!غزہ ڈیل: ٹرمپ نے پیغام دے دیا

کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کرسکتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کچھ بھی کرنے کا عندیہ دیا تھا، وہ سب کچھ کرنے کا اُن کا ارادہ ہے اور دنیا اس حوالے سے بہت کچھ دیکھ بھی رہی ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر معاملے میں سخت پیغام دینے کا شوق ہے اور اس بار بھی اُنہوں نے ایسا ہی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی، امداد کی پریشان حال لوگوں تک رسائی اور مغویوں کے بدلے قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ اِس کی بہت واضح مثال کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ بیشتر تصفیہ طلب معاملات کا کوئی نہ کوئی تصفیہ چاہتے ہیں اور وہ بھی فوری نوعیت کا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا بھی خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اور اُس کے بعد یعنی دوسری مدت کے لیے امریکی صدر منتخب ہونے پر یہ بات کہی کہ غزہ میں جاری لڑائی رکنی چاہیے اور جنگ بندی کا جامع معاہدہ جلد از جلد کیا جانا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ کی خواہش کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کیے ہوئے خصوصی نمائندے اسٹیون وِٹکوف کی ٹیلی فون کال نے اسرائیلی وزیراعظم کے معاونین کو حیران کردیا۔

گزشتہ جمعہ کو اسٹوین وِٹکوف نے قطر کے دارالحکومت دوحہ سے کال کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل پہنچ رہے ہیں اور نیتن یاہو سے ملیں گے۔ تب سبت شروع ہوچکا تھا۔ یہ یہودیوں کے لیے آرام کا دن ہے۔ نیتن یاہو کے معاونین نے کہا کہ وہ سبت کے ختم ہونے ہی پر مل سکیں گے۔ ۶۷ سالہ اسٹیون وِٹکوف نے جو ارب پتی قانون دان اور ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر ہیں، صبح کے اوقات میں نیتن یاہو سے ملاقات پر اِصرار کیا۔

اسرائیلی میڈیا نے جسے اِنتہائی دباؤ کی حامل قرار دیا، اُس ملاقات میں اسٹیون وِٹکوف نے سخت پیغام دے دیا۔ اُس نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مغویوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ جلد از جلد، بلکہ فوری کیا جائے۔ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ غزہ میں لڑائی بند ہوجانی چاہیے۔ یہ پیغام اس لیے دیا گیا تھا کہ ابھی اور بھی بہت سی مچھلیاں ہیں جو ٹرمپ کو فرائی کرنی ہیں۔ کام کم نہیں۔ ایجنڈے پر بہت کچھ ہے۔ نیتن یاہو کے لیے پیغام یہ تھا کہ غزہ کے بحران کو ختم کیا جائے تاکہ ٹرمپ دیگر معاملات پر بھرپور توجہ دے سکیں۔

اسرائیل حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے چینل۔۱۴ کو بتایا کہ اس ملاقات میں اسٹیون وِٹکوف نے اسرائیلی وزیراعظم کو ڈونلڈ ٹرمپ کا انتہائی سخت پیغام پہنچایا۔ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ بس اب ہو جانا چاہیے۔

اسرائیلی روزنامہ ییڈیٹ اہرونوٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ندف اییل نے لکھا کہ اسرائیل کے وزیراعظم اور اُن کے معاونین کو اندازہ نہ تھا کہ امریکا کی طرف سے ایسا کوئی پیغام آئے گا۔ اُنہیں اچانک پوری شدت سے احساس ہوا کہ اب اُنہیں نئے امریکی صدر سے ڈیل کرنی ہے۔ اُنہیں یہ بھی احساس ہوا کہ ٹرمپ بالکل اُسی طور کام کرنا چاہتے ہیں جس طور کوئی سرکاری افسر اپنے اسٹینو گرافر کو کچھ ڈکٹیٹ کرواتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاملات کو اُسی رفتار سے نپٹانا چاہتے ہیں جو اُنہیں پسند ہے اور یہ بھی کہ اُن کی بات کو نظرانداز کرنے کی غلطی نہ کی جائے تو اچھا ہے۔ ٹرمپ چاہتے تھے کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو اور فوری ہو۔

ایسا نہیں ہے کہ غزہ میں جنگ بندی یقینی بنانے کے لیے صرف اسٹیون وِٹکوف ہی کو ٹاسک سونپا گیا ہو۔ گزشتہ اختتامِ ہفتہ اور اُس کے بعد ہفتے کے دوران بھی صدر جوبائیڈن، اُن کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور مصر، ترکی اور خلیجِ فارس سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات (جو مذاکرات کے حوالے سے فعال رہی تھیں) اسرائیل اور حماس پر جنگ بندی کے جامع معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔

۱۳؍جنوری کو ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم کیلن نے حماس کے سیاسی ونگ سے بات کی تاکہ جنگ بندی کے معاہدے کے لیے انقرہ کی طرف سے دباؤ ڈالا جاسکے۔

گزشتہ برس نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کے معاہدے کی کوشش کی تھی مگر پھر پیچھے ہٹ گئے تھے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے مذاکرات میں جو نکات پیش کیے جاتے رہے تھے، وہ نیتن یاہو نے مجموعی طور پر نظرانداز کیے تھے مگر وہی نکات اچانک اہمیت اختیار کرگئے۔ بہرکیف، اسٹین وِٹکوف کی طرف سے ٹرمپ کا پیغام پہنچائے جانے پر پیدا ہونے والی امید کے باوجود آخری لمحات میں صورتحال خاصی کشیدہ رہی۔ بہت سے معاملات پر اختلاف ابھرا اور پھر اُس اختلاف پر کسی نہ کسی طور قابو پالیا گیا۔ چند ایک متضاد پیغامات ابھرے اور پھر غائب ہوگئے۔ ۱۵؍جنوری تک معاملات خاصے واضح ہوگئے اور سبھی کو دکھائی دینے لگا کہ کسی بھی وقت جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوجائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گِڈین سار نے اعلان کیا کہ وہ ایک غیرملکی دورہ ختم کرکے اسرائیل واپس جارہے ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ہونے والی رائے شماری میں حصہ لے سکیں۔

خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی اس کا کریڈٹ لیا۔ انہوں نے لکھا ’’غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ دراصل نومبر کے امریکی صدارتی انتخاب میں ہماری (یعنی ری پبلکنز کی) شاندار فتح کے نتیجے ہی میں واقع ہوسکتا تھا اور ہوا ہے۔ اس سے دنیا کو یہ معلوم ہو جانا چاہیے کہ میری سربراہی میں کام کرنے والی نئی امریکی انتظامیہ امن چاہتی ہے اور یہ بھی کہ ہم اپنی اور اپنے تمام اتحادیوں کی سلامتی چاہتے ہیں۔ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی یرغمالی اب اپنے گھر واپس پہنچیں گے، اپنے اہلِ خانہ سے ملیں گے۔‘‘

غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ قیدیوں کا تبادلہ، امداد کی رسائی اور فلسطینیوں کے لیے نقل و حرکت کی آزادی۔ اس معاہدے کا فریم ورک بہت پہلے تیار ہوچکا تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے معاملات بہت حد تک طے کردیے تھے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اس کام میں حصہ ڈالتی رہی تھی۔

معاہدے کے تحت ۶ ہفتوں کے دوران اسرائیل کے ۳۳ مغوی رہا کیے جائیں گے جن میں خواتین، بچے، معمر افراد اور چند زخمی بھی شامل ہیں۔ اِن کے بدلے حماس سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہائی دلوائے گی۔ اِن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

مغویوں میں اسرائیل کی پانچ خواتین فوجی بھی شامل ہیں۔ اِن میں سے ہر ایک کے عوض ۵۰ فلسطینی قیدیوں کو رہا کروایا جائے گا۔ اِن قیدیوں میں ۳۰ ایسے بھی ہیں جنہیں عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔

جنگ بندی بنیادی طور پر ۶ ہفتوں کے لیے ہوگی۔ تمام مغویوں کی رہائی مکمل ہونے کے بعد لڑائی مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے پھر مذاکرات ہوں گے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس طرح تمام فلسطینی قیدی رہائی پاسکیں گے اور کس طور وہ دوبارہ آباد ہوں گے جبکہ بیشتر کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جنگ بندی مکمل ہوگی یعنی لڑائی بالکل بند ہوجائے گی اور اسرائیلی فوجی غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے نکل جائیں گے۔ حماس کا ایک بنیادی مطالبہ یہ بھی ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج مکمل طور پر نکل جائے۔

جنگ بندی کے اس معاہدے سے ایک بات تو بالکل واضح ہوچکی ہے، یہ کہ دونوں ہی فریق آبرو بچانے کا کوئی راستہ کھوج نکالنا چاہتے تھے اور اس کا اہتمام کردیا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے حتمی فتح کے حوالے سے بہت بڑھکیں ماری تھیں مگر بہت جلد واضح ہوگیا کہ ایسا ممکن نہیں۔ اسرائیلی فوج نے پورا زور لگاکر دیکھ لیا مگر حماس اب تک موجود ہے اور ایک بڑی زمینی حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے اندر بھی لاکھوں افراد یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ مغویوں کی جلد از جلد واپسی یقینی بنائی جائے۔ اس حوالے سے نیتن یاہو اور اُن کی کابینہ پر غیرمعمولی دباؤ تھا۔

جنگ بندی کے معاہدے سے حماس کو جو کچھ مل رہا ہے، وہ بہت حد تک اُس کے مطالبات اور امنگوں کے مطابق ہی ہے۔ جنوبی غزہ میں پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو جنوبی غزہ تک رسائی کی اجازت کا دیا جانا بھی حماس کے لیے مجموعی طور پر بڑی کامیابی ہے۔ ہاں، لڑائی کا مکمل طور پر بند ہونا اور اسرائیلی فوجیوں کا انخلا، دو ایسے معاملات ہیں جو اَب تک پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ ڈیل کچھ زیادہ بُری نہیں کیونکہ امداد کی رسائی سے فلسطینیوں کی مشکلات کم کرنے میں بہرحال مدد ملے گی اور تعمیرِنو بھی شروع ہوسکے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم کو ایک سوال کا سامنا کرنا پڑے گا کہ انہوں نے بالکل ایسا ہی معاہدہ مئی ۲۰۲۴ء میں کیوں قبول نہیں کیا۔ اسرائیل کے سیاسی تجزیہ کاروں نے اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ڈالے جانے والے دباؤ کو نیتن یاہو نے بہت زیادہ اور بہت تیزی سے قبول کیا۔ اس معاملے میں انہوں نے مخلوط حکومت میں شامل اپنے اتحادیوں کے تحفظات کی بھی پروا نہیں کی اور اُن سے مشاورت کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔

عبرانی زبان کے اخبار Ma’ariv میں بین کیسپِٹ نے لکھا ہے کہ میں بھی حیران ہوں کہ تمام رکاوٹیں اچانک کہاں غائب ہوگئیں۔ وہ تمام شرائط کہاں گئیں جنہوں نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ نیتن یاہو نے بہت بڑی بڑی باتیں کی تھیں اور اُن کے معاونین بھی بہت بڑھ چڑھ کر بول رہے تھے۔ وہ سب کچھ کہاں گیا؟

معاملہ یہ ہے کہ ایک طرف امریکا میں انتظامیہ تبدیل ہو رہی تھی اور دوسری طرف خود اسرائیل میں بھی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو رہا تھا اور نیتن یاہو کو اپنی سیٹ کی فکر لاحق تھی۔ اُن کے پاس جنگ بندی کے معاہدے کو قبول کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔ ایسے میں اُنہیں لچک دکھانے پر مجبور ہونا ہی تھا۔

غزہ میں اسرائیلی فوج نے تباہی تو مچائی، قتلِ عام کا بازار تو گرم کیا، تاہم وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ حماس کا حوصلہ توڑا نہ جاسکا۔ حماس اب بھی ایک واضح زمینی حقیقت ہے۔ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فتوحات اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائیوں کی کامیابی سے بہرحال اسرائیلی فوج اور عوام، دونوں کے دلوں کو تھوڑا بہت قرار ضرور ملا ہوگا۔ ہاں، غزہ کی حد تک وہ اب بھی قدرے مایوسی ہی کا شکار ہیں۔ ایک پوری آبادی کو محصور کرکے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔

امریکا نے نیتن یاہو کے لیے اچھی خاصی فیس سیونگ کا اہتمام کیا۔ اب وہ اپنے عوام سے کہہ سکیں گے میں کیا کرتا، امریکا کی طرف سے غیرمعمولی دباؤ کا سامنا تھا اور یہ کہ اگر جنگ بندی کے معاہدے میں مزید تاخیر کی جاتی تو ایک طرف مزید تباہی ہوتی اور دوسری طرف اسرائیلی مغویوں کی رہائی ممکن نہیں بنائی جاسکتی تھی۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“A stern message: how return of Trump loomed over Gaza ceasefire negotiations”. (“The Guardian”)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں