کئی دہائیوں تک جاری رہنے والے جہاد اور مزاحمت کے سفر کے بعد کمانڈر محمد الضیف کی طوفان الاقصیٰ کی جنگ میں شہادت کا اعلان کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ’طوفان الاقصیٰ‘ معرکے کی قیادت کی اور ملٹری کونسل میں اپنے بھائیوں کے ساتھ فلسطینی عسکری منظر نامے اور فلسطین کی جدید تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہوئے اپنے رب سے جا ملے۔
۳۰ جنوری کی شام ایک ٹیپ شدہ ویڈیو تقریر میں القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ فخر اور غیرت کی تمام نشانیوں کے ساتھ ،تمام ضروری طریقہ کار کو مکمل کرنے اور جنگی میدان کے حالات کی طرف سے عائد تمام حفاظتی احتیاطوں سے نمٹنے ، ضروری تصدیق اور تمام متعلقہ اقدامات کرتے ہوئے القسام بریگیڈز اعلان کرتا ہے کہ ہمارے عظیم سپوتوں ، ہماری قوم اور دنیا میں آزادی اور مزاحمت کی علامت شہید عزالدین القسام بریگیڈز کی جنرل ملٹری کونسل کے سربراہ محمد الضیف اور کونسل کے دیگر ممبران جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
القسام بریگیڈز کی بانی نسل
نوے کی دہائی سے محمد الضیف کا نام فلسطینی مزاحمت سے جڑا ہوا ہے۔ وہ القسام کے مجاہدین کی پہلی نسل کے جوانوں میں سے ایک تھے۔وہ بہادری، جرأت اور مزاحمت کی علامت بن گئے، لیکن فلسطینی عسکری منظر نامے میں انہوں نے گہرے اثرات چھوڑے۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے تک الضیف نے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کی قیادت کی۔ انہیں صہیونی دشمن نے شہید کرنے کی بار بار بزدلانہ ناکام کوششیں کیں مگر وہ ہر بار چکمہ دے کر دشمن کو مایوس کردیتے۔ انہوں نے طوفان الاقصیٰ کی جنگ کا راستہ چنا، اس کا منصوبہ ڈیزائن کیا جس نے قابض دشمن کو ذلیل و رسوا کیا اور اس کے ناقابل شکست ہونے کے گھمنڈ کو پاش پاش کردیا۔ یہ الضیف کی شاندار حکمت عملی تھی کہ غزہ کے قریب تعینات اسرائیلی فوجی ڈویژن تمام تر اسلحے، جنگی سازو سامان اور ٹیکنالوجی کے باوجود القسام کے مٹھی بھر جانثاروں کے سامنے ڈھیر ہوگیا تھا۔
آبائی تعلق
محمد الضیف شہید کا اصل نام محمد دیاب ابراہیم المصری تھا۔ وہ ۱۹۶۵ء میں جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس پناہ گزین کیمپ میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو ۱۹۴۸ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے بے گھر ہو نے کے بعد غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں آباد ہوگیا تھا۔
الضیف کا خاندان ۱۵؍ افراد پر مشتمل تھا ۔ ان کے والد رضائیاں بھرنے کی صنعت میں کام کرتے تھے۔ الضیف نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم خان یونس کیمپ کے اسکولوں میں حاصل کی۔ وہ باقی فلسطینی پناہ گزینوں کی طرح اپنے گھروں، زمینوں اور جائیدادوں سے جبری بے دخلی کا صدمہ لے کر پروان چڑھ رہے تھے۔
وہ مزاحمت کے ماحول میں پلے بڑھے اور چھوٹی عمر سے ہی قابض دشمن کی حقیقت اور پناہ گزین کے طور پر سخت حالات سے متاثر ہوئے۔ جس کی وجہ سے وہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران اسلامی تحریک کی صفوں میں شامل ہو گئے۔ یونیورسٹی میں انہوں نے سائنس کی تعلیم حاصل کی اور حماس کی حامی طلبا تنظیم ’’اسلامک بلاک‘‘ کے کارکن بنے۔
حماس میں شمولیت
محمد الضیف اپنے ابتدائی بچپن سے ہی حماس میں شامل ہوئے اور اس میں ایک سرگرم رکن رہے۔ انہوں نے ۱۹۸۷ء کے آخر میں شروع ہونے والی عظیم انتفاضہ کی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہیں قابض اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کرلیا۔ ۱۹۸۹ء کے موسم گرما میں تحریک کے عسکری ونگ میں شمولیت کے الزام میں انہیں جب گرفتار کیا گیا تو اس وقت حماس کی قیادت شیخ صلاح شحادہ کے پاس تھی۔ شحادہ ۲۰۰۲ء کے موسم گرما میں شہید ہو گئے تھے۔ اس وقت حماس کے عسکری ونگ کو ’’حماس المجاہدین‘‘ کہا جاتا تھا۔ بعد میں اس کا نام بدل کر ’’القسام بریگیڈز‘‘ رکھ دیا گیا۔
۱۹۹۱ء میں قابض اسرائیلی حکام نے الضیف کو رہا کیا تو وہ القسام بریگیڈز کے اولین رکن مقرر ہوئے۔ انہوں نے عسکری آلات کی تشکیل نو کی۔اس وقت ان کے ساتھ شامل ہونے والے یاسر النمروت، جمیل وادی، ہشام عامر، عبدالرحمن حمدان اور محمد عاشور شہید ہوگئے تھے۔
الضیف کئی فدائین کارروائیوں میں حصہ لینے اور قابض افواج کے ساتھ جھڑپوں میں حصہ لینے کے بعد قابض فوج کو مطلوب ترین افراد میں شامل ہوئے۔ تاہم انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ لہٰذا تاریخ کا سب سے طویل تعاقب ایک چھوٹے اور تنگ جغرافیائی علاقے میں شروع ہوا۔ اس عرصے کے دوران وہ مسلسل اپنی جگہ بدلتے اور دشمن کو چکمہ دیتے رہے۔ دُشمن انہیں زندہ یا مردہ پکڑنے کے لیے کوشاں رہے۔
الضیف کا کردار عماد عقل کی قاتلانہ حملے میں شہادت کے بعد نمایاں ہوا،نومبر ۱۹۹۳ء میں ان کا نام فدائین آپریشنز کے سلسلے میں نمایاں تھا۔ عماد عقل کے بعد محمد الضیف کو ’’القسام بریگیڈز‘‘ کی قیادت سونپی گئی۔ اس عرصے کے دوران الضیف کئی معیاری کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انجام دینے میں کامیاب رہے۔ وہ مقبوضہ مغربی کنارے تک پہنچنے اور وہاں کئی خودکش سیل بنانے، الخلیل شہر میں کئی خودکش کارروائیوں میں حصہ لینے اور غزہ واپس آنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے ۱۹۹۴ء میں القدس کے قریب بیر نابالہ قصبے میں صہیونی فوجی ناچشون واچسمین کے اغوا کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جسے ان کے اغوا کاروں کے ساتھ ان کے مقام کا انکشاف ہونے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
الضیف ایک بندوق اور واچسمین کا شناختی کارڈ لے کر منظر عام پر آئے۔ انہیں مغربی کنارے سے غزہ کی پٹی اسمگل کیا گیا تھا، اور انہوں نے سرخ کوفیہ سے منہ ڈھانپ رکھا تھا۔
جیسے ہی غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل نے مطلوب افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا، الضیف نے گرفتاری یا شہید ہونے کے خوف سے غزہ کی پٹی چھوڑنے کی درخواست سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم قابض ریاست کے خلاف مزاحمت کے لیے بنائے گئے ہیں یا تو ہم فتح حاصل کریں گے یا شہادت کے منصب پر فائز ہوں گے‘‘۔
مغربی کنارے میں دھماکا خیز مواد کے ماہرین میں سے ایک انجینئر یحییٰ عیاش تھے۔ وہ غرب اردن سے غزہ کی پٹی میں آگئے، جب مغربی کنارے میں ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا تھا۔ الضیف نے دھماکا خیز مواد کی تیاری میں ان کے تجربے سے استفادہ کیا۔ عیاش کو صہیونی دشمن نے ۱۹۹۶ء کے اوائل میں ایک بوبی ٹریپ فون کے ذریعے شہید کر دیا تھا۔
ضیف نے یحییٰ عیاش کا انتقام لینے کا عزم کیا۔ انہوں حسن سلامہ کو یحییٰ عیاش کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے مغربی کنارے بھیجا جہاں انہوں نے فدائی کارروائیوں کی نگرانی کی۔
۱۹۹۶ء کے موسم بہار میں عیاش کا بدلہ لینے کی کارروائیاں کرنے کے بعد ضیف مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ صہیونی فوج نے ان کی گرفتاری کے لیے مہم تیز کردی۔ قابض فوج نے غرب اردن میں بھی گرفتاری مہم شروع کی جس میں سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی نے بھی گھر گھر تلاشی کی مہم شروع کی۔ اس نے محمد الضیف کو بھی حراست میں لے لیا۔
اس نے یہ بہانہ کیا کہ چونکہ اسرائیل ان کا تعاقب کررہا ہے۔ اس لیے انہیں صہیونی بمباری سے بچانا ہے، مگر امریکیوں کی باجگزار فلسطینی اتھارٹی ایک اور چال چل رہی تھی۔ اس وقت اتھارٹی نے امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے تفتیش کاروں کو الضیف سے تفتیش کی اجازت دی جنہوں نے محمد الضیف پر دوران حراست بدترین تشدد کیا تھا۔ بعد ازاں الضیف غزہ میں پریونٹیو سکیورٹی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور دوبارہ القسام سیل بنانے میں لگ گئے۔ انہوں نے ستمبر ۲۰۰۰ء میں انتفاضہ الاقصیٰ شروع ہونے تک مزید کارروائیاں کرنے کی تیاری شروع کر دی۔
۲۰۰۱ء میں قابض حکام کی طرف سے الشیخ صلاح شحادہ کی رہائی کے ساتھ ہی ضیف نے فوجی سازوسامان کی قیادت الشیخ شحادہ کو سونپ دی، کیونکہ شحادہ نے ضیف کو بٹالین کی فوجی صنعتوں کی ذمہ داری سونپ دی تھی جس میں انہوں نے ترقی کی اور اس میں مہارت حاصل کی۔
انتفاضہ شروع ہونے کے ایک سال بعد الضیف کو پہلی ناکام قاتلانہ کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ ۲۲؍اکتوبر ۲۰۰۴ء کو کی گئی اس کارروائی میں ان کے ساتھی عدنان الغول شہید ہوگئے۔ وہ القسام بریگیڈز میں دھماکا خیز مواد کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ حملے میں ان کا بیٹا بلال بھی شہید ہوگیا۔ ایک صہیونی طیارے نے ’’جحر الدیک‘‘ قصبے میں ان پر میزائل داغا جس میں عدنان الغول اور ان کا بیٹا بلال شہید اور الضیف معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔
فوجی قیادت
۲۰۰۲ء کے موسم گرما میں صلاح شحادہ کی شہادت کے بعد تحریک کی قیادت نے الضیف کو عسکری امور کی قیادت کی ذمہ داری واپس کر دی۔
۲۶؍ ستمبر ۲۰۰۲ء کو صلاح شحادہ کی شہادت کے تین ماہ بعد الضیف دوسری قاتلانہ کوشش میں بھی بچ گئے جب کہ ان کے دو ساتھی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔
فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ الضیف کو تیسری مرتبہ قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جب ۲۰۰۶ء کے موسم گرما میں اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی فوجی آپریشن کے دوران ایک گھر پر بمباری کی گئی، جہاں یہ کہا گیا کہ وہ شدید زخمی ہوگئے تھے تاہم القسام بریگیڈز نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
کمان سنبھالنے کے بعد سے الضیف نے قابض اسرائیلی دشمن کے خلاف متعدد خودکش کارروائیوں کی ہدایت کی۔ ان کا شمار حماس کی عسکری صلاحیتوں کو فروغ دینے میں سب سے نمایاں انجینئروں میں ہونے لگا۔ انہوں نے مقامی سطح پر راکٹ سازی اور فوجی سرنگوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کی ایک نئی جنگی ترکیب اختیار کی۔
طوفان الاقصیٰ کی قیادت
۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو الضیف نے طوفان الاقصیٰ کی جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس آپریشن کی خود نگرانی کی۔ اس کے بعد میدان میں اُتر گئے اور شہادت تک دشمن سے لڑتے رہے۔
طوفان الاقصیٰ کی کئی ایک وجوہات تھیں۔ ان میں قابض صہیونی دشمن کا توسیع پسندانہ اور غاصبانہ طرز عمل، تنازعات کے حل کے بجائے فلسطین پر قبضے کی سازشیں کرنا، القدس اور مقدس مقامات پر صہیونی اجارہ داری اور حاکمیت مسلط کرنا، مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازشیں تیار کرنا اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کا قیام اہم وجوہات تھیں۔
ناکام قتل اور آہنی عزم
اگرچہ اسرائیل نے محمد ضیف کے خلاف قتل کی کئی کوششیں کیں، لیکن وہ ان سب میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے۔ان میں سے کچھ حملوں میں انہیں شدید چوٹیں بھی آئیں۔ ان میں سے سب سے خطرناک کوشش ۲۰۱۴ء میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران ہوئی، جب قابض طیاروں نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا۔ اس جارحیت میں ان کی اہلیہ اور بیٹا شہید ہوگئے تھے لیکن الضیف ملبے کے نیچے سے نکل کر ایک بار پھر میدان کارزار میں پہنچ گئے۔
جنگ میں موجود ایک شیڈو لیڈر
محمد الضیف میڈیا میں بہت کم دکھائی دیے۔ان کے بارے میں صرف چند آڈیو ریکارڈنگز معلوم ہوئی ہیں، لیکن وہ قابض دشمن کے ساتھ ہر محاذ آرائی میں پیش پیش رہتے، کیونکہ انہیں فوجی حکمت عملیوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس نے قابض ریاست کے خلاف مزاحمت اور جنگ کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
۲۰۲۱ء میں ’’سیف القدس‘‘ کی جنگ کے دوران یروشلم اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں تل ابیب کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی حکمت عملی کے پیچھے الضیف کا ہاتھ تھا، جس نے ایک نئی ڈیٹرنس کو نافذ کیا۔
اسرائیل کا نمبر ون دشمن
کئی دہائیوں سے قابض اسرائیل نے محمد ضیف کو اپنی مطلوب افراد فہرست میں سرفہرست رکھا۔ انہیں صہیونی ریاست کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی سب سے خطرناک فلسطینی شخصیت تصور کیا جاتا تھا۔ تمام تر انٹیلی جنس کوششوں کے باوجود قابض دشمن ان تک پہنچنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے وہ ایک افسانوی اور خوفناک خواب بن کر رہ گئے۔ ان کی وجہ سے دشمن کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ وہ دشمن کے ہاتھ زندہ تو نہ لگے، مگر اپنی شہادت کی تمنا پوری کرتے ہوئے دشمن کی جارحیت کا نشانہ بن کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔
قائد محمد الضیف ایک شہید کے طور پر رخصت ہو گئے، لیکن ان کی بھرپور تاریخ اور اور مسئلہ فلسطین پر ان کے اثرات ان کے فنگر پرنٹس کی طرح موجود رہیں گے۔ وہ فلسطینی مزاحمت، ثابت قدمی اور بہادری کی ایک مثال کے طور پر دیکھے جائیں گے اور ان کا نام ہمیشہ حریت پسندوں اور زندہ ضمیر انسانوں کے لیے حوصلے، عزم اور طاقت کا ذریعہ ثابت ہوگا۔
(بحوالہ: ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘۔ یکم فروری ۲۰۲۵ء)