کسی بھی ریاست کو حقیقی بڑی ریاست میں کون سی چیز تبدیل کرتی ہے؟ اِس سوال کو یوں بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ کون سا وصف ہے جو کسی بھی ریاست کو بلند کرکے قیادت کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ اہلِ دانش کے نزدیک کسی بھی نسل، قوم، ریاست یا معاشرے کو اگر قائدانہ کردار ملتا ہے تو صرف قائدانہ بصیرت سے۔ عام آدمی حیوانی سطح پر زندگی بسر کرتا ہے۔ اُسے ماضی، حال اور مستقبل سے کچھ خاص غرض نہیں ہوتی۔ اُس کے نزدیک تو زندگی صرف اِس بات کا نام ہے کہ صبح کو شام کیجیے اور شام کو صبح۔ وہ اِس سطح سے کبھی بلند نہیں ہوپاتا۔ اللہ کی طرف سے جنہیں سوچنے، سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا کی جاتی ہے، وہی قیادت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔ جمہوریت کسی بھی انسان کو قیادت کے منصب پر فائز کرسکتی ہے مگر وہ قائد بن نہیں پاتا۔ قیادت ایسا وصف نہیں کہ کسی کے دینے سے حاصل ہوجائے۔
لوگ منیجر اور ایڈمنسٹریٹر کو بھی لیڈر تصور کرلیتے ہیں۔ لیڈر بہت الگ چیز ہوتی ہے۔ ہر انسان لیڈر نہیں ہوسکتا۔ منتظم اور قائد ہونے میں بہت فرق ہے۔ کسی بھی نسل، برادری، قوم، معاشرے، ریاست یا تہذیب کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو عام انسانی معمولات اور معاملات سے بہت بلند ہوکر سوچتے ہیں۔ وہ ماضی کی طرف بھی دیکھتے ہیں اور مستقبل کی طرف بھی۔ وہ حال کو مستقبل کی تیاریوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، لوگوں کی سوچ بلند کرتے ہیں، اُنہیں عمومی حیوانی سطح سے بلند ہوکر جینا سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کی نظر ہر زمانے پر ہوتی ہے۔
ہمارے پڑوس میں ایک ایسا ملک واقع ہے جو محض آبادی، حجم اور معاشی قوت کے بل پر کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں کامیاب مل تو جاتی ہے مگر وہ مثالی نوعیت کی ہوتی ہے نہ پائیدار۔ بھارت کا معاملہ اِس سے بھی تھوڑا آگے کا ہے۔ وہ چونکہ دنیا میں سب زیادہ آبادی والا ملک ہے، اِس لیے سب سے بڑی منڈی بھی ہے۔ بھارت کے سیاست دان، قائدین بننے کے فراق میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کو علاقائی اور عالمی سطح پر قائدانہ حیثیت حاصل ہو۔ اُن کا استدلال ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی معاشی منڈی ہے تو اُسے اِس کے تناسب سے سفارتی اور اسٹریٹجک کردار بھی ملنا چاہیے۔ بھارت عالمی اداروں میں اپنے لیے فیصلہ کن نوعیت کی حیثیت کا خواہش مند ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا بھر میں اُس کے وجود کو غیرمعمولی قائدانہ کردار اور معاشی تفوق کی بنیاد پر تسلیم کیا جائے۔
یہ سب کچھ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت دنیا بھر میں اپنے آپ کو کیسے منواسکتا ہے جبکہ وہ علاقائی سطح پر بھی ایسا کچھ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے؟ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بنگلا دیش کے سوا کوئی بھی ملک نہیں جو بھارت کو ڈھنگ سے منہ دینے کی پوزیشن میں ہو۔ بنگلا دیش بھی اب ذرا الگ تھلگ ہوا ہے اور پاکستان سے مل کر بھارت کے لیے دردِ سر کی سی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ سری لنکا اور نیپال بھی اِس معاملے میں الگ تھلگ سے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگی معرکہ آرائی کے دوران بنگلا دیش کے ساتھ ساتھ سری لنکا اور نیپال نے بھی ایک طرف رہتے ہوئے تماشا دیکھنے کو ترجیح دی۔ اُنہوں نے بھارتی سیاسی قیادت کی خواہش کے برعکس، بھارت کے لیے حمایت کے اظہار سے صریحاً گریز کیا۔
کیا بھارت قیادت کا اہل ہے؟
کیا بھارت کی سیاسی قیادت دنیا بھر میں اپنے آپ کو منوانے کی اہل ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ اِس سوال کے جواب ہی کی بنیاد پر یہ طے ہوگا کہ بھارت کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں کرسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو میسر سیاسی قیادت انتہائی پست ذہنی سطح کی حامل ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی پست سوچ نے ملک کے سیاسی اثاثے کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ ایک دور تھا کہ بھارت کی سیاسی قیادت پنڈت جواہر لعل نہرو جیسی شخصیت کے ہاتھ میں تھی جو محض پڑھی لکھی ہی نہیں تھی بلکہ فکر و نظر کی بھی حامل تھی۔ نہرو سوچنے والے انسان تھے، اِس لیے ریاست کے ہر معاملے میں اور سماج کے ہر پہلو کے بارے میں غور و فکر کے بھی عادی تھے۔ اُنہوں نے اپنی بیٹی کی تربیت بھی کچھ اِس انداز سے کی کہ پاکستان سے ہزار دشمنی کے باوجود اندرا گاندھی میں رکھ رکھاؤ تھا، تمیز تھی اور وہ بات کرتے وقت اپنے جذبات کو معقول حد تک قابو میں رکھتی تھیں اور معاشرے میں مذہبی یا لسانی بنیاد پر نفرت کی راہ ہموار نہیں کرتی تھیں۔ اندرا گاندھی اپنے والد کی طرح غیرمعمولی فکر و نظر کی حامل تو نہ تھیں تاہم تربیت اعلیٰ سطح کی ہونے کی بدولت وہ معاملات کو زیادہ سے زیادہ متوازن رہتے ہوئے دیکھتی تھیں اور یہی وصف اُن کے بیٹے راجیو گاندھی میں بھی ہویدا ہوا۔ راجیو گاندھی چونکہ پڑھے لکھے تھے اور کمرشل پائلٹ بھی رہ چکے تھے، اِس لیے اُن کی زندگی بھی نپی تُلی تھی۔ وہ اپنے بیشتر معاملات میں متوازن طرزِ فکر کے حامل تھے اور جب عمل کی بات آتی تھی، تب وہ بہت ڈھنگ سے اپنے حصے کا کام کرتے تھے۔ اُن کے دور میں بھارت مجموعی طور پر متوازن رہا اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے بھی معاملات بہت حد تک امن و سُکون کے رہے۔
یہ کن ہاتھوں میں ہے بھارت؟
بھارت کی موجودہ قیادت کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ اِتنا بڑا اور اہم ملک کیسے کیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ نریندر مودی، اَمِت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ، وجے شاہ، راج ناتھ سنگھ۔۔۔ کیا یہی لوگ بھارت کے نصیب میں لکھے ہیں؟ نریندر مودی کی باتوں میں کسی بھی سطح پر دانش نہیں جھلکتی۔ اُن کا مطالعہ برائے نام ہے۔ باتوں میں گہرائی ہے نہ گیرائی۔ مزاج میں تحمل ہے نہ بڑپن۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ معاشرے کو متوازن رکھنے اور تقسیم سے بچانے کے لیے بھی کچھ نہیں کر رہے بلکہ جلتی پر تیل چھڑکنے کے عادی رہے ہیں۔ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے سے الگ تھلگ کرنے اور رکھنے کی اُن کی سوچ اِس قدر نمایاں ہے کہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کیسے کیسے لوگ بھارت کو چلا رہے ہیں؟ بھارتی ٹی وی چینلوں کے اینکر سڑک پر آکر لوگوں سے رائے لے رہے ہیں تو انتہائی نوعیت کے ریمارکس سُننے کو مل رہے ہیں۔ بھارت کے عوام پھٹ پڑے ہیں۔ پاکستان سے حالیہ فضائی معرکہ آرائی میں بھارتی فضائیہ کی شرمناک شکست پر عوام نے انتہائی نوعیت کا ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک خاتون نے تو وزیراعظم نریندر مودی کو نیچ تک کہہ دیا اور یہ بھی کہ اب وہ پتا نہیں کہاں، کس کونے میں دُبکے ہوئے ہیں۔ کیا ۱۹۶۲ء کی جنگ میں چین کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر کسی میں اِتنی ہمت پیدا ہوئی تھی کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کے کردار پر کیچڑ اُچھال سکتا؟ اِس کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ جواہر لعل نہرو بلند ذہن کے مالک تھے، اِس لیے اُن کی شخصیت کو نشانہ بنانے کی ہمت کسی میں پیدا نہیں ہو پاتی تھی۔ اُن کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جاسکتا تھا مگر اُن کی نیت پر کوئی شک نہیں کرسکتا تھا۔ اُن کے کٹّر مخالفین بھی اُن کے کردار پر کیچڑ اُچھالنے کی ہمت اپنے اندر پیدا نہیں کر پاتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کانگریس جب تک اقتدار میں رہی، تب تک مسلمانوں کے لیے قبولیت کی فضا کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تو خیر نہیں کہا جاسکتا کہ کانگریس میں ریاستی (صوبائی)، ضلعی اور شہری سطح کے تمام رہنما مسلمانوں کے لیے بہت اچھے تھے مگر مجموعی طور پر کانگریس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے اچھی رہی ہے کیونکہ اُس کا مزاج سیکولر ہے اور اُس میں مذہب کے حوالے سے شدت پسندی کسی بھی سطح پر نہیں۔
قائدانہ بصیرت کہاں ہے؟
بھارت میں انتہا پسند تنظیموں اور گروپوں کا رسمی اتحاد ’’سنگھ پریوار‘‘ کہلاتا ہے۔ اِن سب کا سرخیل ہے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس۔ سنگھ پریوار کو چار بار اقتدار ملا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سنگھ پریوار کے سیاسی چہرے کا درجہ حاصل ہے۔ بی جے پی نے اقتدار کے مزے خوب لُوٹے ہیں اور آج کل وہ مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کا مزا لے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اِتنا بہت کچھ ملنے پر بھی بی جے پی نے خود کو سیاسی بصیرت کا حامل بنانے پر توجہ دی ہے۔ نریندر مودی، اَمِت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ، راج ناتھ سنگھ اور وجے شاہ میں کوئی بھی نہیں جسے کسی بھی سطح پر دانشور قرار دیا جاسکے۔ دانشوری تو بہت دور کا معاملہ رہا، یہ لوگ تو عمومی سطح کی دانش و حکمت کے بھی حامل نہیں۔ اِن میں بڑپن برائے نام بھی نہیں۔ نریندر مودی کی ’’فیس لینگویج‘‘ بتاتی ہے کہ وہ کس حد تک قائدانہ وصف کے حامل ہیں اور اُن کی طرزِ فکر کیا ہے۔ مغربی ریاست گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے نریندر مودی نے کامیابیاں اِس لیے حاصل کی تھیں کہ معیشت کے حوالے سے بھارت بہت مضبوط ہے اور گجرات کا شمار ملک کی متمول ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ قیادت کسی کے بھی ہاتھ میں ہو، جب معیشت مضبوط ہوتی ہے تو ملک ترقی کرتا ہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسے میں ترقی کا کریڈٹ نہیں لے سکتی۔ مزا تو تب ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک کو اُس وقت سنبھالے جب معیشت خرابی سے دوچار ہو اور پھر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرکے دکھائے۔
نریندر مودی کو عالمی سطح پر قائدانہ کردار درکار ہے۔ یہ خواہش بھی کسی لطیفے سے کم نہیں۔ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کے لیے تو قبولیت کی فضا پیدا نہیں کرسکتے، عالمی سطح پر کیا کردار ادا کر پائیں گے؟ مودی اور اُن کا ٹولا چاہتا ہے کہ بھارت کو عالمی اداروں میں نمایاں حیثیت دی جائے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ بھارتی سیاسی قیادت میں بڑپن اور رواداری تو نام کو بھی نہیں۔ مسلمانوں کا نام آتے ہی چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اور اقلیتوں کو یہ لوگ کیا دیں گے جبکہ اپنے ہم مذہب دَلِتوں کو کچل کر رکھنا چاہتے ہیں اور اُن کے حقوق غصب کیے ہوئے ہیں۔
بائیکاٹ کی بچگانہ مہم
حالیہ پاک بھارت معرکہ آرائی میں ترکیہ نے پاکستان کو ڈرون دیے تو اِس پر اب تک بھارت میں واویلا مچا ہوا ہے۔ ترکیہ اور آذربائیجان کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے۔ بالی وُڈ اسٹار عامر خان کئی بار ترکیہ گئے ہیں۔ وہ ترک صدر رجب طیب ایردوان سے بھی مل چکے ہیں۔ اب اِس پر واویلا مچاکر عوام کو ورغلایا جارہا ہے کہ عامر کی فلموں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ بھارتی سیاسی قیادت اور میڈیا، دونوں کے دماغ چڑیا کے دماغ جیسے چھوٹے ہیں۔ یا شاید اُس سے بھی زیادہ۔ دونوں میں وسعتِ نظر نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ ویسے تو پاکستان نے حالیہ فضائی معرکہ آرائی میں بہت سے ملکوں کا جنگی ساز و سامان استعمال کیا ہے تو کیا بھارت کے لوگ اُن تمام ممالک کا بائیکاٹ کرنا پسند کریں گے؟ یہ انتہائی بچگانہ سوچ ہے۔ پاکستانی فوج کے پاس تو امریکا کا دیا ہوا جنگی ساز و سامان بھی بہت بڑے پیمانے پر ہے۔ تو کیا مودی اور اُن کا ٹولا امریکا کے خلاف کھڑا ہوسکتا ہے؟ اگر بائیکاٹ کی ایسی بھونڈی اور بُودی بنیاد تراشی جائے تو پھر چل چکا ملک۔
لوگ یونہی حکمرانی نہیں کرتے تھے؟
یہ سوچ ہی احمقانہ ہے کہ کوئی ملک بڑی معاشی قوت ہونے کی بنیاد پر اپنے آپ کو منواسکتا ہے۔ بھارت عہدِ قدیم سے خوشحال چلا آرہا ہے۔ اُسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ اُس پر دنیا بھر سے حملے ہوتے رہتے تھے۔ وسط ایشیا کے لوگ قدیم ادوار میں بھارت پر کئی بار حملہ آور ہوئے اور مقامی ہندوؤں کو زیرِنگیں رکھا۔ مسلمان حکمرانوں سے بہت پہلے وسطِ ایشیا کے صاف رنگت والے لوگ بھارت آکر حکمران ہوتے رہے۔ اِنہیں آریہ کہا جاتا ہے۔ بھارت کے اصل باشندے تو دراوِڑ ہیں جو جنوبی بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج شمالی اور مغربی بھارت میں جو ہندو رہتے ہیں، اُن کی اکثریت بیرونی نسلوں سے تعلق رکھتی ہے۔ حملہ آور کئی ملکوں سے آئے مگر انتہا پسند ہندوؤں کو اعتراض ہے تو صرف مسلمانوں پر۔ ہندوستان پر تو انگریزوں نے بھی حکومت کی مگر اُن کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں میں واضح نفرت نہیں پائی جاتی۔ انگریزوں سے قبل ولندیزی اور پرتگالی بھی بھارت آئے اور کئی علاقوں پر قابض ہوکر وہاں حکومت قائم کی۔ بھارت کا موجودہ صوبہ گوا پرتگالیوں کے زیرِنگیں ہوا کرتا تھا۔
مسلمانوں نے کم و بیش آٹھ صدیوں تک ہندوؤں پر راج کیا۔ مسلمانوں کو ہراکر انگریز اقتدار پر قابض ہوئے۔ انگریز راج میں بھی ہندوستان نے کم و بیش ڈیڑھ صدی گزاری۔ محض پچیس ہزار انگریز بھارتی سرزمین پر ہوا کرتے تھے اور یہاں کی سُورما، جنگجو نسلوں کو بخوبی کنٹرول کیا کرتے تھے۔ جب پچیس ہزار انگریزوں کے ہاتھوں غلامی برداشت کرلی گئی تو وسطِ ایشیا اور دیگر بالائی خطوں سے آنے والے مسلم حکمرانوں اور اُن کی افواج کے زیرِنگیں رہنے پر اِس قدر حیرت کیوں؟
ذات پات کا نظام تاحال برقرار
انتہا پسند ہندو اپنے لوگوں کو پورا سچ کبھی نہیں بتاتے۔ مغل حکمرانوں کو بالعموم اور اورنگ زیب عالمگیر کو بالخصوص مطعون کرتے وقت یہ نہیں بتایا جاتا کہ باہر سے آنے والے لشکر اِس لیے ہندوستان پر حکومت کرنے میں کامیاب ہو پاتے تھے کہ یہاں تقسیم بہت زیادہ تھی۔ ہندوؤں میں ذات پات کا نظام نافذ تھا اور آج بھی ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بھارت کے طول و عرض میں نچلی ذات کے ہندوؤں کو دبوچ کر رکھا جارہا ہے۔ جو سیاسی قیادت ذات پات کے نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور اقلیتوں کو دبوچ کر رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے، وہ عالمی سطح پر کوئی بھی قائدانہ کردار کیونکر ادا کرسکتی ہے؟ یورپ سمیت پورے مغرب نے خود کو قیادت کے لیے تیار کرنا چاہا تو پہلے اپنی اندرونی خرابیاں اور کمزوریاں دور کیں۔ پوری مغربی دنیا میں تمام انسانوں کو مساوی سمجھنے کی ذہنیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ مذہبی، نظریاتی اور دیگر اختلافات اپنی جگہ مگر اِس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ معاشی مواقع اور معاشرتی بہبود کے حوالے سے پورے مغرب میں یکساں طرزِ فکر پایا جاتا ہے جس میں چُھٹپن بہت کم ہے۔
محض بڑی منڈی ہونا کچھ نہیں!
دو ڈھائی عشروں کے دوران بھارتی سیاسی قیادت میں اپنے خطے سے نکل کر کچھ کرنے اور کچھ پانے کا جُنون کچھ زیادہ تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ یہ جُنون بہت مضحکہ خیز ہے۔ بھارت بڑی مارکیٹ ہے، اور بس۔ بھارت کے نالج ورکرز اور دیگر ہنرمند دنیا بھر میں کام کرکے خطیر زرِمبادلہ بھیج رہے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ اِس سے قومی خزانہ قابلِ رشک حد تک مستحکم ہوچکا ہے مگر محض اِس ایک حقیقت کی بنیاد پر عالمی کردار ادا کرنے کا خواب کیونکر دیکھا جاسکتا ہے؟ بھارتی قیادت اِس نکتے کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ کوئی بھی ملک اُسی وقت بڑا بن سکتا ہے جب وہ عسکری طور پر بھی مستحکم ہو اور معاشرتی اعتبار سے بھی بہت بلند ہو۔ قائدانہ وصف محض سوچنے سے پیدا نہیں ہو جایا کرتا۔ اِس کے لیے دل بڑا کرنا پڑتا ہے، بڑی سوچ کو پروان چڑھانا پڑتا ہے، اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنا پڑتا ہے۔ بھارت کے پڑوس میں سری لنکا اور نیپال جیسے پسماندہ ممالک ہیں مگر بھارت نے اُن کے لیے کچھ بھی نہیں کیا بلکہ اُنہیں دبوچ کر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بنگلا دیش کو ایک مضبوط اتحادی بنانے کے بجائے محض غلام اتحادی بناکر رکھنے کو ترجیح دی جاتی رہی۔ اِس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اب بنگلا دیش کے لوگ بھارت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اپنی راہ الگ کرچکے ہیں اور واضح طور پر چین کی طرف جُھک رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے پاکستان سے بھی دوستی اور اشتراکِ عمل کی پینگیں بڑھانا شروع کردی ہیں۔
علاقہ تو ہاتھ میں ہے نہیں!
ایک طُرفہ تماشا ہے کہ بھارت علاقائی سطح پر بالادستی قائم کر نہیں پارہا اور عالمی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارتی سیاسی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ جیسے بالی وُڈ کی فلموں میں کسی بھی دشمن کو دبوچا جاسکتا ہے، بالکل اُسی طرح پاکستان اور دیگر پڑوسیوں کو دبوچا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ فلموں میں ہوتا ہے۔ مودی اور اُن کے ٹولے کو سمجھنا ہوگا کہ حقیقی دنیا کی زمینی حقیقتیں، فلمی دنیا کی زمینی حقیقتوں سے بہت مختلف اور خاصی دُرشت ہوا کرتی ہیں ؎
کُھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھا
دہلتی آگ تھی، تنہائی تھی، فسانہ تھا
پاکستان سے حالیہ معرکہ آرائی نے ایک بار پھر بھارتی قیادت کو اُس کی اوقات یاد دلادی ہے۔ مودی اور اُن کے ٹولے کو اندازہ ہوچکا ہے کہ پاکستان کو دُھول چٹانا محض بالی وُڈ کی فلموں میں ممکن ہے۔ حقیقت کی دنیا ایسا بہت کچھ چاہتی ہے جو ممکن نہیں ہو پارہا۔ اور اِس لیے ممکن نہیں ہو پارہا کہ اِس کے لیے بھارتی سیاسی قیادت نے کوشش ہی نہیں کی۔
چین سے ہی کچھ سیکھ لیتے
بھارت کو بلند تر عالمی کردار ادا کرنے کی خواہش نے پریشان کر رکھا ہے اور اِدھر علاقائی سطح پر کچھ کرنے کے قابل ہو پانا بھی ممکن نہیں رہا۔ چین اب اُبھر کر سامنے آچکا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ چین کی رُونمائی کا اعزاز پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔ امریکا اور یورپ بھی دیکھنا چاہتے تھے کہ چین کی عسکری قوت کس قدر ہے۔ چین نے ثابت کردیا کہ وہ اب عالمی سطح پر کوئی بھی کردار ادا کرنے کے قابل ہوچکا ہے۔ ایک طرف اُس کی فضائی قوت بہت زیادہ ہے اور دوسری طرف افرادی قوت کے محاذ پر بھی وہ قابلِ رشک پوزیشن کا حامل ہے۔ چین نے دیگر بہت سے شعبوں کی طرح اپنی فوج کو افرادی قوت کے معاملے میں بھی قابلِ رشک مقام پر پہنچایا ہے۔ تحقیق و ترقی پر چین نے خوب توجہ دی ہے۔ عصری علوم و فنون کے شعبے میں چین کی پیش رفت قابلِ رشک ہے تو اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مغربی دنیا کے نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے چینی قیادت نے بھی اپنے ہاں تعلیم و تربیت کا معیار بلند رکھا ہے۔ تحقیق و ترقی کے شعبے کے لیے خطیر رقوم مختص کی جارہی ہیں۔ نئی نسل کو کچھ کر دکھانے کے قابل بنانے پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ آج چین کے ماہرین پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
تیاری بھی تو ہونی چاہیے!
کیا بھارتی قیادت نے خود کو تیار کیا ہے؟ کیا عسکری معاملات میں بھارت دنیا بھر میں کہیں بھی کھڑا ہوکر اپنے آپ کو منوانے کی پوزیشن میں ہے؟ جو ملک اپنے سے کہیں چھوٹے ملک سے چار دن کی معرکہ آرائی میں مات کھا جائے، وہ عالمی سطح پر کوئی بڑا سیاسی اور عسکری کردار کیونکر ادا کرسکتا ہے؟ اُسے تو ایسا کوئی دعویٰ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند
بھارتی قیادت مغرب پر زور دے رہی ہے کہ ہمیں کچھ بناؤ اور کچھ دلاؤ۔ اب سوال یہ ہے کہ یورپ اور امریکا مل کر بھارت کو کیا بنائیں اور کیا دِلائیں جس سے اُس کی تشفی ہو۔ معاملہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ اُنہوں نے عالمی معاملات کی ریس میں جس پر رقم لگائی تھی، وہ لمبی ریس کا گھوڑا نہیں۔ چین غیرمعمولی قوت کا حامل ملک ہے۔ اُس نے اپنے آپ کو بہت مضبوط بنایا ہے۔ عام چینی باشندوں کو بنیادی سہولتیں بہت آسانی سے اور ضرورت کے مطابق دستیاب ہیں۔ بھارت میں معاملہ اِس کے برعکس ہے۔ اِسی طور چین میں نظامِ تعلیم اِس قدر مضبوط ہے کہ کوئی بھی کچھ بھی بن سکتا ہے یعنی معاشرے میں اندرونی تقسیم برائے نام ہے۔ ترقی کے مواقع سب کے لیے ہیں۔ تعلیم اور ملازمت کے مواقع کے حوالے سے امتیاز اور تقسیم برائے نام ہے۔ بھارت میں تعلیم کی سہولت اول تو سب کو یکساں و منصفانہ مواقع کے ساتھ میسر نہیں۔ اور جاب مارکیٹ؟ اُس پر طرح طرح کے تعصبات کا قبضہ ہے۔ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ فوج، پولیس اور دیگر حساس اداروں میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اندرونی سطح پر اس قدر تقسیم کے ہوتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح کی طاقت میں تبدیل کرنے کا خواب کیونکر دیکھا جاسکتا ہے؟ اِتنا حماقت بھرا حوصلہ تو مودی اور اُن کے ٹولے ہی کا ہوسکتا ہے۔
اکھاڑے میں اُتر تو آئے مہاراج
بھارت نے واضح تیاری کے بغیر اپنے آپ کو اسٹریٹجک اکھاڑے میں اُتارا ہے۔ پاکستان اور چین کا اشتراکِ عمل بھارت کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو رہا ہے۔ امریکا اور یورپ کو یہ دیکھنا تھا کہ چین کہاں تک ہے، کہاں تک جاسکتا ہے اور اُنہوں نے دیکھ لیا۔ بھارت پر وہ بہت زیادہ بھروسا کر بیٹھے تھے۔ بھارت کے ذریعے وہ جنوبی اور وسطی ایشیا کو کنٹرول کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ نیند اُڑ چکی ہے، خواب جاچکا ہے۔
وہ تین بھی ہاتھ سے گئے!
بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ امریکا اور یورپ کی مدد سے غیرمعمولی عسکری قوت یقینی بناکر پاکستان، بنگلا دیش اور سری لنکا کو مٹھی میں کرلے گا اور اِس کے بعد چین سے دو دو ہاتھ کرلے گا۔ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان تو قابو میں تھا ہی نہیں اور اب بنگلا دیش بھی ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ معاملہ یہاں رُکا نہیں ہے۔ سری لنکا اور نیپال بھی بھارت کی طرف جُھکنے کے لیے تیار نہیں۔ نیپال نے چین سے معاملات بہتر بنائے ہیں اور اِدھر سری لنکا بھی اپنے بنیادی ڈھانچے کے لیے چین سے اشتراکِ عمل کی راہ پر گامزن ہے۔ حد یہ ہے کہ مالدیپ جیسا چھوٹا اور کمزور ملک بھی پوری طرح بھارت کی گرفت میں نہیں۔ اب بھارتی قیادت کو اندازہ ہوچکا ہے کہ اُس کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ وہ معاشی طور پر تو مضبوط ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر بہت زیادہ ہیں مگر اِس سے کیا ہوتا ہے۔ جب تک چین کی معیشت مضبوط تھی، تب تک دنیا اُسے آنکھیں دِکھا رہی تھی۔ اب اُس نے عسکری قوت میں اضافے پر توجہ دی ہے تو معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ امریکا اور یورپ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ جس ایشیائی صدی کی آمد روکنے کی وہ سر توڑ کوشش کرتے رہے ہیں، وہ اب بس آیا ہی چاہتی ہے یا شاید آچکی ہے۔
پاکستان سے چار دن کے فضائی معرکے نے بھارتی قیادت کے سَر سے جنگی جُنون نکال دیا ہے۔ خواہشات کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ پاکستان نے بھارتی طیارے گراکر جو نفسیاتی برتری پائی ہے، اُس نے بھارتی عوام کو بھی بتادیا ہے کہ پڑوسی کو ہلکا نہیں لینا ہے۔
کیا بھارت کو گھیرا جاسکتا ہے؟
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کو گھیرا جاسکتا ہے۔ امریکا اور یورپ کو اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ بھارت پر بہت زیادہ سرمایہ نہیں لگایا جاسکتا اور اُس پر بھروسا بھی ایک خاص حد تک ہی کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں اُسے جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، اُس نے اُس کے معاشی امکانات کو بھی دھچکا لگایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کُھل کر کہا ہے کہ امریکی ادارے اگر بھارت میں زیادہ سرمایہ لگائیں گے اور پلانٹ قائم کریں گے تو اُن میں تیار ہونے والی اشیا پر امریکا میں پچیس فیصد تک ٹیرف لیا جائے گا۔ وہ ایپل اور دیگر بڑے ہائی ٹیک اداروں سے صاف کہہ چکے ہیں کہ کہیں اور سرمایہ کاری سے بہتر ہے کہ امریکا میں پیسہ لگاؤ تاکہ لوگوں کو اشیا سستی ملیں، اُس پر ٹیرف ادا نہ کرنا پڑے۔
یہ وقت بھارت کے لیے بہت مشکل ہے۔ وہ عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ بھارتی قیادت فیصلہ نہیں کر پارہی کہ اِس موڑ سے اب کہاں جانا ہے۔ چین پہلو میں ہے جبکہ یورپ اور امریکا ہزاروں میل دور ہیں۔ وہ دونوں خطے اپنے معاملات کو سلجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یورپ اپنا راستہ بدل چکا ہے۔ امریکا نے یورپ سے بھی دوری اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ ایسے میں بھارت کس پر پورا بھروسا کرے؟ کیا روس پر؟ روس تو پہلے ہی چین کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چین اور روس دونوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ بھارت نے روس سے ایک زمانے تک خوب مال بٹورا، جنگی ساز و سامان بھی حاصل کیا اور تجارت کے مزے بھی لُوٹے مگر اب روس بھی راستہ بدل چکا ہے۔
لو، آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا
بھارتی قیادت نے جو جال پاکستان کے لیے بچھایا تھا، اُس میں اب خود ہی پھنس چکی ہے۔ چار سال میں دو بار پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد اب مودی سرکار کی ہمت بھی جواب دے چکی ہے۔ بھارتی عوام بھی مودی سرکار پر تُھو تُھو کر رہے ہیں۔ لوگ کُھل کر بی جے پی اور مودی ٹولے کو گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اِس لیے ہے کہ مودی اور اُن کے ٹولے نے سیاسی بصیرت پیدا کرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ پاکستان کو نیچا دکھانے کی خواہش نے مودی سرکار کو گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ یہ وقت ہوش کے ناخن لینے کا ہے۔ اگر بھارتی قیادت چاہتی ہے کہ اُس کی مزید بَھد نہ اُڑے اور وہ عالمی برادری میں مزید ذلت سے دوچار نہ ہو تو لازم ہے کہ پاکستان، چین اور روس سے تعلقات بہتر بنانے پر متوجہ ہو اور عسکری عزائم کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دے۔ جس کام کی اوقات ہی نہیں، وہ کام کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ بھارتی قیادت اب امریکا اور یورپ پر بھی زیادہ انحصار نہیں کرسکتی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکی قیادت نے ہر وقت غلامانہ دوستی کا دم بھرنے والی عرب دنیا کو اپنا نہیں سمجھا اور خلیجی ممالک کے لیے بھی اُس کے دل میں نرمی پیدا نہیں ہوئی تو کسی اور کے لیے وہ کیونکر روادار ہوسکتا ہے۔
ایسے میں دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ بھارتی قیادت خطے کی مجموعی کیفیت اور زمینی حقیقتوں کو سمجھے اور اُن سے مطابقت و موزونیت رکھنے والی سوچ اپنائے، خطے کے ممالک کو اپنائے، اُن سے اشتراکِ عمل کو ترجیح دے۔ تصادم کی پالیسی کسی بھی طور بارآور ثابت نہیں ہوسکتی۔ عوام کو جنگی جُنون میں مبتلا رکھنے کے بجائے ناگزیر ہے کہ مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جائے۔