میں سیاحوں کے قتلِ عام کو جواز بناکر بھارت چڑھ دوڑا مگر یہ نہ دیکھا کہ پوری تیاری ہے بھی یا نہیں۔ اور اس کا وہی نتیجہ برآمد ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔
ایک جنگ، کئی فاتح
ایک زمانے سے ایشیائی بلاک کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دنیا کو کم و بیش ایک صدی سے امریکا اور یورپ نے مل کر دبوچ رکھا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک تو مغرب ہی کا تیار کردہ عالمی نظام کام کرتا رہا ہے۔ یہ نظام اب بوسیدہ اور فرسودہ ہوچکا ہے۔ عالمی اداروں پر مغرب نے قبضہ کر رکھا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں یعنی مغرب کی مرضی کے مطابق۔ امریکا اب بھی عالمی سطح پر چودھری کا کردار ادا کرنے پر تُلا ہوا ہے جبکہ اُس کی حقیقی قوت میں متعدبہ کمی واقع ہوچکی ہے۔ بہت سے معاملات میں امریکا طاقت سے کہیں زیادہ محض بڑھک اور دھمکی سے کام لے رہا ہے۔ ایسا کرنا اُس کی مجبوری ہے کیونکہ اگر وہ دبنے کے لیے تیار ہوا تو مخالفین اُسے دبوچنے اور انتقام لینے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ امریکا نے یورپ کو یہ راگ پاٹھ دیا تھا کہ باقی دنیا سے تعلق رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم مل کر ہی جی لیں گے۔ یورپی قائدین جانتے ہیں کہ امریکا اور یورپ کے درمیان بھی سمندر حائل ہے۔ یورپ کی ریاستیں افریقا اور روس سے سَٹی ہوئی ہیں۔ اُن کی تقدیر کچھ اور ہے۔ لازم نہیں کہ وہ ہر معاملے میں امریکا کی طرف دیکھیں، اُسی پر منحصر رہیں۔
چین، روس، ترکیہ اور دیگر ایشیائی طاقتیں مل کر اب مغرب کو منہ دے رہی ہیں۔ یہ گویا اِس امر کا اعلان ہے کہ اگر دنیا کا امن برقرار رکھنا ہے تو مغرب کو ایشیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا اور بعض معاملات میں مغرب کو دبنا بھی پڑے گا۔ اگر بات ہٹ دھرمی اور بدمعاشی کی ہے تو پھر یاد رکھا جائے گا کہ ایسی صورت میں بگاڑ دونوں طرف ہوگا اور بہت زیادہ ہوگا۔
امریکا نے پاک بھارت جنگ میں کودنے کے حوالے سے جو تیزی دکھائی، وہ لازم تھی کیونکہ دفاعی تیاریوں کے حوالے مغرب کی پیدا کردہ فضا خاک میں مل رہی تھی۔ یہ چار روزہ جنگ امریکا اور یورپ کی دفاعی ٹیکنالوجی کا بھرم بھی کھول رہی تھیں۔ یہ تاثر پیدا کیا گیا تھا کہ دفاعی ٹیکنالوجی میں فرانس اور دیگر یورپی طاقتوں کی مہارت کا توڑ دنیا بھر میں کسی کے پاس نہیں۔ چین نے یہ تاثر خاک میں ملادیا ہے۔ امریکا جانتا تھا کہ پاکستان اگر بھارت سے ٹکرانے کے لیے تیار ہوا تو یہ محض جذبہ نہیں بلکہ مہارت کا بھی نتیجہ تھا اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے بہرہ مند ہونے کا بھی۔
امریکا (اور یورپ) کو اِس جنگ میں لازمی طور پر کودنا تھا۔ جب پاکستان نے مارنا شروع کیا تو یہ دیکھنے پر توجہ دی گئی کہ بھارت کب تک جھیل پاتا ہے۔ ایک ہی دن میں، بلکہ ایک ہی رات میں فیصلہ ہوگیا کہ بھارت کی عسکری قوت صفر پر کھڑی ہے۔ بھارت کو مزید مار کھانے کے لیے تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔ ایسی صورت میں ایک بہت بڑا حلیف ہاتھ سے نکل جاتا۔ بھارت کی بھرپور شکست امریکا اور یورپ کے لیے بھی ہزیمت کا باعث بنتی کیونکہ اُس کی پشت پر یہی دونوں تو رہے ہیں۔ سوال ایک کمپنی کی مشہوری کا نہیں بلکہ دوسری کمپنی کی بدنامی کا بھی تو تھا۔
چین نے کیا ثابت کردیا؟
ایک زمانے سے یہ تاثر پروان چڑھایا جاتا رہا ہے چین کو صرف کمانے سے غرض ہے، لڑنے سے نہیں۔ اُسے اول و آخر تاجر یا بنیے کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ امریکا نے دو عشروں کے دوران چین کو درخورِ اعتنا سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
ایک عام آدمی جب یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی قوت کو مغرب آسانی سے قبول نہیں کرے گا تو کیا چینی قیادت کو اس حقیقت کا علم و ادراک نہیں تھا؟ یقینا تھا اور یہی سبب ہے کہ چین خاموشی سے خود کو عسکری طور پر مستحکم کرتا جارہا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ مغرب کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ چین عسکری قوت میں اضافہ کر رہا ہے مگر اُسے درست طور پر اندازہ نہ تھا کہ اِس قدر بے داغ ٹیکنالوجی کے ساتھ میدان میں آئے گا اور مغربی دفاعی ٹیکنالوجی پر اپنی برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
دی ٹیلی گراف کا تجزیہ
برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے لیے میمفس بارکر کا شاندار تجزیہ ملاحظہ فرمائیے۔ ’’چین کے سفیر کو راولپنڈی سے ایک ہنگامی کال کی گئی اور چند گھنٹوں میں ایک ایسا منصوبہ فعال ہوگیا جو طویل مدت سے تیار پڑا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض ایک فضائی جھڑپ نہیں تھی بلکہ بھارت کی فضائی برتری کے تاثر کا مکمل خاتمہ تھا۔ بھارتی فضائیہ نے مغربی محاذ پر تقریباً ۱۸۰؍طیارے اکٹھے کیے تھے، ارادہ کیا تھا؟ بالاکوٹ کی طرز پر حملہ کرکے پاکستان کا دفاعی نظام توڑنا اور اپنی مکمل برتری ثابت کرنا لیکن فضائیں اب پہلے جیسی نہیں رہیں۔
بھارت ۳۰۰ کلومیٹر دور کیوں چلا گیا؟ بھارتی طیارے دوبارہ سرحد پار نہ کرسکے۔ بھارتی فضائیہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ سرحد کے اُس پار موت منتظر ہے۔
چین کے J-10C طیارے تیار تھے۔ PL-15 میزائل بھی مکمل تیاری کی حالت میں تھے جن کی رفتار Mach-5 ہے اور ۳۰۰ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرسکتے ہیں۔ چین کی مدد سے پاکستان نے فضائی نگرانی کا بھرپور نظام بھی اپنایا اور تمام طیاروں کو ایک نظام کا حصہ بنایا۔ پاکستانی پائلٹس کی مہارت اور جذبہ اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ چین کا مکمل فضائی جنگی نظام تھا جو بھارت سے چار روزہ جنگ کے دوران پاکستانی فضاؤں میں متحرک اور رُو بہ کار تھا۔
فرانسیسی ساخت کے رافیل لڑاکا طیارے کا مار گرایا جانا بھارتی فضائیہ کا مورال گرانے کے لیے کافی تھا۔ ۲۵؍کروڑ ڈالر مالیت کا یہ جدید ترین طیارہ بھارتی فضائیہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جارہا تھا۔ بھارتی سُورما یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ محض رافیل طیاروں ہی کی مدد سے سب کچھ حاصل کرلیں گے۔ رافیل طیارے کا اسپیکٹرا الیکٹرانک وارفیئر سسٹم ناکامی سے دوچار ہوا۔ کسی فعال راڈار کی معاونت کے بغیر بھی پی ایل ففٹین میزائل ہدف پر لگا۔ یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ممکن ہوسکا۔ اِسے لڑائی نہ سمجھا جائے، یہ تو گھات لگانے کا عمل تھا۔
پاک فضائیہ نے چینی مصنوعی سیاروں اور اپنے اواکس کی مدد سے سینسر فیوژن استعمال کرتے ہوئے رافیل کو نشانہ بنایا۔ بھارتی طیارے کو ہدف کا علم ہوسکا نہ میزائل کا۔
بھارتی تذلیل اور دباؤ
رافیل، جسے بھارت نے برتری کی علامت کے طور پر خریدا، چین کے تیار کردہ میزائل سے مارا گیا۔ یہ صرف تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ جغرافیائی پیغام بھی تھا۔ یہ واقعہ مغرب کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا گیا۔ فرانس کے دفاعی سَودوں پر سوال اٹھنے لگے۔ چین خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔ یہ ۲۰۱۹ء نہیں ہے، یہ بالاکوٹ نہیں ہے۔ اب بھارت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ پاکستانی فضاؤں میں داخلہ خودکشی ہے۔
رافیل کیوں ناکام ہوا؟
ایری آئی سب کچھ دیکھتا ہے، بھارتی ریڈار کچھ نہیں۔ خاموشی سے گشت کرتے J-10C طیارے، PL-15E میزائل، کچھ بھی بھارت کو دکھائی نہیں دیا۔ لاک کے آن ہونے پر اِن میزائل کو فائر کیا گیا۔ رافیل کو جب احساس ہوا تب میزائل صرف ۵۰ کلومیٹر دور تھا۔ رفتار پانچ میک تھی۔ صرف ۹ سیکنڈ بچے تھے۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ بھارت چھپا رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک سے زائد رافیل مار گرائے گئے۔ اِس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ اپنی ہی سرحد سے ۳۰۰ کلومیٹر پیچھے جا بیٹھی۔
چار روزہ جنگ میں بھارت کی جنگی ڈاکٹرائن کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت نے صرف پلیٹ فارم خریدے تھے جبکہ پاک فضائیہ نے پوری اور مستعد کلنگ چین بنائی۔ اسپیکٹرا ای ڈبلیو غیر موثر نکلی۔ فرانسیسی ایئر ڈیفنس انجینئرنگ کارگر ثابت نہ ہوئی۔ بھارتی پائلٹ ناکام رہے۔ اُن کے خلاف ایسی مشینیں لڑ رہی تھیں جنہیں وہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔
نتیجہ: خاموش فضائی غلبہ۔ یہ صرف فضائی معرکہ آرائی نہیں تھی، ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ ’کمانڈ، کنٹرول، کمیونی کیشن، کمپیوٹرز، انٹیلی جنس، سرویلنس اور ریکی نے مل کر یہ جنگ جیتی۔‘
بڑی سوچ بڑا بناتی ہے
دنیا کو اس جنگ سے بہت کچھ جاننے اور سمجھنے کا جبکہ بھارت کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ بھارت رقبے اور آبادی میں بہت بڑا ہے، معاشی قوت کے لحاظ سے بھی بہت بڑا ہے کیونکہ بڑی منڈی ہے مگر معاملہ یہ ہے کہ اُس کی قیادت میں سوچ کا بڑا پن نہیں۔ اگر کسی ملک کو بڑا بننا ہے تو فکر و نظر کی بلندی لازم ہے۔ ترکیہ اِس سلسلے میں ایک روشن مثال کا درجہ رکھتا ہے۔ ترک قائدین کی سوچ بلند ہے، بڑی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ قومی تعمیر کے معاملے میں کسی بھی حوالے سے کوئی سَودے بازی نہیں کرتے اور آج بھی ترکیہ اُسی شان سے جی رہا ہے جس شان سے وہ درجنوں ممالک پر حکومت کیا کرتا تھا۔
بھارتی قیادت کے لیے پیغام
بھارتی قیادت اور پالیسی سازوں کو اب یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انتقام کی سیاست کبھی ملک کو پنپنے نہیں دیتی۔ انتہا پسند ہندو ٹولے کی حکمرانی نے بھارت کو عجیب دوراہے پر کھڑا کردیا ہے۔ ابھینندن کا بدلہ لینے کے نام پر بھارت کی انتہا پسند ہندو قیادت نے مسلح افواج کو ایک ایسی جنگ سے دوچار کیا جس میں اُس کی فتح کا کوئی چانس تھا ہی نہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اس جنگ نے بھارتی فوج کا مورال اِس قدر گرا دیا ہے کہ اب وہ مودی اور اُن کے ساتھیوں پر مشتمل انتہا پسند ٹولے کو شاید ہی برداشت کرسکے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوچنا چاہیے کہ مخاصمت کی فضا کو برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آگے بڑھنا ہے تو ایک دوسرے کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ اس وقت بھارت پورے خطے میں انتہائی عدم مقبولیت سے دوچار ہے۔ پاکستانیوں کے لیے تو بھارت ایک دشمن ملک ہے ہی، بنگلا دیش، سری لنکا اور نیپال کے لوگوں کے لیے بھی وہ کوئی دوست ملک نہیں۔ چار روزہ جنگ کا پیغام یہ ہے کہ چار دن کی زندگی ہے، مل جل کر خوشی خوشی رہنے کا آپشن اپنایا جائے۔