مالدیپ توازن کی جانب گامزن؟

جنوری ۲۰۲۵ء میں مالدیپ کے وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع نے نئی دہلی کا ہائی پروفائل دورہ کیا۔ مالدیپ میں اِس وقت جو حکومت ہے، وہ بھارت مخالف جذبات کی لہر پر سوار ہوکر آئی تھی مگر اب اُس نے اپنی طرزِ فکر و عمل تبدیل کرلی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے غیرمعمولی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں کہ صدر محمد معزو بھارت کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہے تھے اور بھارت مخالف بیانیہ اپنانے کی بنیاد پر انہوں نے ووٹ بھی لیے مگر جب زمینی حقیقتوں کے آئینے میں معاملات کو دیکھا تو وہ اپنی سوچ بدلنے پر مجبور ہوئے۔ اب وہ بھارت سے معاشی اشتراکِ عمل کے ذریعے تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اسٹریٹجک معاملات میں بھی وہ بھارت کے خلاف جانے سے گریز کی راہ پر گامزن ہیں۔

حالیہ برسوں میں مالدیپ کو بھارت کے حوالے سے پالیسی بدلنے پر کئی بار مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اُسے بھارت اور چین سے تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہے۔ یہ بیلینسنگ ایکٹ اُس کے لیے ناگزیر ہے۔ مالدیپ کا منفرد محلِ وقوع اُسے اسٹریٹجک اعتبار سے غیرمعمولی حد تک ہدف پذیر بناتا ہے۔ اگر مالدیپ چاہتا ہے کہ اپنی خودمختاری اور غیرجانبداری برقرار رکھے تو اُسے بیجنگ اور دہلی سے اپنے تعلقات بہتر رکھنے چاہئیں اور دونوں ہی ممالک کو مطلوب اسٹریٹجک کردار کے حوالے سے کھل کر بتانا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ مالدیپ کو جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر ملحق خطوں کے ممالک سے بھی تعلقات بہتر بنانے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اس کے نتیجے میں اس کی معیشت میں تنوع پیدا ہوگا اور وہ بہت حد تک خود کفالت کی راہ پر رواں ہوگا۔

مالدیپ کے وزیرِ خارجہ عبداللہ خلیل نے جنوری میں بھارت کا دورہ کیا اور دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے پر بات چیت کی۔ معزو انتظامیہ نے ۲۰۲۳ء کے دوسرے نصف اور ۲۰۲۴ء کے پہلے نصف کے دوران غیرمعمولی بھارت مخالف رویہ اپنایا تھا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور معاملات اس حد تک بگڑے تھے کہ بھارت نے مالدیپ کی معیشت کے لیے مشکلات پیدا کی تھیں اور مالدیپ کی حکومت کو فوری طور پر چین کی طرف جھکنا پڑا تھا۔

معزو انتظامیہ کے ابتدائی دنوں میں مالدیپ کی مرکزی کابینہ کے چند ارکان کی طرف سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے بارے میں اہانت آمیز ریمارکس دیے جانے پر نئی دہلی نے شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا۔ جب نئی دہلی نے احتجاج کیا تو مالدیپ کے وزرا نے لچک دکھانے اور معذرت چاہنے کے بجائے معاملات کو مزید بگاڑا۔ نئی دہلی نے اپنی سیاحوں کو مالدیپ جانے سے روک دیا۔ اس سے مالدیپ کی معیشت کو دھچکا لگا اور یوں مالدیپ کو معاشی بحالی کے لیے فوری طور پر چین سے رابطہ کرنا پڑا۔

مالدیپ کا چین کی طرف جھکنا کارگر ثابت نہ ہوا۔ مالدیپ کے معاشی بحران کو ختم کرنے میں چین قابلِ ذکر اور کارگر کردار ادا کرنے سے قاصر رہا۔ مالدیپ کو مالیاتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر چینی قیادت تذبذب میں مبتلا رہی۔ اس کے نتیجے میں مالدیپ کے لیے اپنی مشکلات پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوگیا اور پھر وہ مجبور ہوا کہ دوبارہ نئی دہلی کی طرف دیکھے، اُس سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ بھارت نے مثبت رویے کا مظاہرہ کیا۔ مالدیپ کے قرضے ادا کرنے میں بھارت نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں دوطرفہ تعلقات بہتر ہوئے۔

جب مالدیپ نے بھارت کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا تو بھارتی قیادت بھی اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی اور اگست ۲۰۲۴ء میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے مالدیپ کا دورہ کیا۔ اس دورے نے دوریاں گھٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس موقع پر مالدیپ کے صدر محمد معزو نے بھارت کو اپنے قریب اتحادیوں میں شمار کیا۔ انہوں نے اُن افسران اور وزرا سے استعفے بھی لیے جنہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے لیے اہانت آمیز باتیں کہی تھیں۔ سوشل میڈیا سے متعلقہ پوسٹیں ڈیلیٹ بھی کروا دی گئیں۔ بھارت سے کیے گئے دفاعی معاہدوں پر نظرثانی کے حوالے سے مالدیپ کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جانے والی درخواستیں سرد خانے میں ڈال دی گئیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ مالدیپ کی حکومت اب بھارت کو ناراض کرنے کے موڈ میں نہیں۔

عبداللہ خلیل نے معاشی بحالی، تجارت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے بات چیت کی۔ بھارت نے مالدیپ سے مالیاتی تعاون جاری رکھا۔ ۲۰۲۴ء میں اُس نے مالدیپ کو ۴۰ کروڑ ڈالر دیے تھے۔ اس رقم کی مدد سے مالدیپ کی حکومت نے مالیاتی مشکلات دور کیں۔ بھارتی قیادت نے بھی ثابت کیا کہ وہ بحرِ ہند کے خطے میں مالدیپ جیسے ملک کو خواہ مخواہ ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ دونوں ممالک کے درمیان لوکل کرنسی سیٹلمنٹ معاہدے کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے تاکہ بیرونی کرنسیوں پر انحصار کم کیا جاسکے۔ عبداللہ خلیل نے کہا کہ اس بات چیت کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت کے حوالے سے پائی جانے والی تمام الجھنیں دور ہوں گی اور دونوں ممالک بڑے پیمانے پر تجارت کرسکیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ عبداللہ خلیل نے بحرِ ہند کے خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے بھارت کے کردار کو بھی تسلیم کیا اور سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک بحرِ ہند کے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھارت اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

کچھ ہی دن بعد مالدیپ کے وزیرِ دفاع محمد غسان مامون نے بھی نئی دہلی کا دورہ کیا۔ محمد معزو کے صدر منتخب ہونے کے بعد یہ مالدیپ کے وزیرِ دفاع کا بھارت کا پہلا دورہ تھا۔ محمد غسان مامون نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے بات چیت کی جس میں مالدیپ کی فوج کی استعداد بڑھانے سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس حوالے سے مشترکہ مشقیں تجویز کی گئیں۔ دونوں وزرائے دفاع نے دفاعی اشتراکِ عمل پر مشاورت کی۔ یاد رہے کہ مالدیپ کے صدر محمد معزو نے اپنی سرزمین پر تعینات بھارتی فوجیوں کو نکال دیا تھا مگر پھر انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اب دونوں ممالک علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک وسیع تر اور جامع میکینزم تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ سب کچھ اکتوبر ۲۰۲۴ء میں محمد معزو اور نریندر مودی کے درمیان طے پانے والی وژن فار کمپری ہینسو اکنامک اینڈ میری ٹائم پارٹنرشپ کے مطابق ہے۔ مالدیپ نے ۲۰۲۴ء میں چین کے ساتھ بھی ایک دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ مالدیپ کے وزیرِ دفاع محمد غسان مامون کے نئی دہلی کے حالیہ دورے کو چین اور بھارت کے درمیان بیلینسنگ ایکٹ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

بھارت روایتی طور پر مالدیپ کا نمایاں ترین حلیف رہا ہے تاہم حالیہ چند برسوں کے دوران مالدیپ بظاہر بھارت اور چین کے درمیان تھوڑا سا الجھ کر رہ گیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے پر سبقت لیے جانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ۲۰۱۴ء میں شروع ہوا، جب مالدیپ نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ کا حصہ بننا قبول کیا۔ بھارت نے چین کی موجودگی میں اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مالدیپ کے معاملے میں چھڑی اور گاجر والی حکمتِ عملی اختیار کی۔ تب مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین تھے۔ اس کے بعد دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کی ابتدا ہوئی۔ بھارت نے مالدیپ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات پر سوال بارہا اٹھایا ہے۔ مالے کی بندرگاہ پر چینی جہازوں کے لنگرانداز ہونے پر بھی بھارت کو اعتراض ہے کیونکہ اس بندرگاہ کے نزدیک ہی بھارت کی بھی نوتعمیر شدہ بندرگاہ ہے۔

اس کے بعد مالدیپ میں بننے والی حکومتوں نے بھارت کو بہت حد تک نظرانداز کرکے چین کی طرف جھکنے کو ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے بھی ناگزیر تھا کہ مالدیپ کی معاشی پریشانیاں بہت زیادہ تھیں اور وہ چین کی طرف سے دوستی اور تعاون کا ہاتھ بڑھائے جانے کی توقع کر رہا تھا۔ مالدیپ کو اپنے مخصوص محلِ وقوع کے باعث بھی خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے میں لازم تھا کہ وہ چین جیسے بڑے ملک کو قریبی حلیف بنائے۔ بیرونی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے باعث مالدیپ کو دو بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات اور اشتراکِ عمل کے حوالے سے توازن برقرار رکھنے میں غیرمعمولی الجھنوں کا سامنا رہا ہے۔ اُسے اپنی خود مختاری اور استحکام کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے۔

بیرونی امداد پر انحصار مالدیپ کی بنیادی مجبوری ہے۔ یہ ملک چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ہے۔ ماحول کے ہاتھوں بھی مالدیپ کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔ معیشت کمزور ہے۔ صرف سیاحت سے ہونے والی آمدنی پر گزارا ہے۔ سی فوڈ کی برآمد سے بہت کچھ حاصل ہوسکتا ہے مگر اس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ملک خود کفالت کی راہ پر زیادہ دور تک گامزن نہیں رہ پاتا۔ جی ڈی پی میں سیاحت کا حصہ ۷۰ فیصد سے زائد ہے۔ بڑے پیمانے پر زراعت ممکن ہے نہ مینوفیکچرنگ۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کے لیے درآمدات پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ کووڈ کے بعد روس اور یوکرین کی جنگ بھی مالدیپ کی معیشت پر بہت حد تک اثرانداز ہوئی ہے۔

چین نے مالدیپ میں کئی پُل اور ایک بڑا ایئر پورٹ تعمیر کیا ہے۔ یہ سب کچھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٔٹو کی بدولت ممکن ہوسکا۔ مالدیپ کی بیشتر درآمدات چین سے ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین سے تجارت میں مالدیپ کو صرف خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس وقت مالدیپ پر ۴۲ فیصد بیرونی قرضے چین کے ہیں۔ چین پر اُس کا غیرمعمولی انحصار خرابیاں پیدا کرتا رہا ہے۔ آزاد تجارت کے معاہدے کے تحت چین اپنا مال بہت بڑے پیمانے پر مالدیپ میں ڈمپ کرتا رہا ہے۔ ایسے میں مالدیپ کی اپنی صنعتیں برائے نام رہ گئی ہیں۔

روایتی طور پر بھارت ہی مالدیپ کا حلیف رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان قربت نے اِن میں اشتراکِ عمل کے لیے ہمیشہ گنجائش پیدا کی ہے۔ دونوں ممالک سلامتی سے متعلق امور میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے رہے ہیں۔ بھارت نے مالیاتی بحرانوں سے نپٹنے میں مالدیپ کی بھرپور معاونت کی ہے۔ بھارت نے مالدیپ میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے حوالے سے وہ تیزی نہیں دکھائی جو چین نے دکھائی ہے۔ چین نے مالدیپ کے بنیادی ڈھانچے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے نتیجے میں کبھی کبھی مالدیپ کا چین کی طرف جھکنا بنتا بھی ہے۔ بھارت پر مالدیپ کے معاملات میں کچھ زیادہ مداخلت کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔ چین نے ایسا کرنے سے اب تک مکمل گریز کیا ہے۔

مالدیپ کے لیے بہتر نہیں کہ بار بار پالیسیاں بدلتا رہے۔ اُسے ایسی متوازن پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جو چین اور بھارت سے اُس کے تعلقات کو کسی بھی صورت داؤ پر نہ لگائیں۔ بار بار پالیسیاں بدلنے سے مالدیپ دونوں ہی علاقائی طاقتوں کی نظر میں بے اعتبار ٹھہر سکتا ہے۔ مالدیپ کو خارجہ پالیسی کی بنیاد شفاف رکھنی چاہیے تاکہ کسی کو کسی بھی طرح کا غلط پیغام نہ جائے۔ اپنے اسٹریٹجک مقاصد میں شفافیت کا اہتمام کرکے مالدیپ دونوں ہی بڑی طاقتوں سے اپنے تعلقات متوازن رکھ سکتا ہے۔

مالدیپ کو نئی دہلی اور بیجنگ سے اپنی بات کسی بھی نوع کے ابہام کے بغیر کہنی چاہیے۔ اُسے یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ وہ اِن طاقتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے اِن سے معقولیت پر مبنی تعلقات استوار رکھنے کا خواہشمند ہے تاکہ خطے کا امن و استحکام برقرار رہے۔ ایک طرف تو چین سے بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کی خواہش ظاہر ہونی چاہیے اور دوسری طرف بھارت پر بھی واضح کردینا چاہیے کہ معاشی اور علاقائی سلامتی یقینی بنائے رکھنے میں اس کا بھی غیرمعمولی کردار ہے جو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مالدیپ کو چین اور بھارت پر یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس کی تمام پالیسیاں خود مختاری یقینی بنانے کے لیے ہیں نہ کہ بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کا نتیجہ۔

مالدیپ کو خطے کے دیگر ممالک سے تعلقات استوار کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ اس کے لیے سیاسی، سفارتی اور معاشی تنوع کا اہتمام ہو۔ چین یا بھارت پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بجائے مالدیپ کو بہت سے ممالک سے متوازن تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ آسیان کے رکن ممالک سے تعلقات بہتر بناکر مالدیپ اپنے لیے معاشی اور اسٹریٹجک استحکام کی بنیاد وسیع کرسکتا ہے۔ جاپان نے بھی مالدیپ میں بہت سے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ متوازن پالیسیوں کے ذریعے مالدیپ کئی ممالک سے اپنے لیے مثبت اور تعمیر کردار ادا کرواسکتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں سے بھی مالدیپ غیرمعمولی فنڈنگ کرواسکتا ہے۔ اُس کے وجود کو پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح سے خطرات لاحق ہیں۔ اس حوالے سے غیرمعمولی فنڈنگ چاہیے۔ متوازن پالیسیوں کے ذریعے اقوامِ متحدہ اور یو ایس ایڈ جیسے بڑے امدادی اداروں سے بھی فنڈنگ حاصل کی جاسکتی ہے۔

بیرونی تعلقات کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ مالدیپ کی حکومت کو حکمرانی کا معیار بلند کرنے اور اندرونِ ملک زیادہ سے زیادہ استحکام اور توازن پیدا کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ کرپشن پر قابو پانا لازم ہے۔ سرکاری منصوبوں کی بروقت تکمیل ایک بڑا مسئلہ ہے۔ معاشی تنوع بیرونی انحصار کو کم کرنے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ معاشی خود کفالت مالدیپ کے لوگوں کو باہر کی طرف دیکھنے کی زحمت سے بہت حد تک بچاسکتی ہے۔ اپنے وسائل پر انحصار کے ذریعے جینے کی عادت معاشی اور سماجی، دونوں ہی طرح کے معاملات درست کرنے اور درست رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے پالیسیوں میں توازن لازم ہے اور زیادہ سے زیادہ خود کفالت یقینی بنانے پر خاص توجہ دینا ہوگی۔ بیرونی امداد پر انحصار گھٹانا ہوگا تاکہ کوئی بھی ملک پالیسیوں پر اثر انداز نہ ہوسکے۔

اگر مالدیپ کو آگے بڑھنا ہے تو سفارت کاری اور اسٹریٹجی کے حوالے سے دور اندیشی لازم ہے۔ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا۔ چین اور بھارت میں سے کسی کی بھی طرف بہت زیادہ جھکاؤ درست نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ مالدیپ اپنے لیے معیاری اور متوازن راستہ چُنے اور اُسی پر چلتا رہے۔ چین اور بھارت کے درمیان جو مسابقت جاری ہے، اُس کا شکار ہونے کے بجائے مالدیپ کو اپنی غیرجانبدار حیثیت برقرار رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔ آنے والے سال اس حوالے سے مالدیپ کے لیے آزمائش ثابت ہوسکتے ہیں۔ اِس کے لیے اُسے ابھی سے غیرمعمولی تیاری کرنی ہوگی۔

(مترجم: ابو صباحت) “How the Maldives can navigate successfully between India and China?”. (“southasianvoices.org”.

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں