فیصلہ کُن قدم مسلم دنیا ہی کو اُٹھانا ہے!

ایسا بہت کچھ ہو رہا ہے جو انتہائی حیرت انگیز بھی ہے اور پریشان کن بھی۔ ہزاروں سال کا علمی اور فنی سفر اب اُس منزل میں ہے جس کے بارے میں انسان صرف سوچتا آیا تھا یا جس کے لیے صرف خواب دیکھنے کی گنجائش تھی۔ جو کچھ بھی سوچا تھا، وہ اب حقیقت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ زندگی کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے کے لیے انسان جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا، وہ حاصل کرچکا ہے۔

ابھی نصف صدی پہلے تک کی دنیا میں جو کچھ تھا، وہ اب صرف یادوں کا حصہ ہے۔ بہت کوشش کرنے پر بھی یاد نہیں آتا کہ جب یہ سب کچھ نہیں تھا یعنی انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہ تھی، کمپیوٹرز نے اِتنی ترقی نہیں کی تھی اور انسان ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ منحصر نہیں رہتا تھا، تب زندگی کس طور بسر ہوتی تھی۔ وہ زندگی آج ہمارے حافظے سے نکل چکی ہے۔ یہ بہت عجیب بات ہے مگر عمومی سطح پر ہمیں محسوس نہیں ہوتی۔

آج کی جدید ٹیکنالوجی سے مزیّن دنیا ہمارے سامنے ہی نہیں ہے بلکہ ہم اُس کا حصہ ہیں۔ اور معاملہ یہ ہے کہ جتنے ہم دنیا کے ہیں، اُتنی ہی یا اُس سے کچھ زیادہ ہی دنیا ہماری ہے۔ آج کے انسان کا ذہن انتہائی نوعیت کی پیچیدگیوں کا مرقّع ہے۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کس طور جیا جائے۔ زندگی بسر کرنا بھی اب ایک باضابطہ فن کا سا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ ذہنی الجھنیں اِتنی زیادہ ہیں اور نفسی ساخت میں پائی جانے والی گرہیں اِس قدر ہیں کہ اب نفسیاتی اُمور کے ماہرین زندگی بسر کرنے کا فن سِکھانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ کوئی فی سبیل اللہ والا معاملہ نہیں بلکہ اِس سے ایک پوری صنعت ہے جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

کیا ہم نے سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی وقت آئے گا؟ ذہنوں میں تو بہت کچھ تھا۔ آنکھوں میں بسے ہوئے خواب بہت کچھ بیان کرتے تھے اور اِنسان اُن کی بنیاد پر اپنے ذہن میں ایک خاکہ سا ضرور بناتا تھا کہ آنے والی دنیا ایسی ہوگی، ویسی ہوگی مگر پھر بھی بہت زیادہ سوچنے کی گنجائش پیدا نہیں ہو پاتی تھی اور انسان ایک خاص حد تک ہی اندازہ لگا پاتا تھا کہ مستقبل کی نوعیت کیا ہوگی، زندگی کس ڈگر پر گامزن ہوگی۔

جو کچھ قصوں کہانیوں میں پایا جاتا تھا، وہ آج حقیقت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ جن سہولتوں کا صرف خواب دیکھا جاسکتا تھا، وہ آج ہماری زندگی کا حصہ ہیں اور حصہ بھی اِس طور ہیں کہ ہمیں ذرا بھی حیرت نہیں ہوتی۔ آج ہم وہاں کھڑے ہیں جسے انسان کے لیے فطری علوم و فنون کا نقطۂ عروج کہا جاسکتا ہے اور یہ ایسی بات ہے جسے کہتے وقت تردید کا خطرہ بھی لاحق نہیں ہوتا۔ انسان نے ہزاروں سال کے عمل میں جو کچھ سیکھا اور سوچا تھا، وہ آج ایک مقام پر یکجا ہوچکا ہے۔ مختلف ادوار کی پیشرفت ایک پلیٹ فارم پر ہے اور وہ پلیٹ فارم ہے ہر انسان کی زندگی۔ بہت کچھ ہے جو کھو گیا ہے مگر اُس کا بڑا حصہ اخلاقی و تہذیبی اقدار کی صورت میں ہے۔ انسان کی روح زخمی ہے، مضمحل ہے مگر مادّی سطح پر تو اِتنا کچھ حاصل ہوچکا ہے اور یقینی بنایا جاچکا ہے کہ ہم اِس حوالے سے سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ زندگی کو آسان بنانے کے لیے جتنی بھی سہولتوں کے بارے میں سوچا جاسکتا تھا، وہ سب کی سب آج ہماری زندگی کا حصہ ہیں، ہمیں اِس طور میسر ہیں کہ ہم جس قدر چاہیں، استفادہ کرسکتے ہیں اور کر ہی تو رہے ہیں۔

کس نے سوچا تھا کہ کبھی انسان چوبیس گھنٹے بھی رابطے میں رہ سکے گا؟ کس کے وہم و گمان میں تھا کہ پہلے سیٹلائٹ ٹی وی اور بعد میں انٹرنیٹ کے ذریعے ہر انسان پوری دنیا کو جب چاہے دیکھ سکے گا، جو چاہے گا سُن سکے گا، پڑھ سکے گا؟ یہ سب کچھ بدیہی طور پر تو خواب کا سماں لگتا ہے۔ اور کیوں نہ لگے؟ یہ سب کچھ اپنی اصل میں ہے ہی اِس قدر خواب آگیں کہ ہم محض سوچتے ہی رہ جاتے ہیں اور کسی بھی معاملے کا سِرا ہاتھ نہیں آتا۔

ترقی کا ثمرہ

فطری علوم و فنون میں ہر پہلو سے اِس قدر ترقی ممکن بنائی جاچکی ہے کہ اب مزید کچھ کرنے کی گنجائش تلاش کرنا بھی ایک فن کا درجہ رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں دن رات یہ سوچا جارہا ہے کہ اب مزید کیا کریں کہ جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ واقعی کچھ کیا جارہا ہے۔ تحقیق کا بازار کم و بیش پانچ صدیوں تک گرم رہا ہے اور تحقیق کی یہ گرم بازاری ایسی ہے کہ بہت سوچنے پر بھی پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک دور تھا جب رابطہ آسان نہ تھا، دوسروں تک رسائی بہت دشوار ہوا کرتی تھی۔ تب الگ الگ خطوں میں ایک ہی چیز پر کام ہو رہا تھا اور بعد میں پتا چلتا تھا کہ بیک وقت کئی ماہرین نے ایک ہی معاملے پر اپنا وقت صَرف کیا۔ اب ایسا نہیں ہے مگر اب مصیبت یہ ہے کہ یہ سمجھنا اور طے کرنا بھی بجائے خود ایک دردِ سر ہے کہ اب کریں تو کیا کریں۔ تحقیق کے میدان میں بہت کچھ ہو رہا ہے مگر اُس کا بیشتر حصہ اپنی اصل میں مکھی پر مکھی بٹھانے جیسے معاملے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بعض معاملات میں بہت شور مچایا جارہا ہے مگر عملاً کچھ بھی نہیں ہو پارہا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ لہو گرم رکھنا مقصود ہے۔ آج کے انسان کا ایک بڑا یا بنیادی مسئلہ یہ بھی تو ہے کہ اب کیا ایجاد کیا جائے۔ ایجاد کی گنجائش زیادہ نہیں رہی، اِس لیے اختراع کی دنیا آباد ہے۔ علم و فن کے میدان میں یہ انوکھی دکان داری ہے۔ اب بہت سی چیزوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا عمل زور پکڑ چکا ہے۔ اِسے آپ بہت حد تک ’’سنگیولیرٹی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ اسمارٹ فون ہی کو لیجیے۔ اِس میں جو کچھ بھی ہے، وہ سب کا سب الگ الگ بھی میسر ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت پیدا ہونے والی مہارت اور سہولت نے بیسیوں ایجادات کے ثمر کو یکجا کردیا ہے، ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کیا ہے۔ اسمارٹ فون کے ذریعے فلم بنانا اور دیکھنا، آواز ریکارڈ کرنا اور سُننا، انفرادی اور اجتماعی ٹیلی فون کام کرنا، تصویر کھینچنا، کسی چیز کو اسکین کرنا اور دوسرے بہت سے کام ممکن بنائے گئے ہیں۔ اسمارٹ میں وقت دیکھا جاسکتا ہے، ہزاروں سال کا کلینڈر اور دوسری بہت سی سہولتیں بھی موجود ہیں۔ یہ سب کچھ نیا نہیں ہے، پہلے سے موجود ہے۔ ہاں، اسمارٹ فون میں اِن تمام سہولتوں کو یکجا کردیا گیا ہے تاکہ انسان ضرورت کے مطابق فوری طور پر مستفید ہوسکے۔ اور ہو رہا ہے۔

مادّی علوم و فنون میں پیشرفت، ترقی اور خوشحالی ممکن بنانے کی راہ اللہ نے سب کے لیے رکھی ہے۔ جو لوگ اللہ کو نہیں مانتے، اُن کے لیے بھی یہ راستہ کھلا ہے کہ جب چاہیں چلیں اور اپنی مُرادوں کی منزل تک پہنچیں۔

جن اقوام نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مادّی ترقی کی ہے، اُنہوں نے اِس ترقی کی بنیاد پر حاصل ہونے والی طاقت کے ذریعے دوسری ریاستوں اور خطوں کو بھی متاثر کرنے اور زیرِنگیں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سب کچھ بہت حد تک فطری ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ کسی کو اِس دنیا میں ترقی سے نوازتا ہے تو وہ اُس دنیا کے لیے بھی کچھ جمع کرتا ہے یا نہیں۔ تاریخ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف خطوں اور ریاستوں نے دنیا پر راج کیا ہے۔ مسلمانوں کے حصے میں کئی ادوار آئے ہیں۔ کبھی اسپین پر آٹھ سو سال حکومت کی اور ہندوستان کو بھی کم و بیش آٹھ سو سال تک زیرِنگیں رکھا۔ ترکیہ بھی سپر پاور رہا ہے۔ اُس نے ایشیا اور یورپ، دونوں خطوں کے بڑے حصے پر راج کیا اور اپنے آپ کو خوب منوایا۔

اب پانچ صدیوں سے کم و بیش ۸۰ فیصد دنیا پر مغرب کا راج رہا ہے۔ مغرب یعنی شمالی امریکا اور یورپ۔ شمالی امریکا میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے علاوہ میکسیکو، پاناما اور کینیڈا بھی نمایاں ہیں۔ یورپ جہالت اور پسماندگی کا ایک طویل دور گزارنے کے بعد جب بیدار ہوا تو اُس نے روشن خیالی کی راہ پر گامزن ہوکر دنیا کو مسخر کرنے کا سوچا۔ اُس نے فطری علوم و فنون میں انتہائی نوعیت کی پیشرفت یقینی بنانے کا سفر چودھویں صدی میں شروع کیا تھا جو اَب تک جاری ہے۔ مختلف خِطّوں اور اقوام نے مادّی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ مسلمانوں نے اپنے زرّیں اَدوار میں دنیا کو بہت کچھ دیا۔ اور مغرب کے اہلِ علم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آج ہمیں مغرب میں جو شاندار ترقی دکھائی دے رہی ہے، اُس کی بنیاد درحقیقت مسلمانوں ہی نے رکھی تھی اور اہلِ یورپ نے مسلمانوں ہی سے بہت کچھ اَخذ کرکے مادّی ترقی کو حیران کُن حد تک پہنچانے کا بیڑا اُٹھایا۔ یورپ نے تین صدیوں تک کئی دُور افتادہ خِطّوں پر حکومت کی۔ یہ سب کچھ مادّی ترقی سے حاصل ہونے والی طاقت کی بنیاد پر تھا۔ اِس دوران یورپ نے مظالم کا بازار بھی گرم رکھا۔ جن خطوں کو اُس نے فتح کیا، وہاں کے لوگوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے اور اُنہیں سَر اُٹھانے کے قابل نہ چھوڑا۔

مغرب نے ناکوں چنے چبوائے ہیں

امریکا اور یورپ نے مل کر کم و بیش سو سال تک دنیا کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔ تین صدیوں تک یورپ کی اُٹھان کے بعد امریکا بیدار ہوا اور پھر اُس نے یورپ کے ساتھ مل کر باقی دنیا کو اپنا مطیع و فرماں بردار بنانے کا ڈول ڈالا۔ بیسویں صدی کی آمد تک امریکا غیرمعمولی قوّت کا حامل ہوچکا تھا۔ اُس کی معیشت بہت مضبوط تھی۔ اُس دَور کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکا اور یورپ نے دفاعی ساز و سامان اور دیگر متعلقہ اشیا کی تیاری اور فروغ کے لیے جامع منصوبہ سازی کی اور اِس کا پھل بھی کھایا۔ امریکا اور یورپ نے مل کر باقی دنیا کے لیے رول ماڈل کی حیثیت اختیار کی۔ فطری علوم و فنون میں حیرت انگیز پیشرفت نے امریکا اور یورپ کو باقی دنیا سے بہت الگ رکھا اور انفرادیت کے قیام میں مدد دی۔ دنیا سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ یہ دونوں خِطّے اِس قدر ترقی یافتہ کیوں ہیں اور اِن کا شاندار اور قابلِ رشک لائف اسٹائل کیونکر ممکن ہوسکا ہے۔ کئی عشروں تک دنیا سِحر زدہ رہی۔ پہلے یورپ کے سامنے اور پھر امریکا کے سامنے ماتھا ٹیکنے والے سامنے آئے۔ یورپ نے تین صدیوں کے دوران افریقا، ایشیا اور دیگر خطوں میں بہت سے ممالک کو فتح کرکے اپنی کالونی یعنی نوآبادی میں تبدیل کیا۔ نوآبادی یعنی غلام علاقہ۔ یورپی طاقتوں میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور ہالینڈ بہت نمایاں رہے جنہوں نے دُور افتادہ خطوں میں عسکری مہم جُوئی کے ذریعے اپنی دھاک بٹھائی اور نوآبادیاں قائم کیں۔ استعماریت نے ترقی کا ایسا دور شروع کیا جس میں حقیقی معنوں میں پیشرفت اور بلندی صرف مغربی طاقتوں کے لیے تھی اور باقی دنیا کے لیے صرف پسماندگی اور ہزیمت۔ امریکا اور یورپ نے مل کر کم و بیش دو صدیوں کے دوران اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی خِطّہ اُٹھ نہ سکے، پنپ نہ سکے۔ اس کی واضح ترین مثال افریقا ہے جسے مغربی دنیا نے کم و بیش چار صدیوں سے انتہائی پسماندگی کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں افریقی ممالک کو مغربی طاقتوں نے نام نہاد آزادی تو دی، تاہم ڈھنگ سے جینے کا حق اُن سے چھین لیا۔

امریکا اور یورپ کی بالادستی اِس نوعیت کی رہی ہے کہ دنیا بھر میں غلامانہ ذہنیت پنپتی گئی ہے۔ یورپ نے بالادستی کا طویل دور گزارا ہے۔ اُس کے عروج کو دیکھتے ہوئے امریکا نے بھی زور پکڑا اور انیسویں صدی کے دوسری نصف میں اُس کی طاقت میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ یہ اضافہ مادّی ترقی کی بدولت ممکن ہوسکا۔ فطری علوم و فنون کو زندگی کی بنیاد بناکر زندگی بسر کرنے کا ڈھب امریکیوں نے بھی سیکھنے میں دیر نہیں لگائی۔ ’’بے خدا کائنات‘‘ کا تصور یورپ نے امریکیوں کو دیا۔ امریکا میں بھی یورپ ہی کے لوگ آباد تھے۔ ذہنی، فکری اور نظریاتی ہم آہنگی قائم ہونے میں دیر نہیں لگی۔ خدا کے وجود اور مذہب سے مکمل بیزار یورپ کی طرح امریکا نے بھی دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ کر اِسے بھرپور طور پر گلے لگانے کی روش اپنائی۔ کہنے کو امریکی مذہبی رہے مگر یہ معاملہ برائے نام تھا۔ امریکیوں نے بہت جلد لبرل سوچ اپنائی اور ایک ایسے ماحول کو دنیا کے سامنے لانے کی تگ و دَو میں لگ گئے جس میں کسی خدا اور اُس کی تعلیمات کے لیے گنجائش برائے نام تھی۔

دَہریت کا فروغ

امریکا اور یورپ نے مل کر ۸۰ فیصد دنیا کو عملاً زیرِنگیں ہی نہیں رکھا بلکہ دَہریت کو بھی فروغ دیا۔ روشن خیالی کے نام پر دنیا کو مذہب سے بیزار اور کائنات کے کسی خالق و رب کے تصور سے عاری کرنے میں امریکا اور یورپ دونوں ہی کا برابر کا کردار رہا ہے۔ یورپ نے کلیسا سے نجات پانے کے بعد بھرپور مادّی ترقی ممکن بنائی تھی، اِس لیے وہاں یہ تصور پروان چڑھا کہ یہ کائنات اپنے طور پر معرضِ وجود میں آئی ہے اور اپنے طور پر ہی چل رہا ہے۔ نَشاۃِ ثانیہ کے دور کے بیشتر یورپی مفکرین نے ماحول سے مذہب کو الگ کرنے بلکہ نکال پھینکنے کی بھرپور کوشش کی اور ایسی زندگی بسر کی جسے دیکھ کر لوگوں نے سیکھا کہ کائنات خود بخود چل رہی ہے اور اِسے چلانے والا، ہمارے گناہوں پر گرفت کرنے والا اور اچھے اعمال کا اچھا صلہ دینے والا کوئی خدا موجود نہیں۔

دَہریت کے خلاف واحد مزاحمت

بے مثال مادّی ترقی کی بدولت حاصل ہونے والی طاقت کے ذریعے امریکا اور یورپ نے دنیا کو مذہب سے بیزار اور لاتعلق کرنے پر بہت زور دیا۔ یہ بھی منافقت کی انتہا تھی۔ جو مغرب کہتا ہے کہ کوئی خدا نہیں اور کسی مذہب یا اُس کی تعلیمات کی ضرورت نہیں، اُسی مغرب نے مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والی ہزیمت کو اب تک نہیں بھلایا اور اب بھی صلیبی جنگوں کا بدلہ لینے پر بضد دکھائی دیتا ہے۔ یورپ کے لوگ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ دنیا کو مذہب کی ضرورت نہیں اور مذہب کی بنیاد پر منافرت اور تقسیم در تقسیم یقینی بنانے والوں کے خلاف محاذ قائم ہونا چاہیے اور دوسری طرف یہ لوگ اب تک مسلمانوں کے خلاف ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے رہے ہیں۔ عرب دنیا کو کس بنیاد پر تباہ حال اور منقسم رکھا گیا ہے؟ امریکا اور یورپ نے مل کر عرب سمیت بیشتر مسلم ریاستوں کو بربادی سے دوچار کیا ہے۔ یہ سب کچھ اُسی مذہب کے نام پر ہے جس سے اہلِ مغرب برأت کا اظہار کرتے نہیں تھکتے اور یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش ہیں کہ وہ تو برائے نام بھی مذہبی نہیں۔ حد یہ ہے کہ اہلِ مغرب نے خدا سے وابستگی کے تصور کو جُنون اور جہالت قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ گویا خدا کے وجود سے خدا واسطے کا بَیر ہے!

ہم نے دیکھا کہ مذہب سے یہ منافرت محض دھوکا ہے، فریبِ نظر ہے۔ مسلم دنیا کے ہاتھوں مغربی طاقتوں کو جس ہزیمت کا سامنا رہا ہے، اُس کا پورا انتقام لینے سے اُس نے کبھی گریز نہیں کیا اور منتقم مزاجی بڑھتی ہی گئی ہے۔ اِس تضاد کو کیا کہیے کہ ایک طرف خدا کے وجود سے بیزاری ظاہر کی جاتی ہے اور دوسری طرف موقع ملتے ہی مسلمانوں کو گھیرنے سے گریز نہیں کیا جاتا اور اِسے صلیبی جنگوں کا انتقام قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ صلیبی جنگیں مغرب کی ذہنیت سے اب تک نہیں نکلیں۔

مغرب کا سنگھاسن ڈول رہا ہے؟

دنیا اُس موڑ پر کھڑی ہے جہاں مغرب کا سنگھاسن ڈول رہا ہے۔ یہ حقیقت اب اظہر من الشمس ہے کہ امریکا اور یورپ نے اپنا پرائم ٹائم بہت حد تک گزار لیا ہے۔ دونوں خطے تکنیکی برتری کے حامل تھے۔ اب یہ برتری زمیں بوس ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک مرحلے پر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ دونوں خطے مل کر کئی صدیوں تک دنیا پر راج کرتے رہیں گے اور اِن کی بالادستی کو چیلنج کرنے کا حوصلہ کسی کسی میں ہوگا اور وہ بھی بھرپور مزاحمت کے قابل نہ ہوگا۔ ابھی چار پانچ عشرے پہلے تک ایسا لگتا تھا کہ دنیا اب مغرب کے بنائے ہوئے سانچے میں ڈھل گئی ہے اور کوئی نیا سانچا صدیوں تک تیار نہ ہو پائے گا۔

مغرب کی حقیقی بالادستی

اس حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ مغرب کی بالادستی واقعی حقیقی تھی اور رہی ہے۔ سوال صرف تکنیکی، معاشی اور عسکری قوت کا نہیں تھا۔ امریکا اور یورپ نے مل کر ایسا کلچر تخلیق کیا جس نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ جو کچھ اِن دونوں خطوں میں کھایا پیا گیا، پہنا گیا وہ اپنا لیا گیا۔ اِن دونوں خطوں کے لوگ جو طرزِ فکر رکھتے تھے، وہی باقی دنیا کے بیشتر حصے کی طرزِ فکر ٹھہری۔ امریکا اور یورپ نے مل کر باقی دنیا کے بیشتر حصے کے لیے رول ماڈل کی حیثیت اپنائی۔ یورپ میں نزاکت تھی، اس لیے بیشتر فیشن وہاں سے نکلے اور بے راہ رَِوی کو بھی وہیں سے فروغ ملا۔ پیرس آج بھی فیشن کے نام پر بے ہودہ اور لایعنی رجحانات کا مرکز ہے۔ ہالینڈ کا دارالحکومت ایمسٹرڈیم مخربِ اخلاق فلموں کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں ناجائز اولاد اب کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ شادی کے بغیر ساتھ رہنے کو کسی بھی درجے میں قابلِ اعتراض یا بُرا نہیں سمجھا جاتا۔ غیرفطری جنسی تعلق کو پہلے تو محض ایک رجحان سمجھا جاتا تھا، اب یہ فیشن کے درجے میں ہے اور اِس پر فخر بھی کیا جاتا ہے۔

مغرب کی بالادستی ہر شعبے میں رہی ہے۔ ایک طرف تو اُس نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے ہاں پروڈکشن کا عمل تیز اور بہتر کیا جس کے نتیجے میں برآمدات بڑھیں اور اشیا کے ساتھ ساتھ خدمات کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا۔ معاشی اور مالیاتی حیثیت انتہائی مستحکم ہونے کی صورت میں عسکری قوت کا بڑھنا فطری امر تھا۔ مغرب نے یہ تصور بھی پروان چڑھایا کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے اور اب اُس پر حملہ کرنے اور اُسے مسخر کرنے کے بارے میں سوچنا بھی کم و بیش ناممکن ہے۔ دوسری طرف مغرب نے ثقافتی محاذ پر بھی اپنا غلبہ یقینی بنایا۔ ہالی ووڈ کی فلموں نے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں یہ تصور پروان چڑھا کہ صرف گوری نسلیں ہی دنیا پر حکومت کرنے کی اہل ہیں، ساری عقل اُنہی میں پائی جاتی ہے، وہی تحقیق کا حق ادا کرسکتی ہیں، لڑنا بھی وہی جاتی ہیں اور باقی دنیا کو مطیع و فرماں بردار بنانے اور بنائے رکھنے کی استعداد اگر ہے تو صرف اُنہی میں ہے۔ مغرب ہی نے دیگر نسلوں کو ’’کلرڈ‘‘ کہنا شروع کیا۔ افریقا کے اصلی سیاہ فام باشندوں کے ساتھ مغربی طاقتوں نے چار صدیوں کے دوران جو کچھ کیا ہے، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ افریقا سے لوگوں کو پکڑ کر امریکا پہنچایا گیا اور پھر منڈیاں لگاکر اُنہیں فروخت کرنے کا چلن بھی متعارف کرایا گیا۔ غلامی کے دور میں افریقی نسل کے لوگوں پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے، وہ آج بھی اُن کی نسل کی سائیکی میں پیوست ہیں۔ جب مغرب کے لوگوں نے صلیبی جنگوں کو نہیں بھلایا تو پھر افریقا کے سیاہ فام باشندے صدیوں تک ڈھائے جانے والے مظالم کو بھلا کیونکر بھول سکتے ہیں؟

جادو بے اثر ہوتا جارہا ہے؟

چار صدیوں سے بھی زائد مدت تک برقرار رہنے والا جادو اب بے اثر ہونے لگا ہے۔ امریکا اور یورپ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ اب دنیا کو مٹھی میں رکھنا اُن کے لیے بہت مشکل ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ ایڈجسٹمنٹ کی جائے، افہام و تفہیم سے کام لیا جائے مگر ہم بھولتے ہیں کہ ہر دور میں سب سے بالادست سمجھے جانے والے معاشروں اور ریاستوں نے سمجھوتے سے گریز کیا ہے، کسی کے سمجھانے سے کچھ سمجھنے کو اپنی توہین سمجھا ہے۔ امریکا اور یورپ بھی ہٹ دھرمی کی راہ پر گامزن رہے ہیں اور اب تک ہیں۔ امریکا نے من مانی کی انتہا کردی۔ چوبیس سال قبل نائن الیون کے نام پر ایک جنگ افغانستان پر تھوپی گئی اور پھر اُس جنگ کو پھیلاتے پھیلاتے مسلم دنیا کو تباہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ عراق، لیبیا، شام اور یمن کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ عراق پر وسیع تباہی کے ہتھیار تیار کرنے کا الزام تھا جو سراسر بے بنیاد ثابت ہوا۔ اِس پر بھی کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی گئی۔ امریکا نے مسلم دنیا کے قدرتی وسائل پر قبضے کی خاطر دہشت گردی کا راگ الاپا اور مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی ایک ایسی شناخت بنادی گئی ہے جس سے دیگر مذاہب کے لوگ خوفزدہ رہتے ہیں۔ دو عشروں سے بھی زائد مدت کے دوران مسلم ریاستوں کو تاراج کرنے کا عمل جاری رکھا گیا ہے اور جب مزاحمت کی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ مسلمان تو ہوتے ہی دہشت گرد ہیں۔

ایک زمانے سے جس لمحے کا انتظار کیا جارہا تھا وہ آگیا ہے۔ امریکا اور یورپ کی بالادستی کو بھرپور انداز سے چیلنج کرنے والا لمحہ ہمارے سامنے ہے۔ چین پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہے۔ ہائی ٹیک کے شعبے میں چین کی غیرمعمولی مہارت کی رونمائی پاکستان کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ امریکا اور یورپ کی قیادتیں واضح طور پر پریشان ہیں۔ اُنہیں اپنے راستے بدلنے ہیں، پالیسیوں کو متوازن بنانا ہے۔ یورپ سبق سیکھ چکا ہے مگر امریکا اب بھی بدلی ہوئی زمینی حقیقتوں کو قبول اور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ محض ہٹ دھرمی کی راہ پر گامزن ہے اور اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے بدحواسی کے ہاتھوں میں کھلونا بنا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آمد نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ امریکا عالمی سیاسی و معاشی نظام میں اب بھی مضبوط ہے اور اِسی کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ طاقت گھٹ جانے پر بھی اُس کی طاقت گھٹی ہوئی محسوس نہیں ہو رہی۔ یورپ کے مجموعی مزاج کو دیکھیے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اب لڑنے اور اپنے آپ کو طاقت کی کشمکش میں منوانے کے لیے تیار نہیں۔ امریکا کے برعکس یورپی قائدین مفاہمت چاہتے ہیں تاکہ جنگ و جدل کی راہ مسدود ہو اور تجارت و سرمایہ کاری کا دائرہ وسعت اختیار کرے۔ یورپ علم و فن کا مرکز ہے۔ وہ اِس کیفیت کا فائدہ بھی اٹھانا چاہتا ہے۔

چین اور اُس کے ہم خیال ممالک کے واضح طور پر سامنے آنے سے اِتنا ہوا ہے کہ اب دنیا امریکا اور یورپ سے ہٹ کر اور اُس سے آگے کا بھی سوچنے لگی ہے۔ کل تک یہ تصور بھی محال تھا کہ امریکا اور یورپ کے شکنجے سے نکل کر جیا جاسکتا ہے۔ اب ایک دنیا کو اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ امریکا اور یورپ حتمی مقدر نہیں اور وہ مزید ڈھائی تین صدیوں تک راج کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ دونوں کی طاقت میں تیزی سے رونما ہونے والی کمی نے معاملات کو کچھ کا کچھ کردیا ہے۔ امریکا اب تک اقتصادی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کرکے متعدد ممالک کو دبوچتا آیا ہے۔ وہ دن ہَوا ہوئے۔ آج کی دنیا میں اقتصادی پابندیاں ایک خاص حد تک ہی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

مسلم دنیا کے لیے یہ سنہرا موقع ہے۔ اُسے طے کرنا ہے کہ کس طرف جانا ہے۔ ایک دنیا یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہے کہ مسلم دنیا یہاں سے کس سمت روانہ ہوتی ہے۔ چین اور اُس کے ہم خیال ممالک کی صورت میں بازار میں ایک اور شاپنگ مال کھلا ہے۔ امریکا اور یورپ نے اجارہ داری قائم کر رکھی تھی اور اب بھی اُسے برقرار رکھنے پر بضد ہیں۔ کم از کم امریکا کا معاملہ تو ایسا ہے۔ مسلم دنیا اور دنیا بھر کی دوسری بہت سی ریاستوں کے پاس اب چوائس موجود ہے۔ وہ امریکا اور یورپ سے ہٹ کر بھی دیکھ سکتے ہیں، اپنے لیے اسٹریٹجک گہرائی پیدا کرسکتے ہیں۔ مسلم دنیا کو نئے شاپنگ مال کی طرف دیکھنا چاہیے۔ امریکا اور یورپ نے اُسے ہر اعتبار سے دھوکا دیا ہے۔ مسلم دنیا کی خوش بختی ہے کہ چین کے لیے ہراول دستے کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی ترکیہ اور ایران بھی ہیں۔ افغانستان کے حکمرانوں کو بھی چینی حکومت نے آن بورڈ لے کر خطے میں حقیقی امن کی بحالی کا ڈول ڈالا ہے۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے۔ مسلم دنیا کو اِس موافق صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مسلم دنیا خاصی طویل مدت سے امریکا اور یورپ، دونوں ہی کو جھیل رہی ہے۔ امریکا نے بیسویں صدی کے دوران مسلم ریاستوں کو دبوچا جبکہ یورپی نوآبادیاتی طاقتیں اِس سے پہلے ڈھائی تین صدیوں تک مسلم دنیا کو خصوصی طور پر نشانہ بناتی رہیں۔ جب یورپی قوتوں نے نَشاۃِ ثانیہ اور صنعتی انقلاب کے بعد غیرمعمولی مادّی ترقی کے ذریعے طاقت میں اضافہ کرکے متعدد خطوں کو زیرِنگیں کرنا شروع کیا تب جنوبی امریکا اور افریقا کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا پر بھی مشکل وقت آیا۔ فطری اور عصری علوم و فنون میں پیچھے رہ جانے کے باعث مسلم دنیا بھی عالمی سطح پر کچھ کرنے سے قاصر تھی۔ امریکا اور یورپ بہت منظم تھے۔ یورپ نے جو کچھ پایا، اُس سے دنیا کو بھی فیضیاب کیا۔ امریکا نے ایسا کوئی اہتمام کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ وہ یہی سمجھتا رہا کہ اُس کی طاقت ہمیشہ برقرار رہے گی، وہ جسے بھی چاہے گا دبوچتا رہے گا اور کہیں سے کوئی بھی شدید ردِعمل سامنے نہیں آئے گا اور اُس سے باضابطہ طور پر، میدانِ جنگ میں ٹکرانے کے بارے میں تو کوئی سوچے گا بھی نہیں۔

اب معاملات بہت حد تک الٹ، پلٹ چکے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکا اور یورپ کے ہاتھ سے سب کچھ جاتا رہا ہے مگر خیر، یہ عمل شروع تو ہوچکا ہے۔ مسلم دنیا ایک طویل مدت سے انحطاط کا شکار ہے۔ جدید ترین یا عصری علوم فنون کے شعبے میں اُس کی کارکردگی بہت خراب رہی ہے۔ سیاسی، معاشی اور معاشرتی حوالے سے مسلم دنیا ایسا کچھ بھی نہیں کر رہی جس کی بنیاد پر وہ کسی کے لیے رول ماڈل بن سکے۔ امریکا اور یورپ نے مل کر مشرقِ وسطیٰ کو ایک زمانے سے شدید اکھاڑ پچھاڑ اور افتراق و انتشار کا مرکز بنا رکھا ہے۔ عالمی معیشت کو زلزلے جیسی کیفیت سے دوچار کرنے کے لیے بھی مشرقِ وسطیٰ کو بروئے کار لایا جاتا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر مغربی طاقتوں نے اسرائیل کے قیام کی صورت میں مسلم دنیا کے قلب میں خنجر اُتار دیا۔ امریکا اور یورپ نے جس انداز سے اسرائیل کی سرپرستی کی ہے، اُسے پروان چڑھاکر مسلمانوں کے لیے اذیت کا سامان کیا ہے، وہ تاریخ کا انتہائی تاریک باب ہے۔ مسلم دنیا اسرائیل کی اندھی سرپرستی اور اُس کے ذریعے مسلمانوں کی دل آزاری کے اہتمام کے باعث امریکا اور یورپ دونوں ہی سے نالاں ہے اور موقع ملتے ہی اُن سے دور ہو جانے کو ترجیح دے گی۔ جس طور بنگلا دیش نے اب بھارت کے بغل بچے کی حیثیت ترک کرکے چین سے ہاتھ ملایا ہے اور مودی سرکار کے لیے انتہائی پریشانی کا سامان کیا ہے، بالکل اُسی طور مسلم دنیا کو اب چین اور روس کی طرف جھک کر امریکا اور یورپ دونوں ہی کو انتہائی سخت پیغام دینا چاہیے۔ ایک دنیا ہے کہ مسلم ممالک کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سیاسی اور اسٹریٹجک امور کے ماہرین یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ اِس نازک موڑ پر مسلم دنیا کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کیا وہ چین کی طرف جھک کر امریکا اور یورپ کے لیے بقا کا سوال کھڑا کردے گی یا پھر امریکا کے دامن سے لپٹی رہ کر ایک عظیم لمحے اور سنہرے موقع کو ضائع کرے گی۔

اِس وقت تبدیلی کی سب سے زیادہ ضرورت جنوبی امریکا اور افریقا کے علاوہ مسلم دنیا کو ہے۔ مسلم ممالک شدید پسماندگی کا شکار ہیں۔ اُنہیں صدیوں کچل کر رکھا گیا ہے اور ایک صدی کے دوران امریکا نے بھی رہی سہی کسر پوری کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جب خالص مادّہ پرستی اور دہریت زدہ سوچ پروان چڑھانے کے باوجود مغرب نے اب تک صلیبی جنگوں کو بھلایا نہیں تو مسلم دنیا سے کیوں یہ توقع رکھی جائے کہ وہ صدیوں ڈھائے جانے والے مظالم بھول کر مغرب کو اپنا دوست سمجھ لیں گے۔ مسلم ممالک کو مغرب کی ذہنی اور معاشی غلامی سے نکلنے کے لیے قدرت کی طرف سے عطا کیے جانے والے اِس بھرپور موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔

حال ہی میں پاکستان نے جس طور صرف چند گھنٹوں کی فضائیہ معرکہ آرائی میں بھارتی فضائیہ اور مودی سرکار کو دُھول چٹائی ہے، اُس سے یہ حقیقت تو کھل کر سامنے آگئی کہ بھارت کے تِلوں میں تیل نہیں۔ چین عملی سطح پر مسلم ریاستوں سے گِھرا ہوا ہے۔ اِدھر پاکستان، اُدھر بنگلا دیش، تیسری سمت افغانستان اور سَر سے اُوپر دیکھیے تو وسطِ ایشیا اور بحرِہند کی طرف دیکھنے پر مالدیپ ہے۔ سری لنکا اور نیپال بھی بھارت سے دبنے کے لیے اب تیار نہیں۔ وہ جان گئے ہیں کہ بھارتی قیادت صرف گیڈر بھبکیاں دے سکتی ہے۔ ایسے میں مسلم دنیا کو چین اور روس کی طرف واضح طور پر جھک کر بھارت کو بھی پیغام دینا چاہیے کہ اب وہ من مانی نہیں کرسکتا اور اگر اُسے اپنی معاشی قوت برقرار رکھنی ہے تو لڑنے بِھڑنے کا خیال ذہن سے جھٹک کر پھینک دے اور ایسے اقدامات کرے جن سے مسلم دنیا اُس سے راضی رہے۔ ترکیہ ایک مضبوط اور قائدانہ بصیرت کا حامل ملک ہے۔ بھارت نے اُسے بھی ناراض کردیا ہے۔ خلیج کی متمول ریاستیں اگر امریکا سے مرعوب ہونا بہت حد تک تَرک کریں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ترجیحات تبدیل کریں تو بہت کچھ یوں بدلے گا کہ دیکھنے والوں کو یقین بھی نہیں آئے گا۔

مسلم دنیا کے پاس وہ سب کچھ ہے جس کی مدد سے دنیا میں بہت بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، طاقت کا توازن بدلا جاسکتا ہے۔ قدرتی وسائل سے مسلم دنیا مالا مال ہے۔ یہ قدرتی وسائل ہی تو ہیں جو ایک مدت سے سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور چند دوسرے متمول مسلم ممالک کو اہم مقام دیے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پسماندہ مسلم ممالک میں بھی باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں۔ تعلیم و تربیت اور تحقیق کا معیار بلند کرکے اِن ملکوں کے کروڑوں نوجوانوں کو ایک نئی زندگی اور ایک نئی دنیا کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔ اگر مغرب کے ہاتھوں ذہنی مغلوبیت کے دام سے یہ لوگ نکلیں گے تو کچھ کر پائیں گے۔ مغرب نے مسلم دنیا کو کم و بیش پانچ صدیوں کے دوران انتہائی نوعیت کی خرابیوں سے دوچار کیا ہے۔ اب حالات بدلے ہیں، مارکیٹ میں نئی سپر پاور آئی ہے تو لازم ہے کہ موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حقیقی تبدیلیوں کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ اس معاملے میں تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

ایسا نہیں ہے کہ راتوں رات بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلم دنیا کو بہت تیزی سے بہت کچھ مل جائے گا۔ کسی بھی معاملے میں حقیقی پیشرفت مرحلہ وار ہوتی ہے۔ یہ قدرت کا طریق ہے۔ کائنات کا نظام اِسی طور چل رہا ہے۔ ہم نے یعنی مسلم دنیا نے جہاں صدیوں تک پریشانیاں جھیلی ہیں، وہیں اگر چند حقیقی تبدیلیوں کے لیے دو تین عشروں کا انتظار کرلیں تو ایسا کرنے میں کیا ہرج ہے؟ اگر بہت بڑے پیمانے پر یعنی عالمی سطح پر کوئی بہت بڑی تبدیلی لانی ہے اور اُس میں سے اپنے لیے چند فوائد کشید کرنے ہیں تو لازم ہے کہ انتظار کی زحمت بھی گوارا کی جائے۔

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں