(کون سی بڑی طاقت ہے جو پاکستان کے معاملات کو قابو میں رکھنے کے لیے بے تاب دکھائی نہیں دیتی؟ بین الریاستی تعلقات کی بات کیجیے تو کوئی حلیف ہوتا ہے نہ حریف۔ سب کچھ ضرورت کے مطابق واقع ہوتا رہتا ہے یا واقع ہونے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ پاکستان کو اپنے بیشتر معاملات میں بیرونی قوتوں کے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ اِس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ یہ نظریاتی بنیادوں پر قائم ہونے والی اسلامی ریاست ہے اور دوسرا بنیادی سبب یہ ہے کہ پاکستان کا محلِ وقوع انتہائی منفرد ہے۔ پاکستان کی حدود میں وہ تمام قدرتی حالات موجود ہیں جو اِسے ترقی کی بلندی تک پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ اِس کی ترقی کی راہ روکنے پر بھرپور توجہ دی جائے اور توجہ دی جاتی رہی ہے۔ امریکا ہمارا حلیف ہے اور ہم اُس کے پارٹنر ہیں مگر سچ یہ ہے کہ پاکستان کو پس ماندہ رکھنے میں کلیدی کردار امریکا ہی نے ادا کیا ہے۔ دفاعی معاملات میں پاکستان کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا امریکا ہی کی طرف سے رہا ہے۔ زیرِ نظر مضمون اِس کہانی کو بہت حد تک بیان کرتا ہے۔)
۔۔۔۔۔
دسمبر میں امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے جُڑے ہوئے چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے دور مار میزائل پروگرام کے جاری رہنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے نپٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ کے تحت پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر عائد کی جانے والی یہ پہلی پابندیاں نہیں تھیں تاہم یہ زیادہ اہم ضرور تھیں کیونکہ میزائل تیار کرنے والا پاکستانی ادارہ نیشنل ڈیفینس کمپلیکس (یا نیشنل ڈیویلپمنٹ کمپلیکس) براہِ راست اِن کے نشانے پر تھا۔
امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے حوالے پاکستان کا ردِعمل بھی غیرمعمولی نوعیت کا تھا۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بائیڈن انتظامیہ کے اس فیصلے کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن بگڑے گا اور علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
بیان بازی اور تنقید کے محاذ پر جنگ اُس وقت شدت اختیار کرگئی جب امریکا کے قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر نے کہا کہ پاکستان میں دور مار میزائل تیار کرنے کے پروگرام کے مقاصد کے حوالے سے حقیقی اور پریشان کن سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، پاکستان جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے متواتر پیشرفت کے لیے کوشاں ہے اور اس کے نتیجے میں معاملات دور مار بیلسٹک میزائلوں سے بڑھ کر ایسے آلات کے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جو اُسے بڑی راکٹ موٹرز کی آزمائش کی منزل تک پہنچادے گا۔ جان فائنر کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا یعنی پاکستان میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے پیشرفت کا حامل رہا تو وہ ایسے میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوجائے گا جس کے لیے جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بھی ممکن ہوں گے اور اِن میں امریکا میں موجود اہداف بھی شامل ہوں گے۔ اِن الفاظ کے ذریعے جان فائنر پہلی امریکی شخصیت بن گئے جس نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ پاکستانی میزائل اب امریکی حدود میں واقع اہداف تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے جان فائنر کے بیان (یا الزامات) کے فوراً بعد ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ساری باتیں حقیقت اور تعقل سے بہت دور ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام اسٹریٹجک صلاحیتوں کا تعلق ملک کی خود مختاری اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔
یہ پالیسی بیان پاکستان کے لیے ایٹمی اور میزائل پروگرام کی اہمیت کو خوب ظاہر اور ثابت کرتا ہے۔ اِس سے اندازا ہوتا ہے کہ اسلام آباد اپنی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف ایٹمی ردِ جارحیت لازمی طور پر درکار ہے۔ پاکستان کی طرف سے مزاحمت امریکا کے لیے دو سطحوں پر منفی اثرات کی حامل ہوگی۔
امریکی پابندیوں کے اثرات میں کمی
امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان لازمی طور پر اپنے میزائل پروگرام یا اِس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قوت کو بڑھانے اور اُس میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ بھارت کا سامنا کرنے کے لیے اُسے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی درکار ہے۔ پاکستان اپنے میزائل پروگرام کو ہر حال میں دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ بھارت کو کسی بھی حوالے سے کسی بھی تنازع میں صورتحال کا فائدہ اُٹھانے کا موقع نہ ملے۔ پاکستان کا بنیادی اسٹریٹجک مقصد (جسے رسمی طور پر فُل اسپیکٹرم ڈیٹرنس کہا جاتا ہے) یہ ہے کہ تمام بھارتی اہداف اور علاقوں تک اُس کی میزائل فورس کی رسائی ممکن رہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکی پابندیوں کو پاکستان اپنے لیے ایسی رکاوٹیں سمجھے گا جنہیں عبور کرنا لازم ہے۔
امریکی پابندیوں کے خلاف پاکستان میں اٹھنے والی آوازیں یقینی طور پر بلند تر ہوں گی کیونکہ اسلام آباد پر تھوپی جانے والی امریکی پابندیاں نئی دہلی سے امریکی حکومت کی تیزی سے پنپتی ہوئی پارٹنرشپ کے بھی بالکل برعکس ہیں۔
چند حالیہ برسوں میں امریکا اور بھارت دفاعی معاملات میں اپنی پارٹنرشپ کو اگلی سطح تک لے گئے ہیں اور اِس کا مقصد بظاہر چین کے خلاف ردِ جارحیت کا اہتمام کرنا ہے۔ اس پارٹنر شپ نے بھارت کو جدید ترین امریکی دفاعی ٹیکنالوجیز تک خوب رسائی دی ہے۔ امریکا اور بھارت نے خلا میں بھی اپنے اشتراکِ عمل کو وسعت دی ہے۔ یہ اشتراکِ عمل پاکستان کے لیے دو وجوہ کی بنیاد پر پریشان کن ہے۔ اول تو یہ کہ بھارت اسپیس لانچ وہیکلز کو اپنے میزائل پروگرام کا معیار بلند کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور دوم یہ کہ اِس کے نتیجے میں خلا میں بھارت کی دفاعی استعداد میں نمایاں حد تک اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال پاکستان کے اضطراب میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے خلا میں بھارتی دفاعی صلاحیت میں اضافے کا توڑ کرنے سے متعلق اقدامات کی تحریک بھی دے گی۔ مثال کے طور پر اس کے نتیجے میں پاکستان بڑے قطر کی راکٹ موٹرز تیار کرنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔ یہ موٹرز کسی بھی چیز کو خلا میں بھیجنے کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔
امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی معاملات میں تیزی سے پنپتی ہوئی پارٹنرشپ پاکستان کے لیے اس بات کی گنجائش کم ہی چھوڑے گی کہ وہ امریکی پابندیوں کو بخوشی یا خاموشی سے قبول کرلے۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات اُن مشکلات سے کمتر ہیں جو میزائل پروگرام کو پیچھے لے جانے کی صورت میں پیدا ہوسکتی ہیں۔
بھارت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پروان چڑھائے جانے والے پاکستانی میزائل پروگرام میں، امریکی پابندیوں کے باوجود، اضافہ ہی ہوگا کیونکہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی اثرات بھی تو پیشِ نظر ہوں گے۔ پاکستان، جو امریکا کے حریفوں میں ہے نہ بدخواہوں میں، اگر اپنے میزائل پروگرام کو، پابندیوں کے باوجود، جاری رکھنے اور پروان چڑھانے میں کامیاب ہوگیا تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ شمالی کوریا اور ایران جیسے شدید امریکا مخالف ممالک کے خلاف بھی یہ پابندیاں ایک ایسے وقت ناکام رہیں گی جب امریکا اُنہیں ہر صورت کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ امریکا سلامتی سے متعلق پاکستان کے خدشات کے حوالے سے قدرے بے حِسی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ایسے میں پابندیاں بیک فائر بھی کرسکتی ہیں یعنی اِن پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان عالمی برادری کو بتا اور جتا سکتا ہے کہ اُس کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان اب چین سے مزید قربت بھی اختیار کرسکتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کی ہر امریکی کوشش پاکستان کو چین سے مزید قریب کرے گی۔ اسلام آباد ایسے ماحول میں چین کی طرف زیادہ جھکاؤ دکھائے گا اور دفاعی معاملات میں اُس سے زیادہ اشتراکِ عمل کی توقعات وابستہ کرے گا۔ پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری بہت زیادہ ہے۔ امریکا اور بھارت صرف چین کو منہ دینے کے لیے دفاعی سطح پر اشتراکِ عمل بڑھارہے ہیں۔ اسلام آباد عالمی برادری کے سامنے یہ بات رکھ سکتا ہے کہ چین کے خلاف امریکا و بھارت کی دوستی خطے میں چینی سرمایہ کاری سے جاری منصوبوں کو تباہی سے دوچار کرسکتی ہے۔
پاک چین تعلقات میں اعتماد کا عنصر بہت حد تک اس لیے بھی پایا جاتا ہے کہ دونوں ہی کو امریکا کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ میزائل ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے پاک چین اشتراکِ عمل کا آغاز ۱۹۸۹ء میں ہوا تھا، یہ محض اتفاق ہے کہ پاک امریکا تعلقات کا زریں دور اُسی زمانے میں ختم ہوا تھا۔ ایک سال بعد اسلام آباد اور بیجنگ نے دفاعی پیداوار کے حوالے سے اشتراکِ عمل کے ۱۰ سالہ معاہدے پر دستخط کیے۔ تب امریکا نے ۱۹۸۵ء کی پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ یہ بہرکیف، یہ پابندیاں چین کو ایم الیون بیلسٹک پاکستان کو فراہم کرنے نہ روک سکیں۔ کم فاصلے پر مار کرنے والے یہ میزائل پاکستان کو فراہم کیے جانے کی بنیاد ہی پر امریکا نے پہلے ۱۹۹۱ء میں اور پھر ۱۹۹۳ء میں پاکستان اور چین پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ امریکی اقدامات کے باوجود چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاملات میں وسیع تر اشتراکِ عمل جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اپنے اولین بیلسٹک میزائل غوری اور شاہین تیار کرنے میں کامیاب ہو پایا۔ دوسری طرف بھارت میں پرتھوی اور اگنی ٹو میزائل تیار کیے گئے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی پابندیاں پاکستان کو میزائل پروگرام میں پیش رفت سے مجتنب رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔
آج پاکستان امریکی خارجہ پالیسی کے لیے زیادہ قابلِ ترجیح نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان اور چین دونوں ہی کے لیے امریکی پابندیوں اور دیگر اقدامات کے منفی اثرات سے نپٹنا کچھ زیادہ مشکل نہ ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ نے دونوں ملکوں پر اقتصادی پابندیاں ۲۰۲۳ء کے اواخر میں عائد کی تھیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان کو قابو میں رکھا جائے تاہم اس حوالے سے کیے جانے والے تمام اقدامات دونوں ہی ملکوں کے درمیان دفاعی اور دیگر معاملات میں اشتراکِ عمل کو مزید بڑھاوا دیں گے اور چین خطے میں اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہوگا۔ ایسی کوئی بھی صورتحال واشنگٹن کے لیے مزید مشکلات بھی پیدا کرے گی کیونکہ چین نے ایران سے بھی دفاعی تعاون کا بھرپور معاہدہ کیا ہے۔
پاکستان سمیت تمام ہی چھوٹے اور قدرے کمزور ممالک کے لیے کسی بھی مضبوط ملک سے بامعنی انداز سے جُڑنا اور دفاعی اشتراکِ عمل یقینی بنانا ایک انتہائی بنیادی ضرورت ہے۔ جب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان مخاصمت کی فضا موجود ہے تب تک بھارت کا ایٹمی اور میزائل پروگرام پاکستان کو بھی اِسی راہ پر گامزن رہنے کی تحریک دیتا رہے گا۔ امریکی پابندیاں اس حوالے سے کچھ زیادہ تبدیلیاں ممکن یا یقینی بنانے میں زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مزید پیش رفت اور جدت طرازی کی طرف لے جائیں گی۔ زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ صورتحال پاک امریکا تعلقات کو مزید داؤ پر لگاتی رہے گی اور اسلام آباد کو بیجنگ کی طرف مزید بڑھنے اور جھکنے کی تحریک ملتی رہے گی۔
اگر امریکا یہ چاہتا ہے کہ پاکستان اُس کا پارٹنر بنا رہے تو لازم ہے کہ بیشتر اہم معاملات میں اُس سے بامعنی، مثبت اور تعمیری بات چیت کی جائے، اُسے اعتماد میں لیا جائے۔ تِھنک ٹینکس اور جامعات کے درمیان رابطوں کے ذریعے پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹریک ٹو ڈپلومیسی کو نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین اپنے اپنے تحفظات دور کرنے کے حوالے سے بات چیت کریں۔
پاکستان کے لیے لازم ہے کہ امریکی مذاکرات کاروں اور دیگر حکام کو یقین دلائے کہ دفاعی ساز و سامان کے لحاظ سے اُس کا ہر تجدیدی پروگرام صرف بھارت کی طرف سے جارحیت کے خطرے کی سطح نیچے لانے کے لیے ہے۔ یہ لازم ہے کہ پاکستان امریکی حکام کو باور کرائے کہ اُس کی طرف سے بڑے قطر کی سالڈ راکٹ موٹرز کی آزمائش امریکا کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ نہیں۔ امریکا کو بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کو خطرات کا سامنا ہے۔ اگر امریکا نے پاکستان کو لاحق خطرات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ ختم کرنے سے متعلق اشتراکِ عمل کو شدید نقصان پہنچے گا اور اس کے نتیجے میں اسلحے کی دوڑ کو مزید تقویت ملے گی۔
ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے ماحول میں جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسیوں کا ایک بنیادی مقصد اسٹریٹجک استحکام کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ ایسی کسی بھی کمٹمنٹ کی جڑ میں پابندیوں کے بجائے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ (مترجم: ابو صباحت) “Why US sanctions against Pakistan’s ballistic missile program might backfire”. (“thebulletin.org”)