غزہ کی پٹی اسرائیل کے فوجی حملے کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی ہے۔ فلسطینی علاقے کی دوبارہ تعمیر کا عمل تاریخ کی سب سے مشکل تعمیرِ نو کی کوششوں میں سے ایک ہوگا۔
اکتوبر ۲۰۲۳ء سے، اسرائیل کے بلاتوقف فضائی حملوں اور بمباریوں نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کے ۲۳ لاکھ باشندے شدید تکالیف اور تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی افواج نے ایک لاکھ ۵۷ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید یا زخمی کیا، جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں اور ہزاروں گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کو ملبے میں تبدیل کر دیا۔ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اس کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔
اب اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ طور پر طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد، عالمی توجہ غزہ کی دوبارہ تعمیر کے مشکل چیلنج کی طرف متوجہ ہوگئی ہے۔
معاہدے کے تیسرے مرحلے میں غزہ کی دوبارہ تعمیر کو کئی ممالک اور تنظیموں کی نگرانی میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آگے کا راستہ پیچیدہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ ملبہ ہٹانے کے لاجسٹک مسائل سے لے کر تعمیرِ نو کے بھاری مالی بوجھ تک۔
صرف ۳۶۰ مربع کلومیٹر (۱۳۹؍مربع میل) پر محیط غزہ کی پٹی نے ایسی تباہی برداشت کی ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ تباہ کن جنگی واقعات کی یاد دلاتی ہے، جیسے دوسری جنگ عظیم میں ڈریسڈن پر بمباری یا ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں ان ۶۶ فیصد متاثرہ عمارتوں کی کُل تعداد ۷۷۸,۱۶۳ ہے۔ اس میں ۵۲ ہزار ۵۶۴ عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، ۱۸؍ہزار ۹۱۳ کو شدید نقصان پہنچا ہے، ۳۵ ہزار ۵۹۱ عمارتوں کو درمیانے درجے پر نقصان پہنچا ہے، اور ۵۶ ہزار ۷۱۰ عمارتیں جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
یو این او ایس اے ٹی (UNOSAT) کے ستمبر کے جائزے کے مطابق غزہ کا گورنریٹ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کے طور پر سامنے آیا، جہاں ۴۶ ہزار ۳۷۰ عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ غزہ شہر میں ۳۶ ہزار ۶۱۱ عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے ۸ ہزار ۵۷۸ عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
اقوام متحدہ کی ایک پچھلی رپورٹ اپریل ۲۰۲۴ء میں یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تقریباً ۳ لاکھ ۷۰ ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا، جن میں سے ۷۹ ہزار مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے رہائش، بلیک کرشن راج گوپال نے کہا ہے کہ غزہ کے رہائشی علاقے کا ۶۰۔۷۰ فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ شمالی غزہ میں یہ شرح ۸۲ فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
ناروے کے پناہ گزینوں کے کونسل (NRC) کی قیادت میں پناہ گزینی کلسٹر کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں ہر دس میں سے نو گھروں کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، ساتھ ہی اہم بنیادی ڈھانچوں جیسے اسپتال، اسکول اور پانی کی سہولتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
UNOSAT نے اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے تعاون سے یہ بھی دریافت کیا کہ غزہ کی پٹی کے تقریباً ۶۸ فیصد کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اقوام متحدہ کی تجارتی اور ترقی کی کانفرنس (UNCTAD) کی ابتدائی ۲۰۲۴ء کی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ غزہ کے زرعی وسائل کا ۸۰ فیصد سے ۹۶ فیصد تک تباہ ہو چکا ہے، جن میں آبپاشی کا نظام، مویشیوں کے فارم، باغات، مشینری اور ذخیرہ کرنے کی سہولتیں شامل ہیں۔
غزہ کی دوبارہ تعمیر کا مالی بوجھ بھی غیرمعمولی ہے۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے عرب ریاستوں کے علاقائی دفتر نے تعمیرِ نو کی مجموعی لاگت کا تخمینہ ۴۰؍ارب ڈالر سے زائد لگایا۔
ابتدائی بحالی کا مرحلہ، جو بنیادی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر مرکوز ہے کا تخمینہ ۲؍ارب سے ۳؍ارب ڈالر کے درمیان ہے، اور اس میں تین سے پانچ سال لگنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب UNCTAD نے جنوری ۲۰۲۴ء کے آخر تک غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ ۵ء۱۸؍ارب ڈالر لگایا ہے، جو ۲۰۲۲ء میں غزہ کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) سے سات گنا زیادہ ہے۔غزہ کی دوبارہ تعمیر، مختلف تجزیوں کے مطابق، نسلوں کا وقت لے سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہر راجاگاپال نے تخمینہ لگایا ہے کہ موجودہ حالات میں، جاری قبضے اور ناکہ بندی کی وجہ سے تعمیرِ نو میں ۸۰ سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
اگر اسرائیل غزہ میں تعمیراتی سامان کی درآمد میں پانچ گنا اضافہ کرنے کی اجازت دیتا ہے تو بھی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق، صرف رہائشی تعمیرِ نو ۲۰۴۰ء تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اس تخمینہ میں اسپتالوں، اسکولوں، بجلی کے پلانٹس اور پانی کے نظام کی دوبارہ تعمیر شامل نہیں۔
ماہرین کا اتفاق ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے شدید متاثر ہوگی، جو ضروری تعمیراتی سامان کی آمد کو محدود کرتی ہے۔ فلسطین میں این آر سی کی مشیر مواصلات شائنہ لو نے تعمیراتی سامان جیسے لکڑی، سیمنٹ اور اوزاروں پر پابندیوں کو ہٹانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انادولو کو بتایا کہ ہمیں اسکریننگ کے عمل میں رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ سامان کو بلا کسی شرط کے داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ واپس آنے والے مکینوں کی حفاظت ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کی مائن ایکشن سروس (UNMAS) کا اندازہ ہے کہ غزہ میں ۷۵۰۰ ٹن غیراستعمال شدہ بارود بکھرا ہوا ہے، جس کی صفائی میں تقریباً ۱۴؍سال لگ سکتے ہیں۔
شائنہ لو نے غیراستعمال شدہ بارود اور کمزور عمارتوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی جائزوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ’’عمارتوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوراً جائزے کیے جائیں، اور ان افراد کو جو اپنے گھروں کی طرف واپس آرہے ہیں، ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کیا جائے‘‘۔
غزہ میں ملبے کے حجم کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی اگست میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، وہاں ۴۲ ملین ٹن ملبہ موجود ہے جو گزشتہ ۱۶؍برسوں میں تمام علاقائی تنازعات کے ملبے کے حجم سے ۱۴؍گنا زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے دیگر عہدیداروں نے کہا ہے کہ غزہ میں تقریباً ۳۷ ملین ٹن ٹھوس فضلے کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس عمل کے لیے زبردست کوششوں کی ضرورت ہوگی اور شاید اس کو مکمل کرنے میں کئی سال لگیں گے۔ ملبہ ہٹانے میں فوری مدد کے لیے سامان اور ایندھن کی اجازت دی جانی چاہیے‘‘۔
رہائش، زمین اور جائیداد کے حقوق
غزہ کی دوبارہ تعمیر میں ایک اور بڑا مسئلہ اس کے مکینوں کی رہائش اور زمین کے حقوق ہوں گے۔ مثال کے طور پر ملٹی اسٹوری اپارٹمنٹ عمارتوں میں جہاں متعدد خاندان رہتے تھے، سوال یہ ہوگا کہ جب عمودی جگہ موجود نہ ہو تو واپس آنے والے خاندانوں کے لیے مناسب جگہ کیسے فراہم کی جائے اور زمین کو کس طرح منصفانہ طور پر تقسیم کیا جاسکتا ہے؟
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جب فلسطینیوں کو غزہ میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ملے گی تو آبادی کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئیں گی۔ جو عارضی مراکز اس وقت موجود ہیں، وہ شاید خالی ہو جائیں گے اور لوگ اپنے گھروں میں واپس آئیں گے۔ اس سے یہ مسائل پیدا ہوں گے کہ یہ شناخت کرنا مشکل ہو جائے گا کہ کس کو کیا ضرورت ہے۔
شیا نے متنبہ کیا کہ دوبارہ آبادکاری لبنان کی جنگ کے بعد کی تعمیرِ نو کی طرح ہوسکتی ہے، جہاں کمپنیاں ’’چھوٹے پلاٹس پر تعمیر نہیں کر پاتی تھیں جو تاریخی طور پر کئی نسلوں سے وراثت میں ملے تھے‘‘۔ اس رکاوٹ کو حل کرنے کے لیے، چھوٹے پلاٹس کو بڑے گروپوں میں اکٹھا کر دیا گیا اور مالکان کو حصے دیے گئے، لیکن وہ حصے زمین کی تباہ شدہ قیمت کی بنیاد پر تھے، جس سے لبنان میں سب سے بڑا سوشل اکنامک تنازع پیدا ہوا۔
غزہ اور فلسطین کا مستقبل
غزہ کی تعمیرِ نو کی قیادت کون کرے گا، اس بارے میں سوالات باقی ہیں۔ ’’کیا یہ قطری ہوں گے، سعودی ہوں گے، یا امریکی؟ شیا نے کہا اور یہ بھی بتایا کہ بین الاقوامی فنڈنگ اور داخلی سیاست بھی ایسے مسائل ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہوگا۔
این آر سی کی لو نے اس بات پر زور دیا کہ دوبارہ آبادکاری کا عمل غزہ کے ان فلسطینیوں کی قیادت میں ہونا چاہیے جو ۱۵؍ماہ کی کشیدگی میں براہ راست متاثر ہوئے۔
دوبارہ آبادکاری کے عمل میں یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ انسانی حقوق اور انسانی قوانین کا احترام اور پیروی کی جائے۔
شیا نے غیر منظم ترقی کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ آبادکاری کو آزاد منڈی کے عمل کے طور پر اختیار کیا گیا، تو غزہ اپنی شناخت کھو سکتا ہے اور جدید شہروں میں بدل سکتا ہے جو اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو مٹا دیں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وہ نقطۂ نظر ہے جسے کئی لوگ، خاص طور پر اسرائیلی، اپنے آبادکاری کے استعماری وژن کو فروغ دینے کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلسطینیوں کے لیے ایک سیاسی منصوبہ ہوسکتا ہے تاکہ وہ غزہ کو اس طرح دوبارہ تعمیر کریں جو ان کے تصور کردہ نئے فلسطین کی عکاسی کرے۔
اگر غزہ کو صرف ایک اور تعمیراتی مقام سمجھا جائے گا تو زمین کی ملکیت اور تاریخی تعلق جیسے گہرے مسائل نظر انداز کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ جو کچھ تباہ ہوا وہ صرف پتھر نہیں تھا۔۔۔ بلکہ ایک پورا سماجی اور شہری ڈھانچا، ایک پورا منظرنامہ تھا۔
(مترجم: محمودالحق صدیقی)
“Rebuilding Gaza: Enormous costs
and complex challenges ahead”.
“(“Middle East Monitor”)