یہ حقیقت سمجھنے میں بہت سے لوگ شدید غلطی کر جاتے ہیں کہ کوئی بھی ملک چاہے جتنی بھی ترقی کرلے، پہلے انحطاط پذیر ہوتا ہے اور پھر زوال سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسا بالعموم اِس لیے ہوتا ہے کہ انتہائی قابلِ رشک نوعیت کی ترقی اور خوشحالی ممکن بنالینے کے بعد یہ ممالک بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ انسان جب بہت کچھ پالیتا ہے تو اپنے حقوق پر بہت زور دیتا ہے مگر فرائض بھول جاتا ہے۔ وہ پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرلینا چاہتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں دوسرے بھی ہیں جن کے ہاتھ ہیں اور وہ بھی پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وائمر کے دور میں جرمنی غیرمعمولی بلکہ قابلِ رشک ترقی کا مظہر اور طاقت کا حامل تھا۔ آج امریکا بھی بہت سے معاملات میں قابلِ رشک ہے مگر اس حقیقت کو سب نے بھلا دیا ہے کہ اگر انتباہی علامات نظرانداز کردی جائیں تو دنیا کے لیے مثال بننے والی ترقی کے حامل ممالک بھی بہت تیزی سے انحطاط کا شکار ہوسکتے ہیں اور پھر اُن کا مکمل زوال کوئی روک نہیں سکتا۔
۲۰۱۷ء اور ۲۰۲۰ء کے دوران یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں جب بھی امریکی دوست برلن آتے تھے تو میں اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے پر ’’آزاد دنیا میں آپ کا خیرمقدم ہے‘‘ کہتے ہوئے اُن کا استقبال کرتا تھا۔ اِس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ دیوارِ برلن گرانے اور مشرقی و مغربی جرمنی کو دوبارہ ایک کرنے میں امریکی سفارت کاری اور عسکری قوت نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اور بعد میں بھی برلن والوں کی آزادی کو برقرار رکھنے میں اُس کا کردار اہم رہا تھا۔
مگر پھر بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ آگئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ امریکی ایوانِ صدر میں قدم رکھا ہے اور دنیا بھر میں بہت کچھ الٹ، پلٹ رہا ہے۔ میں اب بھی امریکا سے آنے والوں کا خیرمقدم اِنہی الفاظ کے ساتھ کرتا ہوں مگر اب تناظر بدل چکا ہے، ماحول کچھ اور ہے۔ الفاظ وہی ہیں مگر اُن کا اثر اور تاثر یکسر مختلف ہے۔ ایک عشرے کے دوران دنیا بہت بدل گئی ہے۔ بہت کچھ مٹ رہا ہے اور بہت کچھ تیزی سے منظرِعام پر آرہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے لیے بھی یہ وقت مشکلات سے بھرا پڑا ہے۔ پسماندہ اور ترقی پذیر دنیا کی مشکلات کو رونے کا وقت گیا۔ اب سبھی ایک کشتی کے سوار ہے۔ جن کی جیبیں اور تجوریاں بھری ہوئی ہیں، وہ بھی پریشان ہیں۔ قابلِ رشک ترقی بھی انسان کو سکون نہیں دے رہی۔
میں نے جب عشروں قبل جرمنی چھوڑ کر امریکا میں مستقل سکونت اختیار کی تھی تب میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چند عشروں میں دنیا اِتنی بدل جائے گی۔ میں نے حال ہی میں سیبیسٹین ہیفنر کی کتاب ’’میموئرز آف اے جرمن‘‘ پڑھی تو حیران رہ گیا۔ اُن کی بصیرت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
سیبیسٹین ہیفنر نازیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے دور میں طالبِ علم تھے۔ جب نازیوں نے جرمنی کو اپنے ہاتھ میں لیا تب سیبیسٹین ہیفنر برلن کے لا اسکول کے گریجویٹ تھے۔ دوسرے بہت سے جرمن باشندوں کی طرح ہیفنر کو بھی جان بچانے کے لیے جرمنی سے بھاگنا پڑا۔ وہ لندن گئے اور بعد میں ایک بڑے مصنف کے طور پر ابھرے۔ اُنہوں نے ۱۹۷۹ء میں ’’دا میننگ آف ہٹلر‘‘ لکھی جس نے عالمگیر شہرت پائی۔
روزمرہ زندگی میں سرایت
ہیفنر نے لکھا ہے کہ میں جب جرمنی میں اسکول کی سطح پر تعلیم حاصل کر رہا تھا تب بہت سی ایسی تصویریں دیکھ چکا تھا جن سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ کس طور نازی فوجوں نے برلن کی سڑکوں پر مارچ کیا ہوگا اور کس طور اپنی طاقت منوائی ہوگی۔ روزمرہ زندگی میں نازیوں کے اثرات کا دائرہ وسیع کرنے کے عمل کے بارے میں ہیفنر نے بہت عمدگی سے لکھا ہے۔ تب جرمنی فقیدالمثال ترقی سے ہم کنار تھا۔ فطری علوم و فنون، فنونِ لطیفہ اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے جرمنی بہت تیزی سے مستحکم تر ہوتا جارہا تھا۔ یہ سب کچھ تب تک تھا جب تک عسکری قوت بننے کا خبط پیدا نہیں ہوا تھا۔ جب نازی اِزم آیا اور نازیوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تو صرف طاقت کا اظہار ہی سب کچھ ہوگیا۔ نازی جرمنی زیادہ سے زیادہ توسیع چاہتا تھا۔ وہ خطے کے تمام ممالک کو ہڑپ کرنے کے فراق میں تھا۔ حد یہ ہے کہ اُس نے روس کو بھی زیرِنگیں کرنے اور رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ فرانس کا جو حشر ہوا وہ تو دنیا نے دیکھا۔ نازی جرمنی نے قدم بڑھایا اور فرانسیسیوں نے بہ رضا و رغبت ہتھیار ڈال دیے۔
جرمنی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ پھر یہ ہوا کہ ایک مطلع العنان حکمران نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں لیا اور دنیا نے دیکھا کہ جرمنی کی ترقی کا سفر رُک گیا۔ جو جرمنی دنیا کے لیے ترقی و خوشحالی اور تہذیب و ثقافت کا نمونہ بنتا جارہا تھا، وہ محض عسکری قوت بن کر رہ گیا۔
ایسے تماشے دنیا بھر میں ہوتے رہے ہیں۔ جب بھی کوئی مطلق العنان آمر کسی ریاست کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اپنے اقتدار کو طُول دیتے رہنے کے لیے طاقت کا بے محابا استعمال یقینی بناتا ہے۔
میں جب ہیفنر کی کتاب پڑھ رہا تھا تب مجھ پر بہت کچھ کُھلتا چلا گیا۔ دنیا بھر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو اچھی طرح سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ میں نے پڑھا کہ جب تک نازیوں نے جرمنی میں اقتدار پر قبضہ نہیں کیا تھا تب تک جرمنی بھرپور ترقی کی منزلیں مار رہا تھا۔ بالکل ایسا ہی معاملہ ٹرمپ کا بھی ہے۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے تک امریکا جو کچھ کر رہا تھا، اُس سے اب بہت دور ہوچکا ہے۔ ٹرمپ کی ایوانِ صدر میں دوبارہ آمد سے قبل تک امریکا میں سول سوسائٹی بہت مضبوط تھی۔ اظہارِ رائے کا معاملہ بہت اچھا تھا مگر اب بہت کچھ داؤ پر لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی معاشرے میں انتہائی نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ امریکی قیادت ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں الجھ رہی ہے۔ طاقت کے استعمال کو ایک بار پھر غیرمعمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ عالمی سطح پر امریکا کو relevant رکھنے کے لیے امریکی قیادت طاقت کے غیرمعمولی استعمال کو سب سے بڑے ہتھکنڈے کا درجہ دے رہی ہے۔
دنیا کو اندازہ ہوچکا ہے کہ امریکی ایوانِ صدر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد کوئی اچھا شگون نہیں۔ امریکا نے اپنی فوج کو دنیا بھر میں اُتار رکھا ہے۔ اِس کے نتیجے میں امریکی معیشت پر دباؤ بھی بہت بڑھا ہے۔ امریکا میں بہت کچھ بدل رہا ہے۔ رائے عامہ بُری طرح منقسم ہے۔ عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ بُری طرح مسخ ہوچکی ہے۔ امریکا نے اپنے دروازے بند کرنے کا عمل تیز کردیا ہے۔ ویزا کی شرائط اور پابندیاں بہت بڑھادی ہیں۔ ۹ دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ جرمنی میں سخت گیر حکومت اچانک مطلق العنان نوعیت کی حکمرانی میں تبدیل ہوئی تھی اور ملک ٹھکانے لگ گیا تھا۔ امریکا کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔
اب یہ بات بھی کُھل کر کہی جارہی ہے کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکا نے فطری علوم و فنون میں غیرمعمولی رفتار سے پیشرفت اِس لیے ممکن بنائی تھی کہ نازیوں سے جان بچاکر فرار ہونے والے بیشتر جرمن یہودی سائنسدانوں نے امریکا کا رُخ کیا تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی کے بہترین ذہن امریکا کو مفت میں مل گئے تھے۔ جرمنی سے جان بچاکر امریکا میں سکونت اختیار کرنے والے اِن یہودی سائنسدانوں نے امریکا کو حقیقی معنوں میں سپر پاور بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
گزشتہ صدی کے ابتدائی نصف میں جس صورتحال کا سامنا جرمنی کو تھا، کچھ کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا اب امریکا کو ہے۔ تب جرمنی سے سائنسدان بھاگے تھے، اب امریکا سے بھاگ رہے ہیں یا بھاگنے کے لیے پَر تول رہے ہیں۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جس طور نازیوں نے فطری علوم و فنون کی ترویج روکی تھی اور تحقیق کی راہ میں دیواریں کھڑی کی تھیں، بالکل اُسی طرح اب ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں فطری علوم و فنون کی ترویج و اشاعت کی راہ میں روڑے اٹکانا شروع کردیے ہیں۔ تحقیق کے لیے کی جانے والی فنڈنگ میں انتہائی درجے کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ معاشرے کی بہتری کے لیے سرکاری سطح پر جو فنڈنگ اب تک کی جاتی رہی ہے، اُس میں بھی پریشان کن حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ امریکا میں اب تک خانہ جنگی کی کیفیت تو پیدا نہیں ہوئی مگر شہریوں کی آزادی سلب کی جارہی ہے، مختلف بنیادوں پر نفرت کو ہوا دی جارہی ہے۔ تارکینِ وطن کی آمد روک کر امریکا میں موجود اور بسے ہوئے تارکینِ وطن کے خلاف فضا تیار کی جارہی ہے۔
بہت کچھ ہے جو بہت سی کہانیاں سُنا رہا ہے مگر امریکی قیادت کچھ سُننے، دیکھنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی معاشرہ تیزی سے انحطاط پذیر ہے اور مکمل زوال کی طرف اُس کا سفر تیز ہوگیا ہے مگر بہت سی واضح علامات کو بھی امریکی قیادت یکسر نظرانداز کر رہی ہے۔
یہ نکتہ کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکی معاشرے کا انحطاط کم و بیش پندرہ سال قبل شروع ہوا تھا۔ تب سے اب تک بہت کچھ بدل اور بگڑ چکا ہے مگر کوئی نہیں جو اس طرف پوری سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہو۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا میں اس وقت جو خرابیاں پائی جارہی ہیں، وہ سب کی سب ڈونلڈ ٹرمپ کی پیدا کردہ نہیں تاہم وہ معاملات کو درست کرنے کے بجائے، اُن سے اپنے لیے فوائد کشید کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بگاڑ کا دائرہ مزید وسعت اختیار کرے۔
امریکا میں قوم کے لیے سوچنے کا رجحان دم توڑ جارہا ہے۔ لوگ صرف انفرادی کامیابی اور خوشحالی کو سب کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ ملک چاہے کسی بھی سمت جارہا ہو، وہ صرف اپنا بھلا چاہتے ہیں، اپنی یعنی انفرادی کامیابی ہر حال میں یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
امریکا کی نجی محفلوں میں غیرمعمولی تعلیم یافتہ اور دُنیوی اعتبار سے انتہائی کامیاب افراد معاشرے کے بنیادی مسائل کے بارے میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔ کسی کو اس بات سے کچھ بھی غرض نہیں کہ معاشرہ بہتر ہونا چاہیے، سب کو ڈھنگ سے جینے کا موقع ملنا چاہیے۔ ایسی نجی محفلوں میں لوگ صرف اپنی ذات کا، اپنے مفادات کو لاحق خطرات کا رونا رو رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہے آج کا امریکا۔ معاشرے اور ریاستی نظام کو درپیش سنگین مسائل کے بارے میں بحث و تمحیص کے بجائے لوگ فلموں اور ایسے ہی دوسرے موضوعات پر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ہے امریکی معاشرے کی سچائی۔
ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ
میرے نزدیک تو یہ ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکا میں بہت سے اہلِ علم، اہلِ کمال انتہائی نوعیت کی بیزاری محسوس کر رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ امریکا میں میرے قیام کی مدت بھی اب پوری ہوا چاہتی ہے۔ جب کسی معاشرے سے لبرل اشرافیہ نکلنے لگتی ہے اور اہلِ کمال جان بچاکر بھاگنے کی سوچنے لگتے ہیں تب پورے معاشرے کو اِس کی بہت بھاری قیمت چُکانا پڑتی ہے۔ اب امریکا کو بھی ممکنہ طور پر اس مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ پہلے تو امریکا نے دنیا بھر سے بہترین ذہن اپنی طرف متوجہ کیے اور اب وہ فطری علوم و فنون اور دیگر شعبوں میں پیشرفت کی راہیں خود ہی مسدود کر رہا ہے۔ امریکا میں ڈھائی عشروں سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ جو آزادی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، وہ امریکا سے نکلنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جنہیں فطری علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں زیادہ وسیع البنیادی تحقیق کرنی ہے، وہ یورپ یا کہیں اور منتقل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری
بل کلنٹن اور براک اوباما ڈیموکریٹ صدور تھے۔ اِن دونوں کے ادوارِ صدارت کے دوران امریکا میں ٹیکس کی پالیسی بہت اچھی تھی۔ معیشت مستحکم ہوئی۔ اِن دونوں نے جس انداز سے حکومت کی، اُسے دیکھ کر لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ امریکا میں ری پبلکنز کے برسرِ اقتدار آنے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں ہونی چاہیے۔ بل کلنٹن اور براک اوباما نے بلند آمدنی والوں کے مفادات کو محفوظ کرنے کے حوالے سے پہلے ہی بہت کچھ کردیا تھا تو پھر اُنہیں کیا ضرورت پڑی کہ ڈیموکریٹس کو ناکام بناکر ری پبلکنز کو اقتدار میں لائیں؟
ڈیموکریٹس سے ایک بنیادی غلطی یہ سرزد ہوئی کہ اُنہوں نے شناخت کی سیاست پر بہت زیادہ توجہ دی۔ امریکا کے محنت کش طبقے کی آمدنی بڑھانے اور اُسے معیاری انداز سے جینے کا موقع دینے پر توجہ دینے کے بجائے ڈیموکریٹس یہ سمجھتے رہے کہ اپنی شناخت قائم رکھ لینا بھی کافی ہے۔ لوگ اِس غلطی سے بپھر گئے۔ اِس ایک غلطی نے امریکا میں بلو کالر جاب کرنے والوں کو ری پبلکنز کے ہاتھ میں دے دیا۔ ٹرمپ نے چکنی چُپڑی باتیں کرکے اُنہیں شیشے میں اُتار لیا۔
بنیادی سبق
امریکا بہت تیزی سے انحطاط کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔ ایسا اِس لیے ہوا ہے کہ اُس نے خطرناک علامات کو نظرانداز کرنے کی غلطی کی ہے۔ دنیا بھر میں مضبوط ترین ممالک ایسی ہی حالت میں زوال کی طرف گئے ہیں۔ چشمِ فلک نے بیسیوں ممالک کو طلوع اور غروب ہوتے دیکھا ہے۔ جب بھی کوئی ملک بہت زیادہ ترقی حاصل کرلیتا ہے تو اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو بھول جاتا ہے اور اپنی طاقت ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے۔
رونالڈ ریگن کے ادوارِ صدارت میں امریکا خاصے شورش زدہ ماحول سے دوچار رہا۔ اگر کسی نے کہا ہوتا کہ ہم ریگن کے زمانے کو امنِ عامہ اور تعقل کی اثر پذیری کے حوالے سے محض یاد نہیں کریں گے بلکہ اُس دور کو یاد کرکے سُکون بھی محسوس کریں گے تو لوگ اُسے پاگل قرار دیتے۔ اب ذرا سوچیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ امریکا میں اِس وقت قانون کی علم داری سے جو کِھلواڑ کیا جارہا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے کیا ریگن کا زمانہ بہت اچھا دکھائی نہیں دیتا؟
(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)
“On the origins of the continuous deterioration of the U.S.: A personal reflection”.
(“The Globalist”. June 13, 2025)