ہم ایک ایسے دَور میں جی رہے ہیں جس میں دکھائی دینے والی طاقتوں سے زیادہ طاقتیں وہ ہیں جو بالکل دکھائی نہیں دیتیں۔ جو کچھ یہ نادیدہ طاقتیں کرتی ہیں، وہ وقت آنے پر بہت واضح دکھائی دیتا ہے اور ہم کچھ نہیں کر پاتے۔ دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے اور تیزی سے پختہ ہوتا جارہا ہے کہ ہم پر نادیدہ طاقتوں کی حکومت ہے یعنی ہم اگر چاہیں بھی تو اُن طاقتوں کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ نادیدہ طاقتیں کیونکر معرضِ وجود میں آتی ہیں، یہ بھی سمجھنا بہت دشوار ہے۔ کبھی کبھی بہت کچھ بہت آسانی سے سمجھ میں آنے لگتا ہے مگر پھر کچھ ہی دیر میں سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔
معاشی امور کے کلاسِکل مکتبِ فکر کے بانی ایڈم اسمتھ، اور بازارِ مال و زر کو کنٹرول کرنے والے اُس کے نادیدہ ہاتھ کے تصور سے ملٹن فرائیڈمین تک (جو نو سرمایہ دارانہ مکتبِ فکر کا اہم فکری ستون ہے) ریاست کا کردار معاشی ریگیولیٹر تک محدود رہا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست سے بھی طاقتور شخصیات اور گروہ ہیں جو معاملات کو اپنی مُٹھّی میں رکھتے ہیں اور اپنی مرضی کے ریاستی فیصلوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ساڑھے تین چار صدیوں کے دوران ریاست یا حکومت کا بنیادی کردار محض یہ رہا ہے کہ کھیل کے اصول طے کرے، معاشی منڈیوں کا نظم و نسق یقینی بنائے، استحکام برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرے یا پھر واضح حد تک اِس پورے کھیل سے باہر رہے۔
یہ ماڈل جامع نہ تھا اور اِسے بہت سی کمزوریوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی بھرپور کامیابی ہاتھ لگی اور کبھی شدید ناکامی۔ بہرکیف، دنیا بھر کے بڑے معاشی اداروں کے تجویز کردہ اصول اور قواعد حکومتوں کے لیے حوالوں کا ذریعہ بنے۔
جھٹکوں سے محفوظ ماحول کی تلاش
غیرمعمولی نشیب و فراز سے پاک معاشی اور مالیاتی ماحول میں سرمایہ دارانہ ماڈل نے غیرمعمولی اور قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔ جب طلب و رسد کی قوتوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا گیا تب مصنوعات اور محنت کی منڈی میں توازن اور استحکام پیدا ہوا۔ اِس کے نتیجے میں افراطِ زر کو قابو میں رکھنا ممکن ہوسکا اور معاشی منصوبوں کی بنیاد کے وسیع ہونے سے روزگار کے مواقع بہت بڑی تعداد میں بہت تیزی سے پیدا ہوئے۔
معاشی قوتوں کو آزادی کے ساتھ کام کرنے دینا اِس اعتبار سے بھی بہت سُودمند رہا کہ جدت کا بازار گرم ہوا اور خوشحالی کا گراف بلند ہوا۔ اِس کے نتیجے میں صنعتی اور ٹیکنالوجیکل انقلابات کی راہ ہموار ہوئی اور یوں نئی دنیا معرضِ وجود میں آئی۔ ہم اِسی نئی دنیا کا حصہ ہیں۔
معاشی ماڈل کی حدود
خیر، تاریخ ہمیں اِس معاشی ماڈل کی کمزوریوں کے درشن بھی کراتی ہے۔ ۱۹۳۰ء کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن سے ۲۰۰۸ء کے مالیاتی بحران تک بحرانی لمحات نے ہمیں باور کرایا ہے کہ معاشی منڈیاں اپنے طور پر اِس نظام کو نشیب و فراز کے مراحل سے محفوظ رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔
۱۹۳۰ء کی دہائی کے دوران کینیزین مداخلت نے معیشتوں کو مکمل بربادی سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ۲۰۰۸ء میں بھی معیشتوں کو شدید بحرانی کیفیت سے بچانے اور مالیاتی حوالے سے بھرپور اعتماد دوبارہ پیدا کرنے میں حکومتی سطح کی مداخلت نے اپنے حصے کا کام بخوبی کیا۔ اِن بحرانی کیفیتوں اور مشکل لمحات نے بارہا ثابت کیا کہ ریاست کو معاشی امور میں محض ریگیولیٹر کا نہیں بلکہ ریسکیو ورکر کا کردار بھی ادا کرنا ہے۔
ریاست مداخلت کا نیا دَور
اب ہم معاشی امور میں ریاستی مداخلت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو محض نظریاتی نوعیت کی نہیں بلکہ ضرورت کا پیدا کردہ ہے۔ سیاسی اور تزویراتی کشیدگی، نازک سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کی سطح پر پائی جانے والی انتہائی نوعیت کی مسابقت نے عالمگیر سطح پر معاشی نقشوں کو نئے سِرے سے ترتیب دینا شروع کیا ہے۔ حکومتیں انتہائی حساس اور اہم ٹیکنالوجیز میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں، توانائی کے حوالے سے معاملات کو قابو میں رکھنے پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ حکومتیں سیمی کنڈکٹرز اور دوسری بہت سی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ مخصوص، اہم معدنیات کے حصول اور تحفظ کو قومی مفادات میں شمار کر رہی ہیں۔
بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں بھی معیشت کی سُست روی نے حکومتی سطح پر بہت کچھ خرچ کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری بنیادی ڈھانچے، ہمہ وقت ڈیجیٹل رابطوں، مہارتوں اور جدت کے معاملے میں ہے۔
سوال صرف طلب کا نہیں!
معاشی معاملات میں طلب کو برقرار رکھنا بھی ایک لازمی ضرورت ہے۔ حکومتیں اِس حوالے سے بھی اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہیں تاہم فی زمانہ معاشی معاملات میں ریاستی یا حکومتی مداخلت کا بنیادی مقصد محض طلب کو مضبوط یا برقرار رکھنا نہیں۔ یہ تو مستقبل کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کا معاملہ ہے۔ حکومتیں اِس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ اُن کی معیشتیں اِتنی مضبوط ہوجائیں کہ مصنوعی ذہانت کے سامنے آجانے کی صورت میں پیدا ہونے والے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے میدان میں ڈٹی رہیں۔
کسی بھی قسم کی بڑی تبدیلیاں اپنے ساتھ بہت سے خطرات بھی لیے ہوئے ہوتی ہیں۔ اِس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ جو حکومتیں ایک طویل مدت سے ریگیولیٹر کی حیثیت سے کام کرتی آئی ہیں، اب انہیں جدت طرازی کی راہ پر گامزن ہونا ہے۔ ایک بڑا چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مداخلت سے کوئی بڑا اثر پیدا ہو یعنی سرکاری خزانے سے خرچ کیے جانے کی صورت میں حقیقی تبدیلی رونما ہو، نہ کہ نااہلی اور خراب کارکردگی۔
جدت طرازی کی بنیاد پر کام کرنے والی کسی بھی حکومت کے لیے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈیٹا اور ٹیکنالوجی کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا، بحرانوں کا بہت پہلے سے اندازہ لگا لینا اور ڈیجیٹل دَور میں غیرمعمولی رفتار اور قطعیت کے ساتھ کام کرنے والی ریاست کی تشکیل۔
اسمارٹ ٹیکنالوجیز
کووِڈ کے پیدا کردہ بحران نے ایک بڑی حقیقت کو نمایاں کردیا۔ یہ کہ پہلے ہی سے دباؤ کا شکار ہونے والے حکومتی بجٹ بڑے پیمانے کی مستقل مداخلت کا سامنا نہیں کرسکتے۔ ٹیکنالوجی کی مہربانی ہے کہ حکومتوں کو اب کم خرچ میں بہت کچھ کرنے کی گنجائش مل رہی ہے۔ ذہین تر نظام، تیز ڈلیوری اور حقیقی وقت کی بصیرت سے ہدایت یافتہ پالیسیاں درکار ہیں نہ مخالفانہ نوعیت کا ڈیٹا۔
جدت کے اپنے اپنے ماڈل
ہر قوم کو اب جدت کے حوالے سے اپنا ماڈل خود تیار کرنا ہے۔ اُسے اپنی سکت اور تناظر کو ذہن نشین رکھنا ہے۔ دوسری طرف دورِ حاضر کے پیدا کردہ بحرانوں کا سامنا بھی کرنا ہے۔ حکومتوں کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے خود کو اُس کے مطابق کام کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
حکومتوں کو اب ترجیحات کے تعین کے معاملے میں غیرمعمولی حاضر دماغی، بصیرت اور دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ کساد بازاری کے دور میں کسی بھی معیشت پر مرتب ہونے والا دباؤ اسٹریٹجک دباؤ میں پیدا ہونے والی کیفیت سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ ہدف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں بلکہ حکمرانی بہتر ہونی چاہیے۔ جدت کو بروئے کار لانے پر توجہ دی جانی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کو بھی موثر قیادت کے ٹُولز کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
عشروں تک نجی شعبے اور آزاد منڈی کو طاقت بخشنے کے سرمایہ دارانہ تصور نے عالمگیر ترقی کی راہ ہموار کی ہے۔ تبدیلی کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ اب معاملہ معاشی منڈی یا ریاست کا نہیں رہا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ حکومتیں کس طور ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر عوام کے لیے ڈھنگ سے کچھ ڈلیور کرسکتی ہے۔
آج کے قائدین کو گزرے ہوئے اَدوار کے بنیادی تصورات سے ہٹ کر، بہت آگے جاکر سوچنا ہوگا۔ اُنہیں ایسی حکومتیں قائم کرنے پر متوجہ رہنا ہوگا جو حالات پر بھرپور نظر رکھتی ہوں، ڈیجیٹل معاملات میں انتہائی نوعیت کی صلاحیت کی حامل ہوں، نتائج کا خاص خیال رکھتی ہوں اور ماحول ایسا ہو کہ سرکاری سطح کی مداخلت کنٹرول کے لیے نہیں بلکہ مزید ترقی کی راہ ہموار کرنے اور کاروباری اداروں کو زیادہ سکت کا حامل بنانے کے لیے ہوں۔ اکیسویں صدی میں حکمرانی کا اصل کام نادیدہ ہاتھ اور سخت گیر ریاستی ڈھانچے میں سے کسی کو منتخب کرنے کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارت کو احسن طریقے سے بروئے کار لانا ہے۔ اب حکومتوں کو گاڑی درست راہ پر چلانی ہے، کاروباری دنیا اور ریاستی مشینری کو زیادہ طاقتور بنانا اور ڈلیور کرنا ہے۔
(مترجم: ابو صباحت)
“Between the invisible hand and government intervention: Governing in the age of technology”. (“The Globalist”. Nov 5, 2025)