آج کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو کبھی یورپ میں مکمل طور پر قبول کیا جائے گا یا نہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ جو مسلمان یورپی معاشروں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں اُنہیں قبول کیا جائے یا نہیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ جو مسلمان یورپی معاشروں میں پوری طرح گُھل مِل چکے ہیں، ہم آہنگ ہوچکے ہیں، اُنہیں بھی قبول نہیں کیا جارہا۔
یورپ میں اسلامو فوبیا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اب نیا الزام یہ عائد کیا جارہا ہے کہ جو مسلمان یورپی معاشروں میں اچھی طرح ضم اور ہم آہنگ ہوچکے ہیں، وہ بھی مغرب مخالف تصورات سے پوری طرح جان چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔
اگر کوئی شخص یورپ میں مسلمانوں سے مخاصمت کے حوالے سے رپورٹنگ کررہا ہو تو اُسے اس تعمیم کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا کہ یورپ بھر میں بسے ہوئے ڈھائی کروڑ سے زائد مسلمان یعنی سارے کے سارے مسلمان حد سے زیادہ مذہبی اور جذباتی ہیں، تیزی سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف چل دیتے ہیں، متوازی معاشروں میں رہتے ہیں اور بیشتر خواتین (بالخصوص حجاب لینے والی خواتین) مردوں کی برتری والی ذہنیت کے ہاتھوں دباؤ اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں اور یہ بھی کہ تمام مسلمان مل کر یورپ سے سفید فام نسلوں کا صفایا کرنا چاہتے ہیں۔
یورپ کی حکومتیں تواتر سے مسلمانوں کو ہدایت کرتی رہتی ہیں کہ معاشرے سے مکمل ہم آہنگی پیدا کرو، اپنے اپنے خول سے باہر نکلو، سائے سے نکلو اور یورپ کے روشن و درخشاں مرکزی دھارے کا حصہ بن جاؤ۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ اجنبیت ختم کرو، غیروں کی طرح نہ جیو اور یورپی اقدار کو اپناؤ جبکہ یہ واضح نہیں کہ یورپی اقدار کے نام پر اب بچا ہی کیا ہے۔ بیئر یا شراب پینا اور خنزیر کا گوشت کھانا شاید اب بھی یورپی ثقافت اور اقدار و روایات کا نمایاں ترین حصہ ہے۔ یورپی حکومتیں مسلمانوں پر زور دیتی ہیں کہ تعلیم حاصل کرکے سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی کا حصہ بنو، ’’میزبان معاشروں‘‘ کو پوری طرح اپناؤ۔ ہنگری کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان یورپی معاشروں کو مکمل عیسائی قرار دیتے ہیں۔
معاملات بگڑتے ہی جارہے ہیں۔ یورپی یونین کی فنڈامینٹل رائٹس ایجنسی نے حالیہ تحقیق کے نتیجے میں بتایا ہے کہ یورپی معاشروں میں نصف سے زائد مسلمانوں کو مذہب، رنگ، نسل اور ترکِ وطن کے باعث امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اب معاملہ زیادہ سنگین اس لیے ہوگیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے مظالم کے لیے یورپ بھر میں مسلمان یورپی حکومتوں کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں مغرب مخالف سوچ مزید پروان چڑھی ہے۔
اسرائیلی قیادت نے کم و بیش سوا سال کے دوران غزہ کے مسلمانوں پر جو قیامت ڈھائی ہے۔ اس صورتحال نے یورپ بھر کے مسلمانوں میں اسرائیلی قیادت اور فوج کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا ہے۔ یورپ کا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اگر اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی فوج سے بھی نفرت کا اظہار کریں تو اُسے یہودیوں سے نفرت کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔
ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں حال ہی میں اسرائیلی فٹبال کلب میکابی تل ابیب کے مداحوں اور مقامی باشندوں کے درمیان خونیں تصادم کے حوالے سے جب میں نے یورپ میں اسلامو فوبیا سے متعلق تازہ ترین رجحانات کے بارے میں تھوڑی سی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یورپ میں اب تک جو عمومی تصورات پائے جاتے رہے ہیں، اُن سے ہٹ کر اب مسلمانوں کے حوالے سے اچھے اور بُرے کی تفریق و تخصیص ختم ہوتی جارہی ہے۔ اب تمام ہی مسلمانوں کو ایک لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے یعنی تمام ہی مسلمانوں کو انتہا پسند اور بہت حد تک ناقابلِ قبول گردانا جارہا ہے۔ یہ خیال تیزی سے پنپ رہا ہے کہ جو مسلمان یورپی معاشروں میں پوری طرح کھپ چکے ہیں، ہم آہنگی پیدا کرچکے ہیں اور مل کر چل رہے ہیں وہ بھی اُنہی لوگوں کی طرح ناقابلِ قبول ہیں جو اب تک یورپی معاشروں کو دل سے قبول نہیں کرسکے اور یورپی معاشروں کی بنیادی روایات اور اقدار کو نہ صرف قبول نہیں کر رہے بلکہ اُن کے مخالف ہیں۔
ہالینڈ میں جاری پُرجوش بحث و تمحیص بتاتی ہے کہ مسلم مخالف بیانیہ کتنی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ہالینڈ کی چار جماعتی حکومت کے غیرعلانیہ (درپردہ حقیقی) سربراہ اور ڈچ پارلیمنٹ کے مسلم مخالف رکن گیئرٹ وِلڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایمسٹرڈیم کے پُرتشدد واقعات کے ذمہ دار مراکشی ہیں۔ اُس نے دھمکی دی ہے کہ جن لوگوں نے اِن واقعات کے حوالے سے اُکسایا، انہیں ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ شہریت بھی ختم کردی جائے گی۔ ڈچ وزیرِاعظم ڈِک شُوف کا خیال اِس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہمیں (مسلم) بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور اُنہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے ذریعے ملک میں یہودیوں سے نفرت ختم کرنی ہے‘‘۔
ہالینڈ کی وزیرِ سماجی بہبود نور اچہبار (Nora Achahbar) نے چند حکومتی ارکان کی طرف سے نسل پرستانہ ریمارکس کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا۔ چار جماعتی حکومت میں شریک پیپلز پارٹی فار فریڈم اینڈ ڈیموکریسی نے پارلیمنٹ میں ایک تحریک پیش کی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترکِ وطن کے ذریعے ہالینڈ کی شہریت حاصل کرنے والوں کے مذہبی اور ثقافتی پس منظر اور رسوم و اقدار کے بارے میں جامع معلومات کا ریکارڈ رکھے۔
بیانیے کی جنگ کے دوران ٹیلی گراف نامی ڈچ اخبار کے سینئر سیاسی مبصر ویئرڈ ڈَک نے کہا ہے کہ ہالینڈ (اور یورپ کے دیگر ملکوں) کے مسلمانوں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اُن کی فکری ساخت اور مزاج میں یہودیوں سے نفرت اور مغرب سے بیزاری گُندھی ہوئی ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور معاشرے سے اچھی طرح ہم آہنگ مسلمان بھی اس رجحان سے بچے ہوئے نہیں۔
ڈَک کے تبصرے کو بہت سوں نے مسترد کردیا ہے۔ اِن میں مراکشی نژاد ڈچ تاریخ دان نادیہ بورس بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے زہریلے ریمارکس دے کر دراصل مسلمانوں کو مستقل طور پر ایک اجنبی کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے جبکہ وہ معاشرے سے ہم آہنگ ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی سوچ چھوڑ کر وہ سوچیں جو معاشرہ سوچ رہا ہے اور نظم و ضبط یا تذلیل سے کہیں آگے جاکر اب معاملہ سزا کا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے ایک ڈچ سوشلسٹ رکن محمد چیہیم کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی کامیابیوں، کردار اور اثر کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اُنہیں اجنبی سمجھا جائے۔
یورپی یونین کے صدر مقام برسلز میں ایک با اثر کمیونی کیشن اسپیشلسٹ نے بتایا کہ مسلمان آج بھی اس بات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ اُنہیں قبول کرلیا جائے۔ کوئی بھی مسلمان مقامی زبان کتنی ہی روانی سے بولے، کتنی ہی اسناد حاصل کرلے، وضع قطع بھی یورپی باشندوں جیسی بنالے، کوئی نہ کوئی موقع پرست سیاست دان کسی بھی چیز کی طرف اشارا کرکے کہے گا کہ یہ چیز یورپ کی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی اور اِسے ہم برداشت نہیں کرسکتے۔
یہ سب کچھ یورپ کے مسلمانوں میں شدید ڈپریشن کا باعث بن رہا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ صرف انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں میں نہیں بلکہ یورپ میں مجموعی طور پر مسلمانوں سے متعلق بحث انتہائی تاریک موڑ پر کھڑی ہے۔ کسی زمانے میں یورپ بھر میں یہودیوں کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا تھا، وہی سب کچھ اب مسلمانوں کے بارے میں کہا جارہا ہے۔ آسٹریا کے سیاسی تجزیہ کار فرید حافظ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی طرح مسلمانوں پر بھی یہ الزام تواتر سے عائد کیا جارہا ہے کہ وہ یورپی معاشروں میں فِٹ نہیں ہوتے اور یہ کہ وہ پورے یورپ کے لیے آج بھی اجنبی ہیں۔ جرمنی میں سکونت پذیر انسانی حقوق کے کارکن شاذا الرواحی کا کہنا ہے کہ آج کے یورپ میں مسلمانوں کو ’’نیا یہودی‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔
میں یہ سوچ سوچ کر اپنا دل بہلاتی رہتی ہوں کہ اِس سال تو یہ سب کچھ ختم ہو ہی جائے گا اور یورپ والے نسلی و مذہبی تنوع کے ساتھ جینا سیکھ ہی لیں گے اور انتہائی دائیں بازو کے لوگوں کو کوئی نیا نظریاتی اور ثقافتی کھلونا مل ہی جائے گا اور یہ کہ یورپ کے سیاست دان لاپروائی سے معاشرے کو تقسیم کرنے سے متعلق زہریلے بیانات دینا چوڑ دیں گے۔
اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ میں بہت جلد امید ہار بیٹھتی ہوں۔ جب بھی کہیں تشدد یا دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تب ردِعمل شدید ہوتا ہے اور تمام ہی مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور تمام معاملات کے لیے انہی کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ایک دن ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کے لیے یورپی باشندوں کی سوچ بدل جائے گی اور ایسا اُس وقت ہوگا جب زیادہ سے زیادہ مسلمان بولنا سیکھیں گے اور بولیں گے، وہ (چیہیم کے لفظوں میں) سیڑھی پر چڑھ کر بتائیں گے کہ اُنہیں اپنے بنیادی حقوق کا اچھی طرح علم ہے، ہمیں قانون کا بھی علم ہے اور ہم کامیاب ہیں۔ جب ایسا ہوگا تب یورپ میں مسلمانوں کو انفرادی حیثیت میں شہری تسلیم کرلیا جائے گا اور یہ سب کچھ اُن کے تنوع کے باوجود ہوگا۔ تب مسلمانوں کے بارے میں لگی بندھی اور امتیازی نوعیت کی سوچ اپنانے سے گریز کیا جائے گا۔ تب ایسا نہیں ہوگا کہ ہم معاشرے سے ہم آہنگ ہوں یا نہ ہوں، ہمیں قبول کرنے سے انکار ہی کیا جائے گا۔ (ترجمہ: محمد ابراہیم خان)
“Integrate? Europe’s Muslims are damned
if we do and damned if we don’t”. (“The Guardian”)