Michael Robbins & Amaney A. Jamal
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب دنیا کی رائے عامہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تعلقات کو معمول پر لانے کی تمام کوششوں پر شدید منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
اسرائیل نے ۲۰۲۰ء میں امریکا کی وساطت سے ابراہم معاہدے کے تحت اپنے تمام پڑوسیوں سے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی۔ ایسے میں بہت سے تجزیہ کاروں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ عرب دنیا کے لیے فلسطین کا کاز اب بھی کچھ اہمیت رکھتا ہے یا نہیں۔ عرب دنیا میں اِس حوالے سے خاموشی کے بارے میں شکوک و شبہات ۲۰۲۳ء کے اواخر میں شروع ہوئے۔ جب سعودی عرب نے اس اہم معاہدے یعنی میثاقِ براہیمی سے وابستہ ہونے کا واضح اشارا دیا۔ وہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا چاہتا تھا اور جواب میں کچھ بھی نہیں چاہتا تھا۔ تب تک سعودی حکومت اِس موقف کی حامل رہی تھی کہ اسرائیل سے تعلقات اُسی وقت معمول پر لائے جاسکتے ہیں جب وہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر متفق ہو جائے۔
جب حماس نے ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیلی سرزمین پر حملے کیے تو اسرائیل نے حماس کو کچلنے کے نام پر انتہائی سفاک فوجی آپریشن شروع کیا۔ اِس آپریشن میں طاقت بہت وسیع پیمانے پر استعمال کی گئی اور عام فلسطینی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تو دنیا بھر میں اسرائیلی فوجی اقدامات کی شدید مذمت کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی ایک زمانے سے کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے باشندوں کے لیے بنیادی چیزوں کی کمی بھی شدید بحران کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔ پانی اور خوراک کے علاوہ دواؤں اور علاج کی سہولتوں کا فقدان بھی عام فلسطینیوں پر بہت بُری طرح اثر انداز ہوتا رہا ہے اور ہو رہا ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں نے بہت طویل مدت تک تشدّد اور محرومی کا سامنا کیا ہے تاہم فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی عرب دنیا میں مخالفت کبھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہوئی۔ اِس بار لڑائی نے جتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور ہلاکتوں کی راہ ہموار کی، اُسے دیکھتے ہوئے بہت سے تجزی کاروں نے یہ اندازہ لگایا کہ اِس بار عرب دنیا کے شہریوں میں اسرائیل کے خلاف جذبات خطرناک اور فیصلہ کن حد تک بھڑک اٹھیں گے اور اِس کے نتیجے میں اُن کی حکومتوں کی پالیسیاں بھی بدلیں گی اور لب و لہجہ بھی۔
چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو کچھ غزہ میں ہوا ہے، اُس کے نتیجے میں فلسطینی کاز مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوا ہے اور ایک بڑی، مایوس کن تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ فلسطینی کاز اب بین الاقوامی ایجنڈے سے ہٹ سا گیا ہے۔ ایک واضح تبدیلی یہ ہے کہ جن عرب ممالک نے اسرائیل سے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے، اُن میں سے کسی نے بھی معاہدے سے الگ ہونے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے کسی بھی عرب ملک نے تعلقات ختم نہیں کیے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ اِس دورے کے دوران فلسطین کا مسئلہ بالائے طاق رہا۔ فریقین نے صرف معاشی مفادات کی بات کی۔ فلسطین میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے، فلسطینیوں پر کیا گزر رہی ہے، اِس سے کسی کو بظاہر کچھ بھی غرض نہیں۔ چند ایک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل نے جو جنگ جاری رکھی ہے، اُس کے بارے میں عرب دنیا کا مجموعی عوامی ردِعمل خانہ پُری کی سطح سے بھی بہت کم ہے۔
ایک بات پھر بھی ہے جسے بالعموم نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ ہم نے خطّے میں رائے عامہ کے جن جائزوں کا اہتمام کیا ہے، اُن سے معلوم ہوا ہے کہ رائے عامہ میں چند ایک ایسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے متعلقہ حکومتوں کی طرزِ فکر و عمل پر تھوڑا بہت اثر ضرور مرتب کیا ہے۔ غزہ کی صورتحال نے عرب ریاستوں کے بنیادی مفادات کو تو خیر تبدیل نہیں کیا ہے تاہم شہریوں میں بڑھتے ہوئے غصے نے خارجہ پالیسی پر ضرور اثرات مرتب کیے ہیں۔ جب اسرائیل نے فلسطینیوں پر بم برسانے شروع کیے، تب اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی تمام کوششیں روک دی گئیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں سعودی عرب کا جو دورہ کیا ہے، اُس کے دوران میثاقِ براہیم کے تحت اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ ایجنڈے پر نہیں تھا۔ غزہ کی صورتحال کے باوجود چند عرب حکومتوں کا خیال تھا کہ اسرائیل سے بہتر تعلقات اسٹریٹجک حوالے سے استحکام یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ عوام کی طرف سے مخالفت کے باعث حکومتیں اِس معاملے میں زیادہ آگے بڑھنے سے گریزاں ہیں۔ اسرائیل اور امریکا نے عرب دنیا کے حوالے سے جو سوچ رکھا تھا، وہ نہیں ہو پارہا۔
عرب دنیا کے حکمران ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے قبل فلسطینی کاز کے لیے اپنے باشندوں کی حمایت کو نظرانداز کرتے رہے تھے مگر اب وہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ فلسطینیوں سے ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات غیرمعمولی ہیں۔ عرب دنیا کے حکمران اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر اسرائیل خود کو عرب دنیا سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے تو لازم ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف قدم بڑھایا جائے
عوام کی ترجیحات
مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے عام شہریوں نے طویل مدت سے فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھی ہے۔ اب جبکہ غزہ کے مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، فلسطینی کاز کے لیے حمایت کئی گنا ہوچکی ہے۔ ہماری تنظیم عرب بیرومیٹر نے اِس دوران متعدد ممالک میں رائے عامہ کا جائزہ لیا ہے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ فلسطینی کاز کے لیے حمایت کس منزل میں ہیں اور اس حوالے سے عرب اور افریقی حکمرانوں کی سوچ کیا ہے۔ مراکش سے قطر تک رائے دہندگان نے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم کو صریح قتلِ عام اور نسلی تطہیر سے تعبیر کیا ہے۔ ہاں، بہت سوں نے اسرائیل کے حقِ وجود کو بھی تسلیم کیا ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بھی ہموار کی جائے۔ اُن کے خیال میں حقیقی اور دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے کہ دو ریاستوں کا نظریہ قبول کیا جائے اور اُس پر عمل بھی کیا جائے۔ خیر، اسرائیل سے مخاصمت اور نفرت برقرار ہے۔ تیونس میں صرف تین فیصد رائے دہندگان نے اسرائیل کے حق میں بات کی۔ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے متعلق کی جانے والی کوششوں کی حمایت میں بھی بہت نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔
جن ملکوں نے میثاقِ براہیمی پر دستخط کیے ہیں، اُن میں بھی اسرائیل کے لیے حمایت پریشان کن حد تک گری ہے۔ لوگ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو درست نہیں سمجھتے اور اِس حوالے سے اپنے تحفظات بیان کرنے میں ہچکچاہٹ یا بخل کا مظاہرہ بھی نہیں کر رہے۔ مراکش میں یہ ہوا ہے۔ مراکش کی حکومت نے ۲۰۲۰ء میں میثاقِ براہیمی پر دستخط کیے تھے۔ وہاں اب صرف ۱۳؍فیصد افراد چاہتے ہیں کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے جائیں۔ ۲۰۲۲ء میں اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے حمایت ۳۱ فیصد یا اِس سے زیادہ تھی۔
جو کچھ اسرائیل نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے، اُس کے بعد سے امریکا اور دیگر انٹرنیشنل پلیئرز کے لیے بھی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیل نے جس بے دردی سے اور بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے عرب دنیا کے عوام کی اکثریت تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی حمایت کے حق میں نہیں۔ اردن، لبنان، ماریطانیہ، عراق اور دیگر مسلم ممالک میں عرب اسرائیل تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کے لیے حمایت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کوششیں ترک کردینی چاہئیں۔ فرانس اور برطانیہ کے حوالے سے بھی عرب دنیا کے متعدد ممالک میں ایسے ہی جذبات پائے جاتے ہیں۔ لبنان، ماریطانیہ، اردن، عراق اور دیگر عرب و افریقی ممالک میں فرانس اور برطانیہ کے حوالے سے خوش دِلی کے جذبات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ لوگ اِن دونوں طاقتوں سے ناراض ہیں کیونکہ اِنہوں نے اسرائیل کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا۔ ان تمام ملکوں میں چین کے لیے قبولیت تیزی سے بڑھی ہے۔ چین کو مجموعی طور پر مغرب نواز یا مسلم دشمن ملک کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ بیشتر عرب ممالک کے عوام چین کے حوالے سے موافق جذبات رکھتے ہیں اور اُس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے حق میں ہیں۔
پندرہ سال قبل جب عرب دنیا میں بیداری کی لہر دوڑی تھی، تب بھی رائے عامہ تبدیل ہوئی تھی مگر خیر معاملات بہت مختلف تھے۔ اب رائے عامہ میں رونما ہونے والی تبدیلی بہت نمایاں ہے۔ ڈیڑھ سال سے عرب دنیا میں اسرائیل اور امریکا کے خلاف مظاہرے عام ہیں۔ ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کے دوران عرب بیرومیٹر نے جو سروے کرائے ہیں، اُن میں حصہ لینے والوں میں سے اوسطاً ۱۰؍فیصد نے بتایا کہ وہ کسی نہ کسی مرحلے پر مظاہروں میں، احتجاج میں شریک رہے ہیں۔ امریکا میں جب ریاستی نظم کے جبر کے خلاف ۲۰۲۰ء میں مظاہرے ہوئے تھے، تب اُن میں حصہ لینے والے نوجوانوں کا تناسب بھی یہی تھا۔ اس حوالے سے کیسر فیملی فاؤنڈیشن اور سِوِز اینیلٹکز نے سروے کرائے تھے۔ رواں سال اپریل اور مئی میں غزہ کی صورتحال کے حوالے سے الجزائر، بحرین، مصر، عراق اردن، لبنان، لیبیا، ماریطانیہ، مراکش، عمان، شام، تیونس اور یمن میں مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ اپریل میں صرف ایک دن میں ۶۶ شہروں میں ۱۱۰؍مظاہرے ہوئے۔
گزشتہ ماہ ثمود نامی ایک بڑا کارواں (جو تیونس، لیبیا اور دیگر ممالک کے باشندوں پر مشتمل تھا) لیبیا پہنچا۔ یہ کارواں تیونس سے چلا تھا۔ اِس امدادی قافلے کی منزل غزہ ہے۔ غزہ کی جانب بڑھنے کے مراحل میں اس قافلے کے شرکا کی تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔ اس نوعیت کے واقعات کو انٹرنیشنل میڈیا آؤٹ لیٹس میں زیادہ کوریج نہیں ملی۔
اگر عرب دنیا میں عوام کے جذبات اور احتجاج کو کچلنے والی حکومتیں نہ ہوتیں تو غزہ کے حوالے سے صورتحال یعنی احتجاجی کیفیت بہت مختلف ہوتی۔ مظاہرے بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتے۔ اور یہ سب کچھ عرب خطے سے باہر کے لوگوں اور تجزیہ کاروں کو بھی بخوبی دکھائی دیتا۔ عرب دنیا میں مظاہروں پر سرکاری مشینری نے پابندی عائد نہیں کی مگر لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری پالیسیوں سے اختلاف پر مبنی مظاہرے اور احتجاج میں شرکت کرنے کا اُنہیں علانیہ حق حاصل نہیں ہے۔
عرب بیرومیٹر نے ۲۰۲۱ء اور ۲۰۲۲ء کے دوران گیارہ عرب ممالک میں سروے کیا تھا تو معلوم ہوا تھا کہ صرف ۳۶ فیصد کے خیال میں حکومتیں پُرامن مظاہروں اور احتجاج ہونے کی آزادی ایک خاص حد تک دیتی ہیں۔ صرف تیونس ایسا ملک تھا جہاں ۶۱ فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ اُنہیں پُرامن احتجاج میں شریک ہونے کی آزادی حاصل ہے۔ جب رائے عامہ کے یہ جائزے کیے گئے تھے، تب سے اب تک خطے میں بیشتر حکومتیں عوام کو سرکاری پالیسیوں کے خلاف سوچنے اور اختلاف کا اظہار کرنے کی آزادی دینے کے حق میں نہیں رہیں۔
اردن نے اسرائیل سے امن معاہدہ کر رکھا ہے۔ جب غزہ میں اسرائیلی فوج کی بھرپور کارروائی شروع ہوئی، تب اُردن میں ہر جمعہ کو نماز کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جب اردن کے دارالحکومت عمان میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایسے ہی مظاہرے بڑھ گئے تو اسرائیل نے سفیر کو واپس بلالیا۔ تب سے اب تک اردن میں اسرائیلی سفارت خانہ غیرفعال سا رہا ہے۔ نومبر ۲۰۲۳ء میں اردن کی حکومت نے عوام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا۔ عوام کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے باوجود اردن نے اسرائیل سے تعلقات کسی نہ کسی سطح پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اشتراکِ عمل بھی رہا ہے۔ اپریل ۲۰۲۴ء میں جب ایران نے اسرائیل کو میزائل اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا تو اردن کی حکومت نے امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیل کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ اِس پر اردن کے عوام بپھر گئے اور مظاہروں کا سلسلہ زور پکڑگیا۔ رواں سال اپریل میں اردن کی حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کردی۔ یہ تنظیم یا تحریک اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ اخوان کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث دو ماہ سے اردن میں اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے باسیوں کے حق میں مظاہروں کا زور بہت حد تک ٹوٹ گیا ہے۔
مراکش کی حکومت بھی اس بات کو زیادہ پسند نہیں کرتی کہ ملک میں کچھ لوگ اسرائیل سے اُس کے تعلقات کو تنقید کا نشانہ بناتے رہیں۔ یہی سبب ہے کہ اسرائیل مخالف مظاہروں کی زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ جو لوگ اسرائیل سے امن معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اُنہیں مراکشی حکومت جیل میں ڈالتی رہی ہے۔ خیر، ایسے اقدامات سے اسرائیل مخالف مظاہرے اور احتجاج ختم نہیں ہوا۔ ہاں، مظاہرین نے اپنا طریقِ کار بدل لیا ہے۔ اب شہروں کے مرکزی علاقوں کو چھوڑ کر بندر گاہ پر مظاہرے ہوتے ہیں۔ چند ماہ کے دوران مراکش میں اسرائیل مخالف لوگوں نے بندر گاہوں کا رُخ کرکے ڈاک یارڈ میں کھڑے ہوئے اُن جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جو غزہ کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں معاونت کرتے رہے ہیں۔ رواں سال اپریل میں مراکش کی سب سے بڑی مزدور انجمن نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے اور مدد کرنے والے جہازوں کو مراکش کی بندر گاہوں پر لنگرانداز ہونے سے روکا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ اِس مزدور انجمن نے فلسطینیوں کے حق میں متعدد مظاہروں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
کویت میں اسرائیل کے خلاف بھڑکے ہوئے جذبات کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے فلسطینیوں کے حق میں کیے جانے والے مظاہروں اور احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت کے اقدامات کے خلاف کھڑے ہونے والوں کی کمی نہیں۔ کویت کے باشندوں نے غزہ کے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کے دوسرے طریقے اختیار کرلیے ہیں۔ مارچ ۲۰۲۴ء میں عرب بیرومیٹر کے ایک سروے میں ۸۴ فیصد کویتی باشندوں نے بتایا کہ وہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ ۶۲ فیصد کویتی باشندوں نے بتایا کہ اُنہوں نے غزہ کے لیے عطیات دیے ہیں۔ ۴۰ فیصد کویتی رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے سوشل میڈیا پر غزہ کے لیے چلائے جانے والے پیغامات کو پروموٹ کیا ہے۔ ۲۲ فیصد کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے غزہ کے باشندوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کی جانے والی عوامی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔
واپسی کا کوئی سوال نہیں!
عرب حکومتوں نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے اسرائیل کے خلاف مذمتی بیانات ضرور داغے ہیں تاہم اُنہوں نے ایسے اقدامات سے گریز کیا ہے جن سے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ کھڑی ہوتی ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ عوام میں غم و غصہ نہیں پایا جاتا یا قائدین عوام کی رائے اور جذبات کو آسانی سے نظرانداز کرسکتے ہیں۔ احتجاج جاری ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ وہ حکومتوں کو آسانی سے گرا نہیں سکتے مگر پالیسیوں پر اثرانداز تو ہوسکتے ہیں۔ عرب کی بیشتر حکومتیں واضح طور پر آمرانہ ہیں۔ جہاں بادشاہت ہے، وہاں بھی ایک خاندان ہی تمام معاملات کو ہاتھ میں لیے ہوئے ہے اور جہاں کسی جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے، وہاں بھی ایک خاص ٹولا یا گروہ ہی تمام معاملات دیکھ رہا ہے، چلارہا ہے۔
سعودی عرب کی حکومت اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے بہت قریب تھی کہ ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل کی سرزمین پر حملے ہوئے اور جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ کے طول و عرض میں قتل و غارت شروع کردی۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان فلسطینی ریاست کے قیام کی یقین دہانی کے بغیر ہی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ جب غزہ کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہوگئی اور عرب دنیا کے عوام کا مُوڈ بدل گیا تو سعودی حکومت نے بھی اسرائیلی فوجی اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی کاز کے لیے سعودی عرب کا مؤقف ذرا بھی نہیں بدلا اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست قائم ہونی ہی چاہیے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیانات میں فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی بنیادی شرط بھی قرار دیا۔ مصر نے غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ جاری کیا جو دراصل عرب ریاستوں کی خواہشات کا عکس تھا۔ ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں غزہ کی سکیورٹی یقینی بنانے کا معاملہ بھی پیشِ نظر تھا۔ اس تجویز یا منصوبے کو عرب لیگ نے فوراً قبول کرلیا۔ یہ ڈرامائی تبدیلی تھی کیونکہ امریکا اور اسرائیل نے کہا تھا کہ غزہ کے باشندے اپنے علاقوں سے نکل جائیں تاکہ تعمیرِ نو کا مرحلہ شروع کیا جاسکے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ اسرائیل کے لیے عرب دنیا اور افریقی اقوام میں حمایت برائے نام رہ گئی ہے۔ کل تک یہ سوچا جارہا تھا کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کو میثاقِ براہیمی کے دائرے میں لایا جاسکے گا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ معاملات بہت دور چلے گئے ہیں۔
عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کو براہِ راست چیلنج نہیں کرنا چاہتے مگر خیر وہ اسرائیل سے قریبی تعلقات اور اشتراکِ عمل کی صورت میں پیدا ہونے والے عوام کے شدید ردِعمل کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو ۲۰۲۴ء میں مراکش کا دورہ کرنا تھا مگر مراکش کی حکومت نے یہ دورہ منسوخ کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غزہ کی صورتحال نے عرب دنیا اور افریقی ریاستوں میں رائے عامہ کو اس قدر اور اس طرح تبدیل کیا ہے کہ اب امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے متنوع خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ جب تک عرب دنیا کے لوگ اسرائیل کے حوالے سے امریکا اور یورپی ممالک کی پالیسیوں کو دوغلے پن اور منافقت پر مبنی تصور کرتے ہیں، تب تک اسرائیل کو قبول کرنے اور اپنانے کی راہ ہموار نہیں ہوسکتی بلکہ مخالفت بڑھتی ہی جائے گی۔ اگر غزہ میں اسرائیلی فوجی اقدامات جاری رہے، بچوں اور عورتوں کی شہادت کا سلسلہ جاری رہا تو امریکا اور اسرائیل کے لیے معاملات یونہی خرابی کی نذر رہیں گے۔
(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)
“A hidden force in the Middle East”.
(“Foreign Affairs”. June 12, 2025)