دنیا بھر میں ایک طرف تو معاشی نمو کی شرح گر رہی ہے اور دوسری طرف سماجی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی سے انصاف اور شفافیت کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
مغربی دنیا کو جو وسیع تر بحران لاحق ہے، اُسے سمجھنے کے لیے معاشی نمو کی گرتی ہوئی شرح کو سمجھنا لازم ہے۔ اِس کے بغیر مغرب کی الجھنوں کے بارے میں بالکل درست رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ معاشی اور معاشرتی سطح پر وسائل کی ازسرِ نو تقسیم کی گنجائش سکڑتی جارہی ہے اور بہت سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انصاف کے بارے میں اُن کے احساسات بُری طرح مجروح ہو رہے ہیں۔
انصاف ایک پیچیدہ اور بسا اوقات کچھ کا کچھ سمجھ میں آنے والا تصور ہے۔ یہ قانون کی بنیاد پر استوار ہے مگر اِس کی رسائی قانون کے دائرہ کار سے آگے بھی ہے اور آج کی دنیا میں یہ بہت حد تک ایسے سماجی پروگراموں کے ذریعے خود کو ظاہر کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد معاشروں میں مساوات کو فروغ دینا ہے۔
معاملات کو سیاسی سطح پر مزید الجھانے والی بات یہ ہے کہ انصاف کی آواز بالعموم اُن لوگوں کی طرف سے اٹھائی جاتی ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن سے کچھ غلط کیا گیا ہے، زیادتی کی گئی ہے۔ غلط کا مفہوم ہر ایک کے نزدیک الگ الگ ہے۔ ہر انسان ناانصافی کو اپنے حالات کے مطابق ایک خاص تناظر میں دیکھتا ہے۔ ناانصافی کے حوالے سے ہر انسان کا تصور الگ ہے اور بیشتر معاملات میں اِس حوالے سے طویل بحث کی جاسکتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی جامعہ طے نہیں کرسکتی کہ انصاف آخر ہے کیا، اِس کے حقیقی اور واقعی معیارات کیا ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ آج بھی انصاف بہت حد تک اور بہت گہرائی میں ذاتی نوعیت کا تصور ہے جس پر بہت لے دے ہوتی ہے۔
اب بنیادی سوال یہ ہے کہ بالکل درست معاملہ کیا ہوتا ہے، ہر اعتبار سے بالکل شفاف معاملہ کیا ہوتا ہے۔ کیا یہ درست ہوگا کہ ہم شفافیت اور درستی کو سماجی سطح پر ہم آہنگی کا ایک عامل سمجھیں۔ انصاف کے برعکس کسی چیز کے درست سمجھنے اور منوانے کا معاملہ بہت حد تک انفرادی سطح پر اخلاقی معاملہ ہوتا ہے۔
لوگ عام طور پر کسی بھی معاملے میں انصاف یا شفافیت کا تعین اپنے اپنے وجدان کی مدد سے کرتے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں اختلافِ رائے ہوسکتا ہے اور ہوتا ہی ہے۔ لازم نہیں کہ کوئی کسی معاملے کو درست سمجھ رہا ہو تو باقی سب لوگ بھی اُسے درست سمجھیں یا ایسا کرنے کا عندیہ دیں۔
شفافیت عدمِ شفافیت کو محض الگ نہیں کرتی بلکہ اُسے تسلیم بھی کرتی ہے۔ بحث و تمحیص کے ذریعے طے پانے والے اصولوں کی بنیاد پر استوار ہونے کے بجائے یہ ذاتی احتساب کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔
انصاف کا عمل بالعموم رسمی نوعیت کے سمجھوتوں اور حقوق کی ضمانت کا حامل ہوتا ہے۔ اِسی صورت شہریوں کے لیے اندرونی و بیرونی سلامتی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
کسی بھی نوعیت کی دخل اندازی انتشار اور بدحواسی کو جنم دیتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ غلط راہ پر گامزن کیے جانے والے احساسات عام طور پر سیاست میں انتشار اور بدحواسی کو راہ دیتے ہیں۔ معاشرے کی ساخت اور مجموعی کیفیت میں زوال کے حوالے سے یہ دونوں اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں قربانی کے بکرے تلاش کیے جاتے ہیں یعنی کرے کوئی اور بھرے کوئی والی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔ جب کسی کو کسی ٹھوس جواز کے بغیر نشانہ بنایا جاتا ہے، زیادتی کی جاتی ہے تب مخالفت اور مخاصمت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
امریکی جمہوریت کو پوری دنیا کے لیے ایک نمایاں مثال بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکی جمہوریت ایک بڑا نمونہ نہیں ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اِس میں بھی بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں اور یہ کہنا کسی طور بجا نہ ہوگا کہ امریکی جمہوریت ہر طرح کی خامیوں اور کمزوریوں سے پاک ہے۔
اس وقت امریکا میں جس نوعیت کی جمہوریت پائی جاتی ہے، وہ بہت پیچیدہ بھی ہے اور باقی دنیا کے لیے پوری طرح قابلِ تقلید بھی نہیں۔ امریکی ماڈل کو پورا کا پورا اپنانا کسی بھی ملک یا معاشرے کے لیے کسی بھی طور درست نہیں۔ امریکی سیاست کے تضادات دنیا بھر میں لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں کیونکہ اب تک امریکی جمہوریت ہی کو ماڈل سمجھا جاتا رہا ہے۔ جس چیز کو ماڈل سمجھا جاتا ہو، اُس میں اگر کوئی بڑی خرابی یا خرابیاں دکھائی دیں تو ذہنوں میں خلفشار کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یورپ کے جمہوری ماڈل کو کیا سمجھا جائے؟ اس وقت یورپ دو بڑے معاملات میں الجھا ہوا ہے۔ ایک معاملہ ہے تارکینِ وطن کو کنٹرول کرنے کا اور دوسرا معاملہ ہے انصاف کے بنیادی تصور کو حقوق کے غیرمشروط احساس سے جوڑنے کا۔ یورپ کی جمہوریت اِس لیے بہت مختلف ہے کہ وہ معاشرے تعلیم یافتہ ہیں اور شہریوں کی سوچ بہت سے ایسے معاملات میں بہت مختلف ہے جو باقی دنیا ڈھنگ سے سمجھے نہیں جاتے۔ یورپ میں بہت سے معاملات اٹکے ہوئے ہیں۔ بہت سے اشوز کو ڈھنگ سے نپٹایا نہیں گیا۔ سیاسی سطح پر بہت سے معاملات الجھے ہوئے ہیں۔ بہت سے حقیقتیں خاصی مبہم ہوچکی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھا جانا چاہیے کہ ماضی کی تفہیم ہمارے لیے انتہائی دشوار اور پریشان کن ہوتی جارہی ہے۔
یورپ میں عمومی سطح پر زندگی وحشت زدہ ہے۔ سمت سے محرومی کا احساس بہت نمایاں ہے۔ یورپی معاشرے بظاہر اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں۔ وہ بالکل درست راہ کی تلاش میں ہیں۔ باقی دنیا کے مقابلے میں اُن کی سوچ بہت مختلف ہے۔ صدیوں تک باقی دنیا کے لیے رول ماڈل رہنے کے باعث یورپ کے باشندوں کے ذہن الجھ چکے ہیں۔ ایک طرف اُن کی طاقت گھٹ رہی ہے اور دوسری طرف باقی دنیا کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ کا سب سے بڑا مسئلہ مؤثر دفاع کا ہے۔ دفاعی صلاحیت سے بظاہر محروم ہونے کے احساس نے یورپ کے باشندوں کو شدید بدحواسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک زمانے سے جاپان کی طرح یورپ بھی اپنے دفاع کے لیے امریکا پر منحصر ہے۔ یورپ کے لوگ اب تک کووِڈ کے بعد کی صورتحال سے نپٹ رہے ہیں۔ اس وبا کے خلاف نام نہاد جنگ نے یورپ کی پالیسیوں کی سمت بدل دی، بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ یورپ جامع پالیسیوں سے محروم ہوگیا۔ دولت کی دوبارہ اور منصفانہ تقسیم کا سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے اور آجروں کی مجموعی حالت کو انتہائی وحشت کی نظر سے دیکھنے کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا۔
اس وقت دنیا بھر میں ایک بہت بڑا بحران یہ ہے کہ جمہوریت کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور بیورو کریسی کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ یورپ میں اس حوالے سے صورتحال میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ کہیں بیورو کریسی بہت وزنی اور متصرف ہے اور کہیں بیور کریسی پر منتخب نمائندوں کا تصرف نمایاں ہے۔ جرمنی اِس نوعیت کی تبدیلی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔ دیوارِ برلن کے گرائے جانے کے بعد سے اب تک جرمن معاشرے کو شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ جرمنی میں سرکاری شعبے کی غیرمعمولی اور متواتر توسیع نے نجی شعبے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اگر جرمن معیشت مشکلات سے دوچار رہی ہے تو یہ کوئی بہت حیرت انگیز بات نہیں۔
جرمنی سمیت یورپی یونین کے تمام ہی رکن معاشروں کے لیے اب معاشی بہتری کا زمانہ گزرتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ معاشی معاملات پر سرکاری کنٹرول بڑھتا جارہا ہے۔ امریکا میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ یورپ پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے۔ جمہوری اقدار کمزور پڑ رہی ہیں اور شخصی تصرف کے کیس بڑھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو اسٹیٹس کو اچھا لگتا ہے یعنی جو زیادہ اور تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے عادی نہیں ہیں، وہ اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں۔ بڑھک مارنے والے یا بڑبولے سیاست دانوں نے معاملات کو کچھ کا کچھ کردیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مثال اِس سلسلے میں سب سے نمایاں ہے۔ انہوں نے معاملات کو کچھ کا کچھ کردیا ہے۔ وہ تیزی سے ایسے اقدامات کرتے جارہے ہیں جو سیاسی سطح پر غیرمعمولی اکھاڑ پچھاڑ کا باعث بن رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ایلون مسک اور اِسی قبیل کے چند دوسرے سیاست دانوں نے بیورو کریسی کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ مغربی معاشروں میں بیورو کریسی کے بڑھتے ہوئے تصرف کو روکنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا لازم ہوچکا ہے۔ ٹرمپ جیسے سیاست دان بیورو کریسی کی بالا دستی کے لیے بہت بڑے خطرے کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ وہ کسی کے زیرِدست رہتے ہوئے کام کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ عوام کی بھرپور طاقت کے ذریعے خود کو مضبوط بناتے ہوئے یہ سیاست دان اپنی بات منوانے کی تگ و دَو میں مصروف رہتے ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں اشرافیہ چاہتی ہے کہ معاملات جُوں کے توں رہیں۔ اُسے ڈر ہے کہ عوامی سطح پر غیرمعمولی نوعیت کی تبدیلی سے صرف بگاڑ پیدا ہوگا اور یوں معاشروں کا زوال شروع ہوگا۔
مغربی معاشروں میں بیورو کریسی مخالف رویہ اس قدر اور اِتنی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ سرکاری شعبہ مجموعی معیشت میں اب محض جزیرہ سا دکھائی دینے لگا ہے۔ بہت سوں کو یہ تبدیلی اس لیے اچھی نہیں لگ رہی کہ اس کے نتیجے میں صرف سرکاری شعبے کے چند اداروں اور لوگوں کو کچھ مل جاتا ہے، باقی لوگ اصلاحِ احوال کے لیے ترستے ہی رہتے ہیں۔
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں تو وہ خطرات کون سے ہیں اور کس سے یا کن سے لاحق ہیں۔ جو لوگ جمہوریت کا بھلا چاہتے ہیں اور کچھ نہ کچھ کرنے کے موڈ میں بھی ہیں، اُنہیں سوچنا پڑے گا کہ جمہوریت کو لاحق خطرات کو کس طور دور کیا جاسکتا ہے۔ بنیادی معاملہ جمہوریت کو بچانے کا ہے۔ استحکام کی منزل تو اِس کے بعد آئے گی۔ جمہوریت بنیادی طور پر آزادی کے تصور سے وابستہ ہے اور آزادی اُسی وقت پنپ سکتی ہے جب تحمل اور رواداری کو پروان چڑھایا جائے۔
کوئی بھی جمہوریت حقیقی معنوں میں آزاد اُسی وقت سمجھی جاسکتی ہے جب دلائل کا تبادلہ آسان ہو۔ جب کسی کو اپنے دل کی بات کہنے کی پوری آزادی میسر ہوتی ہے تب جمہوریت کا حُسن نکھر کر سامنے آتا ہے۔ جمہوریت انسان کو بولنا سکھاتی ہے اور بولنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ معاشروں میں اختلافات کا ابھرنا فطری امر ہے۔ ہر انسان اپنے ذہن سے سوچتا ہے۔ کسی کے ذہن کو پابند نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک خاص انداز یا زاویے ہی سے معاملات کو دیکھے اور سوچے۔ آج کی دنیا میں ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر اعتبار سے آزاد اور غیرجانبدار بحث و تمحیص کی گنجائش برائے نام رہ گئی ہے۔
جمہوریت اجتماعیت کی بات کرتی ہے۔ اِس میں ’’میں‘‘ سے کہیں زیادہ اہمیت ’’ہم‘‘ کی ہوتی ہے۔ ہم اس حقیقت کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جمہوریت کا بنیادی تصور یہ تھا کہ فرد کو ریاست کے تصرف، تسلط اور جبر سے بچایا جائے۔ فرد اگر اجتماعیت میں گم ہوکر رہ جائے تو زندگی بے وقعت سی ہو جاتی ہے۔ زندگی کی وقعت میں اضافے کے لیے لازم تھا کہ فرد کی انفرادیت کو بچانے کی کوئی سبیل کی جاتی اور جمہوریت کی شکل میں وہ سبیل کی گئی۔ اب معاملہ یہ ہے کہ انفرادیت ٹھکانے لگتی دکھائی دے رہی ہے۔ شخصی آزادی محض دھوکا سا ہے۔ اب اگر کسی کو اپنی انفرادیت برقرار رکھنی ہے تو اُس کے لیے بھی اجتماعیت ہی کا سہارا لینا پڑے گا۔ دنیا بھر میں یہی ہو رہا ہے۔ اگر کوئی تنہا چلنا چاہے تو بہت جلد خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ سب سے ہٹ کر چلنے کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے۔
اب ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ’’میں‘‘ کے مقابل ’’ہم‘‘ آخر ہے کیا۔ اب اجتماعیت کی بات ہو تو رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اجتماعیت کے نام پر بھی محض اختلاف ہی ابھر رہا ہے۔ صدیوں سے قبول کی جاتی رہی اقدار کا حال بہت بُرا ہے۔ ہم اجتماعیت کے نام پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ اب ہمیں ایک دوسرے کی مخالفت ہی میں اجتماعیت کی بقا دکھائی دے رہی ہے یا کچھ طاقتیں ایسا ہی دکھانا چاہتی ہیں۔
عوامی سطح کی سیاسی بحث میں ہم سے مراد ہے حقوق اور انصاف کی طلب کے لیے آواز بلند کرنا۔ شخصی سطح پر کی جانے والی بات معاملات کو شفاف بنانے سے متعلق ہے، بالخصوص ایسے شعبوں میں جن کا دراصل قانونی تقاضوں کے ذریعے احاطہ نہیں کیا جاتا۔ عشروں، بلکہ صدیوں کی بحث و تمحیص سے فرد کو جمہوریت کے حوالے سے سوچنے کی تحریک مل رہی ہے، نہ اپنی رائے کو سب کے سامنے بیان کرنے کا سلیقہ ہی عطا کیا جارہا ہے۔ جمہوری سطح پر مذاکراتی عمل اور سودے بازی کی صفت بہت پیچیدہ ہوچکی ہے۔
اب جمہوری ماحول میں کھل کر کچھ کہنے اور اپنے مؤقف کو سب کے لیے قابلِ قبول بنانے پر بھرپور توجہ دینے کے بجائے ماہرین پر بہت زیادہ بھروسا کیا جارہا ہے۔ بہت سے معاملات الجھے ہوئے ہیں جن کے لیے سائنٹیفک حل تجویز بھی کیا جارہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب ہر چیز پر سوالیہ نشان لگتا جارہا ہے۔ دانش، علم، انحصار پذیری اور تعلقات کے حوالے سے مخالفانہ آرا موجود ہیں اور اُن کی وجہ سے معاملات مزید الجھ رہے ہیں۔ روایتی طور پر ہمارا تصور یہ رہا ہے کہ ماہرین کو دستیاب ہونا چاہیے نہ کہ ہر معاملے پر مسلط ہو رہنا چاہیے۔ اب معاملہ یہی ہے۔ ماہرین سے کبھی کبھار مدد لینے کے بجائے ہم بات بات پر اُن کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ حکومتیں اپنے بیانیوں کو لوگوں پر مسلط کر رہی ہیں۔ بیشتر حکومتوں کا یہی حال ہے کہ کسی بھی معاملے میں اپنی ایک رائے قائم کرکے پھر اُسے منوانے کے لیے نکل پڑتی ہیں۔ ایسے میں جمہوریت کلچر کی ایک تابندہ روایت کے طور پر بحث و تمحیص کی گنجائش نہیں رہی۔ علمی بنیاد پر بحث اور تجزیے کی گنجائش برائے نام رہ گئی ہے۔ حکومتیں خالص آمرانہ ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے اپنی مرضی کی سوچ کو پورے معاشرے پر مسلط کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
جمہوری معاشروں میں بھی بیورو کریسی کی بلند دیواریں لوگوں کو محبوس کیے دیتی ہیں۔ عوامی مسائل پر کُھل کر بات کرنے کی گنجائش نہیں چھوڑی جارہی۔ بیورو کریسی کو خادم ہونا چاہیے مگر وہ مخدوم بننے کی طرف رواں رہتی ہے۔ وہ معاشرے کے مسائل حل کرنے کے بجائے اُن کے لیے مسئلے میں تبدیل ہوچکی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز کردی گئی ہے کہ حقوق کسی بھی صورتحال سے مطابقت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ کوئی مجرد تصور نہیں۔ تمام حقوق کو ایک خاص تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی طرح کے اور کسی بھی سطح کے حقوق تبدیلی سے محفوظ نہیں اور مکمل طور پر اضافت کے حامل ہیں یعنی اِنہیں ایک خاص تناظر ہی میں دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ حقوق پر کُھل کر بحث ہوسکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ قوانین پتھروں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے ہوتے ہیں۔ اُنہیں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ سیاسی بحث و تمحیص کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
جب بحث کی گنجائش نہ رہے اور اِس کے کرتا دھرتا دوسروں کو باہر نکال کر اِسے درونِ خانہ ٹائپ کی کوئی چیز بنانے پر تُل جائیں تو جمہوریت دم توڑنے لگتی ہے۔ جمہوریت کا حُسن اظہار میں ہے۔ جب کوئی خاص گروہ حکومتی امور پر متصرف ہو، سیاست پر بھرپور دسترس کا حامل ہوچکا ہو اور اپنے مخصوص مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کو ہائی جیک کرلے، بحث و تمحیص کی گنجائش ہی نہ چھوڑے تو جمہوریت کے لیے پنپنا تو دور کا معاملہ رہا، بقا کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Democracy in Decline?” (“The Globalist”)