فلسطینی پسپا ہوں گے، نہ دست بردار

(امریکا اور اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ کے معاملات کو ڈانواڈول رکھنے کی جو جامع حکمتِ عملی تیار کر رکھی ہے، اُس پر بھرپور جوش و خروش کے ساتھ عمل جاری ہے۔ اس معاملے میں دونوں ہی نے باقی دنیا کی مخالفت اور تنقید کو جوتے کے نوک پر رکھا ہے۔ اسرائیلی قیادت نے فلسطینیوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں، وہ دنیا کے سامنے ہیں۔ ایک دنیا نے اس حوالے سے اسرائیل اور امریکا دونوں ہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یورپی یونین اس معاملے میں خود کو امریکا سے الگ تھلگ رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب بھی ناقابلِ فہم نہیں۔ یورپی یونین کو بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ جو کچھ بھی امریکا اور اسرائیل نے فلسطین کے حوالے سے کیا ہے، وہ عالمی سیاست پر دور رس اثرات کا حامل ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کے ردِعمل کو یکسر نظرانداز کرنے کا نتیجہ مزید خرابیوں کی شکل میں برآمد ہوگا۔

دنیا بھر کے تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ عالمی اداروں کو آگے بڑھ کر اسرائیل اور امریکا، دونوں ہی کو لگام ڈالنی چاہیے۔ ابھی تک تو اِس کے آثار نہیں۔ اب امریکا اور اسرائیل نے بہت زیادہ کُھل کر اپنے ارادوں کا محض اعلان نہیں کیا ہے بلکہ عملی سطح پر بھی بہت کچھ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عالمی برادری محض تماشائی بنے رہنے کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلسطینیوں نے پیغام دے دیا ہے۔ انہوں نے پوری دنیا پر واضح کردیا ہے کہ چاہے کچھ ہو جائے، ہم غزہ میں رہیں گے، کہیں اور نہیں جائیں گے، کسی اور ملک میں نہیں بسیں گے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ فلسطینیوں نے ہر طرح کے اور ہر سطح کے مظالم برداشت کیے ہیں۔ قتل و غارت، تباہی، معاشی خرابی سبھی کچھ تو وہ جھیلتے رہے ہیں۔ انہیں ایک بار نہیں، کئی بار گھروں سے نکالا گیا ہے۔ ایک سال اور تین ماہ سے زائد مدت کے دوران انہوں نے قتل و غارت کے نتیجے میں بے گھری، افلاس اور خوراک کی قلت کا عذاب کُھل کر جھیلا ہے۔ لاکھوں فلسطینی آج بھی اپنے مادرِ وطن سے بہت دور علاقائی ممالک اور دیگر خطوں میں آباد ہیں۔ ہر دور میں فلسطینیوں کا ایک ہی پیغام رہا ہے، ہمت ہارنے اور ہتھیار ڈالنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

کوئی اس حقیقت کو تسلیم کرے یا نہ کرے، معاملہ یہ ہے کہ فلسطینیوں نے ہر عہد میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ اپنے سے کہیں بڑی طاقت کے سامنے وہ سینہ سپر رہے ہیں۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسرائیل کچھ نہیں، اُس کی پشت پر امریکا اور یورپی یونین موجود رہے ہیں۔ اب یورپی یونین نے راستہ بدلا ہے مگر خیر یہ بات پورے یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ یورپی یونین نے اپنی پالیسی مکمل طور پر بدل لی ہے اور اب کسی بھی معاملے میں اسرائیل کی معاونت کے لیے آگے نہیں بڑھے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کا منصب دوسری بار سنبھالنے کے بعد پہلے پندرہ دنوں ہی میں یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اُن کے علاقوں سے مکمل طور پر نکال باہر کرنے کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسی کے مکمل حامی ہیں اور اس معاملے میں عملی سطح پر بھی بہت دور تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ۴ فروری کو اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران یہ واضح کردیا کہ غزہ کو امریکا اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے اور یہ کہ اب فلسطینیوں کو غزہ سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔ اس اعلان پر بہت لے دے ہوئی ہے۔ دنیا بھر کے قائدین نے صدر ٹرمپ کو اس بیان کے حوالے سے خوب لتاڑا ہے۔ یورپی یونین میں بھی اس حوالے سے شدید ردِعمل دکھائی دیتا ہے۔ یہ اعلان ہر اعتبار سے قابلِ مذمت اور پریشان کن ہے۔ امریکا دنیا بھر میں الجھا ہوا رہا ہے۔ آج بھی اُس کے فوجی متعدد ممالک کی سرزمین پر تعینات ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا اس معاملے میں بالکل واضح مثال کا درجہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں صدر ٹرمپ کی طرف سے غزہ کو کنٹرول میں لینے کا اعلان انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ایسی صورت میں خطے کی صورتحال مزید خراب ہوگی اور عسکری مہم جوئی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس سے قبل ہی اس بات کے آثار تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے حوالے سے کوئی ایسا ویسا بیان جاری کرنے والے ہیں۔ اور ایسا ہی ہوا۔

اسرائیل کے وزیراعظم صدر ٹرمپ کی دوسری حلف برداری کے بعد امریکا کا دورہ کرنے والے پہلے غیرملکی سربراہِ حکومت ہیں۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کی دوستی کو دیکھتے ہوئے کسی بھی سطح پر حیرت انگیز نہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے، جیسی کی توقع تھی، منصب سنبھالنے کے بعد پہلی تقریر میں اپنی گزشتہ دورِ صدارت کی کامیابیاں گنوائیں جن میں سے بیشتر بین الاقوامی قانون کے تحت یکسر غیرقانونی تھیں۔ انہوں نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کو بھی اپنی بڑی کامیابی قرار دیا۔ گولان کی پہاڑیوں کو غیرقانونی طور پر اسرائیل کی تحویل میں دینا اور ابراہم اکارڈز بھی اُن کی نظر میں بہت بڑی کامیابی ہیں۔ اپنی سابق نام نہاد کامیابیوں کا راگ الاپنے کے بعد صدر ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے امریکی منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ چونکانے والا لمحہ تھا کیونکہ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ وہ غزہ کے حوالے سے ایسی بات بھی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے غزہ پر امریکی کنٹرول کی بات کی۔

صدر ٹرمپ کے اب تک کے یعنی دوسری مدتِ صدارت کے حوالے سے کیے جانے والے اعلانات اور اقدامات تضادات کا مجموعی ثابت ہوئے ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ غزہ میں تعمیرِنو کی گنجائش نہیں۔ پھر کہا اگر تعمیرِنو ہوگی تو امریکا ہر مرحلے پر قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ پہلے انہوں نے کہا کہ غزہ سے تمام فلسطینیوں کو نکلنا ہوگا۔ پھر کہا کہ امریکا اس علاقے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا جو تمام ہی لوگوں کے لیے ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ فلسطینی غزہ میں سکونت پذیر رہ سکتے ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ کہا وہ سب کا سب نیتن یاہو سے ہضم نہ ہوسکا۔ جب ٹرمپ نے کہا کہ اُن کی انتظامیہ غزہ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہے گی تو نیتن یاہو تھوڑے سے کنفیوزڈ دکھائی دیے۔ ساتھ ہی ساتھ بات سمجھنے سے بھی وہ بہت حد تک قاصر رہے کہ امریکا غزہ میں اپنے فوجی تعینات کرے گا یا نہیں۔ جو کچھ بھی صدر ٹرمپ نے کہا، وہ ابہام کے پردوں میں لپٹا ہوا تھا۔ دو ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے، وہ ان کے ارادوں کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے گرین لینڈ کو بھی امریکا کے کنٹرول میں لینے کی بات کہی ہے۔ ساتھ ہی وہ کینیڈا کو لپیٹے میں لینے کی بات بھی کرچکے ہیں۔ سوچنے والے سوچ رہے ہیں کہ جب کینیڈا یا گرین لینڈ پر نظریں جمائی جاسکتی ہیں تو پھر غزہ کیا چیز ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کسی بھی خطے کو ہڑپ کرنا بہت بڑا معاملہ ہے۔ وہ زمانے اب نہیں رہے کہ کوئی بھی طاقت کسی بھی ملک یا خطے کو ہڑپ کرلے اور شور نہ اٹھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری حلف برداری کے ایک ہفتے بعد ہی امریکا نے مصر اور اردن پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ اپنے علاقوں سے بے دخل ہونے والے فلسطینیوں کو قبول کرلیں اور اس کا بنیادی مقصد غزہ کو صاف کرنا تھا۔ مین اسٹریم میڈیا میں بہت سے تجزیہ کار اگرچہ اس عمل کی مخالفت کر رہے ہیں مگر وہ بھول رہے ہیں کہ جب غزہ میں قتلِ عام شروع ہوا تھا تب بائیڈن انتظامیہ نے بھی بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو مصری سینائی کے علاقے میں بسانے کا آئیڈیا مارکیٹ میں پھینکا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیلی فوج کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی تھی جس کے نتیجے میں اُس نے کم و بیش ساٹھ ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا۔

جو کچھ ٹرمپ نے کرنے کا عندیہ دیا ہے، وہ بہت حد تک بائیڈن بھی کرچکے ہیں۔ اس حوالے سے ردِعمل منتخب نوعیت کا رہا ہے۔ بعض معاملات بہت خطرناک تھے مگر اُن کے بارے میں ردِعمل زیادہ شدید نہیں رہا۔ چند معاملات اگرچہ بہت اہم بھی نہ تھے اور اُن سے بہت زیادہ نقصان کا اندیشہ بھی نہ تھا مگر پھر بھی بہت شور مچایا گیا۔ یہ بھی مین اسٹریم میڈیا کی بے دیانتی ہے۔ ہمیں ٹرپ کے اگلے چار برس میں بہت سے نئے تضادات بھی دیکھنے کو ملیں گے اور چند پرانے تضادات بھی دہرائے جائیں گے۔

فلسطینیوں کے پاس اب صرف ایک چوائس رہ گئی ہے، یہ کہ اپنی سرزمین نہ چھوڑیں اور کسی بھی حالت میں اُس سے دست بردار یا کنارہ کش نہ ہوں۔ جو کچھ ٹرمپ کہہ رہے ہیں، وہ اسرائیلی قیادت کی قتلِ عام جاری رکھنے کی پالیسی ہی کا تسلسل ہے۔ غزہ کے ساتھ ساتھ مقبوضہ غربِ اردن میں بھی اسرائیلی فوج نے غیرمعمولی پیمانے پر قتلِ عام کیا ہے اور اس حوالے سے دنیا کو دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ جو کچھ بھی سوا سال کے دوران اسرائیل نے کیا، اُسے جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جارہا ہے، بس الفاظ تبدیل کردیے گئے ہیں۔ مقبوضہ غربِ اردن میں اسرائیلی فوج نے پناہ گزین کیمپ مسمار کردیے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔ بچوں سمیت درجنوں کو شہید کردیا گیا اور ہزاروں کو پورے علاقے سے نکال دیا گیا۔ پورے پورے علاقے تباہ کردیے گئے۔ یہ حملہ بجائے خود فلسطینی زندگی پر حملہ ہے۔ مقصد بالکل واضح رہے، فلسطینیوں کی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ کیا جائے۔

جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تب فلسطینی محض تماشائی نہیں تھے اور تماشائی تو وہ کبھی نہیں رہے۔ سوا سال کے دوران غزہ میں فلسطینیوں نے اسرائیلی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے اور قتلِ عام یا نسلی تطہیر کے جواب میں جو مزاحمت کی جانی چاہیے، وہ انہوں نے کی۔ دنیا نے دیکھا کہ نہتے ہوتے ہوئے بھی وہ میدان میں ڈٹے رہے۔ خوراک، پانی اور دواؤں کی شدید قلت کے باوجود انہوں نے مثالی نوعیت کی ثابت قدمی دکھائی۔ انتہائی نوعیت کی تباہی کے باوجود انہوں نے اپنی سرزمین چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے غزہ کو کنٹرول میں لینے کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں فلسطینیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی زمینیں کسی بھی حال میں خالی نہیں کریں گے۔ انہوں نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کے سربراہ کو بتا دیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے، اپنی زمینوں سے دست بردار نہیں ہوں گے۔ غزہ کے صحافی ابوبکر عبد نے لکھا یہ ہماری سرزمین ہے، کوئی اور ہمیں یہاں سے کیسے نکال سکتا ہے؟

یہ کچھ زیادہ حیرت انگیز نہیں، سات عشروں سے فلسطینیوں نے منظم قتلِ عام کا سامنا کیا ہے۔ اُنہیں طرح طرح کی اذیتیں دی گئی ہیں، معاشی مقاطعے کی کیفیت پیدا کی گئی ہے، معاشی ناکہ بندی کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہیں آبائی علاقوں سے نکالنے کے لیے اسرائیلی فوج نے بہت جبر کیا ہے، بہت مظالم ڈھائے ہیں۔ فلسطینیوں نے کسی بھی مرحلے پر پیچھے ہٹنے کی بات نہیں کی۔ وہ اِس طور ڈٹے رہے ہیں کہ دنیا حیرت سے دیکھتی رہ گئی ہے۔ امریکی صدر نے جو کچھ کہا ہے، وہ نسلی تطہیر کی پالیسی کا تسلسل ہی ہے۔ ہاں، اتنا ضرور ہے کہ امریکی صدر نے فلسطینیوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہے۔

انتہائی نوعیت کی ہر صورتحال کا بھرپور قوت اور مثالی ثابت قدمی سے سامنا کرکے فلسطینیوں نے اسلامی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ ایک چھوٹے سے علاقے کو امریکا اور اُس کے حلیف ممالک نے اسرائیل کے ذریعے حصار میں لے کر زندگی سے نفرت پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے مگر اب تک وہ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ فلسطینیوں نے ہر موڑ پر اپنے وجود کو منوایا ہے۔ وہ مظالم جھیلنے کے معاملے میں پوری امت کے لیے روشن ترین مثال کا درجہ رکھتے ہیں۔ مقدس سرزمین کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے وہ ہر طرح کی سختیاں جھیلتے رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ارضِ فلسطین سے جُڑے رہنے پر انہیں انتہائی نوعیت کے جبر اور مظالم کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔

امریکی صدر نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جو اُن کی ذہنیت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی امریکی پالیسیوں کا بھی عکاس ہے۔ وہ بزنس مین ہیں اور غزہ کے علاقے کو ریئل اسٹیٹ کے نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں اور دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سربراہ کی حیثیت سے اُن کا اعلان انتہائی عامیانہ اور شرمناک ہے۔ جس علاقے کو تباہ کردیا گیا ہے اور جس علاقے کے لوگوں پر زندگی انتہائی دشوار کردی گئی ہے، اُسی علاقے پر قبضہ کرنے کا عندیہ دے کر صدر ٹرمپ نے لاکھوں فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے اور اس حوالے سے عالمی برادری کو بھرپور ردِعمل کا اظہار کرنا چاہیے۔

(یارہ حواری فلسطینی پالیسی نیٹ ورک Al SHABAKA کے شریک ڈائریکٹر ہیں۔)                                

(مترجم: محمد ابراہیم خان) “Palestinians have a clear message for Donald Trump over Gaza: ‘We are here, we won’t leave’.” (“The Guardian”)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں