امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر ۲۵ فیصد ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) نافذ کرنے کا جو اعلان، دوسری مدت کے لیے امریکی صدر کا منصب سنبھالتے ہی کیا تھا، وہ اُنہوں نے واپس لے لیا ہے۔ خیر، یہ اقدام ۲؍اپریل ۲۰۲۵ء تک کے لیے ہے۔ اِس اقدام سے امریکا کی مستقبل قریب کی تجارتی پالیسی کی سمت کے حوالے سے شکوک و شبہات اور سوالات ابھرے ہیں۔ جو کچھ امریکی صدر اس وقت کر رہے ہیں، وہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جس ٹیرف کو عارضی طور پر واپس لینے کا اعلان کیا تھا، اُس کا اعلان فروری کے اوائل میں کیا گیا تھا۔ کچھ ہی دن بعد اُنہوں نے ٹیرف واپس لینے کا اعلان کیا تھا اور ۴ مارچ ۲۰۲۵ء کو یہ ٹیرف ایک بار پھر نافذ کردیے گئے۔ ۵ مارچ کو امریکا کے ٹاپ آٹو میکرز فورڈ، جنرل موٹرز اور اسٹیلانٹِز کے چیف ایگزیکٹیوز سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے پھر استثنیٰ کا اعلان کیا۔
ٹرمپ کی تجارتی پالیسی نے چند ہفتوں کے دوران غیرمعمولی یوٹرن لیے ہیں اور اِس میں کئی ٹوئسٹ سامنے آئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اندرون اور بیرونِ ملک غیریقینی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کا ابہام عالمی تجارت کے مسائل بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت نے پورے شمالی امریکا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے غیریقینی کیفیت پیدا کی ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کہتے ہیں کہ امریکی صدر نے جو تجارتی جنگ شروع کی ہے، وہ جلد اور آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔ ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں چند ہفتوں کے دوران اچھا خاصا تناؤ پیدا ہوا ہے اور یہ سب کچھ صدر ٹرمپ کا کیا دھرا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو خرابیاں صدر ٹرمپ عالمی تجارت کے لیے پیدا کر رہے ہیں، وہ تادیر رہیں گی اور مستقبل قریب میں یہ تجارتی جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
چین کی رینمِن یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر وینگ ییوی کہتے ہیں کہ امریکی صدر کی طرف سے ٹیرف کا نفاذ دراصل کمزوری کی علامت ہے۔ یہ کوئی جامع اور ٹھوس حکمتِ عملی نہیں بلکہ ہنگامی طور پر دنیا کو ڈرانے اور اپنے معاملات کے لیے تھوڑی سی ریلیف مانگنے کی کوشش ہے۔
یینگ ییوی کا کہنا ہے کہ جس طور چین نے ٹیرف کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے، بالکل اُسی طور اگر دیگر ممالک بھی کچھ آگے بڑھیں تو ٹرمپ کو پسپا ہونا پڑے گا۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان انحصار کا بھی حوالہ کیا ہے۔ جب صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے خلاف ٹیرف کا اعلان کیا تو کینیڈین حکومت نے بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف کا اعلان کردیا۔ دونوں ممالک کے درمیان چونکہ تجارت بہت زیادہ ہے۔ کینیڈین وزیراعظم نے جب ۱۰۷؍ ارب امریکی ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات پر ۲۵ فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تو امریکی قیادت کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امریکی کاروباری اداروں نے صدر ٹرمپ اور اُن کی معاشی ٹیم سے رابطہ کرکے بات کی اور اُن پر زور دیا کہ وہ امریکی معیشت کو ٹیرف کے گڑھے میں نہ دھکیلیں۔ وینگ ییوی کا کہنا ہے کہ امریکا کسی ملک کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی نافذ کرے تو وہ ملک بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی عائد کرے گا اور یوں دو طرفہ تجارت شدید متاثر ہوگی۔
امریکی صدر نے ٹیرف کا اعلان کرکے دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کیا ہے۔ میکسیکو اور کینیڈا کے علاوہ چین کی مصنوعات پر بھی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہے کیونکہ کسی ایک بڑی ملکی معیشت کے متاثر ہونے سے بہت سے ملکوں کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔
امریکی قیادت کی طرف سے عائد کیے جانے والے ٹیرف پر دنیا بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ یورپ اور کینیڈا میں امریکی مصنوعات کی فروخت گھٹ گئی ہے اور بعض معاملات میں تو نوبت بائیکاٹ تک پہنچ گئی ہے۔ یورپ اور کینیڈا میں بہت سوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا ٹیرف کے معاملے میں لچک نہ دکھائے تو لازم ہے کہ امریکی مصنوعات خریدنے سے گریز کیا جائے۔ کینیڈا کے صوبوں اونٹاریو، کیوبیک اور مینیٹوبا میں پہلے ہی بڑے اسٹورز سے امریکی شراب ہٹانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ بہت سے کینیڈینز نے امریکا میں تعطیلات گزارنے کا شیڈول منسوخ کردیا ہے۔
کینیڈین وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ اب ہمارے لیے وقت آگیا ہے کہ ملک میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے انتخاب کو اولیت دیں۔ خریداری کے وقت لیبل چیک کرنا لازم ہے۔ ہماری پہلی ترجیح ملکی مصنوعات کی خریداری ہونی چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو صرف کینیڈین مصنوعات استعمال کی جائیں۔ معاملات کی خرابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں کے آغاز پر جب امریکی قومی ترانہ بجایا گیا تو لوگوں نے ہوٹنگ کی۔
سوئیڈن، ناروے، فرانس اور دیگر یورپی ملکوں میں ہزاروں افراد امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم سے جُڑے ہوئے ہیں۔ فیس بک گروپ لوگوں پر زور دے رہا ہے کہ کوکا کولا، مکڈونلڈ اور اسٹار بکس جیسے امریکی اداروں کی مصنوعات کو ترک کرکے اُن کا یورپی متبادل تلاش کریں۔ ناروے کی کمپنی ہالٹ بیک بنکرز نے امریکا کے فوجی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی کمپنیوں کو دنیا بھر میں شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔ امریکی آن لائن پلیٹ فارمز امیزون، نیٹ فلکس وغیرہ کو بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ یورپ میں ٹیسلا کی فروخت صرف جنوری کے دوران ۵۰ فیصد سے زیادہ گھٹ گئی ہے۔ بہت سے صارفین اپنے آرڈر منسوخ کرکے متبادل کی طرف جارہے ہیں۔ یورپین آٹو موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں کے دوران امریکی گاڑیوں کی فروخت گھٹی ہے اور یورپی برانڈز تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی معیشت کے بنیادی محرکات کو سمجھنے میں غلطی ہے۔ وہ بزنس مین رہے ہیں، ماہرِ معاشیات نہیں۔ وہ مالیاتی امور کی تکنیکی باریکیوں کے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتے۔ ایک تربیت یافتہ معیشت دان جس طور منصوبہ سازی کرسکتا ہے ویسی منصوبہ سازی ڈونلڈ ٹرمپ کرسکتے ہیں نہ مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ عالمی تجارت کو وہ اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے۔ وینگ ییوی کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی ٹرمپ کر رہے ہیں، وہ عالمی معیشت اور بالخصوص تجارت کے حوالے سے اُن کے ذہن میں پائے جانے والے مغالطوں کی بنیاد پر ہے۔ ٹرمپ نے عالمگیریت کا کچھ اور ہی مطلب سمجھ لیا ہے۔ وہ اس مغالطے کا شکار ہیں کہ بہت سے ممالک امریکا سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ امریکا کو کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں پنپنے والا ایک بڑا مغالطہ یہ بھی ہے کہ یورپی یونین دراصل امریکا کو نچوڑنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ سوچ انتہائی مضحکہ خیز ہے مگر کیا کیجیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں یہی چلتا رہتا ہے۔
اس وقت امریکی معیشت کو نئے سِرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ امریکا ایک زمانے سے دنیا بھر میں اپنی مصنوعات بہت بڑے پیمانے پر فروخت کرتا آیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُس نے اپنی عسکری قوت کی بنیاد پر بھی ایسا بہت کچھ حاصل کیا ہے جسے حاصل کرنا اُس کا استحقاق تھا ہی نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم نے مل کر امریکی معیشت کو نئی زندگی دینے کے بارے میں جو کچھ سوچا ہے، وہ انتہائی خطرناک ’’نتائج‘‘ کا حامل ہوسکتا ہے۔ امریکی معیشت بھی عدم توازن اور عدمِ استحکام کا شکار ہے۔ دوسروں کے خلاف اقدامات کے ذریعے امریکی معیشت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ میکسیکو، چین اور کینیڈا وغیرہ کے خلاف ٹیرف نافذ کرنا دراصل ووٹ بینک کو مضبوط رکھنے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ امریکا میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جو مینوفیکچرنگ سیکٹر کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ اِن ریاستوں کی کمائی میں اضافہ ہوسکتا ہے اگر درآمدات پر ڈیوٹی عائد کی جائے یا بڑھائی جائے۔ حکمتِ عملی چاہے کوئی بھی ہو، جو کچھ ٹرمپ چاہتے ہیں، وہ آسانی سے حاصل نہیں کرپائیں گے۔ چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ماہر ایل وی ژیانگ کہتے ہیں کہ شمالی امریکا میں صنعتیں بالعموم اور گاڑیوں کا شعبہ بالخصوصی آپس میں بہت اچھی طرح جُڑا ہوا ہے۔ اگر ٹیرف عائد کیا جائے گا تو بڑے پیمانے پر خرابی پیدا ہوگی۔
ایل وی ژیانگ کہتے ہیں کہ امریکی صدر اپنے ملک کی آٹو انڈسٹری کے سنہرے دور کا احیا چاہتے ہیں۔ اب ایسا ممکن نہیں۔ ٹیکنالوجیز کا دھماکا ہوچکا ہے، انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ امریکا میں اب اجرتیں بہت زیادہ ہیں اور خام مال بھی بہت مہنگا پڑتا ہے۔ دوسری طرف چین اور جنوبی کوریا میں گاڑیوں کی تیاری کی لاگت خاصی کم ہے۔ امریکا میں اجرتیں اس لیے زیادہ ہیں کہ ہنرمند محنت کشوں کی کمی ہے۔ باہر سے افرادی قوت منگوانے کی صورت میں زیادہ معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں امریکی آٹو انڈسٹری کس طور کسی بھی ملک کی گاڑیوں سے مقابلہ کرسکتی ہے۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح بھی مستقل بڑھتی رہتی ہے۔ لاگت میں ہونے والے اضافے کو کس طور روکا جاسکتا ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ اِن تمام معاملات کے بارے میں سوچنے کے عادی نہیں۔
ایل وی ژیانگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے بڑے تجارتی پارٹنرز کے خلاف ٹیرف عائد کرنے کے معاملے میں سوچے سمجھے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اِس کے نتیجے میں پورے شمالی امریکا کا معاشی ڈھانچا ہی شدید خرابیوں سے دوچار ہوگا۔
شنگھائی جیاؤ تونگ یونیورسٹی کی وزٹنگ محقق لِن ژیوپنگ کا کہنا ہے کہ آٹو سیکٹر سے جو یونٹس میکسیکو اور کینیڈا منتقل کیے جاچکے ہیں، انہیں دوبارہ امریکی سرزمین پر منتقل کرنا ایسا آسان نہیں۔ اس حوالے سے کی جانے والی کسی بھی کوشش کو غیرحقیقت پسندانہ ہی قرار دیا جائے گا۔ لِن ژیوپنگ کہتی ہیں کہ امریکی آٹو انڈسٹری میں تربیت یافتہ کاریگر کو فی گھنٹہ ۳۵ ڈالر تک اجرت دی جاتی ہے جبکہ میکسیکو میں یہ اجرت ۴ ڈالر کے مساوی ہے۔ ایسے میں امریکی معیشت عالمی سطح پر پائی جانے والی مسابقت کا سامنا کیسے کرسکتی ہے۔
لِن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر بلند لاگت، بلند قیمت اور بلند شرحِ منافع کے پیراڈائم کے تحت کام کرے گا۔ چند ہی صنعتیں امریکا میں رہ پائیں گی۔ بڑھتی ہوئی لاگت امریکی معیشت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل چھوڑے گی ہی نہیں۔ اگر امریکی حکومت چاہتی ہے کہ صنعتیںملک میں رہیں تو بہت بڑے پیمانے پر زرِاعانت کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پورا صنعتی ڈھانچا ڈھے جائے گا۔
(ترجمہ: ابو صباحت)
“Twists and turns: Trump’s fluctuating trade policy threatens global economic stability”. (“China Global TV Network “. March 7, 2025)