’وحدۃ الظل‘: فلسطینی جانبازوں کا خفیہ ترین یونٹ

’وحدۃ الظل‘ کا نام اردو میڈیا میں پہلی بار سننے میں آیا ہے۔ بی بی سی نے اپنی طرف سے اس کا الٹا سیدھا تعارف کرایا ہے۔ آیئے اس خفیہ یونٹ کے بارے میں مکمل اور بالکل درست معلومات آپ کے سامنے رکھتے ہیں:

اس خفیہ یونٹ کو القسام بریگیڈنے انتہائی حساس مشنز کے لیے قائم کیا ہے اور اس کا مقصد غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کی حفاظت کرنا اور انہیں ’’نامعلوم جگہ‘‘ رکھنا ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کامیاب ڈیل ممکن بنائی جا سکی۔ اس یونٹ کی نگرانی کی ذمہ داری براہ راست کمانڈر اعلیٰ کے سپرد ہوتی ہے اور اس یونٹ کے وجود کا انکشاف پہلی بار ۲۰۱۶ء میں اس کے قیام کے ۱۰؍سال بعد ہوا، جب اس نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی تھی، جو کہ قیدیوں کے ایک کامیاب تبادلے کے معاہدے کے نتیجے میں رہا ہوا۔ اس کے بعد سے اس یونٹ کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں تھیں، حتیٰ کہ جولائی ۲۰۲۲ء کے آخر میں القسام ترجمان نے اعلان کیا کہ ’’وحدۃ الظل‘‘ کا ایک رکن شہید ہو گیا اور ۳ دیگر زخمی ہوگئے ہیں، جب اسرائیل نے ۲۰۲۱ء میں غزہ پر حملہ کرتے ہوئے ایک اسرائیلی قیدی کو رکھنے والی جگہ کو نشانہ بنایا تھا۔

’’وحدۃ الظل‘‘ کا قیام اس وقت عمل میں لایا گیا جب القسام بریگیڈنے ’’لجان المقاومۃ الشعبیۃ‘‘ اور ’’جیش الاسلام‘‘ کے ساتھ مل کر جون ۲۰۰۶ء میں گیلاد شالیت کو اغوا کیا۔ اس کے بعد ’’وحدۃ الظل‘‘ کو اسیر فوجی کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی اور یہ یونٹ القسام بریگیڈکا سب سے اہم اور سب سے خفیہ فوجی یونٹس میں سے ایک بن گیا۔ اب اسے ’’خصوصی مشن یونٹ‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، ۲۰۱۶ء کے آغاز تک یہ مکمل طور پر خفیہ رہا، اس وقت اس کا انکشاف ایک مختصر ویڈیو کے ذریعے کیا گیا، جو حماس کے غزہ میں قائم ’’قناۃ الأقصیٰ‘‘ ٹی وی چینل پر نشر ہوئی۔

اہم مراحل

اس یونٹ نے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو موساد اور اس کے ایجنٹوں کی نظروں سے تقریباً پانچ سال تک چھپائے رکھا، یہاں تک کہ مزاحمت نے اسرائیل کو ’’وفاء الأحرار‘‘ کے معاہدے کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا، جسے عوامی طور پر ’’شالیت معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ۱۰۵۰؍فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔ اس کے بعد، یونٹ کو ۲۰۱۴ء سے چار اسرائیلی قیدیوں کو حراست میں رکھنے کی ذمہ داری دی گئی، جن میں دو فوجی شامل ہیں، جنہیں القسام بریگیڈنے ۲۰۱۴ء کی تیسری اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ میں قید کیا تھا، جسے مزاحمت ’’معرکۃ العصف المأول‘‘ کہتی ہے۔ ان کے علاوہ دو دیگر اسرائیلی شہری غزہ میں پراسرار حالات میں داخل ہوئے اور گرفتار ہو گئے۔

القسام بریگیڈکے لیے قیدیوں کا معاملہ بہت اہمیت رکھتاہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’’وحدۃ الظل‘‘ کو دراصل فلسطینی قیدیوں کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کے طور پر قائم کیا گیا تھا اوالقسام بریگیڈکے لیے قیدیوں کا معاملہ بہت اہمیت رکھتا یہ یونٹ اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکے گی جب تک کہ ’’اسرائیلی جیلوں سے تمام قیدیوں کو آزاد نہیں کر دیا جاتا‘‘۔ القسام بریگیڈنے اعلان کیا ہے کہ یونٹ اس بات پر کاربند ہے کہ ’’دشمن کے قیدیوں کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک کرنا ہے، جیسا کہ اسلام کا حکم ہے اور انہیں مکمل دیکھ بھال فراہم کرنی ہے، ساتھ ہی دشمن کے ہاتھوں مجاہدین کے قیدیوں کے ساتھ سلوک کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے‘‘۔

۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے حملے کے بعد، اس یونٹ کو ۲۰۰ سے ۲۵۰؍اسرائیلی قیدیوں کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کا فریضہ تفویض کیا گیا۔ اسرائیلی قیدی یوخباد لیفشیتز انسانی بنیادوں پر ۱۵؍دن قید رہنے کے بعد رہا ہوئی، نے کہا کہ اس کے ساتھ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور وہاں ایک نرس موجود تھی، جو زخمیوں کا علاج کرتی تھی اور ایک ڈاکٹر ہر دو دن بعد قیدیوں کا معائنہ کرنے آتا تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے بتایا کہ خواتین قیدیوں کی دیکھ بھال کے لیے مخصوص خواتین تھیں، کیونکہ وہ ان کی ضروریات کو بہتر سمجھتی تھیں اور یونٹ نے قیدیوں کی صفائی اور صحت کا بہت خیال رکھا۔

ارکان کے انتخاب کے معیارات

مزاحمت کا کہنا ہے کہ ’’وحدۃ الظل‘‘ کے ارکان کو منتخب کرنے کا عمل قسّام کی تمام بریگیڈز اور جنگی دستوں کے ذریعے بڑی احتیاط سے کیا جاتا ہے اور اس کے لیے مخصوص معیارات ہیں، جنہیں ’’سنہری توازن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اعلیٰ اخلاقی معیار کے ان ارکان کو مختلف امتحانات سے گزارا جاتا ہے، جن میں براہ راست اور بالواسطہ دونوں قسم کے ٹیسٹ شامل ہیں اور انہیں اپنی سیکورٹی اور فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔

یہ معیارات اور خصوصیات درج ذیل ہیں:

۱۔        مسئلہ فلسطین اور مزاحمتی منصوبے کے لیے گہری وابستگی۔

۲۔        قربانی اور ایثار کی شدید خواہش۔

۳۔        ہنگامی حالات اور بحرانوں میں بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ذہانت۔

۴۔        خطرات کو محسوس کرنے کی اعلیٰ صلاحیت۔

۵۔        ایک خفیہ، رازدار شخصیت کا حامل اور ہر بات میں مکمل محتاط۔

۶۔        انفرادیت کی حامل سیکورٹی اور فوجی صلاحیتیں۔

شہداء

جانبازوں کے ۵ مشہور شہیدوں نے اس یونٹ میں کام کیا ہے اور انہیں ۲۰۰۸ء سے اسرائیلی حملوں میں شہادت نصیب ہوئی۔ ان کے کاموں کے بارے میں کسی کو بھی اس وقت تک علم نہیں تھا جب تک کہ القسام بریگیڈنے ان کا انکشاف نہیں کیا اور کہا کہ وہ شالیت کو چھپانے اور پانچ سال تک اس کی حراست کے آپریشن میں گہری وابستگی رکھتے تھے۔ القسام بریگیڈ نے کہا کہ ان کا جہاد اندھیرے پردے کے پیچھے تھا اور لوگوں کے درمیان وہ اپنی معمول کی زندگی گزارتے تھے، آپ کو ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ کوئی راز چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلسل صہیونی سیکورٹی ایجنسیوں کو شکست دی، جو اپنے قیدی (شالیت) کو تلاش کرنے میں ناکام ہو گئی تھیں۔۔۔ وہ ’’وحدۃ الظل‘‘ کے ہیرو تھے اور وہ قائدین میدان تھے:

سامی الحمایدۃ

سامی الحمایدۃ ۱۸؍جنوری ۱۹۷۵ء کو ایک پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئے، جن کا خاندانی تعلق فلسطین کے شہر رملہ سے تھا۔ ان کا خاندان رفح کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم تھا، جو جنوبی غزہ میں واقع ہے۔ ’’وحدۃ الظل‘‘ میں ان کی رکنیت کے ساتھ ساتھ وہ ’’وحدہ مکافحۃ الارھاب‘‘ میں بھی شامل تھے، جو سرنگوں کی کھدائی میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ ۲۰۰۸ء میں ایک اسرائیلی جنگی طیارے کے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔

عبد اللہ لبد

عبد اللہ لبد ۱۹۶۸ء میں غزہ کے مغربی علاقے میں واقع الشاطٔ پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والدین کو ۱۹۴۸ء کی نکبہ کے دوران شہر المجدل سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ وہ ۲۰۰۰ء میں انتفاضہ الاقصیٰ کے آغاز پر القسام بریگیڈمیں شامل ہوئے اور ان کا کردار خاص طور پر اسلحہ سازی کے شعبے میں نمایاں رہا۔ وہ اپنے بھائی اسماعیل اور شہید محمد الدیہ کے ساتھ ۲۰۱۱ء میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے۔

خالد أبو بکرۃ

خالد ابو بکرہ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں مقیم تھے اور ان کے خاندان کی جڑیں مقبوضہ شہر بیر السبع سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ دھماکا خیز مواد کی تخلیق اور سرنگوں کی کھدائی میں ماہر تھے۔ یکم نومبر ۲۰۱۳ء کی رات کو ایک سرنگ میں محمد رشید دائود اور محمد عصام القصاص کے ساتھ ایک اسرائیلی فوجی یونٹ کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران شہید ہوئے۔ اس آپریشن کو قسّام نے ’’بوابۃ المجھول‘‘ کا نام دیا تھا۔

محمد رشید داؤد

محمد رشید داؤد ۱۹۸۷ء میں خان یونس کے ’’حي الأمل‘‘ علاقے میں پیدا ہوئے اور القسام بریگیڈکے ’’یونٹ آف آرٹلری‘‘ میں سرگرم رہے۔ وہ بھی ’’بوابۃ المجھول‘‘ آپریشن میں شہید ہوئے۔

عبد الرحمن المباشر

عبد الرحمن المباشر خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور ۲۰۱۵ء میں مزاحمت کے دوران ایک سرنگ کے منہدم ہونے کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔

القسام بریگیڈنے ’’وحدۃ الظل‘‘ کے آخری شہید کا نام ’’سیکورٹی وجوہات‘‘ کی بنا پر ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا، صرف یہ بتایا کہ وہ مئی ۲۰۲۱ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران شہید ہوئے۔

اس یونٹ کو داد دیجیے کہ اسرائیل، امریکا اور برطانیہ سمیت تمام قوتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر ان کے چھپائے ہوئے قیدیوں کا سراغ نہ لگا سکے۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’براہ راست‘‘۔ مارچ ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں