بنگلادیش: طلبہ انقلاب اور شیخ حسینہ کے ظالمانہ اقتدارکا خاتمہ (آخری قسط)

بنگلادیش اور بھارت کے تعلقات!

حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ بنگلادیش کی عوام مجیب الرحمان اور حسینہ واجد سے جڑی ہر چیز سے نفرت اور لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے، اور اُن کی باقیات کو توڑ پھوڑ رہی ہے، اور بھارت کے لیے یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے۔ جھرکھنڈ (Jahr Khand) میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ بنگالیوں کو پھندوں پر جھلا کر سیدھا کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اُن کو سیدھا کریں گے۔ امیت شاہ نے یہ بات ۲۰ ستمبر کو کی ہے۔ بنگلادیش کی حکومت نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ۱۵؍ستمبر کو جمشید پور شہر میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ بنگلادیش کے متعلق بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔ ۵ ستمبر کو بھارتی وزیر دفاع راج نات سنگھ نے فوجی کمانڈر کو یہ حکم دیا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہے۔ وہ بنگلادیش کے مسئلے پر فوجی کمانڈروں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ سرپرائز (اچانک) اٹیک کے لیے تیار رہیں۔

بھارت کو بنگلادیش کی طرف سے یہ سردمہری ناقابل برداشت ہے۔ بھارت اس لیے بنگلادیش کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک اقدام کررہا ہے، لیکن بنگلادیش کے عوام ڈاکٹر یونس کی قیادت میں بھارت کے سامنے سرجھکانے کو تیار نہیں۔ بنگلادیش کے عوام کو ڈاکٹر یونس جیسا مخلص حکمران ملا ہے جوعوام کے دکھ اور مسائل کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اس کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر یونس UNO میں شرکت کرنے کے لیے گئے۔ وہاں دنیا کے بہت سے رہنمائوںسے بات کی۔ اُن میں امریکا کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے علاوہ اور بھی بہت سے ممالک کے سربراہان شامل تھے، جن میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف بھی شامل تھے مگر انہوں نے بھارتی وزیراعظم سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کے سربراہان سے ملاقات کی۔ ان سب ممالک نے بھارت کی طرف سے منہ پھیر لیا ہے۔ سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ، برما اور نیپال ان سب ملکوں میں انڈیا آئوٹ کمپین شروع ہو چکی ہے۔ یعنی انڈین ہمارے ملک سے چلے جائو۔ بنگلادیش میں بھی بھارت آئوٹ کمپین شروع ہو چکی ہے۔ جب بھارتی وزیر دفاع نے فوجی سربراہان کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔

اسی طرح آذربائیجان کے دارالحکومت باکو (Baku) میں ۲۰ سے زیادہ ملکوں کے سربراہان شامل تھے۔ جن میں پاکستان کے وزیراعظم، بھارت کے وزیراعظم اور بنگلادیش حکومت کے سربراہ بھی شامل تھے۔ وہاں بھی ڈاکٹر یونس نے نریندر مودی سے ملنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بھارتی حکمران سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ہم نے بنگلادیش بنایا لیکن اب وہ ہم سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ بھارتی میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے کہ بھارت کو کوئی اقدام کرنا چاہیے، لیکن وہ کیا کرے؟

یہ واضح نظر آ رہا ہے کہ بھارت سفارتی محاذ پر بنگلادیش سے شکست کھا چکا ہے۔ بھارت کے پاس ایک ہی آپشن باقی ہے کہ وہ فوجی مداخلت کرے۔ وہ بھی اس لیے ممکن نظر نہیں آرہا کہ ۱۹۷۱ء میں جن عالمی طاقتوں نے بھارت کو بنگلادیش سے فوج بلانے پر مجبور کیا تھا، اُن کے مفادات آج بھی بنگلادیش سے اسی طرح قائم ہیں۔ بنگلادیش کا جغرافیائی حدود اربعہ اور بنگلادیش کی بے آف بنگال سے وابستگی ہونا اور سینٹ مارٹن کی بندرگاہ تمام عالمی طاقتوں کی ضرورت ہے۔ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو یہ علاقہ اُن کو مدد دے سکتا ہے۔ بنگلادیش معدنیات سے مالا مال ہے اور تیل کے سمندر کے اوپر واقع ہے۔جو کہ تیسری عالمی جنگ کے لیے بہت ضروری ہے۔ واضح رہے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست تیل کی کمی کی وجہ سے ہوئی اور ہٹلر کی جرمن فوجیں تیل کی کمی کے باعث روسی فوج سے شکست کھا گئی تھیں۔ بنگلادیش کے عوام کو سمجھ آگئی ہے کہ آزاد اور خودمختار بنگلادیش کے لیے اور بھارت کی غلامی سے بچنے کے لیے اسے امریکا، یورپ اور پاکستان جیسے ملکوں کی دوستی کی ضرورت ہے۔ اسی لیے بنگلادیش کے عوام کی نظریں پاکستان پر ہیں کہ پاکستان مشکل وقت میں اُن کی مدد کر سکتا ہے۔

بنگلادیش کے خلاف بھارت کا پروپیگنڈا جاری ہے۔ سفارتی محاذ پر سوشل میڈیا پر رات دن جھوٹا پروپیگنڈا ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے خصوصی نمائندے بھیجے ہوئے ہیں، جو دن رات بنگلادیش کے خلاف گمراہ کن خبروں کو پھیلا رہے ہیں۔ بھارت۔بنگلادیش سرحد پر خاردار تاروں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ جو اَب مکمل ہونے والا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حسینہ واجد نے اپنے دور میں اس کی اجازت دے دی تھی۔

دوسری طرف بنگلادیش میں امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ جناب محمود الرحمان نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بتایا کہ DG-FI (ڈائریکٹر جنرل فورسز انٹیلی جنس) کے دفتر کا ایک فلور اب بھی RAW کے کنٹرول میں ہے۔

بھارتی فوجی افسران ابھی بھی بنگلادیش کی مختلف چھائونیوں میں موجود ہیں۔ ایسی صورتحال میں بنگلادیش حکومت/ڈاکٹر محمد یونس کے لیے امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ دوسری طرف بھارتی فوج کی جانب سے بنگلادیش پر حملہ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے بنگلادیش کا فوجی وفد مختلف دوست ممالک کا دورہ کررہا ہے۔ بنگلادیش پاکستان اور چین سے اپنی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ بنگلادیش فوج کے سینئر حکام پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور انہوں نے بھارت سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان سے مدد مانگ لی ہے۔ پاکستان کی طرف سے انہیں مثبت اشارہ مل چکا ہے۔ پاکستانی فوجی وفد بھی آئی ایس آئی کے سربراہ کی قیادت میں بنگلادیش کا دورہ کرچکا ہے۔ وہ بنگلادیش سرحد کے مختلف حساس علاقوں کا دورہ کرچکے ہیں۔ جن میں رنگ پور، چکن نیک اور چٹاگانگ ہل ٹریک شامل ہیں۔

مختلف ممالک کے ساتھ ڈاکٹر محمد یونس کا ہنگامی رابطہ جاری ہے، کیونکہ اکثر سربراہان ان کے ذاتی دوست ہیں۔ دنیا ڈاکٹر محمد یونس کی بات پر یقین کرتی ہے اور مختلف طرح کا تعاون جاری ہے۔ بنگلادیش کے وزیر خارجہ چین کا دورہ کرچکے ہیں۔ چین نے بنگلادیش کے نارتھ ایریا میں ایک بہت بڑا سرکاری اسپتال بنانے کی پیشکش کی ہے۔ اس کے علاوہ چین، ترکیہ اور سعودی عرب نے بنگلادیش میں ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل اسپتال بنانے کی پیشکش کی ہے۔ یہ اسپتال شراکت داری کی بنیاد پر بنائے جائیں گے۔ بنگلادیش کے وزیر خارجہ، ڈاکٹر محمد یونس کے چین کے دورے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جو مارچ ۲۰۲۵ء میں متوقع ہے۔ اس سے دونوں ملکوں میں اقتصادی اور فوجی تعاون بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔ واضح رہے بنگلادیش میں ڈاکٹر محمد یونس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وہاں کے مشیر خارجہ کا یہ پہلا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنگلادیش/ڈاکٹر محمد یونس چین سے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس DAVOS سوئٹزرلینڈ کا چار روزہ دورہ کرچکے ہیں۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ چار دن تک انہوں نے عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔ ڈاکٹر محمد یونس نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب بھی کیا۔ انہوں نے بنگلادیش میں حالیہ انقلاب اور وہاں کی تبدیلیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے جن اہم عالمی رہنمائوں سے ملاقات کی، اُن میں جرمنی کے چانسلر، فن لینڈ کے صدر، بلجیم کے بادشاہ اور تھائی لینڈ کے وزیراعظم شامل ہیں۔ انہوں نے وہاں لطیفہ بنت محمد بن راشد المختوم جو متحدہ عرب امارات کے صدر کی بیٹی ہیں، سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر صاحب نے یورپین سینٹرل بنک کے صدر، میٹا کے صدر، سیکرٹری جنرل ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ڈائریکٹر جنرل ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے ملاقات کی۔ انہوں نے وہاں UNO کے سیکرٹری جنرل سے بھی خصوصی ملاقات کی۔ ڈاکٹر محمد یونس نے اس چار روزہ دورے میں ۴۷ ملاقاتیں کیں۔ اس میں حکومتوں کے سربراہان، مالیاتی اداروں کے سربراہان اور دیگر اہم کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ ڈاکٹر محمد یونس نے ان سب کو بنگلادیش کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ بھارت کی طرف سے کھڑی کی گئی مشکلات کا ذکر کیا، اور سب سے تعاون کی درخواست کی۔ سب نے ڈاکٹر محمد یونس کو ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔

دنیا کے مشہور جرنلسٹ اور نیوز ایجنسیوں کے لوگوں نے ڈاکٹر محمد یونس کا انٹریو کیا۔ دنیا کے ۱۳۰؍ممالک کے ۳ ہزار رہنمائوں، ۳۵۰ حکومتی اداروں کی اہم شخصیات اور ۶۰ ملکوں کے سربراہان نے اس اکنامک فورم میں شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد یونس نے بہت بہترین طریقے سے بنگلادیش کی موجودہ صورتحال کو غیرملکی رہنمائوں کے سامنے پیش کیا۔ شیخ حسینہ کے دور میں ہونے والی ظلم و زیادتی کی ڈاکومینٹری پیش کی۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے دستاویزی ثبوت بھی دنیا کے سامنے پیش کیے، جو ایک وائٹ پیپر کی صورت میں تھے۔ اس وائٹ پیپر میں ایک ہزار کروڑ کے غبن کا دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ ان دستاویزات سے شیخ حسینہ واجد کے خونی اور بھیانک چہرے کا لوگوں کو علم ہوا۔

ڈاکٹر محمد یونس نے تمام دنیا کے اہم رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ بنگلادیش سے غبن کیے گئے پیسوں کی واپسی میں اُن کے ساتھ تعاون کریں۔ ان رہنمائوں نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

دنیا کی ان تمام شخصیات نے ڈاکٹر محمد یونس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے بنگلادیش کے دورے کی حامی بھرلی ہے۔ ناسا کے سربراہ نے بنگلادیش کا دورہ کیا ہے۔ وہ بنگلادیش کی یونیورسٹی میں طلبہ میں گھل مل گئے اور طلبہ ان کے دورے سے بہت خوش ہوئے۔ فیفا کے سربراہ نے بنگلادیش کی دعوت قبول کرلی ہے۔ وہ عنقریب بنگلادیش کا دورہ کریں گے۔

دنیا کے امیر ترین شخص امریکا کے ایلن مسک نے بھی بنگلادیش کا دورہ کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح ترکی، ملائیشیا، جاپان، پاکستان، برازیل کے تجارتی وفود نے بنگلادیش کا دورہ کیا، اور بنگلادیشی تاجروں سے ملاقات کی۔ اس طرح اس وقت تمام دنیا بنگلادیش کے ساتھ کھڑی ہے اور بنگلادیش کی ہر ضرورت پوری کرنے کو تیار ہے۔ ان تمام حکومتوں نے آنے والے رمضان کے لیے بنگلادیش کی تمام ضروریات پوری کر دی ہیں۔ بنگلادیش کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر امریکا نے LNG گیس سپلائی کا معاہدہ کیا ہے۔ ایک عرصے سے بنگلادیش کو LNG کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔ ڈیمانڈ کے مقابلے میں سپلائی کم تھی۔ بنگلادیش کی صنعتیں اور گھریلو صارفین گیس کی کمی کی وجہ سے مشکلات سے دوچار تھے۔ ہر سال سردی کے موسم میں حالات زیادہ خراب ہو جاتے تھے۔ امریکا سے پچاس لاکھ ٹن گیس سالانہ درآمد کی جائے گی۔ اس سے بنگلادیش کی صنعتی پیداوار میں بھی بہتری آئے گی اور گھریلو صارفین بھی مشکلات سے نکل آئیں گے۔

ٹرمپ کے حلف اٹھانے کے بعد یہ ایک بڑا معاہدہ ہے۔ جو امریکا نے بنگلادیش کے ساتھ کیا ہے۔ امید ہے آئندہ امریکا اور بنگلادیش کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ یہ معامدہ ۵ سال کے لیے ہے۔

بنگلادیش میں عوامی لیگ کی موجودہ صورتحال

حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلادیش میں موجود عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن حواس باختہ ہوگئے ہیں۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اب وہ کیا کریں۔ اُن لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ حسینہ یوں چپکے سے فرار ہو جائے گی۔ اس کے یوں فرار ہوتے ہی سب دلبرداشتہ ہوگئے اور جان بچانے کی فکر میں گھروں سے بھاگے جس کو جو سمجھ آئی، وہ اس طرف دوڑ پڑا۔ کسی نے بارڈر کے ذریعے سرحد پار کی اور کوئی جہاز کے ذریعے بنگلادیش سے باہر چلا گیا۔ سرحد کراس کرنے والوں کو سرحد پر موجود دونوں طرف سے اسمگلروں نے خوب لوٹا ۔ بھاگنے والا جتنا بڑا چور تھا، اُس کو اتنا ہی پیسہ دینا پڑا۔ اس وقت سب کو جان کی فکر لاحق تھی۔ عوامی لیگ کے ایک ایک فرد سے ایک ایک کروڑ لینے کی خبریں ہیں۔ یہ سب لیڈر ملک سے باہر ہیں۔ اُن کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا، انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ بھاگنے والے بیشتر رہنمائوں کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہیں ہیں۔ اب جبکہ ۶ ماہ گزرنے والے ہیں، اُن کے پاس پیسے بھی ختم ہوچکے ہیں۔ کلکتہ اور اگرتلہ کی پولیس بھی انہیں تنگ کر رہی ہے، کیونکہ ہوٹل کے بل ادا کرنے کے لیے اُن کے پاس رقم نہیں ہے۔ بھارتی مسلمانوں سے انہیں گالیاں پڑ رہی ہیں۔ بنگلادیش میں اُن کے گھروں میں تالے پڑے ہیں اور اُن کے خاندان دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ جو کارکنان ملک سے باہر نہ جاسکے، وہ اپنے گھروں کو تالے لگا کر مختلف شہروں میں کرائے کے مکان لے کر رہ رہے ہیں۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ابھی تک عوامی لیگ کا کوئی رہنما میڈیا کے سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اپنے کارکنان کو کوئی ہدایات دے پا رہے ہیں۔

کوئی اتنی بڑی تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عوامی لیگ کی بنائی ہوئی حکومتی مشینری یوں Collaps (دھڑم تختہ) ہوجائے گی۔ پولیس بھی جان بچانے کے لیے بھاگ رہی تھی اور عوامی لیگ کے رہنما بھی اور کارکن بھی اپنی جانیں بچاتے پھر رہے تھے۔ حسینہ واجد میڈیا کے سامنے بار بار کہتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے حسینہ نہیں بھاگتی، مجیب کی بیٹی کہیں نہیں جائے گی۔ اس کے یوں بھاگنے سے کارکن مشتعل ہوگئے۔ اکثر کارکنان نے غیرقانونی دھندے سے کروڑوں بلکہ اربوں روپے کما لیے تھے، اب بنگلادیش کی حکومت فعال ہوئی ہے تو ان کے گھروں میں چھاپے پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ جس سے ان بھگوڑوں کی رفتار اور تیز ہوگئی ہے۔ کسی کی ضمانت عدالت منظور نہیں کررہی۔ اگر کوئی ہمت کرکے عدالت کے سامنے گھٹنے ٹیک بھی دیتا ہے تو جیل کی چکی پیس کر روٹی ملے گی۔

عوامی لیگ کے رہنما اور کارکن بہت بے عزت ہوئے ہیں۔ اُن کے اس حال سے بی این پی کے لوگ خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اُن سے خوب پیسے بٹور رہے ہیں۔ بی این پی کے کارکن پہلے سے ہی پولیس سے رابطے میں ہیں۔ دونوں مل کر پیسہ لوٹ رہے ہیں۔ حسینہ واجد اور عوامی لیگ کے بہت سے رہنمائوں کے خلاف مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ پولیس جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے۔ حسینہ واجد کو ملک واپس لانے کے لیے عدالت نے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے۔ کوئی رہنما عوامی لیگ کا بیڑا اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔ عوامی لیگ آنے والے انتخابات لڑسکتی ہے یا نہیں، یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔

بنگلادیش کے ان حالات میں عوامی لیگ کو ۳۰۰؍امیدوار ملنا مشکل ہیں، اور پھراُن کی الیکشن مہم کون چلائے گا۔ جو لوگ سیاست میں عوامی لیگ کی واپسی کا سوچ رہے ہیں، اُن کے لیے یہی حالات جان لینا کافی ہیں۔ یہ بات قطعاً نہیں کہی جاسکتی کہ بنگلادیش سے عوامی لیگ ختم ہوچکی ہے، البتہ یہ بات یقینا کہی جاسکتی ہے کہ عوامی لیگ مشکل کا شکار ہے۔

بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی

یہ بنگلادیش کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ یکم ستمبر ۱۹۷۸ء کو صدر ضیاء الرحمان نے اس کی بنیاد رکھی۔ اُن کا مقصد عوام کو قومیت کے نعرے اور قومیت کے جھنڈے تلے جمع کرنا تھا۔ اس جماعت کو فریڈم فائٹرز کی پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ضیاء الرحمان ۱۹۷۷ء سے لے کر ۳۰ مئی ۱۹۸۱ء تک بنگلادیش کے صدر رہے ہیں۔ انہوں نے بنگلادیش کی تعمیر و ترقی کے لیے بہت سے اہم اقدامات کیے۔ انہوں نے سختی سے اسمگلنگ کو ختم کیا جس کے نتیجے میں اجناس اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں لوگوں کو سستے داموں ملنے لگیں۔ انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے۔ بنگلادیش فوج کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ بیوروکریسی اور امن و امان برقرار رکھنے والے اداروں کو زیادہ اختیارات دیے اور زرعی اجناس کو بڑھانے کی بہت کوشش کی۔ نہری نظام کو بہتر کیا اور اُن کے دور میں ملک ترقی کی طرف گامزن ہوا۔ اگرچہ وہ فریڈم فائٹرز کے کمانڈر تھے اور چٹاگانک سے ریڈیو پاکستان سے آزادی کا اعلان کیا تھا، لیکن لوگ ان کو بھارت مخالف مانتے تھے۔ ضیاء الرحمان کو قتل کر دیے جانے کے بعد اُن کی بیگم خالدہ ضیاء BNPکی چیئرپرسن بنیں اور ان کا بیٹا طارق ضیاء سینئر وائس چیئرمین بنا۔ طارق ضیاء لندن میں بیٹھ کر پارٹی کو چلارہے ہیں۔

خالدہ ضیاء بنگلادیش کی دو دفعہ وزیراعظم بنیں۔ پہلی دفعہ ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۶ء اور دوسری بار اکتوبر ۲۰۰۱ء سے اکتوبر ۲۰۰۶ء تک۔ ان کے دور میں تعلیم عام ہوئی، میٹرک تک لڑکیوں کی تعلیم مفت اور لازمی کر دی گئی۔ بنگلادیش کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کی تعداد بھی بڑھی اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ خالدہ ضیاء کے دورِ حکومت میں کوئی سیاسی قتل نہیں ہوا، کوئی غائب نہیں کیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو کسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور نہ ہی انہیں جیل میں ڈالا گیا۔ انہوں نے ملک اور عوام کے مفاد میں کافی کام کیے۔

خالدہ ضیاء کے بعد حسینہ واجد اقتدار میں آئیں، وہ پہلی دفعہ جون ۱۹۹۶ء سے لے کر جولائی ۲۰۰۱ء تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں۔ دوسری دفعہ جنوری ۲۰۰۹ء سے لے کر ۵؍اگست ۲۰۲۴ء تک وزیراعظم کے عہدے پر براجمان رہیں۔ ان کا دورِ اقتدار صرف اور صرف انتقام اور اقربا پروری میں گزرا۔ سیاسی مخالفین کو غائب کرنا، قتل کرنا اور کرپشن ان کے مشاغل ٹھہرے۔ عوامی لیگ کے تقریباً تمام کارکنان بدعنوانی میں ملوث تھے۔ عوامی لیگ کو بھتہ دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا تھا۔ عوامی لیگ کی حکومت لوگوں کو جیلوں اور تھانوں میں بند کرکے رکھتی اور کچھ خفیہ جیلیں بنا رکھی تھیں، وہاں لے جاتے اور گھروالوں کو کوئی اطلاع بھی نہ دی جاتی۔ عدلیہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی تھی۔ سیاسی مخالفین پر جن میں جبولیگ (یوتھ لیگ) چھاترو دل (اسٹوڈنٹ لیگ) پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے حملہ کرایا جاتا۔ ان کے بازو ٹانگیں توڑ کر اپاہج کر دیا جاتا۔ کہیں ان کی کوئی شنوائی نہ تھی۔ پورے بنگلادیش کو عقوبت خانہ بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ بنگلادیش کا کوئی گھر عوامی لیگ کے ظلم و زیادتی سے بچ نہیں سکا تھا، کوئی مارکیٹ، کوئی دکان اُن کے بھتہ دیے بغیر کھل نہیں سکتی تھی۔ اسی طرح کوئی بس کوئی ٹرک یعنی ٹرانسپورٹ کا پورا سسٹم عوامی لیگ کو بھتہ دیے بغیر نہیں چل سکتا تھا۔ جب کوٹہ ایشوز پر طلبہ کا مظاہرہ شروع ہوا تو بنگلادیش کے عوام نے اُن کا بھرپور ساتھ دے کر حکومت سے اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کیا اور بالآخر طلبہ اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں عوامی لیگ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہیں بھارت فرار ہونا پڑا۔

بنگلادیش کا سیاسی منظرنامہ

ڈاکٹر محمد یونس کی حکومت کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے نئی نئی سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں تمام محکموں میں بھرتی عوامی لیگ سے وفاداری کی بنیاد پر ہوتی تھی، میرٹ پر بھرتی برائے نام تھی۔

ڈاکٹر محمد یونس اور طلبہ رہنمائوں نے کوشش کی کہ ایسے افراد کو اہم عہدوں پر بٹھایا جائے جو عوام کے خیرخواہ ہوں۔ میرٹ پر پورے اترتے ہوں اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دیتے ہوں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں عوام پر ظلم ڈھانے والے اور میرٹ کے بغیر بھرتی کیے گئے بہت سے سینئر اور جونیئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔ بہت سارے فوجی افسران کا ’’را‘‘ کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے اُن سے استعفیٰ لیا گیا۔ اسی طرح سول محکموں میں بھی تطہیر کی گئی ہے۔ اب اس کے خاطر خواہ اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اب بنگلادیش کی انتظامی مشینری پہلے سے زیادہ فعال ہے اور حکومت کے احکامات کی بجاآوری کررہی ہے۔

مختلف شعبۂ زندگی میں اور سرکاری محکموں میں اصلاحات کے لیے کمیشن بنایا گیا ہے، جس میں الیکشن کمیشن، انتظامی کمیشن اور معاشی کمیشن وغیرہ شامل ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ آنا شروع ہوگئی ہے۔ حکومت نے یہ رپورٹ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے شیئر کی ہے اور اُن سے تجاویز مانگی ہیں۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اگلی نشست میں اس پر بحث ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے سفارش کی ہے کہ انتخابات اس سال دسمبر یا پھر اگلے سال کے شروع میں کروائے جاسکتے ہیں۔ BNP کے علاوہ باقی تمام پارٹیاں اس سے متفق ہیں۔ BNP انتظامی تطہیر اور تبدیلی سے گھبراتی ہے، کیونکہ اس وقت BNP کے کارکنان وہ کام کررہے ہیں جو عوامی لیگ کرچکی ہے۔ چوری، ڈکیتی، ٹینڈر بازی، قبضہ مافیا، مارکیٹوں سے بھتہ اور اسی طرح کی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ عملاً بازاروں، بس اڈوں اور ٹرک اڈوں پر ان کا قبضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ BNP سے متنفر ہونے لگے ہیں۔ ایک اور نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کہ عوامی لیگ کے جو کارکنان ڈر کر بھاگ گئے تھے، وہ بھی اب BNP کے ساتھ مل کر اس کرپشن میں شامل ہوگئے ہیں۔ بنگلادیش کی باقی سیاسی پارٹیوں اور علمائے دین نے اس کی نشاندہی کی ہے۔ بنگلادیش کے مشہور عالم دین ڈاکٹر میزان الرحمان الاظہری نے ایک بہت بڑی قرآن کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایک پارٹی ملک کو کھا کر جاچکی ہے اور دوسری کھانے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ یہ بنگلادیش کے عوام کی دل کی بات ہے۔ اس لیے BNP عوامی حمایت سے دن بدن محروم ہورہی ہے۔ BNP اپنے کارکنان کو اس گھنائونے کام سے باز رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ یہ BNP کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کے رہنمائوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ طارق ضیاء لندن بیٹھے اپنے کارکنان سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ یہ سب کام چھوڑ دیں، لیکن کارکنان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یوں لگتا ہے BNP کے رہنما، کارکنان اوپر سے لے کر نیچے تک بھتہ لینے میں مصروف ہیں۔

جماعت اسلامی پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں ہے۔ ان کے مخالفین بھی اُن پر کوئی الزام نہیں لگا سکتے۔ سارے بنگلادیش میں اس وقت جماعت اسلامی بڑے بڑے پروگرام کررہی ہے۔ ملک کی تعمیرِ نو میں اپنا حصہ ڈالنے کی بات کررہی ہے۔ بھارت کی جارحیت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔ بھارتی سازشوں کے متعلق عوام کو آگاہ کررہی ہے۔

بنگلادیش کے علما، عوام کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہیں۔ ہزاروں علمائے دین بھارت کے خلاف جہاد میں کود پڑے ہیں۔ وہ بنگلادیش کے ہر مکتبِ فکر کے مدرسوں میں جلسۂ عام منعقد کر رہے ہیں۔ بنگلادیش میں کروڑوں کی تعداد میں ان کے شاگرد ہیں۔ اسکول، کالج، مدرسوں اور یونیورسٹی کے طالب علموں نے ایسا ماحول بنایا ہے کہ ہر کوئی مل کر اسلام کو غالب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، کیونکہ انہیں احساس ہو گیا ہے کہ کرپشن سے پاک معاشرہ اسلام کو غالب کرنے سے ہی بنے گا۔ بنگلادیش پر علمائے دین کے بہت زیادہ اثرات ہیں۔ یہ سب عالم دین میدان میں دین اسلام کی فعالیت کے لیے نکل پڑے ہیں۔ علمائے دین عوام کو بھارتی سازش کے متعلق آگاہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھارت کے خلاف لڑنے کے لیے تیاری کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ پوری دنیا حیران ہے کہ بنگلادیش کے عوام اسلام کے لیے متحد ہیں اور بھارت کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہیں۔

بنگلادیشی عوام کے لیے ایک اور خوشی کی بات یہ ہے کہ طلبہ رہنما اپنی نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ یہ طالب علم رہنما بنگلادیش کے مستقبل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل دینا چاہتے ہیں۔ طلبہ متحد ہیں اور پُرعزم ہیں۔ طلبہ اتحاد کو توڑنے اور پاش پاش کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ طلبہ رہنمائوں نے بتایا ہے کہ اُن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے ۱۵۰؍سے زائد سازشیں ناکام ہو چکی ہیں اور اللہ نے دشمنوں کے سارے منصوبے ناکام کر دیے ہیں۔ اُمید کی جارہی ہے کہ فروری ۲۰۲۵ء میں ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھ دی جائے گی اور طلبہ دنیا کو ایک نیا سرپرائز دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

طلبہ کا مؤقف مُدلل ہے، اُن میں جرأت ہے، صلاحیت ہے اور وہ معاملہ فہم ہیں۔ وہ پانچ اگست کے انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں۔ جب نئی پارٹی کا اعلان ہوگا اُس وقت عوامی ردّعمل کا اندازہ ہوگا۔ اُمید کی جارہی ہے جولائی اگست کے انقلاب کی طرح طلبہ رہنما اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے اور بنگلادیش کو کرپشن سے پاک اسلامی فلاحی معاشرہ بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے۔ اِن شاء اللہ!

انقلاب ہمیشہ جوان ہی لایا کرتے ہیں۔ دنیا کی تقدیر ہمیشہ جوانوں نے بدلی ہے۔ سورۃ یونس آیت نمبر ۸۳ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی گواہی دی ہے:

’’(پھر دیکھو) موسیٰؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآور وہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں‘‘۔ یہ بات خاص طور پر قرآن نے نمایاں کرکے اس لیے پیش کی ہے کہ مکہ کی آبادی میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھے تھے، وہ قوم کے بوڑھے اور سن رسیدہ لوگ نہ تھے بلکہ چند باہمت نوجوان ہی تھے۔ وہ ابتدائی مسلمان جو اِن آیات کے نزول کے وقت ساری قوم کی شدید مخالفت کے مقابلے میں صداقت اسلامی کی حمایت کررہے تھے اور ظلم و ستم کے اس طوفان میں جن کے سینے اسلام کے لیے سِپر بنے ہوئے تھے، ان میں مصلحت کوش بوڑھا کوئی نہ تھا، سب کے سب جوان لوگ ہی تھے۔ (تفہیم القرآن، جلد دوم: سورۃ یونس، حاشیہ نمبر۷۸)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں