اس نوعیت کی انٹیلی جنس رپورٹس میں اضافہ ہو رہا کہ اسرائیل آنے والے مہینوں میں کسی وقت بھی ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی زیر قیادت اسرائیلی حکومت ایک طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام اور ایران کے جوہری ارادوں کو اسرائیل کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتی ہے۔ ایران دھیرے دھیرے اپنے ہاں یورینیم کی افزودگی میں خاموشی کے ساتھ مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ جیسا کہ بین الاقومی جوہری واچ ڈاگ کی تازہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایران اپنے بیلسٹک میزائل صلاحیت کو بھی بڑھاتا جارہا ہے۔
اسرائیل ایران کی جوہری تیاری کے اس مرحلے کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھتا ہے کہ اگر اب ایران پر پیشگی حملہ کر کے اس کی ممکنہ جوہری اہلیت کی تیاری برباد نہ کی گئی تو پھر ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا غیر ممکن ہو جائے گا اور ایران ’’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘‘ پر پہنچ چکا ہو گا۔ گویا اسرائیل اسے اپنے لیے ’’ابھی ورنہ کبھی نہیں‘‘ والی صورتحال کے طور پر سمجھ رہا ہے۔
ایران پر یہ ممکنہ اسرائیلی حملہ اسرائیل کا کسی تنہائی میں کیا گیا حملہ نہیں ہو گا۔ بلکہ ایک وسیع البنیاد کوشش کے حصے کے طور پر ہوگا کہ اسرائیل جو کچھ خطرات دیکھ رہا ہے انہیں مل کر نیوٹرائلز کر دیا جائے۔ اس سے پہلے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر چکا ہو۔
تل ابیب میں بیٹھے حکمت کار اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرلے ایران پر حملہ کر دیا جائے۔ بصورت دیگر ایران اس طرح کے کسی بھی حملے کو روکنے کی جوہری اہلیت پیدا کر لے گا۔
اس پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک موثر سکیورٹی ڈاکٹرائن پیش کر رکھی ہے اور ایران کے خلاف ایک جارحانہ دباؤ میں اقدامات کا اضافہ بھی سوچا گیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا بالعموم یہی کہنا ہے کہ ایران پر فوجی حملے کو جس قدر التوا میں رکھا جائے گا، اس کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ ایران کو حالات زیادہ سنگین کرنے اور صورتحال زیادہ خطرناک بنانے کا موقع دیا جائے۔ ایران پر ایک مکمل اور بھرپور حملہ ایرانی حکومت کے خود ایران میں جواز کو مسخ کرے گا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی حیثیت پر بھی اثر پڑے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر بھاری سرمایہ کاری محض توانائی کی ضروریات کے لیے یا اپنے ڈیٹرننس کے لیے نہیں کی ہے۔ بلکہ اس کی سرمایہ کاری اس کے قومی جوہری تفاخر و قوت کی بھی ضرورت ہے۔ کہ ایران نے تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کر کے دکھا دی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای اور پاسداران انقلاب نے ایک عرصے سے اپنے جوہری پروگرام میں مسلسل ہوتی پیش رفت کو مغربی و امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی غیرمعمولی اور ناقابل شکست صلاحیتوں کے کھاتے میں پیش کیا ہے۔
اگر اسرائیل کامیابی سے ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ کر لیتا ہے تو یہ ایران کے لیے نفسیاتی اور سیاسی اعتبار سے ایک غیرمعمولی دھچکا ہوگا۔ یہ دھچکا ایرانی حکومت کے لیے بھی بہت برا ہوگا۔ یہ ایرانی کمزوری کا بھی ایک واضح اظہار ہو گا اور یہ بھی ظاہر کرے گا کہ ایران علاقے میں اپنے دشمن کے مقابلے میں فوجی اعتبار سے ایسا مضبوط نہیں ہے کہ حملے کو روک یا ناکام بنا سکے۔
خصوصاً ایسے ماحول میں جب ایران سالہا سال سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اس میں ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو جدید تر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اسرائیل یہ ثابت کر سکے گا کہ ایران کا دفاعی میزائل سسٹم بھی قابل بھروسہ نہیں ہے۔
ایران پر ممکنہ نئے اسرائیلی حملے کا وقت ان معنوں میں برا نہیں ہو سکتا ہے۔ پچھلے سال کے دوران جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تو ایران کو شدید جغرافیائی سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایران کا علاقائی اثر و رسوخ مجروح ہوا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال شام کی ہے جہاں سے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے نے ایران کو مزید کمزور اور تنہا کر دیا ہے۔
شام کی بشار رجیم پر ایران ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں اربوں ڈالر کا سرمایہ لگا چکا تھا۔ سالہا سال سے یہ ایران کی اہم اتحادی حکومت تھی۔ اسد حکومت لبنان کی حزب اللہ تک اسلحے کی رسائی اور سرمائے کی فراہمی کے لیے بھی ایران کی اہم سہولت کار تھی۔ مگر اسد حکومت کے خاتمے نے ایران کی اپنی اتحادی ملیشیاؤں کے ساتھ سپلائی اور ہم آہنگی کی صلاحیت کو بھی بری طرح متاثر کر دیا۔
ایران کے لیے خطے میں ایک بڑا اسٹریٹجک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا ازالہ اب مشکل تر ہے۔ بشار حکومت کے خاتمے سے یمن کے حوثیوں کے لیے بھی ایرانی امداد اور اسلحے کی ترسیل رک گئی ہے۔ گویا ایک اور ایرانی اتحادی ایران کے لیے ماضی کی طرح اب کارآمد نہ رہ سکے گا۔ یوں ایران کا خطے میں منظم کردہ ’پراکسی نیٹ ورک‘ جو ایرانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے، ہر جگہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کی زد میں آچکا ہے۔
یہ بھی اسرائیل کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیا اور یمن میں حوثیوں سمیت ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف اپنی جنگی کارروائیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کی پراکسیز نقصان سے دوچار ہو گئی ہیں۔ بلاشبہ ان کی ایران کے تذویراتی دفاع کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے۔
ایران کے لیے ان بار بار کے دھچکوں کے امتزاج نے ایران کو ماضی کے مقابلے میں انتہائی زیادہ نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ حالات ایران کے لیے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے ساتھ متحرک ہیں۔ گویا وہ نئے سرے سے ایرانی چیلنجوں کو بڑھا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو بھی سو فیصد بڑھا دیا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیل کے ممکنہ فوجی اقدامات کی بھرپور حمایت کا بھی اشارہ دے دیا ہے۔ سابقہ جو بائیڈن انتظامیہ وسیع تر علاقائی استحکام کے علاوہ اسرائیلی سلامتی کے حق میں توازن پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ اس لیے نئی امریکی انتظامیہ زیادہ جارحانہ انداز میں اسرائیلی مؤقف کی حمایت کے لیے مائل ہے۔
اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے کسی بھی وقت حملے کو واشنگٹن کی طرف سے مکمل سیاسی، سفارتی اور ممکنہ لاجسٹک مدد میسر ہو گی۔
ایرانی قیادت ممکنہ طور پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے کچھ ٹیکٹیکل نوعیت کی تبدیلیاں ظاہر کرسکتی ہے۔ جس میں اپنے آپ کو مذاکرات کی طرف مائل دکھانا اور امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کی تجدید کرنے کی خواہش کا اظہار بھی شامل ہو سکتا ہے۔
تہران کی تاریخی طور پر یہ پریکٹس رہی ہے کہ جب بھی اسے سفارتی دباؤ کا زیادہ سامنا ہوا تو اس نے اپنے آپ کو مذاکرات میں مصروف کرنے کی کوشش کی اور وقت حاصل کرلیا۔ یوں ایران نے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کو وقت حاصل کرنے کے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا اور فوری خطرات سے نکلنے کی کوشش کی۔
اگر اسرائیلی خطرات فوری شکل میں ظاہر ہوتے ہیں تو ایران ہو سکتا ہے کہ ایسی آمادگی کے اشارے دے کہ وہ بالواسطہ طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس کے باوجود اس طرح کی ممکنہ ’’ڈپلومیٹکل منورینگ‘‘ ایران کی بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث ہوں گی نہ کہ خارجہ پالسیی کی تبدیلی کا ذریعہ۔
اسلامی جمہوریہ ایران قطعاً ایک ایسی ریاست نہیں ہے جو روایتی طور پر عملیت پسندی پر مبنی فیصلے کرے اور جو اس کے فوری تزویراتی تجزیے پر مبنی ہو بلکہ وہ ایک نظریاتی و انقلابی حکومت ہے۔ جس کی نظریاتی بنیاد بڑی سختی کی حامل ہے اور اس نظریاتی ساخت کے فریم ورک سے ۱۹۷۹ء سے اب تک نکلنا ممکن نہیں ہوا۔ ایرانی حکومت تب سے ایک باقاعدہ مغرب مخالف اور اسرائیل دشمن حکومت ہے۔ جس نے مزاحمتی اتحادیوں کے ذریعے امریکا و مشرق وسطیٰ پر اثر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے وہ اپنے اس طریقہ کار سے بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اگر ایران کشیدگی میں کسی عارضی کمی کے لیے تزویراتی مفاہمت اور تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس نے حقیقی معنوں میں اپنے آپ کو بدل لیا یا وہ تبدیلی چاہتا ہے۔
ایران کی حکومت نے بارہا اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اس کی نظریاتی کمٹمنٹ اس کی عارضی بقا اور مفادات سے بلند تر ہے۔ تاہم معاشی مشکلات اور فوجی دھچکے ایران کو کچھ ٹیکٹیکل نوعیت کی تبدیلیوں کی طرف ضرور دھکیل سکتے ہیں۔ یہ اس کے طویل مدتی سفارتی مقاصد سے انحراف نہیں ہو گا نہ ہی اس کی اسرائیل سے دشمنی سے ہٹنے کی بات ہوگی اور نہ ہی اپنی مسلح پراکسیز کی حمایت سے پیچھے ہٹنے یا امریکا کے خلاف اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش سے رکے گا۔
اسرائیل کے ایرانی جوہری پروگرام پر ممکنہ حملے اور امریکی اقتصادی پابندیوں کے ساتھ فوجی دباؤ سے تہران میں کچھ منظر بدلا تو یہ ایرانی خارجہ پالیسی میں کلیدی تبدیلی نہیں ہوگی، نہ ہی ایران اپنے نظریاتی اصولوں سے دستبردار ہو گا۔
(بحوالہ: ’’العربیہ اردو ڈاٹ نیٹ‘‘۔ یکم مارچ ۲۰۲۵ء)