بھارتی معیشت: سبیر بھاٹیہ کی کھری کھری باتیں

سبیر بھاٹیہ بھارتی نژاد امریکی ارب پتی آجر ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ہیں۔ انہوں نے ۱۹۹۶ء میں ہاٹ میل کے نام سے ای میل سروس شروع کی جو ابتدائی ویب بیسڈ ای میل سروسز میں سے تھی۔ سبیر بھاٹیہ نے بعد میں ہاٹ میل کو مائیکروسوفٹ کے ہاتھوں ۴۰ کروڑ ڈالر میں فروخت کیا۔ سبیر بھاٹیہ ورک کلچر، ٹیکنالوجی، بزنس مینجمنٹ، پرسنل ڈیویلپمنٹ اور دیگر موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں۔ اُن کا شمار اُن چند نمایاں کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے جو لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی بات کہتے ہیں اور نئی نسل کی رہنمائی کے معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ مذکورہ مضمون معروف امریکی یوٹیوبر ہرنور سنگھ (سان فرانسسکو) کے پوڈ کاسٹ کے اقتباسات پر مبنی ہے۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ بھارتی قیادت بہت جلد چین سے آگے نکل جانے کی باتیں کر رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی چین کی طرز پر بھارت کو تعمیر نہیں کرسکتی۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت میں تھیوری پر زور ہے، پریکٹیکل پر نہیں۔ بھارت بھر میں تعلیم و تربیت کا نظام ایسا ہے کہ لوگ فارغ التحصیل ہونے پر بھی عملی دنیا میں بہت دیر سے قدم رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر طرف ایسے لوگ گھومتے پھرتے ہیں جو جانتے تو بہت کچھ ہیں مگر کچھ کرتے نہیں اور کرنا چاہتے بھی نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ ہر شعبے جانکار تو بہت دکھائی دیتے ہیں مگر کام نظر نہیں آتا۔ ضرورت کام کی ہے، نتائج کی ہے۔ اس حوالے سے خالص پروفیشنل اپروچ کی شدید کمی اب شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔

سبیر بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے اکنامک منیجرز خام قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بھی دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں اور بڑھکیں مارتے ہیں۔ بھارت میں جی ڈی پی کی پیمائش کا طریقِ کار بھی معیاری نہیں۔ اِس سے اِس حقیقت کا علم نہیں ہو پاتا کہ بھارت بھر میں ورک فورس واقعی کس حد تک پیداوار ممکن بنارہی ہے۔ بھارت کا جی ڈی پی ماڈل بہت ناقص ہے۔ حقیقی معاشی نمو محنت کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے نہ کہ صرف مالیات کے لین دین سے۔ سبیر بھاٹیہ نے بھارت میں جی ڈی پی کی پیمائش کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے، اُس نے بھارت کے کاروباری حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ بہت سے حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترقی، تگ و دَو اور کامیابی کی نئی اور معقول تصریح کرنے والا مائنڈ سیٹ اپنایا جائے۔ حقیقت پسندی کو گلے لگانے پر زور دیا جارہا ہے۔ سبیر بھاٹیہ نے یہ نکتہ خصوصی طور پر بیان کیا ہے کہ بھارت میں جی ڈی پی کی پیمائش سے یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ملک کی افرادی قوت درحقیقت کس حد تک کارگر ہے اور کس نوعیت کی کتنی پیداوار یقینی بناسکتی ہے یا بنارہی ہے۔ سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ بھارت میں اگر میں کسی کو ایک ہزار روپے دوں اور وہ شخص وہ ہزار روپے کسی اور کو دے دے تو جی ڈی پی میں اِسے دو ہزار روپے گن لیا جاتا ہے جبکہ اس معاملے میں کوئی کام تو ہوا ہی نہیں۔ پیسہ دینا کام کرنا نہیں ہے۔ حقیقی کام تو صرف وہ کام ہے جو کیا جائے اور جس کے نتیجے میں کچھ پیدا ہو یا کسی کی خدمت انجام دی جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنے گھنٹے کام کرتا ہے اور اُس کے کیے ہوئے کام کے نتیجے میں پیدا کیا ہوتا ہے۔

سبیر بھاٹیہ کے مطابق بھارت سمیت ایشیا کے بہت سے ممالک میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ فی گھنٹہ اجرت طے کرنے کا نظام شاید غیرہنرمند افراد کے لیے ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ امریکا اور یورپ میں ڈاکٹرز، انجینئرز، مصنفین، ایڈیٹرز، وائس آرٹسٹ اور دیگر بہت سے پروفیشنل کی خدمات بھی گھنٹہ وار اجرت کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہیں۔ جو بھی کوئی نتیجہ پیدا کر پاتا ہے، اُسی کو اجرت ملتی ہے۔ ڈاکٹرز کے لیے بھی زیادہ آمدنی کی گنجائش اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب اُن سے علاج کرانے والے صحت یاب ہوں۔ نتائج پیدا نہ کر پانے کی صورت میں ڈاکٹر سمیت تمام پروفیشنل کے لیے زیادہ کمانا ممکن نہیں ہوپاتا۔

سبیر بھاٹیہ کے خیال میں بھارت میں گھنٹے کی بنیاد پر اجرت دینے کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ امریکا میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنے گھنٹے کام کیا ہے۔ اِسی کی بنیاد پر اجرت بھی طے ہوتی ہے اور جی ڈی پی بھی۔ بھارت میں اب تک یہ واضح نہیں کہ اجرت کس بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔ لوگ محض حاضری لگاکر بیٹھے رہتے ہیں اور اجرت کے حق دار قرار پاتے ہیں۔ امریکا میں اگر کوئی کسی کو چار گھنٹے کے لیے رکھتا ہے تو یہ دیکھتا ہے کہ چار گھنٹے میں اُس نے کتنا کام کیا ہے، کون سی تبدیلی یقینی بنائی ہے۔ امریکا میں مستقل نوعیت کی ملازمت کا تصور ناپید ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے اسٹور کے لیے باہر بورڈ لگا ہوتا ہے کہ تین گھنٹے کے لیے لیبر کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی اپنی خدمات پیش کرے تو فی گھنٹہ اجرت طے کرکے اُسے کام پر لگادیا جاتا ہے اور تین گھنٹے میں کام ختم ہوتے ہی اُسے فارغ کردیا جاتا ہے۔ یورپ میں بھی کچھ ایسا ہی نظام ہے۔ وہ لوگ بھی یہ دیکھتے ہیں کہ جسے کام پر لگایا گیا ہے، اُس نے کتنا کام کیا ہے اور اُس کی خدمات حاصل کرنے سے کوئی نتیجہ بھی برآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سبیر بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ بھارت میں اُن لوگوں کو بھی احترام مل رہا ہے جو ملک میں کچھ کرنے کے بجائے بیشتر معاملات کو کسی نہ کسی طور اور کسی نہ کسی سطح پر آؤٹ سورس کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے میں یہ توقع کس قدر فضول ہے کہ چین کی طرح بھرپور تعمیر و ترقی ممکن بنائی جاسکے گی۔ ملک کو زیادہ سے زیادہ جدت و ندرت کی ضرورت ہے۔ ملک بھر میں مہارتوں کی شدید کمی ہے۔ تخلیقی سوچ کا فقدان ہے۔ لوگ نقالی پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک کی تعمیر و ترقی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکتا۔ ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ جو تعلیم و تربیت پاتے ہیں، اُس سے مطابقت رکھنے والے کام نہیں کرتے۔ مثلاً بیشتر انجینئر کو پوری تعلیم و تربیت اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ میدان میں آکر تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں مگر وہ بالآخر انتظامی نوعیت کے عہدوں تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کیا انجینئرز اس لیے تیار کیے جاتے ہیں کہ دفاتر تک محدود ہوکر رہ جائیں؟ یقینا نہیں۔ دنیا بھر میں لوگ عمل کی دنیا میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ حقیقی مطلوب نتائج تو اِسی طور پیدا ہوتے ہیں۔ انجینئر اس لیے ہوتے ہیں کہ عملی سطح پر متحرک رہتے ہوئے بہت کچھ تعمیر کریں، بنائیں، مضبوط کریں۔ بھارت میں اس سوچ کے ساتھ کام کرنے کا بھی رواج عام نہیں اور اِس سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ جدت اور ندرت کے بارے میں فکرمند رہنے والوں کی بھی شدید کمی ہے۔ دنیا اب آن لائن کلچر کی طرف چلی گئی ہے۔ بھارت میں آج بھی ہاتھ سے کام کرنے والوں کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سوفٹ ویئرز کی مدد سے کام کرنے والوں کا وہ مقام نہیں جو ہونا چاہیے۔ ایسے میں یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ بھارت کو سوفٹ ویئر گرو کہا جاتا ہے جبکہ لوگ ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ بھارت کو اپنا ورک کلچر مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تکنیکی مہارتوں کے حوالے سے بھی نئی سوچ اپنانا لازم ہے۔ لازم ہے کہ ورک کلچر تبدیل کرتے ہوئے ہر اُس انسان کو احترام کی نظر سے دیکھنا شروع کیا جائے جو عمل کی دنیا میں زیادہ سے زیادہ رہنا چاہتا ہے۔ دنیا بھر میں تسلیم شدہ ورک کلچر یہ ہے کہ ہر محنت کرنے والے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تعلیمی نظام بھی بدلنا پڑے گا۔ جو لوگ تحقیق کرتے ہیں، سوفٹ ویئر تیار کرتے ہیں، اُن کا زیادہ احترام کیا جانا چاہیے۔ تخلیقی سوچ اپنانے والوں کی قدر دانی ہونی چاہیے۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ چین میں اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہونی چاہیے اور تربیت بھی۔ معاشرے کے کسی بھی طبقے کو علم کے بغیر رہنے نہیں دیا جاتا۔ تعلیم کے معاملے میں ریاست اپنی ذمہ داری محسوس کرتی ہے۔ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرنے والوں کو کام کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ بھارت میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم دولت مندوں کے لیے مختص ہوکر رہ گئی ہے۔ تعلیم ہے ہی اِتنی مہنگی کہ غریب کا بچہ تو ڈھنگ سے پڑھ ہی نہیں پاتا اور امیروں کے بچے بھی پڑھ لکھ کر کون سے تیر مار لیتے ہیں۔ لڑکیوں کا یہ حال ہے کہ ڈگریاں لینے کے بعد شادی کرلیتی ہیں، بس۔ یہ بھونڈا پن کب تک جاری رہے گا؟ یہ سوچ کب بدلے گی؟ سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ تعلیم و تربیت قومی تعمیر و ترقی کے لیے ہوتی ہے۔ اگر کسی لڑکی کو شادی کرکے گھر ہی بسانا ہے اور گھر ہی سنبھالنا ہے تو پھر اُسے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم نہ دلوائی جائے۔ خصوصی تعلیم پر والدین کا بھی بہت کچھ خرچ ہوتا ہے اور معاشرے کا بھی۔ ریاست بہت سے اداروں کو امداد فراہم کرتی ہے تب کہیں وہ اعلیٰ تعلیم دینے کے قابل ہوپاتے ہیں۔ ایسے اداروں سے پڑھ لکھ کر اگر لوگ مطابقت رکھنے والا کام نہ کریں تو یہی سمجھا جائے گا کہ ساری محنت اکارت گئی۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ بھارتی سماج کا ڈھانچا ایسا ہے کہ لوگ اشتراکِ عمل سے دور رہتے ہیں۔ ذات پات کا نظام اب تک برقرار ہے۔ پورے بھارت میں فزیکل انفرا اسٹرکچر کو راتوں رات تبدیل کرنا یا تعمیر کرنا انتہائی دشوار ہے۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹل ٹولز بہت کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ بھارت کے تعلیم یافتہ افراد کو عملی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اشتراکِ عمل سکھانے کی ضرورت ہے۔ نئی نسل کو بتایا جائے کہ محض مسابقت سے نہیں بلکہ اشتراکِ عمل سے بھی ترقی کا عمل تیز کیا جاسکتا ہے۔ ایک دوسرے کی مدد کرکے یا ایک دوسرے کی معاونت پاکر بھی بہت کچھ سیکھا اور کیا جاسکتا ہے۔ خوشی صرف اپنی کامیابی کا نام نہیں ہے۔ کبھی کبھی کسی کی مدد کرکے، اُسے کامیابی سے ہمکنار کرکے بھی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ انفرادی سطح پر ایسے ہی اکنامک ماڈل کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ امریکا اور یورپ کے بیشتر کاروباری ادارے چاہتے ہیں کہ اُن کے ملازمین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی تگ و دَو کرنے کے بجائے مل کر کام کریں، ایک دوسرے کی صلاحیت و سکت سے مستفید ہوں تاکہ حتمی تجزیے میں ادارے کو حقیقی فائدہ پہنچے۔

مسابقت دنیا بھر میں ہوتی ہے مگر صرف مسابقت نہیں ہوتی، اشتراکِ عمل کا ماڈل بھی کارگر رہتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں کا یہی چلن ہے۔ وہاں ترقی کا مطلب دوسروں کی قبور پر اپنا تاج محل تعمیر کرنا نہیں ہے۔ لوگ دن رات ایک کرکے کامیاب ہوتے ہیں تو دوسروں کو بھی کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور اِس معاملے میں اُن کی رہنمائی کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں بھی تمام تعلیمی یکساں معیار کے نہیں۔ بہت سے ادارے کمزور ہیں مگر ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ امریکا کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی وہ بتاتی اور سکھاتی ہے جو اس وقت ہے یعنی کام کی باتوں پر متوجہ رہتی ہے جبکہ میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اہلِ علم و فن اب تک ماضی کی بُھول بُھلیوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ مغربی تعلیمی اداروں میں انرولمنٹ کراتے وقت بہت سے معاملات کو دیکھنا چاہیے۔ بعض ادارے ہیں تو بہت نامور مگر وہ شخصیت کی تعمیر میں کچھ خاص کردار ادا نہیں کرتے۔

سبیر بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ نعمت ہے جس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جانا چاہیے۔ فی زمانہ انٹرنیٹ بھی بہت کچھ سکھا رہا ہے اور مفت سکھا رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر دنیا بھر کا علم موجود ہے۔ اگر کسی کو سرچنگ اور براؤزنگ کا ہنر آتا ہے تو وہ انٹرنیٹ کی مدد سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تعلیمی کارکردگی یعنی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر امریکی ہائی ٹیک ادارے ایپل میں ملازمت حاصل کی مگر جاب کے دوران میں نے عملی سطح پر جو کچھ سیکھا، اُسے ڈھنگ سے بروئے کار لاتے ہوئے ہاٹ میل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔ اگر کسی کو جدت اور ندرت کے حوالے سے اپنا نام بنانا ہے، لوگوں سے احترام چاہیے تو عملی سطح پر بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ زیادہ سے زیادہ کام کرنے سے انسان بہت کچھ سیکھتا اور سیکھے ہوئے کو سنوارتا جاتا ہے۔ محض پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا، کرنے سے بہت کچھ ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اور کاروباری ادارے محض ادارے کی حد تک دی ہوئی تعلیم کو سب کچھ نہیں سمجھتے بلکہ عمل کی دنیا میں زیادہ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سبیر بھاٹیہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں وہی اقوام ترقی کر پائی ہیں جنہوں نے نئی نسل کو ذمہ داری قبول کرنا سکھایا ہے۔ جو لوگ کسی کے ماتحت رہتے ہوئے کام کرتے ہیں، وہ زیادہ دور تک چل نہیں پاتے۔ لازم ہے کہ انسان کوئی کام اپنے ہاتھ میں لے، اُس کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرے اور اپنی صلاحیت و سکت کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین نتائج پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ دنیا بھر میں وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو نئی نسل پر بھروسا کرتے ہیں، اُسے کام سونپتے ہیں، ذمہ داری قبول کرنا سکھاتے ہیں۔ نئی نسل میں زیادہ سکت ہوتی ہے اور کام کرنے کی لگن بھی معمر نسل سے زیادہ ہوتی ہے۔ تجربے کی کمی کو رہنمائی کے ذریعے پورا کیا جاسکتا ہے۔ امریکا اور یورپ کے اکنامک ماڈل پر اُچٹتی سی نظر دوڑائیے تو اندازہ ہوجائے گا کہ وہاں نئی نسل کی صلاحیت و سکت کو بروئے کار لانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ بھارت سمیت بیشتر ایشیائی معاشرے اِس منزل سے بہت دور ہیں۔ یہاں لوگ انفرادی ترقی اور کامیابی پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ترقی اور کامیابی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسروں کو کامیاب ہوتا دیکھنے کا ظرف ہی نہ پایا جائے۔ قومیں اُسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ذاتی نوعیت کی پرخاش اور معادنت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے پر توجہ دی جائے۔

سبیر بھاٹیہ کا استدلال ہے کہ ٹیکنالوجی سے خوف کھانے کی صورت میں قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ جب بھی کوئی بڑی ٹیکنالوجی آتی ہے تو چند ایک شعبوں کے لیے مشکلات کھڑی ہوتی ہیں اور بعض شعبے تو جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں۔ اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ٹیکنالوجی کی راہ مسدود کردی جائے۔ یہ گویا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنا ہوا۔ چند افراد کا روزگار بچانے کے لیے ٹیکنالوجی کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنا قومی ترقی کی راہیں مسدود کرنا ہے۔ ہر انسان کنٹریکٹ پر ہے۔ کیسا کنٹریکٹ؟ اپنے آپ سے کوئی وعدہ کیا ہوا ہے۔ ہر انسان کو کامیاب ہونا ہے۔ یہی تو اپنے آپ سے وعدہ ہے۔

سبیر بھاٹیہ کا مشورہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو پوری توجہ اور لگن سے بروئے کار لائیے۔ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں اپنے ذہن پر بہت زیادہ زور ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ ذہن کو زحمت سے بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت تیار کی گئی ہے تاکہ کام میں آسانی ہو۔ ہر انسان کو اپنے طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ کرنا کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کام کیجیے اور اپنے آپ ہی کو رپورٹ کیجیے۔ دیانت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا یہی طریقہ ہے۔

سبیر بھاٹیہ کے خیال میں نئی نسل کے لیے نئی ٹیکنالوجی میں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ اگر وہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت کو نظرانداز کرے گی تو اپنے پیروں پر کلہاڑی مارے گی۔ دنیا بھر میں وہی اقوام کچھ کر پارہی ہیں جو نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوکر چل رہی ہیں۔ اس وقت کسی بھی ٹیکنالوجی کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ماحول ہی کچھ ایسا ہوگیا ہے کہ سب کے ساتھ مل کر چلنے کے سوا چارہ نہیں۔ جو معاشرہ الگ تھلگ رہنا چاہتا ہے، وہ بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

سبیر بھاٹیہ کو بھارت میں کام کرنے کے ماحول اور کام سے متعلق اخلاقیات کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت نے ابھی تک کام کرنے کے حقیقی ماحول کو گلے نہیں لگایا۔ لوگ سوچے سمجھے بغیر جی رہے ہیں۔ زندگی بھر کے لیے منصوبہ سازی کا فقدان ہے۔ واضح روڈ میپ طے کیے بغیر کام ہو رہا ہے۔ اکثریت گزارے کی سطح پر جی رہی ہے۔ ذہنیت یہ ہے کہ بس کسی طور دن گزر جائے، کل کی کل دیکھی جائے گی۔

بھارت سمیت کسی بھی ملک کو اگر چین سے مقابلہ کرنا ہے تو وہی ورک ایتھکس اپنانا پڑیں گی جو چین میں مستعمل ہیں۔ چین میں کام کرنے والوں کی قدر ہے۔ نئی نسل کو اَوّلیت دی جاتی ہے۔ ذہین اور مستعد نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اگر بھارت کو طویل المیعاد بنیاد پر چین کے سامنے کھڑا ہونا ہے تو لازم ہے کہ کام کے ماحول میں موزوں ترین تبدیلیوں کی راہ ہموار کی جائے۔ چین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل تربیت یافتہ افراد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اُن کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔

چین میں اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ جس نے جس شعبے میں تعلیم و تربیت پائی ہے، اُسے اُسی شعبے میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ بھارت میں آج بھی لاکھوں نوجوان اپنے اپنے شعبوں سے ہٹ کر کام کر رہے ہیں اور جو اپنے شعبے میں ہیں، وہ بھی وہ کام نہیں کر پارہے جس کے لیے انہوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی تھی۔ بہت سے شعبے ایسے ہیں جو عملی نوعیت کے ہیں۔ انجینئرز اس لیے ہوتے ہیں کہ میدان میں نکلیں، کچھ بنائیں، کچھ کرکے دکھائیں۔ ہمارے ہاں کا ورک کلچر ایسا ہے کہ لوگ کچھ کرنے کے بجائے ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں اور سُکون سے تنخواہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ یہ طریقہ کسی بھی اعتبار سے معقول ہے نہ قابلِ تقلید۔ پروفیشنل تعلیم و تربیت کے حامل افراد سے اُن کی صلاحیت و سکت اور طبیعت کی موزونیت کے لحاظ سے کام لیا جانا چاہیے۔ بیشتر ترقی یافتہ معاشروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ نئی نسل کو اُس کی بھرپور دلچسپی کے شعبے میں آگے بڑھنے کی راہ دی جاتی ہے۔ ملازمت پر اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ نئی نسل سے منصوبوں کی سطح پر کام لیا جائے۔ جاب کی بنیاد پر کام لینے کی صورت میں کام زیادہ ہو پاتاہے اور یہ بھی معلوم ہو پاتا ہے کہ کس نے کس حد تک محنت کی ہے، خود کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔

سبیر بھاٹیہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیمی نظام اور ورک ایتھکس کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جاسکتا، مگر پھر بھی ڈیجیٹل ٹولز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بہت کچھ بہت تیزی سے کیا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں ایسے نوجوانوں کی کمی ہے جو تخلیقی سوچ رکھتے ہوں۔ تخلیقی انداز سے سوچنے کی تربیت بھی کم ہی دی جاتی ہے۔ لوگ نقالی پر چل رہے ہیں۔ جو کچھ مغرب میں چل رہا ہوتا ہے، بس اُسی کو اپنانے میں عافیت سمجھی جاتی ہے۔ تخلیقی سوچ مختلف ایپس کے ذریعے بھی سکھائی جاسکتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچا بدلنے میں وقت لگے گا مگر تب تک انٹرنیٹ پر موجود مٹیریل کی مدد سے نئی نسل کو بہت کچھ دیا اور سکھایا جاسکتا ہے۔ ایسا ماحول پیدا کرنا لازم ہے جس میں لوگ مثبت انداز سے سوچیں، دوسروں سے سیکھنے کی کوشش کریں، دوسروں کو سکھانے پر مائل ہوں اور گلا کاٹ مسابقت کے بجائے ہم آہنگی اور خوش دِلی کے ماحول میں ایک دوسرے کو اپنانے کی کوشش کریں۔

سبیر بھاٹیہ نے پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ مستقبل اُس نسل کا ہے جو ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۷ء کے درمیان پیدا ہوئی ہے۔ یہ جنریشن زی کہلاتی ہے۔ نئی نسل ہی کسی بھی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کو ایک نئے عہد میں اُس کی نئی نسل ہی داخل کرتی ہے۔ نئی نسل ہی کوشش کرسکتی ہے اور کرتی ہے۔ نئی نسل ہی کچھ کر دکھانے کا جذبہ رکھتی ہے اور کر دکھاتی ہے۔ بھارت سمیت پورے ایشیا میں نئی نسل پر اُتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی دی جانی چاہیے۔ چین، جنوبی کوریا، جاپان اور تائیوان اِس معاملے میں آف بیٹ ہیں۔ یہ معاشرے نئی نسل کو بنیاد بناکر چل رہے ہیں۔ ایشیا کے بیشتر پسماندہ معاشروں کا معاملہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے امور پر متوجہ رہتے ہیں مگر نئی نسل کو خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ سوال نئی نسل کو کام کی تحریک دینے کا نہیں بلکہ تحریک دیتے رہنے کا ہے۔ اِس کا ایک معقول و مؤثر طریقہ یہ ہے کہ نئی نسل کو بہتر مواقع فراہم کیے جاتے رہیں، کاروباری دنیا کو اس بات کی تحریک دی جاتی رہے کہ وہ نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے پر متوجہ ہو۔ ہر ترقی یافتہ معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ معاشرے نئی نسل کے لیے بھرپور تحریک و تحرک کا اہتمام کرتے ہیں۔ جب اس معاملے میں ڈھیل برتی جاتی ہے تب معاملات بگڑنے لگتے ہیں۔

جنریشن زی بہت تیزی سے خود کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ کرسکتی ہے۔ یہ نسل ہمیں نئے عہد میں لے جائے گی، مستقبل سے ہم آہنگ کرے گی۔ اگر کوئی تبدیلی لانی ہے تو جنریشن زی کے ذریعے ہی لائی جاسکتی ہے اور لائی جانی چاہیے۔

(تلخیص و تدوین: ایم ابراہیم خان)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں