غزہ: امدادی مراکز میں موت بانٹتی اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوجیوں نے اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کو بتایا ہے کہ غزہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران فوج نے جان بوجھ کر امدادی مراکز کے قریب فلسطینیوں پر فائرنگ کی۔ افسران اور سپاہیوں سے ہونے والی گفتگو میں انکشاف ہوا ہے کہ کمانڈرز نے ہجوم کو ہٹانے یا منتشر کرنے کے لیے فوجیوں کو براہ راست فائرنگ کے احکامات دیے، حالانکہ یہ واضح تھا کہ ہجوم کسی قسم کا خطرہ نہیں تھا۔ ایک سپاہی نے اس صورتحال کو غزہ میں اسرائیلی فوج کے اخلاقی ضابطوں کے خاتمے سے تعبیر کیا۔

حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ۲۷ مئی سے اب تک امدادی مراکز اور ان علاقوں کے قریب، جہاں رہائشی اقوام متحدہ کے خوراک کے ٹرکوں کا انتظار کر رہے تھے ۵۴۹؍افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ۴ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں یا زخمیوں میں سے کتنے اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔

یہ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ملٹری ایڈووکیٹ جنرل نے فوج کے فیکٹ فائنڈنگ اسسمنٹ میکنزم کو ان مقامات پر ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ ادارہ ایسے واقعات کا جائزہ لینے پر مامور ہے جن میں بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ ہو۔

اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور ان دعوؤں کو خونی بہتان قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی۔

محصور پٹی میں غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مراکز کا آغاز مئی کے اواخر میں ہوا۔ اس فاؤنڈیشن کے قیام اور اس کی مالی معاونت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں، کیونکہ یہ اسرائیل کی جانب سے امریکی ایوینجیلیکلز اور نجی سکیورٹی کنٹریکٹرز کے ساتھ مل کر قائم کی گئی تھی۔ اس وقت فاؤنڈیشن کا سی ای او ایک ایوینجیلیکل مذہبی رہنما ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے۔

جی ایچ ایف غزہ میں چار فوڈ ڈسٹری بیوشن مراکز چلا رہی ہے جن میں سے تین جنوبی غزہ میں اور ایک وسطی غزہ میں ہے۔ اسرائیلی فوج ان مراکز کو ’ریپڈ ڈسٹری بیوشن سینٹرز‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ مراکز امریکی اور فلسطینی کارکنان چلا رہے ہیں جبکہ ان کی سکیورٹی اسرائیلی فوج کی جانب سے چند سو میٹر کے فاصلے سے فراہم کی جاتی ہے۔

ہر روز ہزاروں، بلکہ بعض اوقات دسیوں ہزار فلسطینی شہری ان مراکز پر خوراک حاصل کرنے کے لیے پہنچتے ہیں۔

اس فاؤنڈیشن کی ابتدائی دعوؤں کے برعکس امدادی تقسیم کا عمل شدید بدنظمی کا شکار ہے، جہاں لوگ خوراک کے ڈبوں پردھاوا بول دیتے ہیں۔ ’ہارٹز‘ کے مطابق جب سے یہ ریپڈ ڈسٹری بیوشن سینٹرز کھولے گئے ہیں، ان کے آس پاس فائرنگ کے کم از کم ۱۹؍واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان واقعات میں گولی چلانے والوں کی شناخت ہمیشہ واضح نہیں ہوتی مگر اسرائیلی فوج کے علم کے بغیر کسی مسلح فرد کو ان امدادی زونز میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی۔

یہ امدادی مراکز عام طور پر روزانہ صرف ایک گھنٹے کے لیے کھلتے ہیں۔ ان علاقوں میں تعینات افسران اور فوجیوں کے مطابق، فوج ان افراد پر فائرنگ کرتی ہے جو مراکز کھلنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں، امدادی مرکز بند ہونے کے بعد بھی ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جاتی ہے۔

ایک اسرائیلی فوجی نے ’ہارٹز‘ کو بتایا کہ ’’یہ ایک قتل گاہ ہے، جس جگہ میں تعینات تھا وہاں روزانہ ایک سے پانچ کے درمیان افراد مارے جاتے تھے۔ انہیں دشمن سمجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے، وہاں ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی انتظام نہیں، بس فائرنگ کی جاتی ہے، وہ بھی ہر ممکن ہتھیار سے، چاہے وہ مشین گن ہو یا گرینیڈ لانچر یا مارٹر گولے۔ جیسے ہی امدادی مرکز کھلتا ہے فائرنگ بند ہو جاتی ہے اور لوگ جان لیتے ہیں کہ اب آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وہاں ہماری زبان گولی ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا کہ ’’ہم کبھی کبھار قریب سے ان پر دھاوا بولتے ہیں اور کبھی دور سے، فوج کو ان سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا، ایسا کبھی نہیں کہ کوئی جوابی فائرنگ ہوئی ہو۔ وہاں نہ کوئی دشمن ہے، نہ ہتھیار‘‘۔

اسرائیلی فوج کے افسران نے ’ہارٹز‘ کو بتایا کہ فوج اسرائیلی عوام یا بین الاقوامی برادری کو وہ ویڈیوز دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی جو خوراک کی تقسیم کے مراکز کے آس پاس ہونے والے واقعات کو دکھاتی ہوں۔ ان کے مطابق فوج اس بات سے مطمئن ہے کہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کی کارروائیوں نے جنگ جاری رکھنے کے لیے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کے مکمل انہدام کو روک رکھا ہے۔

ایک ریزرو فوجی جو شمالی غزہ میں حالیہ ڈیوٹی مکمل کرکے واپس آیا ہے، کہنے لگا کہ ’’غزہ سے اب کسی کو دلچسپی نہیں، یہ ایک ایسا علاقہ بن گیا ہے جہاں الگ ہی اصول ہیں، وہاں انسانی جان کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘

ایک امدادی مرکز کی سکیورٹی ٹیم کا حصہ رہنے والے ایک اسرائیلی فوجی افسر نے کہا کہ ’’جب آپ کے پاس شہری آبادی سے بات چیت کا واحد ذریعہ فائرنگ ہو تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہوتی ہے، یہ نہ تو اخلاقی اعتبار سے درست ہے او نہ ہی انسانی حوالے سے کہ لوگ ایک امدادی مرکز تک پہنچیں اور ان پر ٹینکوں، اسنائپرز اور مارٹر گولوں سے فائرنگ ہو‘‘۔

اس افسر کے مطابق امدادی مراکز پر سکیورٹی کئی تہوں پر مشتمل ہے۔ ان مراکز اور ان سے منسلک کوریڈور کے اندر امریکی کارکن تعینات ہیں اور وہاں IDF کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سے باہر کی سطح پر فلسطینی نگران ہوتے ہیں جن میں بعض مسلح ہوتے ہیں اور ابو شباب ملیشیا سے وابستہ ہیں۔

اسرائیلی فوج کی ذمہ داری بیرونی سکیورٹی کی ہے اور اس کے پاس ٹینک، اسنائپرز اور مارٹر گولے ہوتے ہیں جن کے استعمال کا مقصد امدادی مراکزمیں موجود عملے کی حفاظت اور خوراک کی تقسیم کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

افسر نے بتایا کہ ’’رات کے وقت ہم فائرنگ کرتے ہیں تاکہ آبادی کو اشارہ دیا جاسکے کہ یہ جنگی علاقہ ہے اور وہ قریب نہ آئیں۔ ایک بار مارٹر گولوں کی فائرنگ رکی تو ہم نے دیکھا کہ لوگ آگے بڑھنے لگے ہیں، لہٰذا ہم نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی لیکن اس دوران ایک گولہ لوگوں کے ایک گروہ پر جا گرا۔‘‘

اس نے بتایا کہ ہم نے ٹینکوں پر نصب مشین گنوں کا استعمال بھی کیا اور دستی بم بھی پھینکے، ایک واقعہ میں دھند کی آڑ میں آگے بڑھنے والے شہری فائرنگ کی زد میں آگئے، یہ دانستہ نہیں تھا لیکن ایسی باتیں ہو جاتی ہیں‘‘۔

اس نے یہ بھی کہا کہ ’’ایک فوجی بریگیڈ شہری آبادی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ بھوکے لوگوں کو دور رکھنے کے لیے مارٹر گولے برسانا کسی صورت درست نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان میں حماس کے لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن بہت سے لوگ صرف امداد لینے آتے ہیں۔ ایک ریاست کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ امداد محفوظ طریقے سے ان تک پہنچے‘‘۔

غزہ میں کام کرنے والے ٹھیکے دار

اسرائیلی کمانڈروں اور فوجیوں کے بیانات کے مطابق اسرائیلی فوج کو فلسطینی آبادی والے علاقوں اور خوراک کی تقسیم کے مقامات سے محفوظ فاصلے پر رہنے کا حکم تھا تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

ایک سینئر فوجی نے بتایا کہ ’’آج کل جو بھی پرائیویٹ ٹھیکیدار غزہ میں انجینئرنگ کے ساز و سامان کے ساتھ کام کررہا ہے، اسے ایک گھر کو مسمار کرنے پر ۵ ہزار اسرائیلی شیکل (تقریباً ۱۵۰۰؍ڈالر) دیے جاتے ہیں۔ وہ لوگ اس سے خوب کمائی کر رہے ہیں، ان کے لیے ہر وہ لمحہ جب وہ کوئی گھر نہ گرا سکیں، نقصان کا وقت ہوتا ہے۔ فوجی نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کو ان ٹھیکے داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے‘‘۔

اس نے مزید کہا کہ ’’یہ ٹھیکیدار ایک طرح سے کلکٹر بنے ہوئے ہیں اور جہاں دل چاہے، وہاں گھر گرا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اپنے سکیورٹی عملے کے ساتھ امدادی مراکز کے قریب یا خوراک کے ٹرکوں کے راستوں پر آجاتے ہیں اور پھر جب وہ اپنی حفاظت کے لیے فائرنگ کرواتے ہیں تو نتیجے میں لوگ مارے جاتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں فلسطینی موجود ہوسکتے ہیں، لیکن ہم خود ان کے قریب جاتے ہیں اور پھر انہیں ہی خطرہ قرار دے دیتے ہیں۔ یعنی صرف ۵ ہزار شیکل کمانے کے لیے اور ایک گھر گرانے کے لیے ان لوگوں کو مارنا ’قابل قبول‘ سمجھا جاتا ہے جو صرف خوراک حاصل کرنے آتے ہیں۔

ان امدادی مراکز کے قریب فائرنگ کے متعدد واقعات میں جن افسران کا نام بار بار سامنے آیا ان میں بریگیڈیئر جنرل یہودا واچ بھی شامل ہے جو اسرائیلی فوج کی ڈویژن ۲۵۲ کا کمانڈر ہے۔ ’ہارٹز‘ پہلے ہی رپورٹ کر چکا ہے کہ واچ نے نتساریم کاریڈور کو ایک پُرخطر راستے میں بدل دیا تھا، اپنے فوجیوں کو خطرے میں ڈالا اور غزہ کے ایک اسپتال کو بغیر اجازت مسمار کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

اب اسی ڈویژن کے ایک افسر نے بتایا کہ واچ نے اقوامِ متحدہ کے امدادی ٹرکوں کا انتظار کرنے والے فلسطینیوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کا فیصلہ کیا۔ افسر نے کہا کہ ’’یہ واچ کی پالیسی ہے، اور کئی کمانڈروں اور سپاہیوں نے اسے بغیر سوال کیے قبول کرلیا‘‘۔

واچ کی ڈویژن واحد یونٹ نہیں جو اس علاقے میں کام کر رہی ہے اور ممکن ہے کہ دیگر افسران نے بھی امداد کے خواہاں افراد پر فائرنگ کا حکم دیا ہو۔

ڈویژن ۲۵۲ کے ساتھ حال ہی میں شمالی غزہ میں تعینات ایک ریزرو فوجی نے ان اطلاعات کی تصدیق کی اور بتایا کہ عام شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج جو حکمت عملی استعمال کرتی ہے اسے روک تھام کا طریقہ کار (deterrence procedure) کہا جاتا ہے۔

اس نے کہا کہ ’’وہ نوجوان جو خوراک کے ٹرکوں کا انتظار کرتے ہیں، مٹی کے ٹیلوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور جیسے ہی ٹرک گزرتے ہیں یا رکتے ہیں تو وہ ان پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ ہم انہیں سیکڑوں میٹر دور سے دیکھ لیتے ہیں اور ایسی صورتحال نہیں ہوتی کہ وہ ہمارے لیے خطرہ بنیں‘‘۔

عام شہریوں پر گولہ باری

گزشتہ ہفتوں کے دوران خوراک کی تقسیم کے مقامات کے قریب ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ۱۱؍جون کو ۵۷، ۱۷؍جون کو ۵۹ اور ۲۴ جون کو تقریباً ۵۰؍افراد شہید ہوئے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کی جنوبی کمان میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انکشاف ہوا کہ اسرائیلی فوج نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے توپ خانے (آرٹلری) کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔

اس اجلاس میں شریک ایک فوجی نے ’ہارٹز‘ کو بتایا کہ ’’وہ عام شہریوں سے پُر چوکوں اور چوراہوں پر توپ کے گولے فائر کرنے کی باتیں تو ایسے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمول کی بات ہو۔ پوری گفتگو اس پر ہوتی ہے کہ توپ کا استعمال درست ہے یا غلط۔ لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ اس ہتھیار کی ضرورت کیوں ہے؟ سب کو صرف اس بات کی فکر ہے کہ کہیں اس سے غزہ میں آپریشن جاری رکھنے کی ہماری قانونی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔ اخلاقیات تو گویا کہیں ہیں ہی نہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر ہر روز خوراک کے منتظر درجنوں شہری کیوں مارے جا رہے ہیں؟

غزہ جنگ سے واقف ایک اور سینئر افسر نے بتایا کہ عام شہریوں کے قتل کو معمول کا حصہ سمجھنے کی روش نے امدادی مراکز کے قریب ان پر فائرنگ کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے محاذ پر ہونے والے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ حقیقت کہ ایک عام شہری آبادی پر براہ راست توپوں، ٹینکوں، اسنائپرز یا ڈرونز سے فائرنگ کی جارہی ہے، بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ آخر خوراک کے منتظر لوگ صرف اس لیے کیوں مارے جارہے ہیں کہ وہ قطار سے ہٹ گئے یا کسی کمانڈر کو یہ اچھا نہیں لگا کہ وہ آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم اس نہج پر کیسے پہنچ گئے کہ ایک نوجوان محض ایک بوری چاول کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار ہے اور ہم اسی پر توپوں سے گولہ باری کر رہے ہیں؟‘‘

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ امدادی مراکز کے قریب ہونے والی کچھ ہلاکتیں اُن ملیشیاؤں کی فائرنگ سے ہوئیں جنہیں اسرائیلی فوج خود اسلحہ فراہم کرتی ہے اور جن کی حمایت کرتی ہے۔ ایک افسر کے مطابق اسرئیلی فوج اب بھی ابو شباب گروپ اور دیگر دھڑوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ’’ایسے کئی گروہ ہیں جو حماس کے مخالف ہیں، لیکن ابو شباب اس سے کہیں آگے جاچکا ہے۔ وہ ان علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں جہاں حماس داخل تک نہیں ہوسکتی اور فوج اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے‘‘۔

اس ہفتے ایک بند کمرہ اجلاس میں فوجی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کے سینئر اہلکاروں نے امدادی مراکز کے قریب روزانہ درجنوں شہریوں کی ہلاکتوں کے پیش نظر اسرائیلی جنرل اسٹاف کے فیکٹ فائنڈنگ اسسمنٹ میکانزم کو تحقیقات کا حکم دیا۔ یہ ادارہ ماضی میں ماوی مرمرہ فلوٹیلا واقعے کے بعد قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد جنگی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کی چھان بین کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران قانونی ماہرین نے خبردار کیا کہ شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی تنقید میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم فوج اور سدرن کمانڈ کے سینئر افسران نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ واقعات انفرادی نوعیت کے ہیں اور فائرنگ صرف ان مشتبہ افراد پر کی گئی جو فوجیوں کے لیے خطرہ تھے۔

اجلاس میں شریک ایک فرد نے ’ہارٹز‘ کو بتایا کہ فوجی ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کے نمائندوں نے فوج کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق زمینی حقائق اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ ایک اہلکار نے کہا ’’یہ دعویٰ کہ یہ انفرادی واقعات ہیں، ان شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں شہریوں پر فضا سے بم پھینکے گئے اور ان پر مارٹر اور توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔ یہ چند افراد کے مارے جانے کی بات نہیں، یہاں تو ہم روزانہ درجنوں ہلاکتوں کی بات کر رہے ہیں‘‘۔

آئی ڈی ایف کے سینئر عہدیداروں نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ سدرن کمانڈ نے ان واقعات کی جامع تحقیقات نہیں کی اور غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کو مسلسل نظرانداز کیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق سدرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یانیو اسور عام طور پر صرف ابتدائی سطح کی انکوائریوں پر اکتفا کرتے ہیں اور زیادہ تر فیلڈ کمانڈرز کی زبانی رپورٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے افسران کے خلاف بھی کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی جن کے ماتحت فوجیوں نے شہریوں کو نقصان پہنچایا حالانکہ یہ عمل فوج کے احکامات اور بین الاقوامی جنگی قوانین کی واضح خلاف ورزی تھا۔

آئی ڈی ایف کے ترجمان نے اس تنقید کے جواب میں بیان دیا کہ ’’حماس ایک سفاک دہشت گرد تنظیم ہے جو غزہ کی آبادی کو بھوکا رکھتی ہے اور انہیں خطرے میں ڈالتی ہے تاکہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھ سکے۔ حماس ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ غزہ میں خوراک کی کامیاب تقسیم کو روکا جائے۔ اسرائیلی فوج امریکی سول سوسائٹی تنظیم (جی ایچ ایف) کو آزادانہ طور پر کام کرنے اور غزہ کے شہریوں میں امداد تقسیم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ فوج نئے امدادی مراکز کے آس پاس اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے خوراک کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے وہاں موجود ہوتی ہے‘۔

فوج نے مزید کہا ہے کہ خوراک کی تقسیم کے مرکزی راستوں کے اردگرد تعینات اسرائیلی افواج علاقے میں اپنی کارروائیوں کے اثرات کو کم کرنے اور شہری آبادی کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فوج نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے نئی باڑ نصب کی، سائن بورڈز لگائے، اضافی راستے کھولے اور دیگر اقدامات کیے تاکہ امدادی عمل کو بہتر بنایا جاسکے۔

آئی ڈی ایف کے مطابق شہریوں پر فائرنگ کے واقعات کی تفصیلی تحقیقات کی گئیں اور میدان جنگ میں تعینات افواج کو نئے احکامات جاری کیے گئے، جن کی بنیاد ان واقعات سے حاصل شدہ اسباق پر رکھی گئی۔ ان واقعات کو جنرل اسٹاف کے ’ڈی بریفنگ میکنزم‘ کے حوالے بھی کیا گیا ہے تاکہ ان کا جائزہ لیا جاسکے۔

اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد اسرائیلی فوج نے ایک اضافی بیان جاری کرتے ہوئے رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اسرائیلی فوج نے کبھی بھی اپنی اہلکاروں کو شہریوں، بشمول ان افراد کے جو امدادی مراکز کی طرف جا رہے تھے، پر جان بوجھ کر فائرنگ کرنے کی ہدایت نہیں دی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج میں شہریوں پر دانستہ حملوں کی ممانعت ہے‘‘۔

فوج نے مزید کہا کہ ’’قوانین یا فوج کی ہدایات سے کسی بھی انحراف کے الزام کی مکمل جانچ کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ شہریوں پر جان بوجھ کر فائرنگ کے جو الزامات اس رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں، انہیں فیلڈ میں نہیں دیکھا کیا گیا۔

(ترجمہ: زید احمد)

‘It’s a killing field’: IDF soldiers ordered to shoot deliberately at unarmed Gazans waiting for humanitarian aid”. (“haaretz.com”. June 27, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں