یورپ کے دفاع کا مسئلہ

یورپی قائدین ماہِ رواں کے اوائل میں بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں جمع ہوئے۔ یہ اجتماع صرف اس لیے تھا کہ یورپ کو اپنے دفاع کے لیے خود تیاریاں کرنے کی طرف مائل کیا جاسکے۔ اب تک امریکا یورپ کے دفاع کی ذمہ داری نبھاتا آیا ہے مگر اب وہ اس معاملے سے دوری اختیار کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکا کی کمٹمنٹس بہت زیادہ ہیں۔ وہ دنیا بھر میں الجھا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف یورپ کو اپنے دفاع کی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادہ کر رہا ہے۔

یورپ کے پاس روس کا بھرپور انداز سے سامنا کرنے کی تیاری کے لیے صرف تین سے پانچ سال کا وقت ہے۔ اگر یورپ کو بھرپور قوت کے ساتھ زندہ رہنا ہے تو پھر غیرمعمولی دفاعی صلاحیت اور قوت پیدا کرنا لازم ہے۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے قائدین نے برسلز میں ملاقات اور مشاورت کے دوران طے کیا کہ اگر یورپ کو اپنے دفاع کی صلاحیت اور سکت پیدا کرنی ہے تو لازم ہے زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کی جائے۔ ایک طرف انہیں یوکرین کو مضبوط کرنا ہے، اُس کی مدد کرنی ہے تاکہ روس وہاں سے آگے نہ بڑھ سکے اور دوسری طرف اپنی دفاعی استعداد بھی بڑھانی ہے۔ صرف یوکرین کو مضبوط کرکے روس کی طرف سے بے نیاز نہیں ہوا جاسکتا۔ یورپ کو اب واقعی یہ سوچنا ہے کہ اپنا دفاع کیسے کرے۔ اسے طے کرنا ہے کہ کرنا کیا ہے۔ بہت بڑے پیمانے کی فنڈنگ بھی یقینی بنانی ہے اور اُسے بروئے کار لانے کی حکمتِ عملی بھی طے کرنی ہے۔

روس پر یوکرین کی لشکر کشی کو تین سال ہونے والے ہیں۔ اس لشکر کشی نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس کے نتیجے میں رونما ہونے والی تباہی نے یورپ کو سوچنے پر مجبور کیا۔ یوکرین کی مدد کرنے کے بارے میں سوچا جانے لگا تاکہ روسی افواج کو یوکرین کی حدود سے آگے نہ بڑھنے دیا جائے اور یورپ کو زیادہ سے زیادہ مدت تک محفوظ رکھا جاسکے۔ چند ملٹری کمانڈر اور انٹیلی جنس سربراہوں نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس زیادہ وقت نہیں۔ اُسے جو کچھ بھی کرنا ہے، تین سے پانچ سال کے اندر کرنا ہے۔ یورپ میں نیٹو کے کسی بھی رکن پر روسی حملے کا سامنا کرنے کی تیاری لازم ہے۔ یوکرین میں روس کا بھی خاصا جانی نقصان ہوا ہے، اس لیے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے یورپ کو فی الحال کسی فوری حملے کے خطرے کا سامنا نہیں۔ روس کو سنبھلنے میں کچھ وقت لے گا اور یورپ کو بھرپور دفاعی تیاریوں کے لیے پانچ تا آٹھ سال مل گئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے روس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کی قسم کھا رکھی ہے۔ وہ اپنی معیشت کو جنگ کے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور تیاری کرچکے ہیں۔ چین، ایران اور شمالی کوریا سے تعلقات کو وسعت دی جاچکی ہے۔ یہ چاروں مل کر عسکری سطح پر بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ خطرہ بہرحال موجود ہے اور بڑا ہے۔ یورپی یونین کو ثابت کرنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے سنجیدہ ہے۔ یوکرین کو مضبوط کرکے روس کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر خیر، اس کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑے گا۔

یورپ کو روس کی طرف سے پہلے ہی ڈھکے چھپے آپریشن کا سامنا ہے۔ یہ سب کچھ یورپی یونین اور نیٹو کی سرزمین کے آس پاس ہو رہا ہے۔ سبوتاژ، سائبر حملے، گمراہ کن بیانات، انتخابات میں مداخلت، قاتلانہ حملے سبھی کچھ تو ہورہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بحیرہ بالٹک میں زیرِ زمین کیبل کاٹنے کے شبہ میں روس اور چین کے متعدد جہازوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت تین عشروں سے محسوس کی جارہی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو معاشی نمو کی شرح گرنے سے یورپی یونین کے ارکان کو مشکلات کا سامنا ہے اور دوسری طرف توانائی کے بحران نے پورے یورپ کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یورپی ممالک نے خسارے سے متعلق اصول بھی خود گھڑ کر نافذ کر رکھے ہیں۔ یورپ کے دفاع کے لیے غیرمعمولی فنڈنگ درکار ہے مگر سیاست دانوں کو پنشن، ہیلتھ کیئر، تعلیم اور بہبودِ عامہ کے لیے مختص رقوم سے کچھ لینے سے گریز کرنا چاہیے۔

یورپی قائدین نے مالیاتی معاملات میں غیرلچکدار رویہ ترک کرتے ہوئے فنڈنگ کا گراف بلند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ عسکری ساز و سامان کو خسارے کے اصولوں سے پرے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ہنگامی حالت کے تحت کیا جارہا ہے۔ یورپ کو روس کی طرف سے کسی بڑے حملے کا خطرہ تو محسوس ہو رہا ہے اور اس حوالے سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ دفاعی مقاصد کے لیے فنڈنگ ہنگامی بنیاد پر کرنی ہے اور اس حوالے سے ہنگامی حالت نافذ کرنا بھی غیرمتوقع ہے نہ حیرت انگیز۔ یورپی یونین کے چند ارکان کی پارلیمان میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ جرمنی اور ہالینڈ جیسے ممالک کے انتہا پسند فنڈنگ کی راہ میں دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔

ایک اچھا حل تو یہ ہے کہ یورپی یونین کے ممالک غیرمعمولی فنڈنگ کردیں اور مستقبل کے دفاعی بجٹ میں سے وہ رقوم نکال دیں۔ فوری خطرے کا سامنا کرنے کے لیے فوری نوعیت کی فنڈنگ اور فوری نوعیت کی تیاریاں ناگزیر ہیں۔

جرمنی نے ۲۰۲۲ء میں ہنگامی طور پر ۸۳؍ارب یورو کی فنڈنگ کی تاکہ فوج کے لیے ناگزیر سمجھا جانے والا اسلحہ اور ساز و سامان خریدا جاسکے۔ یہ خصوصی پروگرام ۲۰۲۷ء میں ختم ہوگا۔ تب جرمنی کو سالانہ دفاعی بجٹ میں ۳۰ تا ۴۰؍ارب یورو کی کمی کا سامنا ہوگا۔ نیٹو نے تمام ارکان کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ وہ اپنی خام قومی پیداوار کا کم از کم ۲ فیصد دفاعی اخراجات کی مد میں دیں۔

یورپ میں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت کو دفاعی بجٹ پر خاطر خواہ خرچ کرنے پر آمادہ کرنا آسان نہ ہوگا کیونکہ دفاع پر بہت زیادہ خرچ کرنے کی صورت میں وہ انتخابی نعروں کے مطابق عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ اس حکومت کو یہ یقین دلانا بھی بہت مشکل ہوگا کہ یورپی شراکت داروں کے ہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے بڑے پیمانے پر منافع حاصل ہوگا۔

تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں اُدھار لے کر لڑی جاتی رہی ہیں۔ برطانیہ نے ۲۰۱۵ء میں نئے بونڈز جاری کرکے پہلی جنگِ عظیم کا آخری قرضہ ادا کیا یعنی کم و بیش ایک صدی کے بعد۔ بیشتر یورپی ممالک میں یہ بات بالکل پسند نہیں کی جائے گی کہ سماجی بہبود کی فنڈنگ میں کٹوتیاں کرکے دفاعی فنڈنگ بڑھائی جائے۔ روس سے جڑے ہوئے ممالک ہی لشکر کشی کا خطرہ ٹالنے کے لیے غیرمعمولی فنڈنگ کررہے ہیں۔ پولینڈ نے نیٹو کی حد سے دگنا یعنی جی ڈٰی پی کا ۱ء۴؍فیصد دفاعی اخراجات کے لیے مختص کیا ہے۔ وہ ایسا اس لیے کرسکا ہے کہ اس وقت معیشت بہت اچھی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک ریوٹ نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین اور نیٹو کے ارکان قومی معیشت کا بنیادی ڈھانچا مضبوط بنائے بغیر دفاعی اخراجات کے لیے زیادہ دیں گے، تب بھی خام قومی پیداوار کا ۴ فیصد بھی ناکافی ہوگا۔ یورپ کی دفاعی صلاحیتوں اور عملے کے حوالے سے بگ بینگ ایک عشرے میں ممکن ہے اور اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اضافی دفاعی فنڈنگ کو سلیقے سے، ذہانت کے ساتھ بروئے کار لایا جائے اور اشتراکِ عمل زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔

نیٹو نے روس کا اچھی طرح سامنا کرنے کے لیے جو معیارات مقرر کیے ہیں، اُن کے مطابق یورپ کے مضبوط ترین ممالک کو مل کر ۵۰۰؍ارب یورو سے زیادہ کی فنڈنگ یقینی بنانا ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ اسلحہ بھی بنایا جاسکے او جدید ترین ہتھیار بھی تیزی سے تیار کیے جاسکیں۔ یورپ کو جدید ترین ہتھیار اور ساز و سامان چاہیے۔ بین الریاستی یا بین الحکومتی فنڈ کو یورپین انویسٹمنٹ بینک اچھی طرح سنبھال سکتا ہے۔ دیگر اداروں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ یورپی یونین میں روس کی حامی ریاستیں بھی ہیں۔ نیوٹرل کسی بھی معاملے میں مداخلت نہیں کرتیں۔ نیٹو میں ترکی بھی شامل ہے۔ اُسے بھی یورپ کا مؤثر دفاع یقینی بنانے کے لیے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔

یورپی یونین کے لیے مسئلہ فنڈنگ کا نہیں بلکہ اُسے ڈھنگ سے بروئے کار لانے کا ہے۔ سماجی بہبود پر غیرمعمولی خرچ کیا جارہا ہے۔ ایئر ڈیفنس میزائلز اور دوسری بہت سی چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔ یہ سب کچھ ادھار بھی لیا جاسکتا ہے، تاہم ادھار سے بہتر ہے کہ اپنے طور دفاعی ساز و سامان جمع کیا جائے۔ یہ بات بھی بھولی نہیں جاسکتی کہ بارشوں سمیت قدرتی آفات اور کووڈ کا سامنا کرنے کے لیے جو فنڈ رکھے گئے تھے، اُن کا بڑا حصہ خرچ ہونے سے رہ گیا تھا۔ ان رقوم کو عمدگی سے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ مشرقی یورپ کو بہتر دفاعی صلاحیت کا حامل بنانا یورپی یونین کے تمام ارکان اور اُن کے قائدین کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔ دفاعی ساز و سامان کی منتقلی اور افواج کی نقل و حرکت کے حوالے سے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے مالیات و خزانہ کو یوروپین انویسٹمنٹ بینک کے قوائد و ضوابط تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرنی چاہیے تاکہ اسلحہ و گولا بارود اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری کے لیے فنڈنگ بڑھانا ممکن ہو۔ سرمایہ کاروں کو یقین دلانا ہوگا کہ یورپ کی دفاعی صلاحیت بڑھانا پورے براعظم کے وجود کے لیے ناگزیر ہے اور اِسی سے خطے کے عوام کی بہبود بھی وابستہ ہے۔ ماحول، قدرتی آفات اور دیگر مدوں میں خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے خرچ کرنا بھی لازم ٹھہرا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بہبودِ عامہ اُسی وقت ممکن ہوسکتی ہے، جب وہ معاشرہ سلامت رہے۔

ایک بڑا اختلافی نکتہ یہ ہے کہ دفاع کے لیے جو کچھ بھی جمع کیا جائے، وہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے کمپنیوں ہی پر خرچ کیا جائے (جیسا کہ فرانس کہتا ہے) یا کسی تیسرے ملک کو بھی اس حوالے سے کچھ دیا جاسکتا ہے جیسا کہ پولینڈ، سوئیڈن اور ہالینڈ چاہتے ہیں۔ اس وقت یورپی یونین کے ارکان میں دفاعی ساز و سامان تیار کرنے کی استعداد محدود ہے کیونکہ تین عشروں سے اس سلسلے میں کچھ زیادہ کام نہیں ہوا۔ ایسے میں لازم ہے کہ کسی تیسرے ملک میں اسلحہ و گولا بارود اور جنگی ساز و سامان تیار کروایا جائے۔ سوال جنگی سامان بنوانے کا نہیں بلکہ فوری حاصل کرنے کا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یورپی یونین کے ارکان کو دفاعی پیداوار کی استعداد بڑھانا بھی پڑے گی۔ نئی ٹیکنالوجی کے عسکری استعمال کے حوالے سے یورپ پیچھے ہے۔ امریکا نے اس معاملے میں برتری ثابت کی ہے۔ یورپ کو امریکا سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔ پولینڈ نے جنگی سامان کے لیے امریکا اور جنوبی کوریا کی طرف دیکھا ہے۔ برطانیہ اور ترکی ہتھیار، ایئر کرافٹس اور جنگی ساز و سامان تیار کرنے کے شعبے میں غیرمعمولی مہارت کے حامل ہیں۔ اُن سے سامان بھی لیا جاسکتا ہے اور بہت کچھ سیکھا بھی جاسکتا ہے۔

یورپ کو تربیت یافتہ جنگی نفری، کمپنیوں اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ یورپی یونین کے بیشتر ارکان کی فوج انیسویں صدی کی سطح پر سکڑ چکی ہیں۔ نفری بھی کم ہے اور قابلیت و مہارت بھی۔ بحیرۂ بالٹک اور نارڈک کے خطے کے ممالک پسپا ہو رہے ہیں۔ اُن کی فوج بھی سکڑ رہی ہے اور دفاعی صلاحیت بھی۔ ایک طرف ایکٹیو نفری بڑھانے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف ریزرو فورس بھی تیار کرنی ہے۔ ۱۸؍سال کے لڑکوں اور لڑکیوں کو فوج میں بھرتی کرکے بنیادی تربیت دینا لازم ہے۔ یورپ کے دفاع کے حوالے سے خواتین سے زیادہ استفادہ نہیں کیا گیا۔ انہیں افواج کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایکٹیو فوج پر سے بوجھ کم ہو۔

اگر یورپ بھرپور دفاعی تیاریوں کی طرف مائل ہوگا تو روس کو یہ پیغام ملے گا کہ اگر اُس نے یورپ پر حملہ کیا تو بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر امریکا مدد کو آگے نہ بھی بڑھے تو یورپ اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت کا حامل ہوگا۔ ردِ جارحیت میں سرمایہ کاری دراصل امن کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔                (مترجم: ابو صباحت)

(پال ٹیلر یوروپین پالیسی سینٹر کے سینئر وزیٹنگ فیلو ہیں۔)

“EU leaders talk the talk on defence. But where will they find the billions to pay for it?”. (“The Guardian”.)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں