قابض اسرائیلی فوج کا نیا سربراہ اور غزہ کا مستقبل

جنرل ایال زامیر نے اسرائیلی فوج کے کمانڈر کے طور پر اپنے نئے عہدے پر کام کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے، اس عہدے پر ان کا تقرر استعفیٰ دینے والے کمانڈر ہرزی ہلیوی کی جگہ ہوا ہے جو ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہے اور غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے ان کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی۔

زامیر نے اسرائیلی فوج میں اہم عہدوں پر کام کیا ہے، جن میں وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل، چیف آف اسٹاف کے نائب، جنوبی کمانڈ کے کمانڈر اور وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مِضراہی یہودی ہیں ان کے والد یمنی نژاد ہیں اور والدہ شامی نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے سب سے زیادہ عمرکے جنرل بھی ہیں، ان کی عمر ۵۹ سال ہے۔

زامیر فلسطینی شہریوں کے خلاف اجتماعی سزاؤں کی حمایت کرتے ہیں، جن میں اقتصادی پابندیاں، بجلی کی فراہمی میں کمی، لاک ڈاؤن، خام مال پر پابندیاں اور گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی پر پابندیاں شامل ہیں۔ وہ قتل اور نسل کشی کے حکومتی فیصلوں کی بھی حمایت کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ’عسکریت پسندوں‘ کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جائز اور قانونی ہے۔

زامیر نے ایک ’’ٹارگٹ بینک‘‘ کا خاکہ پیش کیا ہے، جو ان کی آئندہ جارحانہ حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہوگا، جس میں وہ مزاحمت کے ’’روحانی رہنماؤں‘‘ کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ افراد مزاحمت کے فوجی ڈھانچے کا ایک لازمی حصہ ہیں، جس کی بنا پر انہیں جنگ میں جائز اہداف قرار دیا گیا ہے، زامیر ان افراد پرعسکری آپریشنز میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں، چاہے وہ شہریوں کے طور پر ہی سامنے کیوں نہ آئیں۔ ان کے مطابق یہ افراد شہریوں کے طور پر چھپ کر اپنی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔ یوں زامیر کے نزدیک مزاحمتی گروہوں کے کسی بھی رکن کو نشانہ بنانا جائز ہے۔

اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر حملے کے آغاز کے بعد سے زامیر نے مقامی دفاعی صنعت پر انحصار بڑھانے اور امریکی گولہ بارود اور سپلائی پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے حالانکہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ وہ ریاست ہائے متحدہ امریکا سے ہتھیاروں کی خریداری کے ذمہ دار تھے، جن میں جنگی طیارے اور بھاری اسلحہ شامل ہیں لیکن انہوں نے مقامی فوجی پیداوار میں بھی اضافہ کیا۔

وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر، زامیر نے غزہ کی جنگ کے ۱۵؍مہینوں کے دوران اسرائیلی فوج کو دنیا بھر سے اسلحہ فراہم کرنے کے لیے سیکڑوں طیاروں اور جہازوں پر مشتمل ایک وسیع ہوائی اور بحری سپلائی چین کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے جنگ کے شدت اختیار کرنے اور جب کچھ مغربی ممالک نے اسرائیل پر اسلحہ کی پابندیاں عائد کیں، اس وقت ہتھیاروں کی جاری کمی کو بھی منظم کیا۔ اس بڑے پیمانے پر حاصل کردہ اسلحے میں مختلف اقسام کے ہتھیار، جنگی نظام، ایندھن، پرزے، خام مال اور دیگر فوجی سامان شامل تھا۔

اسرائیلی فوجی سربراہ کے طور پر اپنے تقرر کے بعد جنرل زامیر نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ۷؍اکتوبر کے حملے کی ناکامیوں کی تحقیقات کرنا جنرل اسٹاف کی تحقیقات کے دائرے اور نوعیت کا تعین کرنے کے لیے ضروری ہوگا۔ یہ تحقیقات سینئر فوجی عہدوں پر افراد کی دوبارہ تعیناتی کو متاثر کریں گی، کیونکہ کچھ افسران کو پہلے ہی جوابدہ ٹھہرایا جا چکا ہے جبکہ دوسرے افسران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ احتساب کا سامنا کریں گے۔ بڑھتی ہوئی توقعات یہ ہیں کہ جنرل زامیر کی تقرری کے نتیجے میں کئی اعلیٰ افسران کی ریٹائرمنٹ ہوگی، جس سے نئے جنرلز اور بریگیڈیئر جنرلز کی راہ ہموار ہو گی جو ترقی کے منتظر ہیں۔

زامیر اس بات کے لیے بھی معروف ہیں کہ وہ اسرائیلی فوج کی کم ہوتی ہوئی افرادی قوت کے بارے میں متنبہ کرتے رہے ہیں۔ وہ ’’چھوٹی فوج‘‘ کے نظریے کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ فوج وقت کے ساتھ ایک ہائی ٹیک کمپنی میں تبدیل ہو جانی چاہیے۔ انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ فوج کو ۱۰؍ہزار اضافی جنگجو دستوں کی ضرورت ہے کیونکہ انتہائی مذہبی (حریدی) فوجیوں کو بھرتی کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ ان کی ترجیحات میں فوج کی تعداد کو بڑھانا، زمینی فورسز اور مشقوں میں مزید سرمایہ کاری اور ملٹی فرنٹ جنگ کے لیے مقامی پیداوار کی صلاحیتیں بڑھانے کو ترجیح دیتا ہے۔

زامیر کو غزہ کی جنگ کے نتائج کے علاوہ ۱۰؍اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج نئی ٹیم کا انتخاب کرنا ہے، جس میں ان کے نائب اور جنرل اسٹاف شامل ہیں اور یہ سب ایک مختصر مدت میں مکمل کرنا ہے۔ دوسرا چیلنج انتہائی مذہبی افراد کو فوج میں بھرتی کرنا           ہے۔ تیسرا چیلنج غزہ میں جنگ بندی کے ممکنہ انہدام اور جنگ کی بحالی کے لیے تیاری کرنا ہے۔ چوتھا چیلنج ایران کے خلاف ایک بے مثال فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی ہے، جس میں امریکی حمایت شامل ہے۔ پانچواں چیلنج ۷؍اکتوبر کی ناکامیوں کی جاری تحقیقات کو حتمی نتیجے تک پہنچانا ہے۔ زامیر کے لیے چھٹا چیلنج فوج پر عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے، جو ۷؍اکتوبر کو ہونے والی تباہ کن ناکامی کے بعد شدید نقصان سے دوچار ہوا تھا۔

ساتواں چیلنج فوج کی افرادی قوت میں اضافے کے لیے اقدامات، خریداری اور عملی منصوبوں کی فعالیت کو مرتب کرنا ہے۔ آٹھواں چیلنج دفاعی بجٹ کی منظوری حاصل کرنا اور وزارت دفاع کے لیے کئی سالوں پر محیط اسٹریٹجک منصوبہ تیار کرنا ہے۔ نواں چیلنج فوجی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی حمایت کرنا، تحقیق و ترقی کے لیے بجٹ میں اضافہ کرنا اور نئے ڈویژنز کے قیام کا جائزہ لینا ہے۔ دسواں اور آخری چیلنج مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، فوجی برآمدات کو بڑھانا اور ڈیجیٹلائزیشن کو وسعت دینا ہے۔

میدان جنگ میں، زامیر کو غزہ میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر سیاسی قیادت کی جانب سے حماس کی جگہ ایک متبادل حکومتی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے جو تقریباً ۲۰ لاکھ فلسطینیوں کا ذمہ دار ہے۔ اس کے نتیجے میں، فوج کی ’’فوجی کامیابیاں‘‘ سیاسی فوائد میں تبدیل نہیں ہو سکیں، جس سے ایک مسلسل چیلنج پیدا ہو رہا ہے جو روز بروز اسرائیلی فوجی آپریشنز کے اثرات کو غزہ میں کم کر رہا ہے۔ اسرائیل کو زامیر سے توقع ہے کہ وہ سیاسی رہنماؤں اور عوام سے یہ بات نہیں چھپائیں گے کہ فوج غزہ میں وسائل کے لحاظ سے کس حد تک کمزور ہو رہی ہے، چاہے وہ باقاعدہ ہو یا ریزرو فورسز۔

ایسی صورتحال میں امکان ہے کہ جنرل زامیر سیاسی رہنماؤں پر دباؤ ڈالیں گے تاکہ واضح ترجیحات طے کی جا سکیں۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کو غزہ، لبنان اور شام میں تعینات رکھا جائے گا، جبکہ فوجی توجہ مغربی کنارے کی طرف منتقل کی جائے گی۔ اس سے انہیں فوجی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم کے بارے میں مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے، کیونکہ فوج پہلے ہی افرادی قوت کی کمی کا شکار ہے۔ یہ پہلے ہی واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیل کے لیے فوجی یونٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ضروری ہوگا۔          

(مترجم: محمود الحق صدیقی)

“The challenges facing Eyal Zamir: The 24th commander of the occupation army”.

(“Middle East Monitor”. March 7, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں