غزہ جنگ کے دو سال اور ٹرمپ فارمولہ

فلسطین کے محصور خِطّے غزہ پر اسرائیل کی مسلّط کردہ جنگ نے دو سال مکمل کرلیے ہیں۔ ۷۳۰ دِنوں میں دو لاکھ ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد اس خِطّہ پر برسایا گیا، جس سے ۷۷ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گو کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس چھوٹے سے خِطّہ میں ہلاکتوں کی تعداد ۶۷ ہزار ہے، مگر چونکہ دس ہزار کے قریب افراد لاپتا بھی ہیں، بتایا جاتا ہے کہ اُن کی لاشیں عمارتوں کے ملبے کے نیچے دَبی ہوں گی۔

ان میں ۲۰ ہزار بچے اور ۵۰۰,۱۲ کے قریب خواتین ہیں۔ میڈیکل اسٹاف و صحافیوں کو بھی بخشا نہیں گیا۔ ۱۶۷۰؍میڈیکل اسٹاف کے علاوہ ۲۴۵ صحافی بھی بمباری سے ہلاک ہوئے۔ نیز ۴۶۰؍افراد جن میں ۱۵۴؍بچے شامل ہیں، بھکمری کے شکار ہوگئے۔

اقوامِ متحدہ کے آفس فار کوآرڈی نیشن آف ہیومینٹرین افیئرز نے ۱۴؍اگست تا ۲۳ ستمبر کے دوران سائٹ مینجمنٹ کلسٹر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۴۰۰,۸۸,۳ سے زائد فلسطینی بے دخل ہوئے جن میں اکثریت غزہ سٹی سے فرار ہونے والوں کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے کئی بار غزہ کے مکینوں کو جنوب کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا۔

غزہ کے نیسیرات کے مغرب میں ایک پھٹے پھٹے خیمے میں عابیر علیوا اپنے دو بچوں کے درمیان بیٹھی ہے۔ عابیر نے اگست میں کیمپ میں پناہ لی تھی، وہ اپریل میں غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی حملے میں اپنے شوہر کو کھو چکی ہے اور اب اپنے دو بچوں کی کفالت کے بوجھ تلے ہے۔

عابیر نے فون پر بتایا کہ جنگ کے آغاز پر وہ شجاعیہ محلّے سے وسطی غزہ کی طرف فرار ہوئی، پھر چند مہینوں بعد اپنے گھر واپس آئی۔ مگر پھر اس کو اپنے محلّے سے ہجرت کرنی پڑی۔ مگر اب وہ دوبارہ بے دخلی کا سامنا نہیں کرسکتی۔ اس سب کے باوجود عابیر ایک چھوٹی سی امیدکے سہارے زندہ ہے۔

وہ کہتی ہے ’’میں اُمید کرتی ہوں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اِس جنگ کو روکنے کے لیے قدم اٹھائیں گے۔ ہم مزید تباہی اور تکلیف برداشت نہیں کرسکتے۔ میں صرف اپنے دو بچوں کے ساتھ امن سے جینا چاہتی ہوں‘‘۔

دو برسوں کے بعد خوش آئند بات بس اتنی ہے کہ دو سال کے بعد جنگ میں پہلی مرتبہ اسرائیل اور حماس، دونوں ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئے ہیں جہاں ان کے لیے آپشن محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بیس نکاتی امن فارمولہ پیش کیا ہے، اس نے امیدیں تو جگا دی ہیں، مگر خدشات بھی پیدا کردیے ہیں۔

سب سے پیچیدہ معاملات، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، فلسطینی ریاست کا قیام اور مکمل طور پر غزہ کو غیرمسلح کرنا ہے۔ اسرائیل جو ۱۹۹۳ء کے اوسلو معاہدے سے منہ موڑ سکتا ہے، تو کیا ضمانت ہے کہ حماس کی تحویل میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد وہ مکمل انخلا سے انکار کرسکتا ہے۔ اسرائیل مرحلہ وار انخلا پر زور دے رہا ہے۔ مگر اس سے قبل اس کے سبھی قیدی رہا ہونے چاہئیں۔

 اس سال ۱۹؍جنوری کو جب اسرائیل اور حماس نے ۴۲ دن کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، تو انہی دنوں حماس نے محصور خِطّہ میں حکومت سے الگ ہونے اور انتظامیہ کو ایک عبوری نمائندہ فلسطینی قیادت کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس جنگ بندی سے قبل چینی دارالحکومت بیجنگ میں حماس اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ایک اہم دھڑے الفتح کے لیڈروں کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا تھا۔

دونوں فریق بیجنگ سے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ آئے تھے اور طے ہوا تھا کہ اسرائیلی جیل میں قید الفتح کے ایک لیڈر مروان برغوثی فلسطین کے دونوں خِطّوں مغربی کنارے اور غزہ کی مشترکہ قیادت سنبھالیں گے اور محمود عباس اور حماس کی لیڈرشپ مستعفی ہو جائے گی۔

حماس کی طرف سے رہائی کے لیے قیدیوں کی جو پہلی فہرست اسرائیل کو دی گئی تھی، اس میں مروان برغوثی کا نام پہلے نمبر پر تھا۔ اس دوران ان کی اہلیہ فدوا برغوثی انقرہ، استنبول اور دوحہ کے چکّر لگا رہی تھیں۔

ذرائع کے مطابق محمود عباس نے ہی اسرائیلوں کو باور کرایا کہ حماس کی شہہ پر برغوثی کی رہائی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہوگا، جس کے بعد ان کا نام رہا ہونے والے قیدیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔ وہ ۲۰۰۲ء سے اسرائیلی جیل میں طویل سزا بھگت رہے ہیں۔

لہٰذا اس وقت بھی حماس اقتدار سے الگ تو ہوسکتی ہے، مگر غیرمسلح ہونا اور اسرائیلی انخلا اور فلسطینی ریاست پر کسی پیشرفت کی عدم موجودگی کی وجہ سے معاملہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

ویسے کسی بھی فریق کے لیے صدر ٹرمپ کی تجویز کو مکمل طور پر رد کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ، جو طویل عرصے سے مایوس تھے، حالیہ پیشرفت کو ایک امید کی کرن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح غزہ میں بھی عام لوگ ایک آس لگائے ہوئے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی اُمنگوں یا جنگ کے خاتمے کے لیے عرب دنیا کی وسیع تر امیدوں پر پورا نہیں اترتا، لیکن یہ ایک بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے، جس پر تعمیر ممکن ہے۔ غزہ کے فلسطینی، جو شدید مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، اس منصوبے میں کم از کم بمباری میں وقفے کی امید دیکھ رہے ہیں۔

فلسطین کی عرب امریکن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی ماہر پروفیسر ڈاکٹر سانیہ فیصل الحسینی کے مطابق ’’کسی کو بھی ٹرمپ کی اس تجویز کو کسی ’بریک تھرو‘ کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔ یہ نہ تو فلسطینی امیدوں پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی تباہی کے اس دائرے کے خاتمے کی ضمانت دیتی ہے، مگر اس میں ایسے عناصر ضرور ہیں جنہیں آگے بڑھایا جاسکتا ہے‘‘۔

ایک عمومی تاثر یہ بھی ہے کہ اب خود واشنگٹن کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ واشنگٹن میں میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ اسرائیل پبلک ریلیشنز کے فرنٹ پر ناکام ہو گیا ہے اور وہ مزید سفارتی سطح پر اس کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔

اسی میٹنگ کے دوران انہوں نے نیتن یاہو کی قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے بات کروائی، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے دوحہ پر حملے کے لیے معذرت ظاہر کی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے باضابطہ ایک حکم نامہ پر دستخط کیے، جس میں قطر کو سیکورٹی ضمانت دی گئی۔

ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ یرغمالیوں کو جلد از جلد ۷۲ گھنٹے کے اندر رہا کیا جائے، اس دوران اسرائیلی فوجی کارروائیاں معطل رہیں گی۔ مگر جنگ زدہ علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا؟ محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کون دے گا؟

وضاحت نہ ہونے کی صورت میں معمولی خلاف ورزیاں پورے عمل کو سبوتاژ کرسکتی ہیں۔ حماس نے دہرایا کہ وہ ’غزہ کی انتظامیہ کو فلسطینی قومی اتفاق رائے پر مبنی ایک آزاد ادارے کے حوالے کرنے کی منظوری‘ دیتا ہے، جسے عرب اور اسلامی حلقوں کی حمایت حاصل ہو۔

ٹرمپ کے بتائے گئے بیرونی ’بورڈ آف پیس‘ میں بین الاقوامی شخصیات کے شامل ہونے کو حماس نے سختی سے مسترد کیا۔ حماس کے عہدیدار موسیٰ ابو مرزوق نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی ممکنہ نامزدگی خاص طور ان کے عراق جنگ میں کردار کی وجہ سے ناقابلِ قبول بتائی۔

تیسرا، ہتھیار ڈالنے کا معاملہ ہے۔ ٹرمپ کے ۲۰ نکاتی امن منصوبے میں حماس سمیت دیگر گروپوں کو عسکری طور پر غیرمسلح کرنے اور غزہ کی حکمرانی میں شرکت سے روکا جانا شامل ہے۔ نیتن یاہو اور اُن کے حامی چاہتے ہیں کہ حماس کی عسکری صلاحیت ختم کی جائے۔

مبصرین کے مطابق حماس کے لیے ہتھیار چھوڑ دینا بغیر سیاسی ضمانتوں کے محض سرینڈر کے مترادف ہوگا۔ خامیوں کے باوجود، ٹرمپ اور حماس کے بیانات نے سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ ماضی کی کوششیں عدم اعتماد، عدم توازن مطالبات کی چٹانوں پر ٹوٹ چکی ہیں۔ فلسطینی امن کی کوششیں منصوبے یا فنڈز کی کمی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوتیں بلکہ اعتماد، معتبر نفاذ اور سیاسی ارادے کی کمی کی وجہ سے ناکام ہوتی ہیں۔

القدس پارلیمانی فورم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرّم بلاوی کے مطابق خطے کا مسئلہ ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع نہیں ہوا۔ مغربی میڈیا اب اسی دن کو جس دن حماس کے عسکری افراد نے اسرائیلی بستیوں پر حملہ کیا، جنگ کا نقطہ آغاز سمجھتے ہیں۔ صرف ۲۰۲۳ء کے پہلے نو ماہ میں ہی کم از کم ۲۳۰ فلسطینی ہلاک ہوئے تھے، جو ۲۰۰۵ء کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اسی سال کے پہلے نصف میں، کم ازکم ۱۱۴۸؍حملوں کی اطلاع ملی، جو اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر کیے۔ انتہائی دائیں بازو کے گروہ، جو اَب نیتن یاہو کی حکومت کے ذریعے مین اسٹریم میں شامل ہوچکے ہیں، نے تقریباً تباہی کو دعوت دی تھی۔

اسرائیلی سفارت کار اپنے عرب ہمسایوں کے ساتھ کسی معاہدے کی توقع تو کر رہے تھے، مگر اس دوران فلسطین پر کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتے تھے۔ تل ابیب کی قیادت میں غرور اور برتری کا احساس سرایت کر چکا تھا اور وہ فلسطین کو تنازع ماننے سے ہی انکاری تھے۔ جب نیتن یاہو نے جنرل اسمبلی میں ’گریٹر اسرائیل‘ کا نقشہ پیش کیا جس میں مغربی کنارے اور غزہ کو اسرائیل کے بحیرہ میں دکھایا گیا، تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔

تاریخی طور پر اسرائیل صرف اُسی وقت امن معاہدوں پر آمادہ ہوا ہے جب وہ دباؤ میں رہتا ہے۔

چند سال قبل نئی دہلی میں ڈیوڈ شلومو روزن، جو سابق چیف ریبائی برائے آئرلینڈ اور امریکن جیوش کمیٹی کے عہدیدار ہیں، نے اس کالم نگار کو بتایا کہ ۱۹۷۳ء کی جنگ کے بعد کی مایوسی کی فضا نے ہی اسرائیل کو مصر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ کیونکہ اس جنگ نے اسرائیلی برتری کے تصورات کو توڑ دیا تھا۔ ان کے بقول: ’ہمارے ناقابلِ شکست ہونے کا بھرم ٹوٹ گیا تھا۔ حالانکہ ہم نے جنگ جیتی تھی، مگر ہمیں لگا کہ ہم ہار گئے ہیں۔ اسی طرح مصریوں کو بھی ایک تلخ جیت کا احساس تھا۔‘ اسی طرح سابقہ تاریخی تناظر میں امن معاہدے طے پائے۔

حماس کے ساتھ جنگ نے بھی اسرائیل کی ناقابلِ شکست شبیہ کو جھنجوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے نے اسرائیلی مذہبی قوم پرستوں اسمتروچ اور بن گویر کو بھی دھچکا دیا، جو مغربی کنارے کی ضم کرنے اور غزہ کے دو ملین فلسطینیوں کے اخراج اور دوبارہ یہودی آبادکاری کا خواب دیکھ رہے تھے۔

ٹرمپ کے امن منصوبہ میں سابق برطانوی وزیراعظم کو کوئی رول دینا اس کو پیچیدہ بناسکتا ہے۔ انہوں نے عراق کی جنگ میں برطانیہ کو شامل کیا اور غزہ میں عبوری انتظامیہ کے سربراہ کے طور پر ان کا نام آرہا ہے۔ غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (جی آئی ٹی اے) کے منصوبے میں ایک درجہ بندی دکھائی گئی ہے، جس میں بین الاقوامی ارب پتیوں اور کاروباری شخصیات کا ایک بورڈ ہوگا اور اس کے ماتحت ’غیرجانبدار‘ فلسطینی ناظمین ہوں گے۔

انتظامیہ اسرائیل، مصر اور امریکا کے ساتھ کام کرے گی۔ ایک دستاویز میں اس بورڈ کے ممکنہ امیدواروں کے طور پر چار نام درج ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی فلسطینی نہیں ہے۔ ایک نام سیگرِڈ کاگ ہے، جو اقوامِ متحدہ کی مشرقِ وسطی امن عمل کی خصوصی کوآرڈی نیٹر رہ چکی ہیں۔ دیگر نام ’عالمی سطح کے معروف افراد‘ کے طور پر بیان کیے گئے ہیں، ان میں مارک روان، نگیب سعویریس اور آری یہ لائٹ اسٹون شامل ہیں۔

اسٹون کا غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے قیام اور پیشرفت میں اہم کردار رہا ہے۔

جی ایچ ایف کی سائٹس پر غزہ میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ وہ سابق امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کے سینئر مشیر رہ چکے ہیں جب فریڈمین صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر تھے، اور اب وہ مشرقِ وسطیٰ ایجنڈا کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے قریبی ہیں۔

نگیب سعویریس تقریباً ۱۰؍ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک مصر کے امیر خاندان سے ہیں۔ ان کا بلیئر کے ساتھ دیرینہ رابطہ ہے۔ بلیئر ان کے بیٹے کی شادی میں شرکت کرنے قاہرہ آئے تھے۔ انہوں نے افغانستان کی تعمیر نو میں شرکت بھی کی۔ مارک روان بلومبرگ کے مطابق ۲ء۱۰؍ارب ڈالر کے قریب مالیت کے مالک ہیں۔ ۶۳ سالہ یہ یہودی امریکی ایپولو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او ہیں۔

روان یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے وہارٹن بزنس اسکول کے بورڈ ممبر بھی ہیں اور ایک بڑے ڈونر ہیں۔ سیگرڈ کاگ ایک معروف یورپی ٹیکنوکریٹ جو ۲۰۲۳ء کے اواخر سے ۲۰۲۵ء کے وسط تک اقوام متحدہ کی غزہ کے لیے اعلیٰ انسانی امداد اور تعمیر نو کوآرڈی نیٹر رہ چکی ہیں۔ وہ پہلے بیروت، دمشق اور یروشلم میں اقوامِ متحدہ کی نمائندہ رہ چکی ہیں اور ہالینڈ کی ایک لبرل جماعت کی سیاست سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر مکرّم کے مطابق، تکبّر اور استعماری رویہ ۷؍اکتوبر کے واقعات کی براہِ راست وجہ بنا۔ دہائیوں کی جدوجہد، ناکام مذاکرات، اور جھوٹے وعدوں کے بعد فلسطینیوں کو یقین ہو چلا تھا کہ ان کو جائز حقوق سے دور کر دیا گیا ہے۔ ’طوفان الاقصیٰ آپریشن‘ اسی سیاسی جمود کے ردِعمل کے طور پر سامنے آیا۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ پر جاری قتلِ عام نے جدید تاریخ میں انسانی تباہی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہزاروں بچوں کی شہادت، براہِ راست نشر ہونے والے قتلِ عام، دنیا بھر میں سب سے زیادہ معذور بچوں کی تعداد، اور اتنے صحافیوں کی ہلاکت کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم سمیت تمام جنگوں کا مجموعہ بھی اس کے برابر نہیں آتا۔

 یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اسرائیل اب خود ایک علاقائی اور عالمی بحران بن چکا ہے۔یہ جنگ فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس، اس نے اسرائیل کو دنیا میں پہلے سے زیادہ تنہا کر دیا، اس کی داخلی اور خارجی ساکھ کو مجروح کیا، اور اس کی معیشت و پالیسیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔

جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل اپنے اہداف نہ عسکری طور پر حاصل کر سکا، نہ سیاسی طور پر۔ وہ صرف عام شہریوں کے قتل اور غزہ کی تباہی تک محدود رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اقوامِ متحدہ، عالمی عدالتوں اور سلامتی کونسل پر دنیا کا اعتماد متزلزل ہوگیا۔

امریکا میں بھی اب آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ وہ کب تک اسرائیل کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے۔ اسرائیل کو ہر سال امریکا سے تقریباً ۸ء۳؍ارب ڈالر ملتے ہیں جن میں ۳ء۳؍ارب ڈالر ملٹری اور ۵۰۰ ملین ڈالر میزائلوں کے لیے ملتے ہیں۔ یہ امداد اسرائیل کے کل دفاعی بجٹ کا تقریباً ۱۵ تا ۲۰ فیصد بنتی ہے۔ اسرائیل کا کُل دفاعی بجٹ تقریباً ۲۴؍ارب ڈالر ہے، جبکہ اس کا مجموعی قومی بجٹ ۱۶۰ تا ۱۷۰؍ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ اسرائیل کی جی ڈی پی تقریباً ۵۵۰؍ارب ڈالر ہے لیکن اس کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ اگر امریکا امداد بند کر دے تو اچانک ۸ء۳؍ارب ڈالر کی کمی سے اسرائیل کے دفاعی بجٹ میں تقریباً ۱۶؍فیصد کمی آئے گی۔ اسرائیل کو یا تواپنے عوام پر ٹیکس بڑھانا پڑے گا یا تعلیم، صحت اور فلاحی اسکیموں میں کٹوتی کرنا ہوگی۔ ایک تخمینے کے مطابق اسرائیل کو یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے تقریباً ۵ء۱؍فیصد جی ڈی پی اضافی محصولات پیدا کرنا ہوں گے۔ یہ ممکن تو ہے، مگر عام شہریوں پر مہنگائی اور بجٹ کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اسرائیل کو امریکی ساختہ ہتھیاروں، جیسے ایف۔۳۵ طیارے، اپاچی ہیلی کاپٹر، آئرن ڈوم میزائل اور امریکی پرزوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

امداد بند ہونے کے بعد، اسے نئے سودوں کے لیے خود ادائیگی کرنی پڑے گی۔ امریکی امداد صرف پیسوں کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک سیاسی ضمانت ہے۔

دنیا بھر میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور نیٹو جیسے فورمز پر ایک ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے۔ امداد بند ہونے کا مطلب صرف عسکری خلا نہیں بلکہ سیاسی تنہائی بھی ہوسکتا ہے۔ اسرائیلی عوام اور قیادت کے لیے امریکی تعلقات ایک سلامتی کا ستون ہیں۔

(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۸؍اکتوبر ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں