جنوبی کشمیر کے پہل گام کے بلند و بالا پہاڑوں میں واقع بائی سرن کے سرسبز میدان میں بھارتی بحریہ کے ایک افسر، ونے نرووال کی لاش پر بین کرتی ہوئی اس کی اہلیہ ہمانشی کی بے بسی کی تصویر کسی شقی القلب انسان کو بھی خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیتی ہے۔ آٹھ روز قبل ہی ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ ہنی مون پر کشمیر وارد ہو گئے تھے۔
خونریزی کے ایسے واقعات سے کشمیر کی تاریخ پچھلے تیس سالوں سے رنگین ہے۔ چند سال قبل سوپور کی ایک سڑک پر سیکورٹی فورسز کی گولیوں کے شکار ایک معمر آدمی کی لاش پر اس کے تین سالہ پوتے کی تصویربھی ایسی ہی بے بسی کی ایک مثال تھی، جس نے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے۔
ہر سال موسم گرما میں پہل گام کا خوبصورت قصبہ جوش و خروش کا مرکز بن جاتا ہے۔ایک طرف جولائی کے بعد لاکھوں ہندو یاتری امرناتھ غار میں برفانی شیو لنگ کے درشن کرنے آتے ہیں، دوسری طرف اسی علاقے کے آرو گاؤں میں ہر سال مئی سے ستمبر تک اسرائیلی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
گزشتہ ۲۲؍اپریل کو جب سیاحوں پر حملوں کی خبریں آنی شروع ہو گئی تھیں، تو پہلے مجھے لگا کہ شاید فلسطین جنگ کی وجہ سے کسی نے آرو میں کارروائی کی ہو، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ پہل گام قصبہ کے دوسری طرف بائی سرن سیاحتی پارک میں ۲۷ بھارتی اور ایک نیپالی شہری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایک کشمیری جو سیاحو ں کی خدمت پر مامور تھا، وہ بھی مہمانوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ ۱۹۹۵ء میں ایک غیر معروف تنظیم الفاران کے ذریعے پانچ غیر ملکی سیاحوں کے اغوا کو چھوڑ کر عسکریت کے انتہائی بدترین دور میں بھی اس علاقے میں کبھی بھی سیاحوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ ٹریکنگ گزرگاہوں کی وجہ سے ایڈونچر سیاحوں کے لیے یہ علاقہ پر کشش رہا ہے۔ اونچے پہاڑوں سے گھری برفانی جھیلیں تارسرمارسر، فامبر وادی، کوثر ناگ، کشن سر، ویشن سر، نوند کول، گنگبل اور پھر واڈوان کے راستے پہل گام۔کشتواڑ گزرگاہ سیاحوں کے لیے جنت سے کم نہیں ہے۔ شاید ہی دنیا میں اس قدر نظارے ایک ہی جگہ پر قدرت نے جمع کرکے رکھے ہوئے ہوں۔
سال ۲۰۱۷ء میں جب اننت ناگ کے کھنہ بل کے مقام پر امر ناتھ یاتریوں کو لے جانے والی بس پر دستی بم سے حملہ ہوا تھا، تو دہلی سے اس واقعہ کو کور کرنے کے لیے میں اس علاقے کے دورے پر آیا تھا۔ ویسے زمانہ کالج میں بھی سوپور سے کئی بار پہل گام اور اس کے پہاڑوں میں جانا ہوتاتھا۔
اس بار میں نے ان پہاڑو ں میں کئی روز گزارے تھے۔ ہندو یاتریوں کے ساتھ چندن واڑی اور نن ون میں، اسرائیلی سیاحوں سے ساتھ آرو میں مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے کو خاصا محفوظ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مقامی آبادی کے دلوں میں فلسطین بستا ہے، مگر وہ اس معاملے میں ہمارے ساتھ کبھی بھی سیاسی بحث و مباحثوں میں الجھتے نہیں ہیں۔
گھروں کم گیسٹ ہاؤس میں عبرانی زبان میں بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ ان پڑھ ہونے اور اپنی زندگی میں اس تحصیل کے باہر نہ جانے کے باوجومقامی عبدالغنی شیخ جیسے بزرگ عبرانی بول پاتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کئی بارسفری ہدایات جاری ہونے کے باوجود یہ نوجوان یہودی ہر سال یہاں آپہنچتے ہیں۔ اس لیے اس علاقے میں سیکورٹی کا واردات کے وقت موجود نہ ہونا ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، سینٹرل فورس کی سریع الحرکت ٹیم کو بھی واردات کے بعد اس جگہ تک پہنچے میں ایک گھنٹہ کی دیری ہوگئی۔
دہلی میں کل جماعتی اجلاس میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ بائی سرن کا ایکو پارک ۲۰؍اپریل کو ہی کھولا گیا اور تین دن بعد یہ واقعہ رونما ہوگیا۔ مقامی انتظامیہ نے سیکورٹی کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ پارک پورا سال کھلا رہتا ہے۔ جہاں ۱۵۰۰؍ کے قریب سیاح ہوں اور وہاں ایک بھی پولیس کا فرد نہ ہو، کیسے ممکن ہے۔
عسکریوں کو چھوڑ کر اگر سیاح ہی آپس میں دست و گریبان ہوں تو ان سے نپٹنے کے لیے بھی تو کسی ایک پولیس والے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ کم و بیش تیس برسوں پر محیط صحافتی کیریئر کے بیشتر عرصے میں کشمیر اور پاک۔بھارت سفارت کاری وغیرہ پر رپورٹنگ کرتے ہوئے اَ ن گنت پرتشدد واقعات کو کور کرنے اور مشاہدہ کا موقع ملا ہے۔
جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے، تو اس کے بعد انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامیوں پر خوب لکھا جاتا ہے۔ لیکن ایک عرصے کے بعد اب ادراک ہو رہا ہے کہ بہت سے معاملات پر حکومت کو یا اس کے اداروں کو جانکاری ہوتی ہے، مگر وہ ان واقعات کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے ہیں، اگر ان کے تجزیہ کے مطابق اس کے بعد اٹھنے والے طوفان سے وہ زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوں۔
ان میں سب سے پہلا واقعہ جولائی ۱۹۹۵ء میں جنوبی کشمیر کے پہل گام پہاڑوں سے چھ مغربی سیاحوں کا اغوا اور گمشدگی ہے۔بھارتی حکومت کے اداروں، جموں و کشمیر پولیس کو معلوم تھا کہ ان سیاحوں کو واڈوان نامی ایک گاؤں میں رکھا گیا ہے۔ والی بال کھیلتے ہوئے ان کی تصویریں بھی طیاروں سے لی گئی تھیں۔ کئی برسوں کے بعد اس موضوع پر دو برطانوی صحافیوں نے اپنی کتاب ’’دی میڈوز‘‘ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے دو سابق سربراہوں کے حوالے سے یہ ہوشربا انکشاف کیا کہ اغوا کے اس واقعہ کو جان بو جھ کر پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مغربی سیاحوں کو بچایا جا سکتا تھا کیونکہ ‘را‘ کے اہلکار اغوا کے پورے واقعہ کے دوران نہ صرف سیاحوں اور اغوا کاروں پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے بلکہ ان کی تصویریں بھی لیتے رہے تھے۔ جب ایک خاتون کوہ پیما ان سیاحوں کے اغوا کی اطلاع دینے راشٹریہ رائفلز کے کیمپ پہنچی تو بجائے داد رسی کے اس کی عصمت دری کی گئی۔
اغواکاروں کی نقل و حرکت کی اطلاع دینے پر مامور جموں و کشمیر پولیس کے مخبر ’ایجنٹ اے‘ کو فوج نے عسکریت پسند کا لیبل لگا کر قتل کردیا تاکہ اطلاع کا سرچشمہ ہی بند ہوجائے۔ دونوں برطانوی صحافیوں نے شواہد کی بنیاد پر لکھا کہ بھارت نے سیاحوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا تاکہ پاکستان کے خلاف ایک بڑی سرد جنگ جیتی جا سکے۔
اسی طرح مصنّف اینڈرین لیوی کے مطابق، دسمبر ۱۹۹۹ء میں انڈین ایٔرلائن کے طیارے آئی سی ۔۸۱۴ کے اغوا کے معاملے میں خفیہ ایجنسی کے ایک افسر نے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے مسافروں سے بھرے طیارے کو اڑا دینے کا مشورہ دیا تھا۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا، تو تاویل یہ دی گئی کہ اس سے دنیا میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو ٹھکانے لگایا جائے گا۔ مگر واجپائی نے سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھانے کی خاطر تین سو مسافروں کو قربان کرنے کی اس تجویز کو مسترد کردیا۔
ستمبر ۲۰۰۲ء کو دو نامعلوم افراد نے گجرات کے احمد آباد شہر کے سوامی نارائن فرقہ کی عبادت گاہ اکشر دھام پر دھاوا بول کر ۲۳؍افراد کو ہلاک کیا۔ کمانڈوز نے دونوں حملہ آوروں کو ۲۴ گھنٹے تک چلنے والے ایک اعصاب شکن آپریشن کے بعد ہلاک کیا۔ تقریباً ایک سال تک اس کیس کی تفتیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے کی۔ مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ایک سال کے بعد اس کیس کو گجرات پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا جس نے ایک ہفتہ کے اندر ہی مفتی منصوری اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کرکے اس کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا۔
نو سال بعد ان کو سپریم کورٹ نے الزامات سے بری قرار دیاسوال یہ ہے کہ آخر وہ حملہ آور کون تھے، اور اس حملہ کی منصوبہ بندی کس نے کی تھی۔ آخر بے قصور افراد کو گرفتار کرکے کس کی پردہ پوشی کی گئی۔ یہ کیا اتفاق تھا کہ ۲۰۰۲ء میں پہلی بار بطور گجرات کے وزیر اعلیٰ کے نریندر مودی کو اسمبلی انتخابا ت کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا۔ یہ تو تاریخ ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم میں اس کا بھر پور استعمال کرکے پوری ریاست پر ایک جنون طاری کرکے اس کے لیے پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے اور کس کی ایما پر یہ حملہ کیا گیا تھا۔
پچھلی تین د ہائیوں کے دوران بھارت اور پاکستان تقریباً تین بار جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے، جن میں ۲۰۰۱ء میں بھارتی پارلیمان پر حملہ، ۲۰۰۸ء میں ممبئی کے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں پر دہشت گردانہ کارروائی اور ۲۰۱۹ء میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں نیم فوجی کانوائے پر خود کش حملہ شامل ہے۔
جو تار ان تینوں واقعات کو جوڑتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں کو ان کے بارے میں پیشگی جانکاری تھی۔ آخر ان واقعات کو روکنے لیے انہوں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟یہ ایک بڑا سوال ہے، جو ہنوز جوا ب کا منتظر ہے۔
سال ۲۰۰۱ء میں پارلیمان حملہ سے قبل خود اس وقت کے وزیر داخلہ نے ہی خبردار کیا تھا کہ کوئی حملہ ہو سکتا ہے۔ اس واقعہ میں ملوث افضل گورو نے کورٹ کو بتایا کہ حملہ کرنے والے چار افراد کو وہ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیوندر سنگھ کے حکم پر دہلی لے کر آیا تھا۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ سنگھ کو سمن بھیجے جاتے اور اس کو تفتیش میں شامل کیا جاتا۔ مگر عدالت نے گورو کابیان اس حد تک ریکارڈ کیا کہ وہ ان حملہ آوروں کو سوپور سے ٹرک میں دہلی لے آیا مگر بعد کا بیان حذف کرکے اس کو موت کی سزا سنائی۔
دیوندر سنگھ کا نام نہ صرف ۲۰۰۱ء میں بھارتی پارلیمان پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں آیا تھا بلکہ جولائی ۲۰۰۵ء میں دہلی سے متصل گڑ گاؤں میں دہلی پولیس نے ایک مقابلے کے بعد چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے پاس ایک پستول اور ایک وائر لیس سیٹ برآمد ہوا۔ گرفتار شدہ افراد نے دہلی پولیس کو ایک خط دکھایا، جو جموں و کشمیر سی آئی ڈی محکمہ میں ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے لکھا تھا، جس میں متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ان افراد کو ہتھیار اور وائر لیس کے ساتھ گزرنے کے لیے محفوظ راہداری دی جائے۔
دہلی پولیس نے سرینگر جاکر دیوندر سنگھ سے اس خط کی تصدیق مانگی اور ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مارا، جہاں سے انہوں نے اے کے رائفل اور ایمونیشن برآمد کیا۔ یہ سب دہلی کی ایک عدالت میں دائر چارج شیٹ میں درج ہے۔بعد میں پلوامہ حملہ کے وقت دوبارہ دویوندر سنگھ کا نام سامنے آیا تھا۔
اسی طرح نومبر ۲۰۰۸ء کو بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ کے حوالے سے امریکی سی آئی اے اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں جیسے انٹیلی جنس بیورو، ’را‘ سمیت تقریباً سبھی خفیہ اداروں حتیٰ کہ ممبئی پولیس اور پانچ ستارہ ہوٹل تاج کی انتظامیہ کو بھی اس کی پیشگی اطلاع تھی۔
اس حملے سے پہلے ایک سال کے دوران مختلف اوقات میں چھبیس اطلاعات ان اداروں کوموصول ہوئیں، جن میں ان حملوں کی پیش گوئی کے علاوہ حملہ آوروں کے راستوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔ خفیہ معلومات اس حد تک واضح تھیں کہ اگست ۲۰۰۸ء میں جب ممبئی پولیس کے ایک افسر وشواس ناگرے پا ٹل نے شہر کے فیشن ایبل علاقے کے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا تو انہوں نے فوراً تاج ہوٹل کی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ معقول حفاظتی انتظامات کا بندوبست کریں۔
پاٹل نے تاج ہوٹل کی سکیورٹی کے ساتھ گھنٹوں کی ریہرسل کی،کئی دروازے بند کروائے اور اس کے ٹاور کے پاس سکیورٹی پکٹ قائم کی۔ ان انتظامات کے بعد پاٹل چھٹی پر چلے گئے۔اس دوران تاج ہوٹل کی انتظامیہ نے حفاظتی بندشیں اورسکیورٹی پکٹ ہٹوادی۔ پلوامہ حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر معروف جریدہ ’فرنٹ لائن‘ نے انکشاف کیا کہ ۲جنوری ۲۰۱۹ء سے ۱۳؍فروری ۲۰۱۹ء تک یعنی حملہ سے ایک د ن قبل تک حکام کو ۱۱؍ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن میں واضح طور پر اس حملہ کی پیشگوئی کی گئی تھی۔
عام انتخابات سے ۸ہفتے قبل اس حملے اور اس کے بعد پاکستان کے بالا کوٹ علاقے پر فضائی حملوں نے ایسی جنونی کیفیت پیدا کی کہ جو بھی اس حملہ کے متعلق حقائق جاننا چاہتا تھا، اس کو خاموش کردیاگیا۔ ’فرنٹ لائن‘ کے نمائندے آنندوبھکتو نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ خفیہ اطلاعات اتنی واضح تھیں کہ ان پر ایکشن نہ لینا مجرمانہ زمرے میں ہی آسکتا ہے۔
پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور انسپکٹرجنرل آپریشنز کی میز پر ۱۳؍فروری کو جو رپورٹ پہنچی اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ قومی شاہرا ہ پر آئی ای ڈی بلاسٹ کی تیاریا ں ہو رہی ہیں۔
ایک دوسرے خفیہ ان پٹ میں ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ تحصیل کے نزدیک قومی شاہراہ پر لتھی پورہ کراسنگ کو ہائی رسک علاقہ بتایا گیا۔ یہ وہی کراسنگ ہے، جہاں اگلے روز یعنی ۱۴؍فروری کو دوپہر سوا تین بجے ایک خود کش بمبار نے نیم فوجی دستوں کی ایک کانوائے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ۴۰؍اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
تقریبا ًڈھائی ہزار فوجی دستوں پر مشتمل ۷۸گاڑیوں کی کانوائے جموں سے سری نگر آرہی تھی۔ اس اطلاع میں پولیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ قومی شاہراہ کے اس حصے میں سکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے۔ پولیس نے بعد میں ایک نوجوان مدثر احمد خان کو اس حملہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دے کر ۱۰۰؍گھنٹوں کے بعد ہلاک کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپائی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی ماہ سے خفیہ ایجنسیوں کے راڈار پر تھا اور اس کی نقل و حرکت نہایت باریکی کے ساتھ مانیٹر کی جا رہی تھی۔
فی الحال بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سب سے بڑا قدم سندھ طاس معاہدے کی معطلی ہے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس نے سفارت کاری کی ایک نادر تاریخ رقم کی تھی جو بصورت دیگر ہنگامہ خیزی اور بداعتمادی سے تعبیر ہے۔
چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک، سندھ آبی معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) نے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان ایک مستحکم فائر وال کے طور پر کام کیا،جو اب ٹوٹ گئی ہے۔ تاہم، پہل گام واقعہ سے پہلے سے ہی بھارت اس معاہدہ سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ ۲۰۲۲ء سے اس انڈس کمیشن کی میٹنگ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ۲۰۲۳ء میں، بھارت نے آبادیاتی تبدیلیوں، پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، آب و ہوا سے متعلق تبدیلی، اور سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سمیت بدلے ہوئے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے، پاکستان سے اس معاہدے پر از سر نو ترتیب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ویسے تو یہ مطالبہ جائز تھا۔ معاہدہ کی کئی شقوں کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت تو ہے، مگر اس کے لیے اعتماد کا ماحول چاہیے۔ تنازعات کے حل کا طریقہ کار (ڈی آر ایم)، جو اس ٹریٹی کے تحت طے کیا گیا،صبر آزما ہے۔
اگر انڈس کمیشن میں تنازع کا حل نہیں نکلتا ہے، تو فریقین عالمی بینک سے رجوع کرکے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کروا سکتے ہیں، اور آخر میں عالمی بینک ثالثی کورٹ مقرر کرکے تنازع کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ مگر ہر اس اسٹیج کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں ہے۔ اس لیے تنازع سالوں تک لٹکا رہتا ہے۔
بھارت، اب معاہدے کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوکر پاکستان پر ہائیڈرولک دباؤ ڈالنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ فوری اقدامات میں سے بھارت اپنے آبی ذخائر کو مون سون کے بدلے خشک موسم میں۔۔۔ اکتوبر سے فروری تک فلش کرے گا اور اس طرح پاکستان کے بوائی کے موسم میں خلل ڈالے گا۔
ایک پاکستانی زرعی سائنسدان کے مطابق اس قدم سے خریف کی بڑی فصلیں جیسے کپاس، مکئی، گنا اور مختلف دالوں اور تیل کے بیجوں کے نمایاں طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔
طویل مدتی اقدامات میں، بھارت انڈس سسٹم کو پانی دینے والے جھرنوں پر متعدد ڈیموں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔ محقق موہن گروسوامی کے مطابق خون کا بہاؤ تو روکا جا سکتا ہے لیکن پانی کا بہاؤ رک نہیں سکتا ہے۔ان کے مطابق پانی کو پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کی تکنیک ابھی بھارت کے پاس نہیں ہے۔ وادی کشمیر، صرف ۱۰۰؍کلو میٹر چوڑی اور ۳۰ء۱۵۵۲۰؍مربع کلو میٹر کے رقبے میں، پیر پنجال کے سلسلے سے گھری ہوئی ہے۔ ۵ ہزار میٹر اونچی دیوار اس کو شمالی بھارت کے میدانی علاقوں سے الگ کرتی ہے۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے دریائے جہلم کے پانی کو موڑا جاسکتا ہے نہ اس پر کوئی بڑا ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔
معروف گلیشیالوجسٹ اور کشمیر میں قائم اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شکیل احمد رومشو کا کہنا ہے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔ اگر اس طرح کی کوئی سعی کی بھی گئی، تو ماحولیاتی طور پر تباہ کن ہوگی۔
ویسے پہل گام میں ہلاکتوں کے خلاف کشمیر میں بھی خاصا احتجاج ہوا۔لوگ معصوم سیاحوں کی ہلاکت اور ان کی بے بسی کو دیکھ کر دکھی تھے۔ ایک عرصے سے مقامی لوگ سانس لینے کو ترس رہے ہیں۔ گھٹن کے ماحول سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ہی عوام کی ایک بڑی تعداد نے پچھلے سال اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کی۔ مگر جو حکومت معرض وجود میں آئی وہ بے اختیار ہے۔ چونکہ ان ہلاکتوں کے لیے بھارت نے تمام تر توانائیوں کے ساتھ الزام پاکستا ن کے سر منڈھ دیا تھا۔ اس لیے یہ ایک نادر موقع تھا کہ عوام میں ایک اعتماد کا ماحول بنایا جاتا، تاکہ ہمیشہ کے لیے پر تشدد واقعات کا خاتمہ ہوتا اور اس کے لیے ایک بھر پور عوامی حمایت حاصل کی جاتی۔ مگر یہ ناعاقبت اندیشی کی حد نہیں تو کیا ہے کہ پوری قوم کو اجتماعی طور پر سز ا دی جارہی ہے۔
دو دن کے اندر ہی وادی میں گیارہ مکانوں کو تہس نہس کرنے اور گرفتاریوں کے سلسلہ کی وجہ سے خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مکانات ان خاندانوں کے تھے، جن افراد نے واردات میں مدد دی تھی۔ ابھی تو تفتیش کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ یہ کس طرح کا انصاف ہے؟ اتر پردیش میں تو بلڈوزر کے ذریعے مسلمانوں کے مکان نشانہ بنائے جاتے ہیں، جس پر سپریم کورٹ نے سرزنش بھی کی ہے۔ مگر کشمیر میں بلڈوزر کی تکلیف بھی نہیں کی گئی، بلکہ دھماکا خیز مواد آئی ای ڈی یا آر ڈی ایکس کا استعمال کرکے مکانوں کو زمیں بوس کر دیا گیا۔
انگریزی روزنامہ ’کشمیر ٹائمز‘ کے مطابق، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ قصبے میں گوری گاؤں کی ۵۹ سالہ شہزادی بانو کا گھر رات کے اندھیرے میں زمین بوس کر دیا گیا۔ اس کو بتایا گیا کہ اس کا بڑا بیٹا عادل ٹھوکر اس حملے میں ملوث ہے اور تین دن قبل وہ گھر آیا تھا۔ عادل ۲۰۱۸ء سے غائب ہے۔ وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ جس بندوق بردار کی تصویر کو عادل بتایا جاتا ہے، وہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔ شہزادی کا کہناہے کہ اگر فورسز کے مطابق عادل تین دن قبل گھر آیا تھا، تو اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا۔
ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات خوف کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے دلوں میں نفرت کے بیج بوتے ہیں۔ سری نگر سے ممبر پارلیمان روح اللہ مہدی نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر لکھا، ’کشمیر اور کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے‘۔ دہلی میں مقیم اسٹریٹجک تجزیہ کار پروین ساہنی کا کہنا ہے، اس اجتماعی سزا سے حکومت ایک بڑی آبادی کو علیحدگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ بھارت کے دیگر شہروں میں کشمیری تاجروں اور طالب علموں کو دھمکیا ں مل رہی ہیں، مکان مالکان ان سے مکان خالی کروارہے ہیں۔ہاسٹلوں میں ان کا جینا اجیر ن کردیا گیا ہے۔ سوگ میں بھی ان کو حب الوطنی کے ثبوت دینے پڑتے ہیں۔
جو افراد سیاحوں کے قتل میں ملوث ہیں، ان پر ضرور مقدمہ چلا کر ان کو سز ادلوائیں، مگر افراد خانہ کے مکانات مسمار کرنا کس طرح کا انصاف ہے۔ ایک اور تجزیہ کار کے مطابق، ایسا لگتا ہے جیسے اس حملے کا انتظار کیا جا رہا تھا تاکہ کشمیر میں فلسطین جیسی صورتحال برپا کی جاسکے۔
حالیہ عرصے میں خاص طور پر ۲۰۱۹ء کے بعد جہاں کشمیر میں مقامی معیشت کی حالت ناگفتہ بہ ہے، سیاحتی شعبہ نے کسی حد تک اس کو سہارا دیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق، سیاحت اب گروس اسٹیٹ جی ڈی پی کا سات فیصد اور ہارٹیکلچر دس فیصد ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ۳۵ لاکھ افراد سیاحت کی غرض سے کشمیر وارد ہو گئے تھے۔ اس سال لگتا تھا کہ ایک ریکارڈ تعداد سیاحوں کی کشمیر آئے گی۔ مگر سیاحوں کی ہلاکت نے سیز ن شروع ہونے سے قبل ہی اس کو ختم کردیا۔
ہفتہ وار ’کشمیر لائف‘ کے مطابق مئی اور دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان کشمیر کے دورے کی منصوبہ بندی کرنے والے ۶۲ فیصد خاندانوں نے اپنے دورے منسوخ کر دیے۔ بھارت کے نیوز چینلوں نے ملک پر جنگی جنون سوار کردیا ہے۔
معروف دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے ’’ماہ نامہ کاروان‘‘ کے مارچ کے شمارے میں پلوامہ اور بالا کوٹ حملوں پر اپنے ایک تحقیقی مضمون کے آخر میں تحریر کیا کہ،’ایک سیاسی طور پر کمزور مودی،جو کمزور معیشت سے نبرد آزما ہے، کسی بہانے سے ایک بار پھر ملک کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کراسکتا ہے‘۔ سشانت سنگھ کی یہ پیشگوئی ایک ماہ بعد ہی حقیقت کی شکل میں سامنے آگئی ہے۔
گائے، مسلمان اور پاکستان، ہندو قوم پرستوں کے تین اہم ہتھیار ہیں۔ ان میں گائے کا کارتوس تو چل کر اب بیکار ہو گیاہے، ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات میں یہ تو طے ہوگیا کہ مسلمان کا استعمال بہت زیادہ پولرائزیشن نہیں کرپاتا ہے۔
وقف کا جو قانون پارلیمان سے پاس کیا تھا، اس پرسپریم کورٹ سے پھٹکار تو پڑہی رہی ہے، گراؤنڈ پر وہ اثر نہیں بنا پا رہا ہے۔ اس طرح پاکستان ایک واحد کارتوس ہے، جو سریع الاثر اور انتہائی پولرائزیشن کرواکر اس کو ووٹ میں بھی تبدیل کروادیتا ہے۔ ۲۰۱۹ء کا الیکشن اس کی مثال ہے۔
سابق کابینہ سیکرٹری کے ایم چندر شیکھر کے مطابق، اس جنگ کا خمیازہ بھارتی صنعت اور فوج کو بھگتنا پڑے گا۔ ان کے مطابق، پاکستان کے پاس کھونے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے، مگر بھارت کی معاشی ترقی کو بڑا دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔
سال ۲۰۲۹ء تک ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا، بس پھر خواب ہی رہ جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کاماحول قائم کرنے کی سعی کی جاتی، تنازعات سلجھائے جاتے، تو یہ خطہ دنیا میں ایک مثال بن جاتا۔
قدرت نے اس خطے کو کیا کچھ نہیں عطا کیا ہے، مگر کمی ہے نیت کی اور ایک اسٹیٹس مین کی۔ بد اعتمادی کی فراوانی اور تنگ نظر لیڈرشپ نے اس خطے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے۔
(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۳۰؍اپریل ۲۰۲۵ء)