یہ بات لاہور کی ہے۔ رات کے ساڑھے بارہ بجے ہیں۔ اپریل کے آخری دن چل رہے ہیں۔ محنت کشوں کی آبادی کے ایک مکان میں نقاب لگائے ہوئے دو افراد داخل ہوئے۔ انہوں نے ۴۸ سالہ تانبا کو شناخت کیا اور پھر اُس کے سینے اور ٹانگ میں دو گولیاں داغ دیں۔ تانبا دوسرے فلور پر خون میں لت پت تڑپتا رہا اور دونوں حملہ آور موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔
تانبا کا اصل نام عامر سرفراز تھا۔ اس کے کئی دشمن تھے۔ یہ گینگسٹر تھا اور اس پر ۲۰۱۱ء میں لاہور کی ایک جیل میں بھارتی خفیہ اداروں کے ایک ایجنٹ کو تشدد سے ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ وہ دونوں سزائے موت پر عملدرآمد کے منتظر تھے۔ تانبا بعد میں بری ہوگیا۔ بھارتی حکام کا خیال تھا کہ پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے تانبا کی خدمات حاصل کرکے بھارتی ایجنٹ کو ٹھکانے لگایا تھا۔ اور یوں ۱۳؍سال بعد بھارتی ایجنٹ کے قتل کا انتقام لے لیا گیا۔
تانبا کے قتل کے فوراً بعد وزیرِداخلہ محسن نقوی نے رپورٹرز کو، اُس کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے، بتایا کہ بہت سی ہلاکتیں ایسی واقع ہوئی ہیں جن میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ تانبا کے قتل کا طریقہ بھی ویسا ہی ہے۔
تانبا کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جسے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک طویل مدت سے جاری ڈھکی چھپی جنگ کا تسلسل کہا جاسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے خفیہ ادارے عسکریت پسند گروپوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ہاں انتشار کے بیج بوتے رہے ہیں مگر بھارت کے خفیہ دارے ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) نے طریقِ کار تھوڑا سا بدلتے ہوئے اب پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ بھی شروع کی ہے۔ ۲۰۲۱ء سے اب تک ایک مخصوص طریقِ کار کے تحت پاکستان میں ۶؍افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔
بھارت کے مبینہ دشمنوں کو سبق سکھانے کے حوالے سے جیسا سخت رویہ نریندر مودی نے اپنایا ہے ویسا کسی اور بھارتی وزیرِاعظم نے نہیں اپنایا۔ گزشتہ برس سے مغربی حکومتوں سے بھی بھارت کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں کیونکہ کینیڈا میں ایک سِکھ علیحدگی پسند لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور امریکا میں کینیڈین سِکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنو کے قتل کی سازش کے حوالے سے بھارت کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ محسوس کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں مشق کرنے کے بعد بھارت نے امریکا اور کینیڈا میں وہی طریقِ کار اختیار کرنا چاہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان میں بظاہر بھارتی ایجنٹس کے ہاتھوں کم از کم ۶؍افراد کے قتل کے حوالے سے تفتیش کی، افسران اور پس ماندگان کو انٹرویو کیا، شواہد جمع کیے اور ہر واردات کی تفصیلات جمع کیں۔ جائزہ لینے پر اندازہ ہوا کہ بھارتی خفیہ ادارے جو طریقِ کار شمالی امریکا میں اختیار کر رہے ہیں وہی طریقِ کار پاکستان میں بھی دکھائی دیا ہے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ کا خصوصی پروگرام ہے۔
پاکستانی تفتیشی حکام نے بتایا کہ بھارتی خفیہ اداروں نے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کے لیے مقامی جرائم پیشہ افراد یا افغان باشندوں کو کرائے کے قاتل کے طور پر لیا۔ ان وارداتوں میں کوئی بھی بھارتی باشندہ ملوث نہیں۔ ’’را‘‘ نے دبئی میں کاروباری افراد سے رابطہ کیا، انہیں ’’بچولیے‘‘ کی حیثیت دی اور جنہیں نشانہ بنانا تھا اُن کی نگرانی اور قتل کے لیے الگ ٹیمیں رکھیں۔ غیر رسمی ذرائع (حوالہ) کے ذریعے پیسے دیے گئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے نے تجارت کو بھی بروئے کار لانے کی کوشش کی، مگر امریکا اور کینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ سب کچھ دیکھ اور سمجھ لیا۔
پاکستان میں قتل کی مہم
پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے گروپوں لشکر طیبہ اور جیشِ محمد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو منتخب کیا گیا۔ ان دونوں گروپوں پر بھارت کے فوجیوں اور عام لوگوں کو نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ بھارت نے ہردیپ سنگھ نجر اور گرپتونت سنگھ پنو کو بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے تاہم مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بھارت کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔
پاکستان میں بھارتی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں۔ دونوں ملکوں کے حکام اس حوالے سے کچھ بھی کہتے وقت بہت محتاط رہتے ہیں اور نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔ پاکستان مبینہ بھارتی سرگرمیاں بہت حساس معاملہ ہیں کیونکہ اس حوالے سے پاکستانی خفیہ اداروں کی کارکردگی کا سوال بھی اٹھتا ہے۔ پاکستان کا دعوٰی ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیتا تاہم حکام کہتے ہیں کہ بھارت نریندر مودی کی قیادت میں عالمی طاقت بننے کی طرف مائل ہے تو اُس کے خفیہ اداروں کو بے نقاب کیا ہی جانا چاہیے جو ماورائے عدالت ہلاکتوں میں بہت زیادہ ملوث ہیں۔
ایک سابق پاکستان افسر نے بتایا کہ امریکا اور کینیڈا میں بھارتی خفیہ اداروں کی سرگرمیوں کے بے نقاب ہونے سے بہت پہلے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ندیم انجم نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم جے برنز کے سامنے بھارتی خفیہ اداروں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کا سوال اٹھایا تھا۔ ایک پاکستانی اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ہم نے جو بات کہی اُس کا امریکا اور کینیڈا کی تفتیش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ بھارت پُرامن رہتے ہوئے ترقی کرسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ ماضی میں بھارتی حکام مشکوک ہلاکتوں کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایسی ہلاکتیں بھارت کی پالیسی کا حصہ نہیں ہیں۔ بھارتی حکام کا یہ بھی شِکوہ ہے کہ بھارت جن لوگوں کو دہشت گرد نامزد کرکے حوالگی مانگتا ہے اُن کے حوالے سے پاکستان اور مغربی حکومتیں صاف انکار کردیتی ہیں جبکہ بھارت اُن کے جرائم کے ثبوت بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ امریکا نے پاکستان میں ڈرون حملوں کے ذریعے مسلم شدت پسند گروپوں کے بہت سے ارکان کو ہلاک کیا ہے۔
بھارت نے ۲۰۱۹ء میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین پر نظرِثانی کی اور سخت ترمیم شدہ قوانین نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ نامزد دہشت گردوں کی فہرست بھی جاری کی۔ یہ فہرست کئی بار اپ ڈیٹ کی جاچکی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے پایا کہ اس وقت فہرست میں جن ۵۸؍افراد کے نام دہشت گردوں کے طور پر درج ہیں اُن میں سے گیارہ کو ۲۰۲۱ء اور اس کے بعد سے اب تک قتل کیا جاچکا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے یہ بھی جانا کہ دیگر ۱۰؍افراد اگرچہ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہیں مگر پھر بھی بھارتی حکومت نے انہیں عسکریت پسندی کا مرتکب قرار دیا اور وہ بھی ایسے ہی حالات میں ہلاک ہوئے۔ نامعلوم شوٹرز نے اُنہیں بہت قریب سے گولیاں ماریں۔
عامر سرفراز عرف تانبا کے کیس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری خفیہ جنگ میں کسی بھی طور داخل ہونا کس قدر مشکل کام ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تانبا مارا جاچکا ہے جبکہ چند پاکستانی افسران یہ بھی کہتے ہیں کہ تانبا بچ گیا تھا اور اس کیس سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے تو یہ بھی بتایا کہ آئی ایس آئی نے تانبا کی ہلاکت ظاہر کرکے بھارتی خفیہ ادارے کو بے وقوف بنایا تاکہ اُس کا ایجنٹ اگلے ہدف کی طرف بڑھے اور اُسے دھرلیا جائے۔
پاکستان اور بھارت نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں خود کو ایٹمی قوت ظاہر کرنے کے بعد سے اب تک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوششیں کی ہیں اور سب کچھ ڈھکے چھپے انداز سے کیا گیا ہے تاکہ کوئی الزام بھی نہ آئے اور مکمل جنگ کا خطرہ بھی کھڑا نہ ہو۔ بھارت کے موجودہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول نے ۲۰۱۴ء میں کہا تھا کہ پاکستان پر حملہ غیر حقیقت پسندانہ بات ہے تاہم بھارتی فوجیوں اور شہریوں پر حملے کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کی حمایت و مدد کرنے پر بھارتی قیادت کو پاکستان کو سبق سکھانا ہی چاہیے۔ اپنے دفاع کے لیے ہمیں وہاں جانا پڑے گا جہاں سے یہ ساری سرگرمیاں کی جارہی ہیں۔ ایک جامعہ سے خطاب کے دوران اجیت ڈوول کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بہت زیادہ ہدف پذیر ہے، اُسے بہت سے مقامات سے اور بہت سے معاملات میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
پُرتشدد تاریخ
پاکستان اور بھارت نے انگریزوں سے نجات پانے کے فوراً بعد ہی ایک جنگ لڑی تھی جو کشمیر کے لیے تھی۔ اس کے بعد پاکستان نے (مقبوضہ) جموں و کشمیر سے بھارتی فوجیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے عسکریت پسندوں کی مدد کی جبکہ بھارت نے بلوچستان اور سندھ میں علیٰحدگی پسند عناصر اور دیگر گروپوں کے ہاتھ مضبوط کیے۔
۱۹۹۰ء کی دہائی میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم اندر کمار گجرال (آں جہانی) نے پاکستان سے تعلقات بہتر ہونے پر پاکستان کی حدود میں بہت سی خفیہ بھارتی سرگرمیوں کی راہ روکی۔ کالعدم لشکرِ طیبہ پر ۲۰۰۸ء میں ممبئی حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے جن میں ۱۷۵؍افراد ہلاک اور ۳۰۰ سے زیادہ زخمی ہوئے۔ امریکا کی اسپیشل فورسز نے ۲۰۱۱ء میں اُسامہ بن لادن کو پاکستان کی حدود میں ہلاک کیا۔ اس کے بعد ’’را‘‘ کے سینئر افسران نے پاکستان میں اعلیٰ سطح کے افراد کو قتل کرنے پر زور دیا۔ یہ بات بھارت کے ایک سابق اعلیٰ افسر اور حکومت کے سینئر مشیر نے بتائی۔
۲۰۱۲ء میں جنرل وی کے سنگھ نے، جو پاکستان میں چھوٹے پیمانے کے بم دھماکے کرنے والے گروپ کی قیادت کرچکا تھا، پاکستان کی حدود میں کشمیری لیڈر سید صلاح الدین کو قتل کرنے کی تجویز پیش کی۔ سید صلاح الدین اب بھی بقیدِ حیات ہیں۔ پاکستانی حکام کو شک ہے کہ ۲۰۱۳ء میں اسلام آباد کی ایک بیکری میں ناصرالدین حقانی کے قتل میں بھی بھارتی ایجنٹ ملوث ہیں۔ ناصرالدین حقانی پر کابل میں بھارتی سفارت خانے پر بم حملے کا الزام تھا۔
جون ۲۰۲۱ء میں بھارتی انٹیلی جنس نے دبئی میں ایک پاکستانی کی خدمات حاصل کیں جس نے لاہور میں لشکرِ طیبہ کے لیڈر حافظ سعید کے کمپاؤنڈ میں کار بم دھماکا کیا۔ بہرحال حافظ سعید تک نہ پہنچا جاسکا۔ اس کے بعد بھارتی انٹیلی جنس نے بم دھماکوں کا راستہ چھوڑ کر ٹارگٹ کلنگ کا طریقہ اپنایا۔ ایجنٹس کو پستول یا ریوالور تھما کر ٹارگٹ دیے گئے۔ ٹاپ لیڈرز کے بجائے ایسے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے لیے زیادہ سکیورٹی نہیں تھی۔
خفیہ ہلاکتیں
حافظ سعید کو نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کرائے کے قاتلوں نے ظہور مستری کو مار ڈالا۔ ظہور مستری نے ۱۹۹۹ء میں انڈین ایٔر لائنز کے طیارے کی ہائی جیکنگ کے دوران ایک بھارتی مسافر کو قتل کیا تھا۔ چار مشتبہ افراد کے اعتراف کے مطابق قتل بھارتی انٹیلی جنس کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون نے (جو خود کو طناز انصاری کہتی تھی) دو افراد کو ظہور مستری کا سراغ لگانے کی ذمہ داری سونپی اور دو افغان باشندوں کو اس کے قتل پر مامور کیا۔ جنوب مشرقی ایشیا، افریقا اور مشرقِ وسطیٰ سے ساڑھ پانچ ہزار ڈالر منتقل کیے گئے تاکہ کرائے کے قاتلوں اور اُن کے معاونین کو معاوضہ دیا جاسکے۔
قتل کی اس واردات سے قبل طناز انصاری نے اپنے ایجنٹ شیراز غلام سرور سے کہا کہ وہ ظہور مستری کی شناخت کنفرم کرے اور اُس کی بالکل درست لوکیشن کی نشاندہی بھی کرے۔
پانچ دن بعد طناز انصاری نے پھر واردات کی۔ اس بار سید خالد رضا کو قتل کیا گیا۔ وہ عسکریت پسند تھا اور ۱۹۹۰ء کی دہائی میں کشمیر میں فعال تھا۔ اس بار سید خالد رضا کا سراغ لگانے کے لیے محمد علی آفریدی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ طناز انصاری نے اس کی خدمات پہلے ۲۰۱۸ء میں فیس بک پر حاصل کی تھیں۔ محمد علی آفریدی نے کئی دن تک سید خالد رضا کی ریکی کی، اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ پھر اُسے قتل کرنے کے لیے پستول خریدا۔ سید خالد رضا کو قتل کرنے کے بعد اُس نے پستول ایک دریا میں پھینک دیا۔
محمد علی آفریدی اور سید خالد رضا کے درمیان واٹس ایپ پر پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ محمد علی آفریدی کو گرفتار کرنے کے بعد جب تفتیشی حکام نے اُس کے واٹس ایپ پیغامات کا جائزہ لیا تو اندازہ ہوا کہ طناز انصاری اس بات پر ناراض تھی کہ سید خالد رضا کی بلڈنگ کے گارڈ سے اس کا پتا پوچھنے میں بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔ شناخت لازم تھی۔ اِسی صورت قتل کا حکم دیا جانا تھا اور معاوضہ ادا کیا جانا تھا۔ اِس موقع پر طناز انصاری اور محمد علی آفریدی کے درمیان کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایک اور ٹارگٹ کے حوالے سے بات ہوئی۔
حکام کو طناز انصاری اور محمد علی آفریدی کی اصل شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔ محمد علی آفریدی اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے اور مقدمے کی کارروائی کا انتظار کر رہا ہے۔ فروری ۲۰۲۳ء میں سید خالد رضا کو قتل کردیا گیا۔
مغرب میں سازشیں
جون ۲۰۲۳ء میں خالصتان نواز کینیڈین سِکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں قتل کیا گیا۔ کینیڈین حکام کہتے ہیں کہ اس قتل میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ نومبر ۲۰۲۳ء میں کینیڈا اور امریکا کی شہریت کے حامل سِکھ لیڈر گرپتونت سنگھ پنو کے قتل کی سازش بے نقاب ہوئی۔ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ کے افسر وکاس یادو نے پنو کے قتل کی ہدایت کی۔ بھارتی نژاد بزنس مین نکھل گپتا ایجنٹ تھا۔ اُس نے ایک مقامی (سفید فام) امریکی کی خدمات کرائے کے قاتل کے طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اِن دونوں کی بدقسمتی یہ کہ وہ سفید فام امریکی خفیہ اداروں کا سابق ایجنٹ نکلا۔ اس نے اس سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ طناز انصاری کی طرح وکاس یادو پر بھی غیر معمولی دباؤ تھا اور اُسے تیزی سے کئی قتل کروانے تھے۔ اس نے جو کچھ کیا وہ عجلت کے باعث بگڑگیا۔ امریکی حکام نے یہ سازش پہلے ہی مرحلے میں پکڑلی۔
کینیڈا میں معاملہ یہ تھا کہ بھارتی خفیہ اداروں نے چند سفارت کاروں کو بھی وہاں مقیم بھارتی سِکھوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی۔ خالصتان نواز سکھوں کی نگرانی سخت کی جانے لگی تو بات سامنے آگئی۔ کینیڈین حکام نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اس پورے معاملے میں بھارتی کردار کو بے نقاب کرنے کی تیاری شروع کی۔ کینیڈین حکام نے بھارتی سفارت کاروں کی نجی الیکٹرانک گفتگو اور ٹیکس میسیجز کی بنیاد پر بتایا کہ بھارتی خفیہ ادارے فعال تھے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ سفارت کاروں کی پرائیویٹ الیکٹرانک گفتگو کینیڈین حکام کے ہاتھ کیسے لگی۔
البینی میں یونیورسٹی آف نیو یارک کے سیاسیات کے پروفیسر کرسٹوفر کلیری کہتے ہیں ٹارگٹ کلنگ کے معاملے میں بھارتی خفیہ ادارہ ’’را‘‘ بھی بہت حد تک اسرائیلی خفیہ ادارے ’’موساد‘‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ موساد بنیادی طور پر کم ترقی یافتہ ممالک میں ایسے کام کرتی رہی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں اُس نے دبئی کے ایک ہوٹل میں جب حماس کے لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کی تو نگراں کیمروں کی مدد سے معاملہ بے نقاب ہوگیا۔
کرسٹوفر کلیری کہتے ہیں ایک مضمون پڑھ کر معلوم ہوا کہ مغربی دنیا میں تجربے کرنے سے پہلے بھارتی خفیہ ادارہ پاکستان میں ایک سال تک کامیابی سے کام کرتا رہا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو ہتھکنڈے پاکستان میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے وہ مغربی دنیا میں لازمی طور پر کامیاب نہیں ہوسکتے۔
کشمیر میں بڑھتی کشیدگی
جب بھارتی خفیہ اداروں نے کینیڈا اور امریکا میں ٹارگٹ کلنگ کی مہم شروع کرنے کی کوشش کی تب دونوں ملکوں کے حکام یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ بھارتی قیادت آخر مغربی سرزمین پر بھارتی نژاد امریکیوں اور کینیڈینز کو قتل کرنے کا خطرہ کیوں مول لے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خالصتان تحریک کینیڈا اور امریکا میں فعال ہے مگر اس کے نتیجے میں بھارتی سرزمین پر تشدد اور قتل و غارت کا خطرہ برائے نام بھی نہیں۔ سکیورٹی سے متعلق امور کے تجزیہ کاروں اور بھارتی حکام کے مطابق پاکستان سے متعلق حساب کتاب بہت مختلف تھا۔ بھارت نے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کو نشانہ بنایا جس کے کارکن (مقبوضہ) جموں و کشمیر میں فعال ہیں۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۹ء سے اب تک پاکستان سے آنے والے جنگجوؤں کے ہاتھوں (مقبوضہ) جموں و کشمیر میں ۵۰ سے زائد بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ ۵؍اگست ۲۰۱۹ء کو جموں و کشمیر کے متنازع اور تصفیہ طلب خطے کو بھارت کا حصہ بنائے جانے کے بعد وادی میں بھارتی فوج پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی نیم خود مختارانہ حیثیت ختم کردی گئی اور اب یہ خطہ نئی دہلی کے براہِ راست کنٹرول میں ہے۔
انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور سے وابستہ ایک بھارتی افسر نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کے لیے فنڈنگ میں محمد ریاض ملوث تھا۔ یہ کشمیری ۱۹۹۹ء میں پاکستان چلا گیا تھا اور لشکرِ طیبہ سے وابستگی اختیار کرکے کشمیری جنگجوؤں کے لیے فنڈز جمع کرتا تھا۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں ایک نوجوان نے ریاض کو آزاد جموں و کشمیر میں فجر کی نماز کے دوران سر میں گولی ماری۔ پانچ دن بعد ریاض کی مبینہ فنڈنگ سے کام کرنے والے گروپ ریزسٹنس فرنٹ نے جوابی حملہ کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر ایک وڈیو اپ لوڈ کرکے ریزسٹنس فرنٹ نے ریاض کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ (اسلام آباد) میں کیے جانے والے حملے میں تین فوجی افسران اور ایک پولیس اہلکار کے قتل پر جشن بھی منایا۔ مارے جانے والے بھارتی فوجیوں میں ایک کرنل بھی شامل تھا۔
ان تمام معاملات کے باوجود بھارتی خفیہ ادارے کو کنٹرول نہ کیا جاسکا۔ چار ہفتوں بعد محمد عمیر نامی مزدور کی قیادت میں ایک گروپ نے شاہد لطیف کو گولی ماری۔ بھارتی حکام نے شاہد لطیف پر الزام لگایا تھا کہ اُس نے ۲۰۱۶ء میں بھارتی ایٔر فورس کے ایک اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان رابطے منقطع ہوگئے تھے۔
اس بار ’’را‘‘ کو مختلف نوعیت کے وار کا سامنا کرنا پڑا۔ محمد عمیر نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا کہ اُسے دبئی سے بھیجا گیا تھا تاکہ شاہد لطیف کو خود قتل کرے۔ شاہد لطیف کو قتل کرنے کی کئی کوششیں ناکام رہی تھیں۔ محمد عمیر نے دبئی کے سیف ہاؤس میں رہائش ترک کردی تھی۔ دبئی میں پاکستانی ایجنٹس نے اس اپارٹمنٹ پر چھاپا مارا تاہم وہاں انہیں بھارتی کرائے دار اشوک کمار آنند سیلیان اور یوگیش کمار نہیں ملے۔
اس مرحلے تک پاکستانی حکام نے کبھی کبھار ہی بھارتی سرگرمیوں کا تذکرہ کیا تھا۔ فروری میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے اشوک کمار اور یوگیش کمار کے اسکین کیے ہوئے پاسپورٹ بھی پیش کیے اور ان پر شاہد لطیف اور اُس سے قبل ریاض کے قتل کا الزام بھی عائد کیا۔ بھارت نے یہ الزامات مسترد کردیے۔
واشنگٹن پوسٹ نے اشوک کمار آنند سیلیان کا سراغ لگانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اپریل میں اُس نے حکومت نواز ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا۔ وہ نئی دہلی کے ایک اپارٹمنٹ میں تھا۔ اُس نے بتایا کہ وہ ایک بزنس مین ہے اور دبئی میں اپنے سائبر کیفے میں اُس نے ایک پاکستانی کو ملازم رکھا تھا اور ہوسکتا ہے کہ اُس نے علم میں لائے بغیر اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری رکھی ہوں۔ اُس نے بھارتی خفیہ ادارے سے تعلق کا بھی انکار کیا۔ اشوک کمار نے کہا کہ جب محمد عمیر کو گرفتار کیا گیا تو پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ دبئی میں اُسے کس نے اسپانسر کیا۔ یہ بات میرے لیے بہت افسوس ناک ہے کہ اِس پورے معاملے میں میرا نام لیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں میری کاروباری ساکھ بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اشوک کمار کے مبینہ ساتھی یوگیش کمار کا سراغ نہ مل سکا۔
یوگیش کمار کا تعلق بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں سے ہے۔ وہاں کے ایک باشندے انمول گورا نے بتایا کہ یوگیش کمار کو پانچ سال سے اس علاقے میں دیکھا نہیں گیا۔ لوگ بتاتے ہیں کہ وہ دبئی میں ہے۔ انمول گورا کے بقول گاؤں والے یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اس لیے روپوش ہے۔
اندرونِ ملک فائدہ
پاکستان نے قتل کی کئی وارداتوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا باضابطہ ذکر کرنا شروع کردیا اور یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ’’را‘‘ کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ سے بھارت میں مودی سرکار کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ برس بھارت کے بہت سے ٹی وی چینلوں نے ’’را‘‘ کے ہاتھوں پاکستان میں ٹارگٹ کلنگز کو بخوشی بڑھا چڑھاکر بیان کیا اور ملک سے باہر کہیں بھی کچھ بھی کر گزرنے کے حوالے سے بڑھکیں ماریں۔ پاکستانی حکام نے تسلیم کیا کہ بہت سے معاملات میں پاکستانی پولیس کو بہت بعد میں معلوم ہو پایا کہ بھارتی خفیہ ادارے نے کام کر دکھایا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارجین نے بھی پاکستان میں بھارتی خفیہ اداروں کے ہاتھوں کی جانے والی ٹارگٹ کلنگز کا ذکر کیا۔ اس کے ایک دن بعد بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے ایک انتخابی ریلی کے دوران دشمن کو اُس کے گھر میں گھس کر مارنے کی بڑھک ماری۔ بھارتی وزیرِداخلہ اَمِت شاہ نے بھی پاکستان کی حدود میں بہت کچھ کر گزرنے کے معاملے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی اپنا کام کرتی رہے گی، ہم اس کے کام میں مداخلت کیوں کریں۔
یاد رہے کہ کینیڈین حکام نے بتایا ہے کہ بھارتی سفارت کاروں کی جو باہمی گفتگو ریکارڈ ہو پائی ہے اس میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ اَمِت شاہ نے کینیڈا میں خالصتان نواز سِکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی تھی۔ بھارتی فوج کے معروف مورخ اور جموں و کشمیر میں خدمات انجام دینے والے سابق فوجی افسر سری ناتھ راگھون نے بتایا ہے کہ نریندر مودی نے پاکستان کی حدود میں اسپیشل فورسز کی کارروائیوں کو خوب عام کیا ہے اور بالی وُڈ کے بڑوں کو بھی تحریک دی ہے کہ وہ اس حوالے سے فلمیں بنائیں تاکہ فوج اور عوام دونوں ہی کا مورال بلند ہو۔
راگھون کے بقول یہ پورا معاملہ نیو انڈیا کا ہے۔ مودی سرکار نے نئے وژن کے ساتھ کام شروع کیا ہے۔ مودی سرکار نے اس بات کو ضروری سمجھا کہ جن سے خطرہ ہے اُن پر حملہ کیا جائے۔ اور وہ بھی عوام کو بتاکر تاکہ پوائنٹ اسکورنگ ہو۔ مودی سرکار پاکستان کو نشانہ بنارہی ہے اور وہ بھی اُس پر ظاہر کرکے۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت میں بھی لوگوں کی نظر میں بلند ہونا ہے۔
جموں و کشمیر میں سرگرم مسلم عسکریت پسند کہتے ہیں کہ اپنے ہلاکت خیزی کے بارے میں بڑھ چڑھ کر باتیں کرنا بھارتی فوجی افسران اور قیادت کی نفسی مجبوری ہے اور جو کچھ پاکستانی حکام کہتے ہیں وہ بھی پورے کا پورا قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے بہرحال یہ بتا اور جتا دیا ہے کہ وہ پاکستان میں بھی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔
آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل اسد درانی کا کہنا ہے کہ ڈھکی چھپی جنگ جاری رکھنا پاکستان اور بھارت دونوں ہی کے چند اعلیٰ فوجی افسران کے مفاد میں ہے۔ ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوششوں کے ذریعے سیاسی فوائد بٹورے جاسکتے ہیں اور بٹورے جاتے ہیں۔
اسد درانی کا مزید کہنا ہے کہ کوئی بھی ریاست یا غیر ریاستی عنصر اگر کچھ کرکے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتا ہو تو ایسا ہی کرے گا۔ کوئی بھی فریق امن کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اس رپورٹ کی تیاری کے لیے لاہور سے محمد زبیر خان، اسلام آباد سے شائق حسین، سری نگر سے شمس عرفان اور نئی دہلی سے اننت گپتا نے مواد فراہم کیا۔
(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)
“In India’s shadow war with Pakistan, a campaign of covert killings”. (“Washington Post”)