’’اب مزاحمت سے کچھ حاصل نہ ہوگا، جو ہونا ہے وہ ہونا ہے۔‘‘ یہ جملہ مشہور ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک کا ہے اور پس منظر ہے مشینی انسانوں کے ہاتھوں اس دنیا کے غلام بن جانے کا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اگر یوں ہی جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل مخلوق ہمیں غلام بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اسٹار ٹریک میں ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کیا گیا تھا جس میں انسانوں کو کمپیوٹرز نے غلام بنالیا ہوگا۔ جن لوگوں نے اسٹار ٹریک دیکھی تھی انھوں نے سُکون کا سانس لیا تھا کہ یہ سب سائنس فکشن ہے، حقیقت نہیں!
مگر کیا واقعی یہ صرف سائنس فکشن ہے؟ اور اِس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ صرف سائنس فکشن نہیں بلکہ در حقیقت بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی جو کچھ کرسکتی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم روز مرہ زندگی کے کتنے ہی اُمور میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال سے بخوبی واقف ہیں۔ بیشتر امور میں ہم اس ٹیکنالوجی کے غلام ہو ہی چکے ہیں۔ مالیاتی لین دین کا نظام اب مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے۔ کسی بھی مرحلے پر کوئی بہت بڑی خرابی سب کچھ خاک میں ملاسکتی ہے!
اسٹار ٹریک میں جو لوگ انسانوں کو غلام بناچکے ہیں وہ بڑے بڑے جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ دیکھنے میں وہ انسان ہیں مگر انسان نہیں۔ یہ سائبورگ ہیں۔ یہ انسانوں سے بالکل مشابہ ہیں مگر انھیں کسی بھی معاملے میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ جو کچھ بھی کرتے ہیں مشینی انداز سے کرتے ہیں۔ ان کے پاس ذہن نہیں۔ یہ سب مرکزی کمپیوٹر ’’دی بورگ‘‘ سے جُڑے ہوئے ہیں۔ نیٹ ورکنگ کے اصول کے تحت کام کرنے کی صورت میں ان کی پلگنگ ہوتی ہے یعنی پلگ کے ذریعے ان کا رابطہ ’’دی بورگ‘‘ سے قائم رہتا ہے۔ اِنھیں ہم کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے غلام کہہ سکتے ہیں۔ ہم یہ سوچ کر مطمئن ہو رہتے ہیں کہ یہ تو سائنس فکشن ہے مگر کبھی آپ نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ آپ کے حصے کا دی بورگ بھی وارد ہوچکا ہے اور کسی بھی لمحے آپ کو قابو میں کرلے گا۔ کیا آپ انٹرنیٹ سے آشنا نہیں؟ بہت جلد انٹرنیٹ آپ کو مکمل طور پر اپنے تصرف میں کرلے گا اور تب آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کے لیے اب مزاحمت کوئی مفہوم نہیں رکھتی۔ یہ حقیقت بھی اب ہمیں تسلیم کر ہی لینی چاہیے کہ انٹرنیٹ نے ہمیں عملاً غلام بناہی لیا ہے۔ ہم بات بات پر، قدم قدم پر انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور ایپس کے محتاج ہیں۔ اِس حوالے سے کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر ہمارا مدار بڑھتا ہی جارہا ہے۔
اب ذرا ایک چھوٹا سا تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ اپنا پی سی کھولیں، انٹرنیٹ پر جائیں اور گوگل، یاہو یا کسی بھی دوسرے بڑے سرچ انجن پر کوئی لفظ ٹائپ کرکے دیکھیں کہ وہ کیا نتائج دے رہا ہے۔ اب کسی دوسرے سرچ انجن پر وہی لفظ ٹائپ کرکے دیکھیں کہ اس کے نتائج بھی وہی ہیں جو کسی اور سرچ انجن کے ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے آپ خود کو انٹرنیٹ کے مختلف سرچ انجنز پر بندھا ہوا سا محسوس کریں گے۔ اگر آپ اس بات کو محض بکواس سمجھ کر نظر انداز کرنے کے موڈ میں ہیں تو ذرا ٹھہریے، جو کچھ اب آپ پڑھنے والے ہیں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ آپ کو کہاں لے جا رہے ہیں!
آپ کو سائبورگ یعنی مشینی غلام بنانے کی تیاریاں تو ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ کسی کی سماعت یا بینائی کو مشینوں کے ذریعے بحال ہوتے نہیں دیکھا آپ نے؟ یقیناً دیکھا ہے۔ تو پھر حیران ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جسم میں چند ایک مشینوں یا چپس کے نصب کیے جانے کی صورت میں جسمانی خامیوں پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ انسان کی معذوری دور کرنے کے حوالے سے بہت سے تجربات انتہائی حیرت انگیز طور پر کامیاب رہے ہیں اور معاملات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر کسی کا ایک ہاتھ نہیں ہے تو مشینی ہاتھ لگاکر اسے معمول کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ یہ انقلابی تبدیلی چند برسوں میں اتنی عام ہو جائے گی کہ کوئی اِس کے بارے میں سوچ کر حیران ہونا گوارا نہ کرے گا۔ ایسے ماؤز اور کَرسر بھی بنائے جارہے ہیں جو محض آنکھ کے نہیں بلکہ ذہن کے اشارے پر کام کیا کریں گے۔
ماہرین کہتے ہیں یہ تو ابتدا ہے۔ ابھی بہت کچھ واقع ہونا ہے۔ وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ اگر آپ کوئی غیر ملکی یا مکمل طور پر اجنبی زبان سیکھنا چاہیں تو کوئی مشکل محسوس نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر کے پاس جائیے اور اُس سے کہیے کہ وہ آپ کے دماغ میں ایسی چِپ لگادے جس کی مدد سے کوئی خاص زبان سیکھنا آپ کے لیے ممکن ہو جائے۔ ڈاکٹر یہ کام کردے گا اور آپ کسی بھی مخصوص زبان کو سیکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اگر بینائی میں کمزوری محسوس کر رہے ہیں تو گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر کے پاس جائیے، وہ آپ کی پتلی میں پیدا ہونے والی وسعت کو ختم کرکے آپ کی بینائی کو اِس حد تک درست کردے گا کہ عینک یا کونٹیکٹ لینس لگانے کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوگی۔ آپ سوچیں گے یہ تو آئیڈیل صورتِ حال ہے۔ اگر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زندگی میں سہولت پیدا ہو تو اِسے اپنانے میں حرج ہی کیا ہے؟ مگر سب کچھ ٹھیک نہیں۔ آپ کے جسم میں صرف کمپیوٹر ٹیکنالوجی داخل نہیں ہوگی، بلکہ انٹرنیٹ کو بھی آپ کے جسم میں داخل ہونے کا موقع مل جائے گا۔ ہائی ٹیک ممالک میں ایک عام آدمی کی زندگی میں انٹرنیٹ غیر معمولی حد تک داخل ہوچکا ہے۔ ہالینڈ اور سنگاپور میں حالت یہ ہے کہ آپ کہیں بھی جائیے، گیمز سے دل بہلائیے، شاپنگ کیجیے، گانے سنیے یا کوئی اور کام کیجیے … ہر مرحلے پر انٹرنیٹ آپ کی زندگی کا لازمی جُز ہوکر رہ گیا ہے۔ اگر کچھ پڑھنا ہے تو انٹرنیٹ پر پڑھیے، کچھ جاننا ہے تو انٹرنیٹ کی مدد سے جانیے۔ یوٹیلٹی بل ادا کرنا ہے تو انٹرنیٹ کی خدمات حاضر ہیں۔ دوست سے بات کرنی ہے تو انٹرنیٹ کا سہارا لیجیے۔ ای میل کرنی ہے تو ظاہر ہے کہ انٹرنیٹ کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کی زندگی کس حد تک کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر منحصر ہے! ایسے میں اگر کل یہ ٹیکنالوجی آپ کو اپنا غلام بنالے تو کسی کو حیرت کیوں ہو؟
اور اب انٹرنیٹ کا دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے ڈیسک ٹاپ پر تو تھا ہی، بعد میں لیپ ٹاپس اور موبائل فونز میں بھی داخل ہوا۔ ٹی وی سیٹ کو بھی انٹرنیٹ سے منسلک کیا جاچکا ہے۔ انٹرنیٹ بہت تیزی سے ہماری کاروں اور گھریلو برقی آلات میں بھی داخل ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ کو اب ہر اُس آلے سے منسلک کیا جاچکا ہے جس کا تعلق رابطہ قائم کرنے سے ہے۔
ہمارے دماغ میں نصب کیے جانے والے کمپیوٹرز بھی انٹرنیٹ سے منسلک ہوں گے۔ فوائد اس قدر زیادہ ہیں کہ ہم اس تبدیلی کی راہ روکنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہمارا دماغ مسلسل آن لائن رہا کرے گا! آپ کے کان ہر وقت آن لائن رہیں گے، آپ کی آنکھوں کا انٹرنیٹ سے رابطہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ یہ سب کیا ہے؟ ذہن سے ذہن کے رابطے کی ایک شکل؟ اور کیا! آپ نے اپنے دماغ میں لگی ہوئی چِپ کی مدد سے اپنی خالہ کے بارے میں سوچا جو کسی دوسرے ملک میں رہتی ہیں اور اگلے ہی لمحے آپ کی خالہ کی جانب سے سگنل موصول ہوگیا! وہ بھی تو آپ کے بارے میں سوچ رہی ہوں گی!
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آن لائن رہنے کی صورت میں آپ کا ذہن آپ کا نہیں رہے گا۔ آپ کا ذہن آپ کے لیے مستقل پاور ہائوس کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی آپ کا عصبی اور فکری مرکز ہے، یہی آپ کا ہر اعتبار سے کنٹرول سینٹر ہے۔ اگر اسی پر آپ کا اختیار نہ رہا تو؟ ظاہر ہے کہ آپ کا اپنے وجود پر سے بھی اختیار ختم ہوسکتا ہے! اِس وقت ایسے سوفٹ ویئرز پر کام ہو رہا ہے جو اپنا معیار بلند تر کرتے رہتے ہیں۔ کئی سوفٹ ویئر ایسے ہیں جو اپنی اپ گریڈیشن میں کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ تو بہت بڑی خوبی ہے مگر بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سوفٹ ویئرز میں وائرس بھی تو آ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ذہن کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اگر کبھی ایسا ہوا کہ آپ کے ذہن میں لگی ہوئی کمپیوٹرائزڈ اور آن لائن چِپس میں وائرس کے پنپنے کی رفتار بڑھتی ہی رہی تو کیا ہوگا؟ ایسی صورت میں آپ کے ذہن کے ناکارہ ہوجانے کا خطرہ بھی برقرار رہے گا! یعنی یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ٹھیک ٹھاک کام کر رہے ہیں اور اچانک کہیں کوئی گڑبڑ ہوئی اور آپ گئے کام سے! ایسی کسی بھی خرابی کی ابتدا میں تو یہ ہوگا کہ آپ کا سَر چکرانے لگے گا، آپ کو بہت سے امور میں بے بنیادی تصورات گھیر لیں گے۔ اس کے بعد جب خرابی زیادہ پیچیدہ ہوگی تو معاملات بہت بگڑ جائیں گے۔ ایسی صورت میں آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور یادداشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ کہیں اندر سے کوئی آواز آئے گی کہ اب مزاحمت لاحاصل ہے۔ اور پھر آپ مکمل طور پر پاگل بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا و آپ اپنے ہی جسم کے غلام ہوکر رہ جائیں گے!
جب آپ کسی بڑے کمپیوٹر (دی بورگ) سے منسلک ہوں گے تو ظاہر ہے کہ اُسی کی مرضی کے تابع رہتے ہوئے کام بھی کرنا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ بیشتر معاملات میں آزاد نہ رہ پائیں۔ اور آپ کو آن لائن ہدایات کے تحت زندگی بسر کرنی پڑے۔ ہوسکتا ہے کہ مرکزی کمپیوٹر آپ کو حکم دے کہ فلاں شخص کے دماغ میں کوئی چِپ نصب کردو۔ نہ آپ مزاحمت کر پائیں نہ وہ مزاحمت کر پائے اور یوں آپ دونوں ہی ایک کمپیوٹر کے غلام ہوکر رہ جائیں!
کیا ایسی کسی بھی صورتِ حال سے بچنا ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کا عمل جس رفتار سے جاری ہے اس کا نتیجہ وہی نکلے گا جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔ یاد رکھیے کہ انٹرنیٹ نے صرف تین عشروں میں ہمیں پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہمیں اس سیارے پر زندگی بسر کرتے ہوئے ہزاروں سال ہوچکے ہیں جبکہ انٹرنیٹ بہت نئی سی چیز ہے مگر پھر بھی وہ زندگی کے ہر معاملے میں ہم پر اپنے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اپنے طور پر کام کرنے والے سوفٹ ویئرز کی اس وقت بھی کوئی کمی نہیں۔ جب یہی سوفٹ ویئرز انسان کے جسم میں نصب ہوکر پوری قوت سے کام کریں گے تو انسان کا اپنے وجود پر بھی کوئی اختیار شاید باقی نہ رہے گا۔ یہ سب کچھ کتنے عشروں میں ہوگا، کچھ کہا نہیں جاسکتا تاہم جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہمیں اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم انسان ہیں، مشین نہیں۔
(مترجم: ایم ابراہیم خان)