جرمن اور چینی کاروباری اداروں کا موازنہ

زمانے بہت بدل چکے ہیں۔ گزرے ہوئے کئی زمانوں میں مجموعی طور پر جو فضا پروان چڑھی تھی، وہ اب ایک ہی زمانے میں جلوہ فرما ہے۔ ہم ایک ایسے ماحول میں جی رہے ہیں جس میں ہمارے لیے لامتناہی آسانیاں ہیں اور مشکلات بھی لامتناہی ہیں۔ کل تک جو محض خواب تھا، وہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ انسان جو کچھ محض سوچا کرتا تھا، وہ اُس کے سامنے دھرا ہے۔ جن آسانیوں کی تلاش تھی، وہ ہاتھ میں ہیں اور جن مشکلات کے بارے میں سوچ سوچ کر خوف محسوس ہوا کرتا تھا، وہ بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔

دنیا بھر میں معاشی معاملات بھی آسانیوں اور مشکلات سے مزین ہیں۔ بڑی معیشتیں ایک طرف دنیا بھر کے مزے بٹور رہی ہیں اور دوسری طرف اُنہیں اپنی برتری برقرار رکھنے پر بھی بہت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے عالمی معیشت کے افق پر ابھرنا اور پھر وہاں ٹِکے رہنا بچوں کا کھیل نہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین نے محض چار عشروں کے دوران اپنے آپ کو ایک بڑی عالمی معاشی قوت کے طور پر منوایا ہے۔ اِن چار عشروں کے دوران چین نے محنت بہت کی ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے مستفید ہونے اور نئی ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کرنے میں بھی وہ پیش پیش رہا ہے۔ چینی قیادت نے جو اہداف متعین کیے تھے، اُنہیں بہت حد تک حاصل کرلیا ہے۔ چین میں قائم کے جانے والے نئے کاروباری ادارے صارف کی ضرورتوں اور تقاضوں پر بہت دھیان دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک کوئی بھی ٹیکنالوجی کاروباری تعلقات میں ایک اہم آلہ ہے جس سے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں چین کا طریقِ کاروبار مقبول ہے۔ چینی کاروباری ادارے اپنے صارفین کی پسند و ناپسند کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ وہ فیڈ بیک لیتے ہیں اور اُس کے مطابق اپنے کام کرنے کے ڈھنگ کو تبدیل کرتے ہیں۔ وہ معلوم کرتے رہتے ہیں کہ مارکیٹ میں جن لوگوں سے مسابقت ہے، وہ کیا کر رہے ہیں، کون سی اضافی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ جاننے کے بعد چینی کاروباری ادارے اپنی اشیا و خدمات میں بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ وہ اپنے صارفین کو حاصل سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں پہنچنے والی ہر تکلیف اور الجھن پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ چینی کاروباری ادارے اپنے صارفین کی پسند و ناپسند کا اِتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ بات مارکیٹ میں واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ وہ صرف مال بیچنے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اِس سے کئی قدم آگے جاکر صارف کے مکمل اطمینان کو بھی ہدف بناتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چینی کاروباری جہاں کہیں بھی کوئی اچھا موقع دیکھتے ہیں تو تیزی سے لپکتے ہیں مگر اِس سلسلے میں ایک خاص طریقِ کار کے حامل ہیں۔ اگر کسی بھی چینی ادارے کو اندازہ ہو جائے کہ مارکیٹ نے اُس کی مصنوعات کو قبول نہیں کیا تو وہ پیچھے ہٹنے میں کوئی خاص قباحت بھی محسوس نہیں کرتے اور تاخیر بھی نہیں کرتے۔

چین کے نئے کاروباری ادارے بہت تیزی سے آتے ہیں اور تیزی ہی سے کام کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں یومیہ بنیاد پر کاروباری ادارے قائم ہوتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے کے کاروبار بھی بڑی تعداد میں آغاز کرتے ہیں مگر کم ہی اداروں یا لوگوں کو کامیابی نصیب ہو پاتی ہے۔ چینی کاروباری ادارے وقت کے تقاضوں کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کام کرتے ہیں اور تیز رفتاری بھی اُن میں نمایاں وصف کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ اگر کسی نئے کاروباری ادارے کے پاس مطلوب ٹیکنالوجی نہ ہو تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اِن مشکلات کو دور کرنے اور ٹیکنالوجی کی کمی پوری کرنے کے لیے تیزی کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

ہم یہ نکتہ نظرانداز نہیں کرسکتے کہ چین کے بیشتر نئے کاروباری اداروں میں طویل المیعاد نوعیت کی منصوبہ سازی نہیں ہوتی اور وہ مستقبل بعید کی کاروباری ضرورتوں پر زیادہ متوجہ نہیں رہتے۔ یہی سبب ہے کہ چینی ادارے تیزی سے آتے ہیں اور تیزی سے چلے بھی جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں چینی ادارے تادیر مارکیٹ میں رہیں تب بھی اُن میں بالغ نظری کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔

چین کے نئے کاروباری اداروں کے برعکس جرمنی کے نئے کاروباری ادارے ٹیکنالوجی پر بہت دھیان اور زور دیتے ہیں۔ مگر صارفین کی ضرورتوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے یا نہیں دے پاتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی اشیا و خدمات میں ٹیکنالوجی نمایاں رہیں۔ سوال یہ ہے کہ صارف کا اطمینان یقینی بنانے کے لیے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔

یہ ہے چینی اور جرمن کاروباری اداروں کے طریقِ کار کا بنیادی فرق۔ ایک اور فرق بھی نمایاں ہے۔ وہ فرق خطرات کے حوالے سے ہے۔ چینی ادارے خطرات مول لینے کے لیے تیار رہتے ہیں، تجربے کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت پیچھے ہٹنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔ دوسری طرف جرمن ادارے خطرات مول لینے سے بہت گھبراتے ہیں۔ اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ بچ بچ کے چلا جائے۔ یہی سبب ہے کہ جرمن کاروباری ادارے کسی بھی نئی مارکیٹ میں آسانی سے قدم جمانے میں ناکام رہتے ہیں۔

جرمن ندرت کا ماضی

ایک طویل مدت تک جرمنی جدت و ندرت کی مثال بنا رہا۔ جرمن اداروں کی کارکردگی بہت عمدہ رہی ہے۔ جرمن انجینئر اپنی ندرتِ فکر کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف، مقبول اور ممدوح رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسٹارٹ اپ یعنی نئے کاروباری اداروں کے حوالے سے یہ ساکھ کچھ زیادہ کارگر نہیں۔ نئے کاروباری اداروں کے لیے سوال پائیداری سے کہیں بڑھ کر فوری کامیابی کا ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں قدم جمانے کے لیے بہت زیادہ وقت لینے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ سب کچھ بہت تیزی سے اور قطعیت کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔

میکینکل انجینئرنگ کے دور میں پیدا ہونے والی ثقافت نے عالمی معیشت میں پَر پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا تو انتہائی بنیادی تصور یہ تھا کہ اگر آپ کو کار بنانی ہے تو سب سے پہلے اُس کے لیے جامع گیئر بکس تیار کیجیے، ایسا گیئر بکس جس میں کوئی خامی نہ پائی جاتی ہو۔ اپنی پہلی کار بنانے کے بعد سے اب تک جرمنی میں زیادہ سے زیادہ قطعیت کی ذہنیت کارفرما رہی ہے اور جرمن اداروں کو دنیا بھر میں اِسی خصوصیت کی بنیاد پر شناخت کیا جاتا ہے۔ جرمن انجینئرنگ کا اعلیٰ معیار ایک روایت کا درجہ رکھتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔

اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ ادوار میں جو ذہنیت کامیابی کی ضمانت تھی، ایک بہت بڑا اور انتہائی مضبوط اثاثہ تھی وہ اب، ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں ایک بڑے منفی پہلو میں تبدیل ہوگئی تھی۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی غیرمعمولی یا قابلِ رشک قطعیت اور جامعیت سے کہیں زیادہ فوری نتائج کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ آج کی کاروباری دنیا میں کسی بھی ادارے کو قدم جمانے کے لیے بہت زیادہ وقت نہیں ملتا۔ اب ’’تیزی‘‘ نمایاں ترین صفت کا درجہ رکھتی ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا تو اہم ہے ہی، ساتھ ساتھ تیزی بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی اب بھی انیسویں اور بیسویں صدی کی ذہنیت کے ساتھ جینا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اُس کے لیے مسائل بے شمار ہوسکتے ہیں۔

ثقافتی طور پر جرمنی کے نئے کاروباری اداروں کو کسی بھی پروڈکٹ کی تیاری کے لیے غیرمعمولی تیزی اپنانی پڑے گی۔ یہ نکتہ کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ چینی کاروباری ادارے دن رات کام کرتے ہیں، ملازمین زیادہ وقت دیتے ہیں اور کام تیزی کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے۔ معیار میں تھوڑی بہت کمی بیشی بھی چل سکتی ہے مگر زیادہ وقت لینا کسی بھی اعتبار سے سُودمند نہیں۔

چینی کاروباری اداروں کا بنیادی طریقِ کار یہ ہے کہ وہ آرڈر کے مطابق ڈلیوری تیزی سے کرتے ہیں اور یہ بھی بتادیتے ہیں کہ معیار میں کچھ کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کسٹمرز کو یہ یقین دہانی بھی کراتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی خرابی یا بگنگ وغیرہ ہوگی تو اگلے ہی دن فکس بھی کردی جائے گی، خامی یا کمی دور بھی کردی جائے گی۔ صارف کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ڈلیوری تیزی سے ملے گی۔

چین میں ۹۹۶ بہت زیادہ استعمال کی جانے والی عددی اصطلاح ہے یعنی لوگ صبح کے ۹ بجے سے رات کے ۹ بجے تک کام کرتے ہیں اور یہ معمول ہفتے کے ۶ دنوںکا ہے۔ یہ تصور بالعموم ٹیک انڈسٹری کا ہے۔ اس ورک کلچر پر تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کام کرنے والوں کو معقول حد تک آرام کرنے کا موقع نہیں مل پاتا۔ وہ دن بھر کے تھکے ہارے گھر پہنچتے ہیں، سوتے ہیں اور بیدار ہوکر پھر کام پر پہنچ جاتے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ہفتے میں ۷۲ گھنٹے کام کرنے سے زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

چینی کاروباری اداروں کی کامیابی کا ایک بنیادی راز یہ ہے کہ وہ تیزی سے فیصلہ کرتے ہیں، سوچنے میں بہت زیادہ وقت نہیں کھپاتے۔ چین میں فیصلے انفرادی سطح پر ہوتے ہیں۔ جرمنی میں معاملہ اتفاقِ رائے کی ذہنیت کا ہے۔ جرمنی کاروباری ادارے کسی بھی معاملے میں کوئی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ وہ اتفاقِ رائے کو ہر حال میں بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اُنہیں معیار سے کہیں زیادہ اپنی ساکھ کی فکر لاحق رہتی ہے۔ جرمن معاشرے میں سوچ بچار کی عادت بہت زیادہ ہے۔ اگر کسی جرمن کاروباری ادارے میں دو یا تین پارٹنر ہوں اور پوری ٹیم چار پانچ افراد کی بھی ہو تو اتفاقِ رائے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ کاروبار کے لیے اہم سمجھے جانے والے فیصلوں میں بسا اوقات تاخیر ہو جاتی ہے۔

چین کے کسی بھی اسٹارٹ اپ میں سی ای او یا شریک بانی ہی اپنی سلطنت کا سلطان ہوتا ہے۔ یہ اعلیٰ افسران اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں اور اُس پر عمل بھی کراتے ہیں۔ اُنہیں کسی بھی معاملے میں حتمی رائے دینے کا اختیار حاصل رہتا ہے۔ یہ لوگ فیصلے کرتے ہیں اور اُن کی تعمیل میں تاخیر برداشت نہیں کرتے۔ وہ اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں ٹائمنگ ہی سب کچھ ہے۔ اچھے فیصلے کی تعمیل میں تاخیر ہو جائے تو صرف خرابی ہاتھ لگتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تیزی سے کیے فیصلے میں ناکامی کا خطرہ بھی چھپا ہوتا ہے۔ اگر فیصلہ غلط نکلے تو معاملات غلط اور نتائج توقعات کے برعکس بھی نکلتے ہیں۔ مگر خیر، اس معاملے میں زیادہ فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ تیزی اور تبدیلی سے اس کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ بنیادی سوال محور کا ہے، وہ ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے۔ بنیاد اور محور کے معقول ہونے پر چند ایک غلط فیصلوں کو بھی کسی واضح مشکل کے بغیر جھیلا جاسکتا ہے۔

ندرت و جدت کے جرمن ایکو سسٹم میں حکومت کی منظوری کے مراحل بہت زیادہ پیوست ہیں۔ اس کے نتیجے میں ندرت اور تجدید کا عمل سُست پڑ جاتا ہے۔ ایسے میں جدت یقینی تو بنائی جاسکتی ہے مگر تاخیر سے۔ کاروباری دنیا میں ایسی تاخیر کی کچھ خاص گنجائش نہیں ہوتی۔ چینیوں کا طریقِ کار بہت مختلف ہے۔ وہ کسی نہ کسی طور آگے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر کوئی غلطی سرزد ہو تو بعد میں معافی مانگ لیتے ہیں۔

جرمنوں کو فکر لاحق رہتی ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو جائے اور سزا کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جرمنی میں تیز رفتاری سے کام کرنے والوں کے لیے غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ وہاں معیار کو ہر حال میں ترجیح دی جاتی ہے اور اگر کوئی بہت زیادہ تیزی دکھا رہا ہو تو اُسے سراہنے کے بجائے انتباہ کیا جاتا ہے کہ غلطی کی صورت میں معافی نہیں ملے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ تیزی سے کام کرنے کی صورت میں انسان غلطی کرتا ہی ہے۔ جرمنی میں اس حوالے سے معافی کی گنجائش نہیں۔

ڈیڑھ دو عشروں کے دوران جرمنی میں وہی کاروباری ادارے کامیاب رہے ہیں جو چین یا کہیں اور کاروباری اداروں کے ماڈل پر قائم کیے گئے۔ اِن میں راکیٹ انٹرنیٹ جیسا ادارہ بھی شامل ہے جو بہت کامیاب رہا ہے۔ یہ ادارہ بیرونی دنیا کے ماڈل پر تیار کیا گیا یعنی انیسویں اور بیسویں صدی کی کاروباری ذہنیت کو بروئے کار لانے سے گریز کیا گیا۔ ان اداروں کے ناکام ہونے کی گنجائش برائے نام تھی کیونکہ اداروں کے قیام کے لیے کامیاب ماڈل منتخب کیے گئے تھے۔

غور کیجیے تو یہ حقیقت بہت عجیب معلوم ہوگی کہ چین اور امریکا میں نئے کاروباری اداروں کی ماڈلنگ اور ذہنیت بہت حد تک یکساں ہے۔ امریکا کے نئے کاروباری ادارے بھی تیزی سے کام کرتے ہیں جس میں غلطی کی گنجائش رہتی ہے۔ غلطی کے خوف سے یہ ادارے بہت زیادہ سوچ بچار میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ 

(مترجم: ابو صباحت)

“German and Chinese start-ups compared”. (“The Globalist”.)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں