اِس میں کوئی شک نہیں کہ محلِ وقوع کے لحاظ سے جنوبی افریقا کو افریقا کے دوسرے بہت سے ممالک پر غیرمعمولی فوقیت حاصل ہے اور وہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے مگر اِس کے باوجود اُسے بہت سے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کرپشن بہت زیادہ ہے جس کے باعث قومی ترقی کے اہداف پورے نہیں ہوپاتے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہوچکا ہے۔
جنوبی افریقا میں جی ڈی پی اور مجموعی سرکاری قرضوں کے درمیان تناسب (۲۰۰۸ء سے) ۲۴ سے ۷۵ فیصد تک جاپہنچا ہے۔ اِس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقا کی حکومت کے لیے اب معاشی امور کو ڈھنگ سے چلانا کتنا دشوار ہوچکا ہے۔ اس وقت حکومت مجموعی سالانہ آمدنی کا کم و بیش ۲۰ فیصد قرضوں کے سُود کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ صحتِ عامہ اور پولیس سروس پر خرچ کی جانے والی رقم بھی کم و بیش اِتنی ہی ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت بہبودِ عامہ کے منصوبوں کے لیے کس طور رقم نکال پاتی ہوگی۔
جنوبی افریقا کی معاشی نمو کی رفتار خاصی کم ہے۔ جی ڈی پی کی افزائش کی سالانہ شرح ۳ء۱؍ہے جبکہ ملک کی آبادی (سوا ۶ کروڑ) میں اضافے کی رفتار ۴ء۱؍ہے۔ حکومت اس فرق کو کم کرنے میں کسی طور کامیاب نہیں ہو پارہی۔ قومی وسائل کے تناسب سے آبادی زیادہ ہے۔
افریقن نیشنل کانگریس کی حکومت ایک طرف تو سرکاری اخراجات کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوپائی اور دوسری طرف وہ سرکاری اداروں کے لیے بیل آؤٹ پیکیجز لانے کی روایت پر کاربند رہی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ کرپشن کا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے کہیں زیادہ اضافہ عام بات ہے۔ یہ سارا بوجھ گھوم پھر کر عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومت اپنے اخراجات پر قابو پانے والے اقدامات سے اب تک اجتناب ہی برتتی آئی ہے۔
سرکاری ملکیت والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے اُن کے لیے بیل آؤٹ پیکیجز لانے سے قومی بجٹ پر غیرضروری دباؤ مرتب ہوتا رہا ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ اُنہیں یا تو سخت تر انتظامی اقدامات کے ذریعے درست کیا جائے یا پھر بیچ ہی دیا جائے۔
سونا، پلاٹینم اور کرومیم کی پیداوار میں جنوبی افریقا کا پہلا نمبر ہے۔ اِن اہم برآمدات کا جی ڈی پی میں غیرمعمولی حصہ ہے۔ دوسری بہت سی برآمدات بھی معیشت کو توانا رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن یہاں ریلوے کا نظام درست نہیں اور بندرگاہوں کی کارکردگی بھی اِتنی اچھی نہیں کہ برآمدات کے فروغ میں کوئی کلیدی کردار ادا کرسکے۔ مواصلات کا بنیادی ڈھانچا محض اپ ڈیٹ نہیں بلکہ اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح حکومت اندرونِ ملک معاشی سرگرمیوں کو غیرمعمولی تحرک فراہم کرکے اور برآمدات میں اضافے سے اپنی معیشت کو غیرمعمولی حد تک تقویت سے ہمکنار کرسکتی ہے۔
جنوبی افریقا کا ایک بنیادی مسئلہ معاشی اور معاشرتی ناہمواری ہے۔ ملک بھر میں شدید افلاس پایا جاتا ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے جینے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ عشروں کی نسل پرستی نے جو مسائل پیدا کیے، اُن کی جڑیں اب تک گہری اور مضبوط ہیں۔ معاشرتی اور معاشی تفریق نے ملک کو بُری طرح جکڑ رکھا ہے۔ طبقاتی فرق بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف انتہائی مالدار لوگ ہیں اور دوسری طرف انتہائی مفلس۔ یہی سبب ہے کہ ملک میں جرائم کا گراف بھی نیچے نہیں آپاتا۔
جرائم پیشہ گروہوں نے جنوبی افریقا کو اپنے گڑھ میں تبدیل کر رکھا ہے۔ بہت سے ملکوں کے بڑے گینگز جنوبی افریقا سے آپریٹ کرتے ہیں۔ ملک کی ساکھ اس حوالے سے پریشان کن ہے اور بیرونی سرمایہ کار یہاں سرمایہ لگانے سے گریزاں ہی رہتے ہیں۔ کالے دھن کو سفید کرنے کا دھندا بھی جنوبی افریقا سے کیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ شناخت بہت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔
جنوبی افریقا کا محلِ وقوع اُسے بھرپور ترقی اور خوشحالی کا اہل بناتا ہے مگر سرکاری مشینری کی نااہلی اور کرپشن کے باعث ایسا نہیں ہو پارہا۔ رہی سہی کسر جرائم کے حوالے سے گندی شناخت نے پوری کردی ہے۔ نظم و نسق کی بہتری، کرپشن کی روک تھام اور جرائم پیشہ گروہوں کی بیخ کُنی کے بغیر جنوبی افریقا اپنی پسماندگی دور نہیں کرسکتا۔ اس حوالے سے فوری اور انقلابی نوعیت کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو بھرپور سیاسی و معاشی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“South Africa’s economic challenges”.
(“The Globalist”. March 18, 2025)