عالمی اداروں کی تباہی

دوسری بار امریکا کا صدر منتخب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت سے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کے نتیجے میں امریکا کے لیے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ فی الحال امریکا کو کسی معاملے میں زیادہ مزاحمت اور مشکلات کا سامنا نہیں مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آگے چل کر معاملات الجھیں گے اور تب امریکا کو اندازہ ہوگا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات نے کیا مصیبت کھڑی کی ہے۔

عالمی تجارتی نظام کی جڑیں کمزور کرنے میں صدر ٹرمپ کے اقدامات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بہت کچھ الجھ رہا ہے۔ کئی بڑی طاقتیں محسوس کر رہی ہیں کہ امریکی صدر کے اقدامات کی پُشت پر دانش کم اور جذباتیت زیادہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ’’ہم نہیں تو تم بھی نہیں‘‘ والی ذہنیت کے حامل ہیں اور امریکا کے لیے امکانات کم ہوتے دیکھ کر دوسروں کے لیے امکانات کو بھی داؤ پر لگانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ امریکا جن اداروں کے بَل پر اب تک اپنی ہر بات کمزوروں سے منواتا آیا ہے، اُنہی اداروں کو ٹرمپ نے کمزور کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کئی ملکوں سے تعلقات خراب کرنے کی راہ پر بہت تیزی سے رواں ہے۔ امریکی ڈالر پر شدید دباؤ ہے۔ متعدد ممالک اُسے تَرک کرکے دیگر بڑی کرنسیوں میں تجارت اور دیگر لین دین کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ امریکی معیشت کے لیے پہلے ہی بہت سے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ امریکی ڈالر کی کمزوری سے عالمی کرنسی مارکیٹ پر بھی غیرمعمولی دباؤ ہے۔ غریب ترین ممالک کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں کیونکہ اُنہیں امداد دینے والے عالمی مالیاتی اداروں کو بھی امریکا نے جھنجھوڑنا شروع کردیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کا نعرہ لگاکر اہلِ وطن کو دھوکا دے رہی ہے۔ امریکا نے اب تک جو کچھ بھی کیا ہے، وہ ہمہ جہت تعلقات اور اشتراکِ عمل کی بنیاد پر کیا ہے۔ اگر وہ تنِ تنہا چلنے کا فیصلہ کرے گا تو اُس کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی۔

ذرا ۱۹۴۴ء کو یاد کیجیے۔ تب امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے علاقے بریٹن وُڈز کے دی ماؤنٹ واشنگٹن ہوٹل میں امریکا اور برطانیہ کی زیرِ قیادت ۴۴؍اتحادی ممالک کا اجلاس ہوا تھا۔ اس اجلاس میں ایسے عالمی مالیاتی اداروں کی بنیاد ڈالی گئی جنہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی دنیا کو سنبھالنا تھا۔ اس اجلاس میں طے کیا گیا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی دنیا میں اتحادی ممالک غیرمعمولی روابط کے حامل ہوں گے اور مثالی نوعیت کے اشتراکِ عمل کے ذریعے ایک نئی دنیا تخلیق کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ ٹیرف سے متعلق اعلانات کے ذریعے دنیا بھر میں کھلبلی مچادی تھی۔ چین، کینیڈا، میکسیکو اور بھارت سمیت تمام بڑے تجارتی پارٹنرز کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکی حکومت نے ٹیرف بڑھائے تاکہ درآمدات کی حوصلہ شکنی اور امریکی برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار کی جاسکے۔

اب امریکی محکمہ خزانہ اور یو ایس آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ (او ایم بی) نے مل کر عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور امداد کے تمام پروگراموں کو نشانے پر لیا ہے۔ ٹیرف کی طرح اس معاملے میں بھی ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کے تصّور کو بین الاقوامی اداروں کے رگ و پے میں سمویا جارہا ہے۔

آئی ایم ایف کے لیے احکامات

امریکی وزیرِ خرانہ اسکاٹ بیسینٹ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کے تصور کا تقاضا ہے کہ دونوں عالمی مالیاتی اداروں میں امریکی قیادت کی راہ ہموار کی جائے۔

وسیع تر مفہوم میں حقیقت یہ ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دونوں عالمی مالیاتی ادارے امریکا کی شرائط اور مرضی کے تحت کام کریں۔ اس کا خصوصی مفہوم یہ ہے کہ صدر ٹرمپ جن حکومتوں کو پسند کریں، اُن کی بھرپور مدد کی جائے گی اور جو مخالف ہوں، اُن کے لیے مالیاتی مشکلات برقرار رکھی جائیں۔ اِس کی ایک واضح مثال ارجنٹائن کے لیے آئی ایم ایف کا پیکیج جو پورے افریقا کے لیے جاری کیے جانے والے پیکیج سے بھی بڑا ہے۔

مغربی نصف کُرّے میں صدر ٹرمپ کا پسندیدہ ترین لیڈر ارجنٹائن کا صدر ہاویئر جیرارڈو میلئی ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ بیسینٹ نے حال ہی میں ارجنٹائن کا دورہ کیا اور اس دورے کے موقع پر آئی ایم ایف نے ارجنٹائن کے لیے ۲۰؍ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا جبکہ ارجنٹائن پہلے ہی آئی ایم ایف کا ۳۰؍ارب ڈالر کا مقروض ہے۔

افریقا میں آئی ایم ایف سے سب سے بڑا امدادی پیکیج پانے والا ملک مصر ہے، جس کے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو صدر ٹرمپ نے اپنا فیورٹ قرار دے رکھا ہے۔ مصر کے لیے آئی ایم ایف نے ۸؍ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے اور مزید امداد بھی جاری کی جائے گی۔

جبری اصلاحات

آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو سب سے زیادہ فنڈ دینے والا ملک امریکا ہے، اس لیے فیصلوں پر اُس کی چھاپ بھی بہت زیادہ اور نمایاں ہے۔ امریکا ایک طرف تو چین کے معاشی اثرات کو گھٹانا چاہتا ہے اور دوسری طرف آئی ایم ایف کے آن بورڈ تجزیہ کاروں اور معیشت دانوں پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ چین کی معاشی اور تجارتی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کریں۔

اگر ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ کا تصور بروئے کار لایا جائے تو پھر لازم ہوگا کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں غیرمعمولی تبدیلیاں رونما ہوں، بجٹ کم کیا جائے اور اسٹاف بھی گھٹایا جائے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوسکتا کہ حال ہی میں امریکی وزیرِ خزانہ نے صاف صاف کہا ہے کہ دونوں عالمی مالیاتی اداروں کی کارکردگی بہت اچھی نہیں اور یہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ کا یہ بیان اِس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا ان دونوں مالیاتی اداروں کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ بیسینٹ نے طنزیہ لہجے میں یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف اب اپنا زیادہ وقت اور وسائل ماحول کے تحفظ، صنفی تفریق اور دیگر سماجی معاملات پر صرف کرتا ہے۔

امریکی صدر نے امریکا میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کی مخالفت کی ہے جس پر حیرت کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اب اس بات کا زیادہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں کرپشن سے متعلق تحقیقات کی بھی مخالفت کریں گے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں اینٹی کرپشن تحقیقات کو بنیادی پالیسی بنانے کی سمت کام ہو رہا ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ امریکا یہ ہونے نہیں دے گا۔

عالمی سطح پر اینٹی کرپشن کے حوالے سے تمام کارروائیوں کی شدید مخالفت کے بیک ڈراپ میں ٹرمپ کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تمام فنڈز میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ یہ امریکی ادارہ دنیا بھر میں آمریت کے خلاف متحرک ہے اور ترقی پذیر دنیا میں جمہوریت نواز سول سوسائٹی تنظیموں کی حمایت و مدد کرتا آیا ہے۔

غریبوں کی امداد میں کٹوتی

عالمی بینک کا بنیادی کام دنیا بھر میں انتہائی غربت کی کیفیت کو ختم کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ عالمی بینک میں جو کچھ بھی کرنا چاہتی ہے، اُس کے نتیجے میں غریب ترین ممالک کو طویل المیعاد بنیاد پر انتہائی ناموافق اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپریل کے وسط میں ترقی پذیر ممالک کے وزرائے خزانہ نے واشنگٹن میں گروپ آف ۲۴ کے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی بروقت امداد یقینی بنائی جائے۔ وائٹ ہاؤس نے یہ کال نظر انداز کردی تھی۔ اب یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اِن ملکوں کی فنڈنگ رُکوا دے گی۔ بائیڈن انتظامیہ نے انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے لیے اگلے تین سال تک سپورٹنگ فنڈنگ کی مد میں چار ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ عالمی بینک کے اس گروپ کے ذریعے دنیا بھر میں کم و بیش ایک ارب ۹۰ کروڑ افراد کے لیے تھوڑی بہت امداد کا اہتمام ہو پاتا ہے۔

او ایم بی نے حال ہی میں کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ آئی ڈی اے کے لیے امریکی فنڈنگ ۳؍ارب ۲۰ کروڑ ڈالر تک محدود کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو عطیہ دینے والے دیگر ممالک کو بھی تو یہ بوجھ برداشت کرنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ دوسرے ممالک امریکا کو کچھ کرتا دیکھیں گے اور کچھ نہیں کریں گے۔ جس طور امریکا اپنی فنڈنگ میں کٹوتی متعارف کرا رہا ہے، اُسی طرح دیگر ممالک بھی کم فنڈ دینے والے ہوجائیں گے۔ برطانیہ کی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ برطانوی حکومت بھی فنڈنگ گھٹا رہی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ برطانوی حکومت اب دفاعی بجٹ میں اضافہ کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ بہبودِ عامہ کی فنڈنگ گھٹا کر دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ کی بھی باری آنے والی ہے!

انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کی فنڈنگ میں کٹوتی کے بعد اقوامِ متحدہ کے لیے کی جانے والی فنڈنگ میں بھی کٹوتی کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پالیسی اب یہ ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیے جانے والے فنڈ بھی گھٹائے جائیں۔ یہی سبب ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں کی فنڈنگ بھی خطرے میں ہے۔ افریقی ترقیاتی بینک، انٹرامریکن فاؤنڈیشن، یو ایس افریقن ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور دیگر بہت سے اداروں کے لیے بھی ٹرمپ انتظامیہ فنڈنگ میں کٹوتی کر رہی ہے۔ یو ایس ایڈ کے بہت سے پروگرام خطرے میں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ورلڈ فوڈ پروگرام کے لیے امداد بھی تشویشناک حد تک گھٹائی جارہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ بجٹ میں کٹوتی بہت سوچ سمجھ کر کی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو دیے جانے والے فنڈ سوچ سمجھ کر روکے گئے ہیں۔ ان میں اقوامِ متحدہ کا ریگولر بجٹ، یو این ایجوکیشنل، یونیسف اور عالمی ادارہ صحت شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تحت چلائے جانے والے امن مشن ناکام رہے ہیں۔ تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد ہی فنڈنگ روکی جارہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چلائے جانے والے بہت سے پروگرام روک دیے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کی فنڈنگ روکے جانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر زیادہ یقین نہیں رکھتی کہ امریکا دنیا بھر میں اشتراکِ عمل کرتا پھرے۔ وہ اب بہت سے معاملات میں تنہا آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

جو کچھ بھی ٹرمپ انتظامیہ کر رہی ہے، اُس سے ایک پیغام بہت واضح ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں یا تو امریکا کے سامنے جھکیں یا پھر فنڈ میں غیرمعمولی کٹوتی کے لیے تیار ہوجائیں۔ بعض تنظیموں کی فنڈنگ مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔

جو کچھ بھی ٹرمپ انتظامیہ کر رہی ہے، اُس کی روشنی میں لازم ہوچکا ہے کہ بریٹن وُڈز میں جمع ہونے والے اتحادی اب زیادہ سے زیادہ اشتراکِ عمل اور پارٹنرشپ کے لیے آواز بلند کریں۔ اگر فنڈنگ میں کٹوتیوں کا سلسلہ جاری رہا تو بین الاقوامی اداروں کی پوزیشن انتہائی کمزور ہوجائے گی۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ چلنے کا مطلب ۸۰ سال قبل کے اتفاقِ رائے کو خدا حافظ کہنا ہے۔ دنیا بھر میں بیسیوں اقوام کے اربوں افراد ترقی یافتہ دنیا سے بھرپور امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ فنڈنگ روکنے کا مطلب ہے اربوں غریبوں کو غربت کی چکی میں پستے رہنے کے لیے چھوڑ دینا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت بہت سے مسائل درپیش ہیں مگر ہمیں آٹھ دہائیوں کے دوران ممکن بنائی جانے والی بھرپور ترقی کو نہیں بھولنا چاہیے اور یہ سوچنا بھی محض سادگی کی انتہا بلکہ حماقت ہوگا کہ دنیا بھر کے مسائل امریکی بمباری اور ہٹ دھرمی و من مانی کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Destroying the U.S.’s Last Global Bridges?” (“The Globalist”. May 7, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں