موسمِ گرما کی تعطیلات: بچوں کو خیالات بُننے کی آزادی دیں

موسمِ گرما کی تعطیلات کا آغاز ہونے والا ہے۔ کتنی خوشی کی بات ہے۔ رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر تک سونے، وقت کی پروا کیے بغیر پُرسکون انداز میں کام کرنے کا کیا بہترین موقع ہے۔

ظاہر ہے اسکولوں کی جانب سے ہوم ورک ملے گا اور کچھ والدین بچوں کے لیے شیڈول بنانے کی بھی کوشش کریں گے۔ لیکن میں کچھ مختلف درخواست کرنا چاہوں گا۔ بلا روک ٹوک بچوں کو اس وقت سے لطف اندوز ہونے دیں۔ انہیں اپنے مطابق وقت گزارنے دیں۔ انہیں دن میں خواب بُننے دیں اور جب کچھ کرنے کو نہ ہو تو انہیں بور بھی ہونے دیں۔ اس سب سے انہیں بے پناہ فائدہ ہوگا۔

تو ہم یہ سب کیسے کریں گے؟ یہ ہر گھر کے حالات اور وہاں دستیاب مواقع پر منحصر ہے۔

موسمِ گرما کی تعطیلات میں سفر کرنا بچوں کے لیے بہترین ہے۔ کچھ وقت کے لیے کسی دوسرے ملک یا شہر جانے سے ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ بچے نئے لوگوں سے ملیں گے، نئی ثقافتوں اور زبانوں کا مشاہدہ کریں گے، مختلف موسم دیکھیں گے جبکہ روایتی پکوان بھی کھانے کا انہیں موقع ملے گا۔ سفر خود ایک بہترین استاد ہے۔ دوستوں، کزنز یا دادی دادی، نانا نانی کے ساتھ چھٹیاں گزارنا بھی بہترین طریقہ ہے۔ ددھیال اور ننھیال میں وقت گزارنے سے ان کے رشتے مضبوط ہوں گے جو زندگی بھر ان کا ساتھ دیں گے۔

وہ سمر اسکول جہاں تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے، وہ میٹرک یا کالج کے طلبہ کے لیے تو مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں جنہیں پڑھائی میں اضافی مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہر طالب علم کے لیے اسے فائدہ مند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے بجائے اگر سمر اسکولوں میں ڈراما، ڈیبیٹ، لکھنے، مطالعے، تیراکی، کھیل کی دیگر سرگرمیوں یا کوئی نیا ہنر سکھایا جاتا ہے تو بچوں کو دلچسپی پیدا ہوگی۔

بچوں کو یہ آزادی دیں کہ وہ دن بھر کچھ نہ کریں، اپنے خیالات بُنیں، ان دو ماہ میں بچے وہ پڑھیں جو وہ پڑھنا چاہتے ہیں جبکہ انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گھنٹوں کھیلنے کا وقت دیں۔ موسمِ گرما بہت قیمتی ہوتا ہے۔ جب زندگی ایک بار جینی ہے تو بچوں سے تفریح کے مواقع کیوں چھینے جائیں؟

ایک سخت شیڈول پر عمل کروانے کے بجائے تفریح، لکھنے، کھیلنے اور دوستوں کے ساتھ رہنے سے بھی وہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور بڑے ہوسکتے ہیں۔ اسکول جانے والے بچوں کے لیے تعطیلات سے لطف اندوز ہونے کا بہترین طریقہ، اپنے مطابق پڑھنے یا دیگر سرگرمیوں میں وقت گزارنا ہے۔

چونکہ میں زیادہ تر تعلیم کے حوالے سے موضوعات پر لکھتا ہوں اس لیے اکثر نوجوان مجھ سے مشورہ طلب کرتے ہیں کہ مخصوص مضامین میں خود کو بہتر بنانے کے لیے انہیں کیا پڑھنا چاہیے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ انگریزی، اردو یا ریاضی میں کمزور ہیں تو موسم گرما کی تعطیلات کافی طویل مدت ہے کہ آپ کسی بھی ایسے شعبے میں اپنی مہارت حاصل کرسکیں۔

اگر آپ زبان سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ ایک پروگرام ترتیب دیں کہ جس میں آپ سن کر، مطالعہ اور لکھ کر متعلقہ زبان سیکھ سکتے ہیں۔ اب انٹرنیٹ کے اس دور میں یہ کام کرنا مشکل نہیں رہا۔ ایک یا دو گھنٹوں کی مسلسل کوششوں سے دو ماہ کی تعطیلات میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

مثال کے طور پر انگریزی کے لیے خبریں سنی جاسکتی ہیں یا انگریزی پروگرامز یا فلمیں دیکھنے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔ مطالعہ اور الفاظ کا ذخیرہ بہتر بنانے کے لیے اخبارات کے اداریے، نقطہ نظر یا کتابیں پڑھنا مؤثر طریقہ ہے۔ پڑھتے ہوئے یہ یقینی بنائیں کہ آپ اپنے ساتھ لغت رکھیں۔ لکھیں اور اپنا مواد ایسے لوگوں کو دکھائیں جو آپ کو فیڈ بیک دے سکیں۔ جو ثابت قدمی سے تعطیلات میں یہ کام کرے گا، اسے فرق واضح طور پر محسوس ہوگا۔

دیگر مضامین جیسے ریاضی یا پروگرامنگ کے لیے ایسے شخص کی مدد کی ضرروت پیش آئے گی جو اس میں ماہر ہوں۔ اب اس کے لیے استاد یا آن لائن ٹیوٹوریلز کی مدد لی جاسکتی ہے۔

جب درجہ حرارت زیادہ ہو تو بچوں کے لیے بالخصوص دن کے وقت باہر نکلنا بالکل بھی موزوں نہیں۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ ملک کے تقریباً تمام اسکولوں میں تعطیلات ہوتی ہیں۔  یہ بچوں کے لیے آرام کرنے کا منفرد اور بہترین موقع ہوتا ہے کہ جب وہ وقت کی پروا کیے بغیر سُستی سے اپنے کام کرسکتے ہیں۔ انہیں اس وقت وہ کام کرنے چاہئیں جو کرنے کا ان کا دل ہو، وہ کام نہیں جو ان پر مسلط کیے جائیں۔

یہ کھیل، دستکاری یا دیگر نئے ہنر کو آزمانے اور ان سے لطف اندوز ہونے کے لیے کافی وقت ہے۔ یہ مشکل چیزیں سیکھنے کے لیے بھی اچھا وقت ہوسکتا ہے۔ موسم گرما سفر کرنے، نئے لوگوں سے ملنے یا خاندان اور دوستوں کے قریب جانے کا بھی بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اپنے بچوں کو آرام کرنے اور مزہ کرنے دیں۔ اسکول کے کام کو ان کے لیے وہ اہم کام نہ بنائیں جو تعطیلات کے دوران ان کی توجہ کا مرکز بنیں۔

“Summer fun”. (“Dawn” Karachi. May23,2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں