غزہ امن معاہدہ: امکانات اور خدشات

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے (زبانی) جنگ بندی معاہدے نے عالمِ اسلام بالخصوص فلسطینی عوام میں خوشی کی ایک لہر دوڑا دی ہے۔ اس زبانی معاہدے کی باقاعدہ دستاویزی کارروائی ۱۳؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کو ہوئی۔

اسی تناظر میں ’اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی‘ کے زیر اہتمام ’’غزہ امن معاہدہ: امکانات اور خدشات‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن سیشن ۱۳؍اکتوبر کو شام ۷ بجے منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر خالد قدومی (ترجمان حماس) نے بطور مہمانِ خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چونکہ سیشن میں آن لائن بڑی تعداد میں شرکا موجود تھے، اس لیے سوال و جواب کا سلسلہ طویل رہا۔ زبان کی نامانوسیت اور سوالات کی طوالت کے پیش نظر ڈاکٹر صاحب کی گفتگو کی ترجمانی کرتے ہوئے، سوالات کو ان کے موضوعاتی عنوانات کے ساتھ مرتب کر کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حتی المقدور کوشش کی گئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے کلمات ہی کو زبان کی سلاست برقرار رکھتے ہوئے پیش کیا جائے۔ (مرتب)

معاہدے کی کامیابی اور عالمِ اسلام کی خاموشی

الحمدللہ! آج ہمیں غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ دیکھنا نصیب ہوا۔ مجاہدین کی جانب سے تحریکِ مزاحمت کے سلسلہ میں قربانیاں رنگ لائیں اور دونوں جانب قیدیوں کی رہائیاں شروع ہوئیں۔ آج ۲ ہزار فلسطینی قیدی رہا ہوئے، جو دس اسرائیلی قیدیوں کے بدلے تھے۔

مگر گزشتہ دنوں بگڑتی صورتِ حال پر عالمِ اسلام کے سربراہان کی خاموشی کا نقصان ہم سب کے سامنے ہے، یہی خاموشی اسرائیل کو سرکشی پر آمادہ کرنے کی بنیادی وجہ بنی۔ آج بھی ظلم و بربریت سہنے اور فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور فلسطین و غزہ کے عوام کو دہشت گرد بتلایا جا رہا ہے، مگر اصل دہشت گردی کا سب سے بڑا چہرہ ’’اسرائیلی سربراہ نیتن یاہو‘‘ اور ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ ہے، مگر انہیں امن پسند اور صلح جو پیش کیا جارہا ہے۔ الی اللہ المشتکی۔

حماس اور فلسطین کا دوٹوک مؤقف

مختلف ممالک سے چلنے والے فلوٹیلا نے ثابت کیا کہ غیرمسلم قومیں بھی ہمارے لیے دل میں درد رکھتی ہیں، ہمارے دکھ درد میں سہارا بننا پسند کرتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں موجود مجاہدین کی محنت و کوشش اس سب کے مقابلے میں کچھ نہیں، ان کی قربانیاں خدا کے یہاں مقبول ہیں۔ ہمیں اس سے سبق ملتا ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کے راستے کو اپنائیں، اور ان کے مقصد کو پورا کرنے میں معاون بنیں۔

جہاں تک اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معاہدہ کا تعلق ہے، تو اس میں ہم نے اپنی چار واضح ریڈ لائنز رکھی ہیں:

۱۔جنگ بندی

۲۔سرحدوں کا فوری کھولا جانا

۳۔امدادی اور غذائی کنٹینرز کا بلا تعطل داخلہ

۴۔اسرائیلی افواج کا ہماری مقدس سرزمین سے انخلا

حماس کے سربراہان کا اس معاہدہ کے لیے مذاکرات کرنا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ہم امن پسند اور سیاسی حل چاہتے ہیں۔ بقول ہمارے بزرگ ساتھی اسماعیل ہنیہ شہید کے یہ معاہدہ سازی کے لیے مذاکرات کی جدوجہد آزادی کی طرف ایک سنگ میل ہے۔ لیکن اگر ہماری ریڈ لائنز پار کی گئیں تو مزاحمت پھر شروع ہو جائے گی اور اس کا اثر ایک بار پھر پورے عالم میں محسوس کیا جائے گا۔

معاہدہ کی شق: حماس کا اسلحہ اسرائیل کے سپرد کرنا

واضح رہے کہ ہم جنگ بندی کے دوران اور بعد میں اپنے اسلحے کو برقرار رکھیں گے۔ یہ اسلحہ تحریکِ مزاحمت کا ستون ہے۔ یہ جدوجہدِ آزادی کی جنگ ہے۔ فریق مخالف اپنی زور آزمائی سے اپنے قیدیوں کو رہا نہ کراسکا، مگر اب اسی اسلحے کی بدولت وہ آج معاہدہ پر مجبور ہوا ہے۔ یہ ہتھیار تو ہمارا دفاعی و سیاسی وسیلہ ہیں۔ ہر قوم اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اسلحہ رکھنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ ہم کسی صورت انہیں فریق مخالف کے حوالے نہیں کریں گے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر اس (یہود) قوم کی صفت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ بد عہد قوم ہے، اور اس پر ان کا ماضی بھی گواہ ہے۔ آج ساری دنیا نے دیکھا کہ مجاہدین نے قیدیوں کے تبادلے کے وقت بھی ہتھیار ہاتھ میں رکھے تھے۔

’’شرم الشیخ‘‘ مصر میں معاہدہ کی تقریب

آج ’’شرم الشیخ‘‘ میں جس معاہدے کی بات ہو رہی ہے، وہ خود تذبذب کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو شرکت نہیں کر رہا، ابتدا میں فلسطینی صدر ’محمود عباس‘ کو بھی نہیں بلایا گیا، بعد میں دباؤ پر انہیں دعوت دی گئی۔ مگر حماس اور فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو تو سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا۔ یہ امن پسند معاہدہ کیسا ہے کہ جس میں دونوں فریق ہی شامل نہیں؟

فلسطینی رہنماؤں کی قید سے رہائی

اس معاہدے میں ہماری طرف سے یہ مطالبہ رکھا گیا تھا کہ فلسطینی رہنماؤں کو رہا کیا جائے گا، مگر افسوس! اسرائیل کی جانب سے اس شرط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ۹۸۵,۳ قیدیوں کی فہرست بنا کر انہیں دی گئی، جن میں سے پانچ سو قیادت کے درجے کے افراد ہیں، مگر ان کے سوا آج دو ہزار قیدی رہا کیے گئے۔ ہمارے ایک رہنما کی اہلیہ کا آج ایک واضح بیان سامنے آیا جس میں وہ اپنے پوتوں کو خوشخبری دے رہی تھیں کہ ’’آج تمہارے دادا رِہا ہوکر آنے والے تھے، مگر اسرائیل نے ہماری شرط کو قبول نہیں کیا‘‘۔ پھر اسی باہمت خاتون نے کہا کہ ’’ہمیں تحریک حماس کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، کیونکہ غزہ کا امن ہمارا سب سے بڑا مقصد تھا، اور وہ مقصد الحمدللہ حاصل ہو چکا ہے‘‘۔ بہرصورت یہ نہ پہلی ڈیل ہے اور نہ آخری۔ اسرائیلی سربراہ نیتن یاہو نے معاہدہ ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر ہم نے تصادم نہیں، مذاکرات کو ترجیح دی، کیونکہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں، اور ایک مستقل ریاست تسلیم کرانا چاہتے ہیں۔

مستقبل میں غزہ کی قیادت

مصر کی طرف سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ غزہ میں ایک ٹیکنو کریٹ کمیٹی قائم کی جائے، جس میں کوئی سیاسی شخصیت شامل نہ ہو اور فلسطینی ہی ۴۰؍افراد منتخب کیے جائیں، جو لوگ عملی اور تکنیکی معاملات میں قیادت کریں گے۔

جبکہ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے (اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بحالی کے خوش کن نام کو استعمال کر کے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے) ۲۰ نکات پر مشتمل ایک پلان تیار کیا ہے، مگر ہمارا مؤقف یہی ہے کہ اس طرح کے منصوبے صرف تب مؤثر ہو سکتے ہیں جب تمام سیاسی پارٹیوں کو ساتھ بٹھا کر طے کیا جائے۔

فی الحال الحمدللہ، غزہ میں قیادت کے حوالے سے پریشانی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ فلسطینی عوام اور ہم موجودہ قیادت ’’حماس‘‘ پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ اسی اعتماد کے پیش نظر میں تو یہاں تک کہتا ہوں کہ ’’حماس‘‘ صرف ایک تنظیم نہیں رہی بلکہ ایک آئیڈیا ہے جو آج تمام دنیا میں اثر رکھتا ہے۔ فلوٹیلا کے واقعات سے یہ ثابت ہوا کہ ’’حماس‘‘ نے نہ صرف غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے کوششیں کیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی طاقت دکھائی۔

حماس اور القسام میں فرق

’’حماس‘‘ دراصل ایک سیاسی و سماجی تحریک کا نام ہے، جبکہ ’’القسام‘‘ حماس کا عسکری و دفاعی بازو (Military and Defence Wing) ہے، جو میدانِ عمل میں حصہ بننے والی حماس کی ایک شاخ ہے۔

’’حماس‘‘ یہ ’’الحرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ‘‘ کا مخفف ہے۔

’’القسام‘‘ اس کا عسکری وِنگ ہے۔

’’القسام‘‘ کی وجہ تسمیہ بھی قابلِ فخر ہے کہ یہ ’’شیخ عزالدین القسام‘‘ کی جانب منسوب ہے، جو شام کے علماء ربانیین میں سے تھے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کو سمجھنے کے بعد انگریز کے دور میں فلسطین جانے کا عزم کیا، اور یہاں منبر و محراب کو زینت بخشی۔ مگر جب حالات کی نزاکت کو دیکھا تو میدانِ عمل میں خود کو پیش کیا۔ چنانچہ انگریز سے مقابلہ میں ہتھیار اٹھائے اور مزاحمت اختیار کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ انہی کی یاد میں یہ نام اختیار کیا گیا۔

آج بھی میں اسلامی ممالک میں موجود علماء اہل حق و ربانیین کی خدمت میں دست بستہ عرض کروں گا کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، ’’اقصی‘‘ کے لیے آواز بلند کریں۔ عوام میں اس سرزمین کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ کیونکہ میرے نزدیک ہم علماء کرام کی بدولت انقلاب لاسکتے ہیں۔ ہم اپنی نسلوں میں اس فریضہ سے متعلق احساس و شعور زندہ و بیدار رکھ سکتے ہیں۔

ابو عبیدہ سے متعلق تفصیل اور یحییٰ السنوار کی میت وصولی سے متعلق اقدامات

ابو عبیدہ سے متعلق اب تک قسام کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی پیغام جاری نہیں ہوا ہے، لہٰذا اس معاملے میں سکوت اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو وہ ضرور نشر کی جاتی۔

ہمیں توجہ اس بات پر دینی ہے کہ ہمارے محبوب دوست یحییٰ السنوار شہیدؒ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی کتابیں اور ان کا مشن آج بھی زندہ ہے۔ ان کی مشہور کتاب ’’الشوک والقرنفل‘‘ کے کئی تراجم شائع ہوچکے ہیں اور وہ آج بھی ایک فکری ورثہ کے طور پر موجود ہے۔ اب تو روسی زبان میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا ہمیں ان شخصیات کے مشن پر خود کو لانا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ اب اسلامی دنیا میں مسلمان اپنے بچوں کے نام ’’یحییٰ السنوار‘‘، ’’اسماعیل ہنیہ‘‘ اور ’’ابو عبیدہ‘‘ کے نام سے موسوم کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ یہ سب ان حضرات کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔

باقی یحییٰ السنوار کے جسدِ خاکی کا معاملہ ہے تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی فرد کی نعش کا معاملہ ہمارے لیے اہم بحث نہیں، اصل بات ان کا نظریہ، ان کا عزم اور ان کا مشن ہے، جس کو زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ان کے اصول و مقاصد ہمارے دلوں میں برقرار رہیں اور آئندہ نسلیں اسی جذبے کو سمجھیں، اس کی ہمیں ہر دم کوشش کرنی ہے۔

معاہدے کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنا ہرگز نہیں!

یہ معاہدہ اس بات کی نشانی ہرگز نہیں ہے کہ ہم نے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کر لیا ہے اور اس کے آگے سرینڈر ہو گئے ہیں، ہرگز نہیں! یہ ایک وقتی حکمت عملی ہے، جسے ہم نے اپنے مفادات اور ریڈ لائنز کو یقینی بنانے کے لیے اختیار کیا۔ ہماری چار بنیادی ریڈ لائنز میں بالکل واضح بتا چکا ہوں، یہی اس وقت اہل غزہ و فلسطین کا بنیادی مطالبہ و ضرورت ہے۔ اس معاہدہ میں ہم نے ہر بات بلا شرط قبول نہیں کی۔ بلکہ ’’ہاں، مگر‘‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ البتہ بعض نکات پر مجبوراً رضامندی دکھائی، تاکہ بنیادی مقاصد اور عوامی مفاد حاصل ہو سکیں، مگر اپنی سالمیت اور اپنے بنیادی مؤقف سے ہٹنے کو ہم بالکل تیار نہیں۔

ناجائز ریاست ’’اسرائیل‘‘ سے متعلق پاکستان کا مؤقف

آج کل یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ پاکستان بھی ’’ابراہیم معاہدات‘‘ کی حمایت کرسکتا ہے۔ مگر میری رائے یہ ہے کہ پاکستان ہرگز تسلیم نہیں کرے گا، ان شاء اللہ، کیوں کہ یہ بات پاکستان کے قائد و بانی محمد علی جناح کے نظریہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روح سے متصادم ہے۔ یہی بات اب تک ہمارے معتبر ذرائع اور سربراہان سے ملاقات کے دوران معلوم ہوئی ہیں۔

تو اس حوالے سے میں عوام سے گزارش کروں گا آپ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ یہی دباؤ حکمرانوں کو درست راستے پر لاتا ہے۔ اس کی موجودہ مثال انڈونیشیا کے صدر کا سفر ہے، جو تل ابیب جانا طے پایا تھا، مگر عوامی احتجاج اور دباؤ کے باعث ملتوی کرنا پڑا۔ یہ دکھاتا ہے کہ عوامی طاقت فیصلوں کو بدل سکتی ہے۔ لہٰذا عوام اپنی وسعت و طاقت کے بقدر ہر پلیٹ فارم پر مسجدِ اقصیٰ کی آواز کو اٹھائیں۔

ہم نے اس مشن کا نام ’’طوفان الاقصی‘‘ (Al Aqsa Flood) اسی لیے رکھا کہ ہمارا مقصد صرف غزہ و فلسطین کی سرزمین نہیں، بلکہ ہمارا مقصود ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ کی دوبارہ بحالی ہے، جس کے لیے ان شاء اللہ ہم ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لیے حاضر ہیں۔

یہ عارضی جنگ بندی ایک امید کی کرن ہے۔ مگر اصل فتح وہی ہے جب غزہ کی عوام کو مکمل آزادی، بحالی اور بنیادی حقوق میسر ہوں گے (ان شاء اللہ)۔ ہمیں ایک متحد، باشعور اور پُرعزم امّت کی طرح اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے امن اور انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مجاہدین کی قربانیوں کو قبول فرمائے، اور ہمیں دشمنان اسلام کا آلہ کار بننے سے محفوظ فرمائے۔ آمین!

تلخیص و ترجمانی: محمد طیب حنیف میمن

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں